پشتو گلوکارائیں اپنے ہی گھروں میں عدم تحفظ کا شکار

رفعت اللہ اورکزئی - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پشاور

BBC
پولیس کا کہنا ہے کہ مینہ خان اور ان کے شوہر کے مابین رقم کا کوئی تنازعہ چل رہا تھا

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا میں تقریباً ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے فنکار برادری بالخصوص خواتین گلوکارائیں خاندانی یا معاشرتی دباؤ کا نشانہ بنتی رہی ہیں اور ان میں سے کئی کو جان سے ہاتھ بھی دھونے پڑے ہیں۔

خواتین فنکاروں کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد کے واقعات کے باعث یہ معاملہ اب سنگین صورتحال اختیار کرتا جارہا ہے اور یہ بات سامنے آئی ہے کہ فنونِ لطیفہ سے وابستہ بیشتر خواتین کو سب سے زیادہ اپنے ہی گھروں میں عدم تحفظ کا خطرہ درپیش ہوتا ہے۔

منگل کو ایسی ہی ایک اور خاتون کی ہلاکت کا واقعہ پیش آیا جب ضلع سوات میں جب مقامی گلوکارہ اور رقاصہ مینہ خان کو ان کے خاوند نے گولیاں مار کر قتل کر دیا۔

یہ بھی پڑھیے

ایک اور اداکارہ شادی کے بعد قتل

پشتو گلوکارہ ریشم مبینہ طور پر خاوند کے ہاتھوں قتل

گلوکارہ کا بھائی پر بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کا الزام

رقص سے پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز کرنے والی 25 سالہ مینہ خان گلوکاری بھی کرتی تھیں اور مقامی سطح پر ایک مقبول فنکارہ سمجھی جاتی تھیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ میاں بیوی کے مابین رقم کا کوئی تنازعہ چل رہا تھا اور گلوکارہ مینہ خان کے شوہر شوکت نے افطاری سے چند منٹ قبل غصے میں آ کر پستول نکالا اور قریب سے تین فائر کئے جس سے مینہ موقع ہی پر ہلاک ہو گئیں۔

مقتولہ کے والدہ نیک حرم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی بیٹی کے گھر میں ماحول کچھ عرصے سے کشیدہ تھا اور میاں بیوی کے درمیان لڑائی جھگڑے ہوتے تھے۔

انھوں نے کہا کہ ان کا تعلق انتہائی غریب خاندان سے تعلق ہے لیکن اس کے باوجود ان کا داماد اکثر اوقات اپنی اہلیہ سے رقم کا مطالبہ کرتا تھا۔

نیک حرم نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ قتل سے ایک دن قبل بھی اسے ڈیڑھ لاکھ روپے کی رقم دی گئی تھی لیکن وہ مزید رقم مانگ رہا تھا۔

خیبر پختونخوا میں مینہ خان وہ پہلی فنکارہ نہیں جو اہلخانہ کے تشدد کا نشانہ بنی ہوں۔

ماضی میں سوات ہی سے تعلق رکھنے والی پشتو کی صف اول کی گلوکارہ غزالہ جاوید کو ان کے شوہر نے گولیاں مار کر قتل کیا تھا اور اس کی وجہ شوہر کا ان سے فنونِ لطیفہ کی زندگی ترک کرنے کا مطالبہ تھا۔

ایسا ہی کچھ معاملہ پشتو کی ایک اور گلوکارہ ایمن اداس کا تھا جو پشاور میں اپنے بھائیوں کے ہاتھوں قتل ہوئیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ایمن اداس کو ان کے بھائیوں نے کئی مرتبہ خبردار کیا تھا کہ وہ شوبز کی دنیا چھوڑ دیں لیکن وہ اس کےلیے تیار نہیں تھی۔

پشاور میں موسیقی اور پشتو ثقافت پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ کار شیر عالم شنواری کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں بدقسمتی سے فنکاروں کو سماجی طورپر شدید عدم تحفظ کا سامنا ہے اور ان کو معاشرے میں وہ عزت اور وقار میسر نہیں جو عام طورپر دیگر افراد کو حاصل ہوتا ہے۔

ان کے مطابق بدقسمتی سے بیشتر اوقات خواتین فنکاروں کےلیے ان کی شہرت اور پیسہ وبال جان بن جاتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ جب فنکارائیں شہرت کی بلندیوں کو چھوتی ہیں تو سب سے پہلے ان سے گھر میں مطالبات بڑھ جاتے ہیں اور اگر وہ ان کی توقعات پر پورا نہیں اترتیں تو خاندان ہی ان کا دشمن بن جاتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 11081 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp