حفیظ شیخ اور رضا باقر کے بعد شبر زیدی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بات بہت سادہ ہے۔ اسے من وعن بیان کرنے کو مگر کوئی تیار نہیں۔مختصر ترین الفاظ میں مجھے بیان کرنے کی اجازت دیں تو عرض کروں گا کہ گزشتہ سال کے بجٹ میں ٹیکسوں کے ذریعے حکومت نے جو رقم حاصل کرنا تھی اسے جمع نہ کر پائی۔ طے شدہ ہدف کے مقابلے میں خسارہ تاریخی ہے۔ ذمہ دار اس کا FBRکو ٹھہرایا جا رہا ہے۔ ٹیکس کا نظام ہمارے ہاں یقینا خوفناک حد تک ناقص ہے۔

فقط تنخواہ داروں کی بات کرلیتے ہیں۔ آج سے تقریباََ 15سال قبل میں آمدنی کی اس بریکٹ میں آگیا تھا جسے ٹیکس کی صورت میں حکومت کو کچھ دینا ضروری ہے۔جن اخبارات اور ٹی وی اداروں کے لئے کام کیا وہ مجھے تنخواہ کا جو چیک بھیجتے تھے اس میں لکھی رقم میرے تقرر نامے میں لکھی رقم سے کم ہوتی۔ تھوڑی تحقیق کے بعد علم ہوا کہ میری ’’سہولت‘‘ کے لئے جو رقم حکومت کو میری تنخواہ سے ٹیکس کی صورت جانا تھی اسے ’’منہا‘‘ کرلیاجاتا ہے۔

سادہ لفظوں میں یوں کہہ لیجئے کہ جو رقم ہر سال مجھے ازخود حساب لگاکر ٹیکس والوں کو دینا تھی میری تنخواہ سے کاٹ کر دفتر والے اسے باقاعدگی سے حکومت کو بھیج دیتے ہیں۔ مجھے اس ضمن میں پیش آنے والی ’’زحمت‘‘ سے بچاکر اپنے کام پر فوکس کرنے کی سہولت دی جاتی ہے۔ میں مطمئن ہوگیا۔میرا اطمینان مگر چند روزہ تھا۔ بجٹ پاس ہونے کے بعد ٹیکس جمع کرنے کے لئے جو اشتہاری مہم چلائی جاتی ہے اس کے ذریعے علم ہوا کہ مجھ ایسے افراد کو ٹیکس ریٹرن جمع کرواتے ہوئے NTN لینا ہوتا ہے۔ اس کے بغیر میری آمدنی غیر قانونی شمار ہوگی۔ میں ریاست سے دھوکہ دہی کا مجرم ہوں گا۔

آج کے دور میں جہاں ہر شے کمپیوٹر پرریکارڈ ہوتی ہے۔ تنخواہ چیک کی صورت جاری ہوتی ہے جسے میں اپنے بینک اکائونٹ میں جمع کرواتا ہوں ٹیکس ریٹرن کا فارم بھرنا احمقانہ محسوس ہوا۔ قانون کے احترام میں مبتلا ایک ڈرپوک شہری ہوتے ہوئے لیکن ٹیکس ریٹرن بھر کر NTN لینا ضروری سمجھا۔

FBR کی اشتہاری مہم مجھے بتاتی رہی کہ میں گھر بیٹھا کمپیوٹر کے ذریعے ٹیکس ریٹرن فارم ڈا ئون لوڈ کرسکتا ہوں۔ اسے ڈائون لوڈ کرکے مطلوبہ سوالات کا جواب دو اور فارم مکمل کرکے Send کا بٹن دبا دو۔ ایسا کرنے کے چند ہی دنوں بعد مجھے NTN نمبر ای میل کے ذریعے مل جائے گا۔آج سے تقریباََ دس برس قبل میں نے فرصت کے ایک دن اس فارم کو اپنے کمپیوٹر پر ڈائون لوڈ کیا۔ بخداسمجھ نہیں آئی کہ وہاں پوچھے سوالات کا جواب کیا لکھوں۔

بالآخر ایک Consultant سے رابطہ کرنا پڑا۔جن اداروں سے مجھے تنخواہ ملتی رہی ان کے پاس ٹیکس کی مد میں منہا ہوئی رقم کا ریکارڈ موجود ہوتاہے۔ اس ریکارڈ کی دفتر سے مہروں کے ذریعے ’’مستند‘‘ ہوئی نقل حاصل کی۔بینک میں جاکر اپنے اکائونٹ کی تفصیلات بھی مہر سمیت حاصل کی۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ یہ دونوں دستاویزات فراہم کرنے کے بعد مجھے کسی سوال کا جواب دینے کی ضرورت نہ ہو۔

دفتر سے جو ملااس میں سے ٹیکس مجھے تنخواہ کا چیک بھیجنے سے قبل کاٹ کر حکومت کو دے دیا گیا تھا۔میں نے اس چیک کو بینک میں جمع کروادیا۔ بینک ریکارڈ نے میری آمدنی اور خرچ کو ٹھوس اعدادوشمار سمیت دکھادیا۔اب شیطان کی آنت جتنے لمبے فارم بھرنے کی ضرورت کیوں؟ فارم بھی ایسا جس میں پوچھے سوالات مجھ جیسے نام نہاد ’’پڑھے لکھے‘‘ شخص کو بھی سمجھ میں نہ آئیں۔

اس فارم کوبھرنے کے لئے کسی Consultantسے رجوع کرنا پڑے۔ وہ آپ کا فارم بھرنے سے قبل ایسے سوالات اٹھائے جو عموماََ تھانوں میں پوچھے جاتے ہیں۔ذاتی مثال کو تفصیل سے اس لئے عرض کیا ہے کہ آپ کو سمجھنے میں آسانی ہوکہ دوکاندار اور دیگر کاروباری حضرات جن کی آمدنی تنخواہ داروں کی طرح نہ تو طے شدہ ہے نہ باقاعدہ، ریکارڈ پرموجود اپنے ٹیکس ریٹرن فارم بھرنے میں کیا مصیبتیں برداشت کرتے ہوں گے۔

اصولی طورپر ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ٹیکس وصول کرنے کے نظام کو سادہ بنایا جاتا۔ اس جانب ہماری کسی بھی حکومت نے مگر توجہ نہیں دی۔ یہ معاملہ ٹیکس افسروں اور ٹیکس ادا کرنے کے قابل تصور ہوئے طبقات کو ازخود طے کرنے کے لئے چھوڑ دیا گیا۔’’مک مکا‘‘ کی گنجائش پیدا ہوگئی۔ ٹیکس افسر اور کاروباری افراد کسی باقاعدہ ریکارڈ کے بغیر ایک دوسرے سے معاملات طے کرتے رہے۔ دونوں فریق ہی اس انتظام سے خوش تھے۔

انگریز کے دور سے جاری اس نظام میں جدید تقاضوں کے مطابق تبدیلی لائے بغیر لیکن ہماری حکومتیں ٹیکس کے بھاری بھر کم اہداف مقرر کرتی رہیں۔شاذہی کسی مالیاتی سال کے اختتام پر ان اہداف کی تکمیل نظر آئی۔ ’’خسارے‘‘ کے بجٹ لہذا جاری رہے۔اس خسارے کو حکومتیں ملکی اور غیر ملکی بینکوں سے قرض لے کر ’’برابر‘‘کرتی رہیں۔عمران خان کی لائی ’’تبدیلی‘‘ بھی اس نظام کو بدل نہ پائی۔

احتساب بیورو نے ’’نظر آنے والے ذرائع آمدنی‘‘ کے مقابلے میں ’’پرتعیش‘‘ زندگی گزارنے والوں کو گھیرنا شروع کردیا۔ اس مصیبت کا حل ملا نہیں تھا کہ FATF نے ’’بے نامی‘‘ جائیداد اور ’’جعلی اکائونٹس‘‘ کو بے نقاب کرنے کو دبائو بڑھادیا۔ایمان دارکاروباری افراد نے بھی ان وجوہات کی بنا پر اپنی آمدنی چھپانا شروع کردی۔ بینکوں کے ذریعے ادائیگی کے بجائے نقد رقوم سے بازار میں خریدوفروخت کا رحجان شدت سے لوٹ آیا۔خوف کے مارے لوگوں نے اپنے کاروبار بڑھانے یا نئے کاروبار متعارف کروانے سے بدکنا شروع کردیا۔ فائلر اور نان فائلر کے چکر میں پراپرٹی کا دھندہ ویسے ہی ٹھپ ہوچکا تھا۔ اس برس لہذا FBRٹیکس کی مد میں طے شدہ اہداف حاصل کرنے میں ’’تاریخی‘‘ طورپر ناکام ہوگیا۔

FBRکی اس ناکامی کا ہم سے جنوری سے مارچ تک گیس کے بلوں میں Slabs کا ’’جگاڑ‘‘ لگاکر ازالہ کرنے کی کوشش ہوئی۔ اب پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ہوشربااضافہ کردیا گیا ہے۔دوش اس اضافے کا’’عالمی منڈی‘‘ میں تیل کی بڑھی قیمت کو بتایا جارہا ہے جبکہ یہ قطعاََ جھوٹ ہے۔پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ فقط حکومت کی جانب سے اس مد سے مزید محصول حاصل کرنے کی ہوس میں ہوا ہے تاکہ ریاست کی آمدنی اور خرچ کے بڑھتے ہوئے تفاوت کو کم کرنے میں مدد ملے۔

اس کے علاوہ اور کوئی وجہ نہیں۔حکومتی ترجمان مگر اس حقیقت کا اعتراف کرنے سے کترارہے ہیں۔ہماری توجہ اسد عمر کی جگہ ڈاکٹر حفیظ شیخ کی تعیناتی کی جانب موڑدی گئی ہے۔ ڈاکٹر رضا باقر کی بطور سٹیٹ بینک گورنر نزول کے تذکرے ہیں اور اب توجہ شبرزیدی کی جانب موڑدی گئی ہے۔

بشکریہ روزنامہ نوائے وقت

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •