ایران کے ساتھ کشیدگی: عراق امریکی فوجیوں کے تحفظ کو یقینی بنائے: مائیک پومپیو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مائیک پومپیو، براہم صالح

Reuters
امریکی وزیر خارجہ نے عراق کے صدر براہم صالح سے ملاقات کی

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو جرمنی کا طے شدہ دورہ منسوخ کر کے عراق کا دورہ کیا جہاں انھوں نے عراقی رہنماؤں سے کہا ہے کہ وہ عراق میں امریکی فوجیوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔

یہ دورہ ایسے وقت ہوا جب امریکہ نے اپنے بحری بیڑے، یو ایس ایس ابراہم لنکن کو خطے میں بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ مائیک پومپیو نے عراق کے وزیراعظم عادل عبدل مہدی اور صدر براہم صالح سے ملاقات کی۔

عراقی رہنماؤں سے ملاقات کےبعد امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ انھوں نے عراقی رہنماؤں کو باور کرایا ہے کہ امریکہ کو عراق میں دوسرے ممالک کی مداخلت پسند نہیں۔

امریکی وزیر خارجہ نے عراقی رہنماؤں سے کہا کہ وہ عراق میں امریکی فوجیوں اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔

یہ بھی پڑھیئے

ایران سے خطرہ: امریکی جنگی بیڑا خلیجِ فارس میں تعینات

ایران پر پابندیوں کے اثرات: چارٹس میں

امریکی اقتصادی پابندیاں ایران پر کتنی بھاری پڑ رہی ہیں؟

امریکی اہلکاروں نے کہا کہ بحری بیڑے کو عراق میں ایرانی اتحادوں کی جانب سے امریکی افواج کو دھمکیوں کے پیش نظر بھیجا گیا ہے۔

منگل کے روز اس بات کا بھی انکشاف کیا گیا کہ امریکہ B-52 بمبار طیاروں کو بھی خطے میں بھیج رہا ہے۔

امریکہ نے دھمکیوں کے بارے میں ابھی تک کوئی واضح معلومات فراہم نہیں کی ہیں۔ البتہ ایران نے امریکی دعوؤں کو مسترد کیا ہے۔

امریکہ کے نیشنل سکیورٹی کے مشیر جان بولٹن نے بحری بیڑے یو ایس ایس ابراہم لنکن کو علاقے میں بھیجنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’پریشان کن‘ اشاروں‘ کی وجہ سے یہ فیصلہ کیا گیا۔

امریکی وزیر خارجہ بدھ کے روز برطانیہ کے دورے پر پہنچ رہے ہیں جہاں وہ وزیر اعظم ٹریسا مے اور وزیر خارجہ جرمی ہنٹ سے ملاقات کریں گے۔

مائیک پامپیو عراق کیوں گئے؟

عراق میں اپنے دورے کے دوران امریکی وزیراعظم عادل عبدل مہدی اور صدر برہام صالح سے ملاقات میں امریکی کے سکیورٹی کے حوالے امریکی خدشات کا اظہار کیا۔

مائیک پومپیو نے کہا کہ عراق رہنماؤں نے انھیں یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہیں۔

مائیک پومپیو

AFP
مائیک پامپیو جرمنی کا طے شدہ دورہ منسوخ کر کے اچانک عراق پہنچ گئے

مائیک پومپیو نے عراقی رہنماؤں سے ملاقات کے بعد کہا :’ہم چاہتے تھے کہ وہ (عراقی رہنما) بڑھتے ہوئے خطرات کو دیکھ سکیں اور ہم انھیں اس کا پس منظر بھی بتانا چاہتے تھے۔‘

’وہ سمجھ گئے ہیں، یہ ان کے ملک کے لیے بھی اہم ہے۔ ہم ان کے ملک میں کسی اور کی مداخلت نہیں چاہتے۔ ہم یقینی طور پر عراق میں کسی اور ملک پر حملوں کی اجازت نہیں دیں گے۔۔‘

مائیک پومپیو نے کہا کہ وہ عراقی رہنماؤں سے ملاقات کر کے انھیں یقین دہانی کرانا چاہتے تھے کہ امریکہ عراق کی خود مختاری اور آزادی کے تحفظ کے لیے تیار ہے۔

انھوں نے کہا کہ وہ یہ بھی چاہتے تھے کہ عراقی رہنماؤں کو باور کرایں کہ وہ توانائی کے معاہدے کرتے وقت ایران پر کم بھروسہ کریں۔

بی باون بمبار

Getty Images

امریکہ بمبار طیاروں کو خطے میں کیوں بھیج رہا ہے؟

پینٹاگان کے عبوری ترجمان چارلس سمرز نے ایک بیان میں کہا کہ امریکہ ایران کے ساتھ جنگ نہیں چاہتا لیکن وہ امریکی اہلکاروں، اپنے اتحادیوں اور خطے میں اپنے مفادات کا تحفظ کرے گا۔

پینٹاگان کے ترجمان نے کہا یو ایس ایس ابراہم لنکن طیارہ بردار سٹرایک گروپ اور ایک بمبار طیارے کو خطے میں بھیجنے کا فیصلہ دانشمندانہ تھا۔

امریکی اہلکاروں نے اتوار کے روز پہلی بار اعلان کیا تھا کہ وہ طیارہ بردار بحری بیڑے کو خیلج فارس میں بھیج رہا ہے۔

امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن نے کہا تھا کہ بحری بیڑے کو خطے میں بھیجنے کا مقصد ایران کو واضح پیغام بھیجنا تھا کہ اگر اس نے امریکی مفادات اور امریکہ کے اتحادیوں پر کوئی حملہ کرنے کی کوشش کی تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

ایران نے کیا کہا؟

ایران کے وزیر خارجہ جاوید ظریف نے کہا کہ اگر امریکہ اور اس کے حواری اپنے آپ کو اس لیے غیر محفوظ تصور کرتے ہیں، کیونکہ کے خطے کے لوگ ان سے نفرت کرتے ہیں اور ایران پر الزامات لگانے سے معاملات ٹھیک نہیں ہوں گے۔

ایران کے پریس ٹی وی نے امریکی بحری بیڑے کی خطے میں تعیناتی کو معمول کی کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکی سلامتی کے مشیر نے اسے بڑھا چڑھا کر پیش کیا ہے۔

امریکہ اور ایران کےمابین اتنی گشیدگی کیوں ہے؟

USS Abraham Lincoln

EPA
امریکہ نے بحری بیڑے کو خطے میں بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے

گذشتہ ہفتے امریکہ نے کہا تھا کہ وہ چین، انڈیا، جاپان، جنوبی کوریا اور ترکی پر ایران سے تیل خریدنے پر امریکی پابندیوں کی رعایت کو واپس لے رہا ہے۔ اس کے ساتھ امریکہ نے ایران کے پاسدارن انقلاب کو دہشتگرد گروپ قرار دیا تھا۔

امریکہ ایرن کو مجبور کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ اپنے جوہری اور میزائیل پروگرام کے حوالے سے ایک معاہدے پر بات چیت کے لیے تیار ہو جائے۔

امریکی پابندیوں کی وجہ سے ایران کی معیشت میں مندی کا رجحان ہے اور اس کی کرنسی کی قدر مزید گر گئی ہے۔

ایران کئ بار دھمکی دے چکا ہے کہ اگر امریکہ نے اس کے خلاف کوئی کارروائی کی تو وہ آبنائے ہرمز کو بند کر دے گا جو دنیا میں تیل کی سب سے بڑی گزر گاہ ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 9191 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp