’نواز شریف کے پاس ریلیف لینے کے قانونی راستے اب بھی موجود ہیں‘

اعظم خان - صحافی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نواز شریف

Getty Images

سابق وزیراعظم نواز شریف کو العزیزیہ ریفرنس مقدمے میں مشروط ضمانت کی مدت مکمل ہونے کے بعد دوبارہ لاہور کی کوٹ لکھپت جیل منتقل کر دیا گیا ہے تاہم بعض قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ نواز شریف کے پاس طبی بنیادوں پر ضمانت کی درخواست دائر کرنے کا حق موجود ہے۔

نواز شریف کو بد عنوانی کے ایک مقدمے میں سات سال قید بامشقت، 25 ملین ڈالرز جرمانہ اور دس سال نااہلی کی سزا کا سامنا ہے۔

یاد رہے کہ مارچ میں سابق وزیر اعظم کی درخواست پر چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے علاج کے لیے ان کی چھ ہفتوں کی ضمانت منظور کرتے ہوئے جیل سے رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔

ضمانت کی مدت ختم ہونے کے قریب آتے ہوئے اپریل کی 30 تاریخ کو سابق وزیر اعظم نے دوبارہ سپریم کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے ضمانت میں مزید توسیع کی درخواست کی اور علاج کی غرض سے لندن جانے کی اجازت بھی مانگی۔ انھوں نے درخواست کے ساتھ بیماریوں کی تفصیلات بھی بتائیں۔

اسی بارے میں

ڈیل اور ڈھیل، دونوں ختم۔۔۔

نواز شریف کی ضمانت میں توسیع کی درخواست مسترد

نواز شریف جیل میں رہنے پر بضد

میاں صاحب تو ڈیل کے موڈ میں نہیں: بلاول

لیکن مئی کی تین تاریخ کو عدالت نے یہ درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جو وقت دیا گیا تھا اس میں علاج کرانے کے بجائے وقت صرف ٹیسٹ کروانے میں صرف ہوا۔ اب نواز شریف ایک بار پھر کوٹ لکھپت کے قیدی بن گئے ہیں۔

سابق وزیر قانون بیرسٹر علی ظفر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ نواز شریف کے پاس اپیل کا حق باقی ہے۔

وہ اسلام آباد ہائی کورٹ سے میرٹ پر مقدمے کا فیصلہ کرنے کی درخواست کرسکتے ہیں۔ علی ظفر کے مطابق اگر ہائی کورٹ سے نواز شریف کو ریلیف مل بھی جائے تو ان کی قسمت کا فیصلہ پھر بھی سپریم کورٹ ہی کرے گی۔

نواز شریف

Reuters
گذشتہ سال پاکستان کے عام انتخابات سے قبل ٹرائل کورٹ نے سابق وزیراعظم کو مجموعی طور پر 11، مریم نواز کو 8 جبکہ کیپٹن صفدر کو دو سال قید کی سزا سنائی تھی جسے انتخابات کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ نے معطل کر دیا تھا

نواز شریف کو ریلیف نہ ملنے کی صورت میں انہیں جیل میں سات سال گزارنے ہوں گے۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں نواز شریف کو کم ازکم مزید چھ ماہ تک جیل میں ہی رہیں گے۔

سپریم کورٹ کے وکیل اے کے ڈوگر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عام طور پر یہ بات مشاہدے میں آئی ہے کہ ٹرائل کورٹ اکثر سزا دیتی ہے جبکہ ہائی کورٹ اکثر بریت یا سزا میں کمی کے فیصلے صادر کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

سابق وزیر اعظم نواز شریف کی کوٹ لکھپت جیل واپسی

کوٹ لکھپت کا قیدی نمبر 4470

نواز شریف آخر چاہتے کیا ہیں؟

نواز شریف کے خلاف لندن فلیٹس سے متعلق ایون فیلڈ ریفرنس کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ سال پاکستان کے عام انتخابات سے قبل ٹرائل کورٹ نے سابق وزیراعظم کو مجموعی طور پر 11، مریم نواز کو 8 جبکہ کیپٹن صفدر کو دو سال قید کی سزا سنائی تھی جسے انتخابات کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ نے معطل کردیا تھا، جس کے بعد نواز شریف کو اپنی بیٹی اور داماد سمیت راولپنڈی کی اڈیالہ جیل سے رہائی ملی۔

ایڈووکیٹ زاہد بخاری کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ نے نواز شریف کے قانونی حق کو نہیں چھینا، نہ ہی ان پر کوئی پابندی عائد کی ہے اور نواز شریف ابھی بھی ہائی کورٹ میں خرابی صحت سمیت کوئی بھی وجہ بتا کر ضمانت کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔

‘مشروط ضمانت کا وقت ختم ہونے پر سابق وزیر اعظم دوبارہ جیل میں ہیں تو یہ ایک عام سی قانونی بات ہے۔ ان کے پاس سزا کے خلاف اپیل کا حق ابھی موجود ہے۔’

بیرسٹر علی ظفر کہتے ہیں کہ ریلیف نہ ملنے کے باوجود نواز شریف کی سزا میں کمی کی صورت یہی ہوگی کہ اگر ان کے بارے میں یہ رائے قائم ہوتی ہے کہ جیل میں ان کا رویہ مثالی رہا ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 9146 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp