داتا دربار کے محافظ رفاقت علی جو ’پاکستان کے لوگوں کی حفاظت کرتے ہوا مارے گئے‘

عمر دراز ننگیانہ - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لاہور دھماکا

BBC
رفاقت علی کے خاندان کے مطابق ان کو سیکورٹی کمپنی کی جانب سے گذشتہ پانچ ماہ کی تنخواہ نہیں ملی تھی

’وہ اس دن دو دفعہ بچیوں سے ملے تھے۔ انھیں پیار کر کے اور دو دفعہ بائے بائے کر کے ہنستے ہوئے گھر سے نکلے تھے۔ ہمیشہ کی طرح جاتے ہوئے کہا اپنا خیال رکھنا۔‘

ایک نجی کمپنی میں سیکیورٹی گارڈ کی نوکری کرنے والے رفاقت علی کی نتخواہ صرف 8000 روپے تھی اور بچیوں کے سکول کی فیس دینے کے بعد ان کے پاس گھر کا خرچ چلانے کے لیے محض 3000 روپے بچتے تھے۔

گذشتہ پانچ ماہ سے تنخواہ بھی وقت پر نہیں ملی تھی۔ اسی پریشانی کی وجہ سے وہ کچھ روز سے نوکری چھوڑ کر کوئی کاروبار کرنے کا سوچ رہے تھے، لیکن تنخواہ نہ ملنے کے باوجود بھی رفاقت نے داتا کی نگری سے کبھی ناغہ نہیں کیا تھا۔

ملازمت پر پہنچنے کے لیے وہ روزانہ صبح 6 بجے سائیکل پر لاہور کے علاقے گڑھی شاہو میں ریلوے وائرلیس کالونی میں واقع اپنے گھر سے نکلتے اور تقریباً 8 بجے کے قریب داتا دربار کے گیٹ نمبر دو کے باہر نصب چھتری کے نیچے اپنی پوزیشن سنبھال لیتے۔

گذشتہ پانچ برس سے ایسا ہی ہوتا آیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے!

داتا دربار کے باہر دھماکے میں 10 افراد ہلاک

پاکستان میں مزاروں پر حملوں کی تاریخ

’دھماکہ ہوگا تو کیا ہوگا، مر جائیں گے‘

بدھ کو بھی رفاقت کے لیے سب معمول کے مطابق تھا۔ مگر 9 بجے کے قریب ایک لڑکا چلتا ہوا داتا دربار کے گیٹ نمبر 2 کی طرف بڑھا اور گیٹ کے سامنے کھڑی ایلیٹ پولیس کی گاڑی کے پاس پہنچ کر اس نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ رفاقت کی چھتری پولیس کی گاڑی سے محض چند قدم کے فاصلے پر نصب تھی۔

دھماکے کی خبر ذرائع ابلاغ پر نشر ہوئی تو ایک رشتہ دار کے ذریعے ان کی اہلیہ نازیہ رفاقت تک پہنچی۔

داتا دربار

Getty Images
حملے کا ہدف بظاہر پولیس اہلکار تھے

’میں نے ریسکیو والوں کو فون کیا، انھوں نے کہا آپ کے شوہر میو ہسپتال میں ہیں، آپ وہاں آ جائیں۔ میں نے پوچھا وہ ٹھیک ہیں، ان کی طبیعت کیسی ہے؟ انھوں نے کہا آپ بس آ جائیں۔‘

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے نازیہ رفاقت نے بتایا کہ ان کی نندیں جب ہسپتال پہنچیں تو معلوم ہوا کہ رفاقت بھی ان دس افراد میں شامل تھے جو دھماکے میں ہلاک ہوئے۔

’وہ اس دن دو دفعہ بچیوں سے ملے تھے۔ انھیں پیار کر کے اور دو دفعہ بائے بائے کر کے ہنستے ہوئے گھر سے نکلے تھے۔ ہمیشہ کی طرح جاتے ہوئے کہا اپنا خیال رکھنا۔‘

رفاقت علی کی تین بیٹیاں ہیں: بڑی طوبٰی کی عمر آٹھ برس ہے، جبکہ سب سے چھوٹی لائبہ نے حال ہی میں سکول جانا شروع کیا ہے۔ ان سے پوچھیں کس جماعت میں ہیں تو اپنی توتلی زبان میں بتاتی ہیں ‘نل سلی (نرسری)۔’

مگر ان کے والد نے اس بات کو یقینی بنایا کہ ان کی تینوں بیٹیاں تعلیم حاصل کریں۔ طوبٰی، طیبہ اور لائبہ پرائیویٹ سکول جاتی ہیں اور ان تینوں کی سکول فیس اور پرائیویٹ ٹیوشن ملا کر ماہانہ پانچ ہزار روپے خرچہ ہے۔

لاہور دھماکا

BBC
رفاقت علی کے پسماندگان میں تین بیٹیاں اور ان کی اہلیہ شامل ہیں

اب ان کے گھر کے باہر دریاں بچھی ہیں، لوگ تعزیت کے لیے آ رہے ہیں۔ گھر کے اندر اپنے حصے کے ایک کمرے میں پلنگ پر بیٹھی نازیہ تعزیت کے لیے آنے والی خواتین کو بٹھاتی ہیں تو ان کی بچیاں دیگر بچوں کے ہمراہ کھیلنے کو نکل جاتی ہیں۔

نازیہ رفاقت غم زدہ بھی ہیں اور خوفزدہ بھی۔ ان کے خوف کی وجہ آنے والا وقت ہے۔ ‘بچیوں کا کیا بنے گا؟ پتا نہیں ان کی تعلیم آگے چل پائے گی؟ میرا تو کوئی بیٹا بھی نہیں۔ کوئی کمانے والا نہیں۔’

وہ جس گھر کے ایک کمرے میں رہائش پذیر ہیں وہ ایک ایسی کالونی کا حصہ ہے جو تجاوزات پر بنی ہے۔ وہ جس زمین پر بنی ہے وہ ریلوے کی ملکیت ہے۔ ان کا خاندان یہاں گذشتہ 40 سال سے آباد ہے۔

’آج تک تو کسی نے پوچھا نہیں، مگر کل کا کیا معلوم؟ ہمارے سر پر چھت رہے گی یا نہیں؟‘

‘وہی کمانے والے تھے، وہی چلے گئے۔ وہی پورا کرتے تھے گھر کا سب خرچ۔ کبھی کسی بھائی یا بہن سے پکڑ لیتے مگر پورا کر لیتے تھے۔ بہت مشکل ہو گا اب تو۔’

ان کے کمرے میں ایک پلنگ ہے جس پر پورا خاندان سوتا ہے۔ دوسری دیوار کے ساتھ کھانے کی میز لگی ہے اور اس کے پیچھے برتنوں کی الماری رکھی ہے، جبکہ سامنے دروازے کے ساتھ ایک پرانا ٹی وی سیٹ پڑا ہے۔

لاہور دھماکا

BBC
رفاقت علی کی اپنی والدہ اور بھائیوں کے ہمراہ یادگار تصویر، رفاقت علی دائیں جانب کھڑے ہیں

پلنگ کے سرہانے کی طرف ایک پرانی تصویر ہے جس میں رفاقت علی اپنی والدہ اور بھائیوں کے ہمراہ کھڑے ہیں۔

نازیہ نے بتایا کہ رفاقت نے جب نوکری شروع کی اس سے ’سال یا دو سال قبل داتا دربار میں دھماکے ہوئے تھے۔ مگر وہ ڈرتے نہیں تھے۔ موت کا کیا ہے، مرنا تو ہے ایک دن۔ وہ بہادر آدمی تھے، اچھے آدمی تھے۔‘

نازیہ ایک گھریلو خاتون ہیں۔ وہ تعلیم یا کوئی ہنر نہیں رکھتیں۔ ان کے پاس کوئی جمع پونجی بھی نہیں ہے۔

رفاقت علی کی موت اور ان کو گذشتہ پانچ ماہ سے تنخواہ نہ ملنے کے حوالے سے خبر ٹی وی چینلز پر نشر ہونے کے بعد نجی سیکیورٹی کمپنی کے عہدیدار تعزیت کرنے ان کے گھر آئے تھے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے رفاقت علی کے بڑے بھائی رانا شوکت علی نے بتایا کہ ‘آج وہ پانچ ماہ کی تنخواہ دے گئے ہیں۔ وہ بھی اگر میڈیا پر خبر نہ چلتی تو شاید نہ ملتی۔ مگر جو 40 ہزار زندگی میں ان کے کام نہ آئے، موت کے بعد کیا کرنے ہیں۔’

لاہور دھماکا

BBC
اب رفاقت کے گھر کے باہر دریاں بچھی ہیں، لوگ تعزیت کے لیے آ رہے ہیں

رفاقت علی جس گھر میں رہتے تھے اسی کے ایک دوسرے کمرے میں شوکت کا خاندان بھی رہائش پذیر ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ان کے چھوٹے بھائی رفاقت نے انٹرمیڈیئٹ تک تعلیم حاصل کر رکھی تھی۔ معاشی حالات نے اس سے آگے پڑھنے کی اجازت نہ دی۔ انھوں نے کریانے کی ایک دکان ڈالی اور اپنا کام کرنے کی کوشش کی۔ مگر اس میں نقصان ہو گیا اور بند کرنا پڑی۔

‘بے روزگاری سے تنگ آ کر اس نے سیکیورٹی گارڈ کی نوکری کرنا شروع کر دی تھی، ورنہ 8000 روپے میں کیا بنتا ہے۔’

شوکت نے بتایا کہ رفاقت شروع ہی سے داتا دربار پر تعینات تھے۔ ’اس نے خود کہہ کر وہاں ڈیوٹی لگوائی تھی۔ اس کی اپنی عقیدت بھی تھی داتا دربار سے۔‘

شوکت علی کی سبزی کی دکان ہے اور اسی سے ملنے والی رقم پر ان کا تین بچوں پر مشتمل کنبہ بمشکل گزارا کرتا ہے۔

تو کیا وہ رفاقت علی کے خاندان کو سہارا دے پائیں گے؟

’سب اللہ کے سپرد ہے۔ وہی کرتا ہے، ہم نے کیا کرنا ہے۔ ہماری وزیرِ اعظم عمران خان سے اپیل ہے کہ حکومت ان یتیم بچوں کے سر پر ہاتھ رکھے۔ ان کا باپ پاکستان کے لوگوں کی حفاظت کرتا ہوا مارا گیا۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 11178 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp