ماں اور بیٹا: چار میل کی دوری اور تیس سال کا انتظار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انیس سو پینسٹھ میں فیلڈ مارشل ایوب خان نے آپریشن جبرالٹر کے نام پر جموں کشمیر کے بھارتی مقبوضہ علاقے میں ایک مہم جوئی شروع کی۔ اس کا بظاہر مقصد 1962 کی بھارت چین جنگ کے بعد کمزور بھارتی فوج کو گوریلا جنگ کے ذریعے جموں کشمیر سے باہر نکالنا تھا۔ لیکن اس کا انجام ایک خوفناک جنگ کی صورت میں ہوا اور 1948 کی طرح سیز فائر لائن کے دونوں اطراف کشمیری عوام ایک بار پھر نشانہ بنے۔

سیز فائر لائن سے ملحقہ بھارتی علاقوں سے آپریشن جبرالٹر کی وجہ سے بہت سارے خاندان ہجرت کر کے پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر میں عارضی طور پر آباد ہو گئے۔ جنگ ختم ہوئی تو ان میں سے بہت سارے خاندان رات کی تاریکی میں واقف اور محفوظ راستوں کا انتخاب کر کے اس طرف واپس لوٹ گئے اور کچھ نے یہیں مستقل سکونت اختیار کر لی۔ انہی خاندانوں میں سے ایک خاندان کی کہانی اس تحریر میں شامل کر رہا ہوں۔

انیس سو پینسٹھ کے موسم گرما میں ایک گھٹا ٹوپ اندھیری رات کو چند خاندانوں نے بھارت کے زیر انتظام جموں کشمیر کی تحصیل مینڈھر سے اپنا پر خطر سفر پاکستان کے زیر انتظام جموں کشمیر کی طرف شروع کیا۔ کوئی درجن بھر افراد کے اس قافلے میں ماں۔ باپ اور نو سال کے کمسن بیٹے پر مشتمل ایک چھوٹا سا خاندان بھی شامل تھا۔ کسمپرسی اور خوف کے عالم میں ان کا زاد راہ چادر میں لپٹے چند کپڑے اور ایک بکری تھی۔ چھپ چھپا کر یہ قافلہ سیز فائر لائن کو عبور کرنے میں کامیاب ہو گیا اور اس آر ایک گاؤں میں عارضی سکونت اختیار کر لی۔

اسی دوران جاڑے کے موسم سے ذرا پہلے جنگ شروع ہو گئی اور اس خاندان کی پریشانیوں میں بے یقینی کی کیفیت مزید بڑھتی گئی۔ جنگ ختم ہوئی تو کچھ خاندانوں نے اپنے آبائی علاقے میں واپس جانے کا ارادہ کیا۔ چھوٹی چھوٹی ٹولیوں میں لوگ واپس جانے لگے۔ ان ٹولیوں کی محفوظ واپسی پر باقی لوگ بھی تیاری پکڑنے لگے۔ ماں۔ باپ اور کمسن بیٹے پر مشتمل اس خاندان نے بھی واپسی کا ارادہ کیا۔ لیکن سرحد پار جانے والوں کے سربراہ نے کہا کہ قافلے جتنے مختصر ہوں سرحد کو پار کرنا اتنا ہی آسان ہو گا۔

چنانچہ سردیوں کی ایک یخ بستہ رات کو ماں۔ باپ نے اپنے لخت جگر کو سرحد پار جانے والے ایک قافلے کے سپرد کر دیا۔ اور خود کو دو دن بعد جانے والے قافلے میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا۔ رات کی تاریکی میں ماں نے اپنے نو سالہ کمسن بچے کو سردی سے محفوظ رکھنے کے لیے ایک پھٹا پرانا کوٹ پہنایا اور اوپر اوڑھنے کو اپنی سردیوں کی کل متاع گرم شال بھی دے دی تاکہ اس کا بیٹا پیر پنجال سے آنے والی یخ بستہ سردی کی لہر سے محفوظ رہ سکے۔

ماں باپ دونوں جانے والے قافلے کو الوداع کہنے کے لیے ایک محفوظ مقام تک ساتھ ساتھ چلتے رہے۔ ماں اپنے بیٹے کو نصیحت کرتی رہی کہ دو دن کی ہی بات ہے۔ ویسے بھی تم اپنے نانا۔ نانی کے ساتھ جا رہے ہو۔ دو دن بعد ہم بھی آ جائیں گے۔ اور تمھاری بکری بھی تو تمھارے ساتھ ہے۔ دو دن تک اس کا خیال رکھنا اور وقت پر پتے اور پانی دیتے رہنا۔ گھر میں ہماری غیر موجودگی میں پتہ نہیں کچھ بچا بھی ہو گا یا نہیں۔ نئے سرے سے زندگی شروع کرنی ہوگی۔

بس ایک بار واپسی ہو جائے تو سب کچھ سنبھال لیں گے۔ رات کے اندھیرے بڑھنے لگے اور قافلے والوں نے اس ماں۔ باپ کو واپس جانے کو کہا۔ ماں نے آخری بار اپنے لخت جگر کو سینے سے لگایا اور اس کی آنکھوں سے انجانے خوف کی وجہ سے آنسوؤں کا ایک نہ ختم ہونیوالا سلسلہ امڈ آیا۔ بادل ناخواستہ ماں نے اپنے بیٹے کو آخری بار الوداع کرنے سے پہلے اپنی تسلی کے لیے گرم شال کو اس کے جسم کے گرد لپیٹ کر گانٹھ لگائی تاکہ یقین ہو جائے کہ اس کا بیٹا محفوظ رہے گا۔

رات ماں باپ نے اسی سوچ میں گزار دی کہ پتہ نہیں راستے میں پاکستانی فوج نے انہیں دیکھ لیا ہو گا اور انہیں بھارتی جاسوس سمجھ کر گرفتار کرلیا ہو گا۔ یا پھر اگر ایسا نہ ہوا تو کہیں بھارتی فوج نے انہیں پاکستانی سہولت کار سمجھ کر گولی مار دی ہو گی۔ طرح طرح کے وسوسوں نے انہیں آ گھیرا تھا۔ بالآخر رات گزر گئی اور صبح انہیں اطلاع مل گئی کہ قافلہ بحفاظت اپنے گاؤں پہنچ گیا ہے

اب ماں باپ نے قدرے سکھ کا سانس لیا۔ کہ ان کا لخت جگر اپنے نانی نانا کے ساتھ محفوظ ہے۔ انہوں نے بھی تیاری شروع کر دی اس لیے کہ ایک دن بعد جو قافلہ جا رہا تھا اس میں یہ دونوں بھی شامل تھے۔ لہذا انہوں نے اپنی عارضی پناہ گاہ کے گاؤں والوں سے الوداعی ملاقاتیں شروع کر دیں جنہوں نے مشکل وقت میں ان کا ساتھ دیا تھا۔ اگلی رات چادر میں لپٹی کپڑوں کی گٹھڑی لیے وہ بیوی خاوند بھی حد متارکہ کی جانب بڑھنے لگے۔ چار میل کی دوری ہی تو تھی۔

زیادہ سے زیادہ تین گھنٹے کا سفر۔ اس قافلے نے ابھی پہلا ہی پہاڑ عبور کیا تھا کہ گائیڈ نے انہیں اطلاع دی کہ آج رات سرحد عبور کرنے کے لیے موزوں نہیں ہے۔ بھارتی فوج کو قافلوں کی نقل و حرکت کا پتہ چل گیا ہے اور انہوں نے محفوظ گزر گاہوں پر رات کی پہرے داری اور گشت بڑھا دی ہے۔ لہذا کسی مناسب وقت کا انتظار کیا جائے۔ یہ خبر اس میاں بیوی کے لیے کسی ڈراونے خوف سے کم نہ تھی۔ جن کا لخت جگر دو دن قبل ہی اس پار گیا تھا۔ گائیڈ نے ان سے ایک ہفتے بعد ملنے کا وعدہ کیا اور یوں یہ قافلہ مایوسی کے عالم میں واپس آ گیا۔

وہ ایک ہفتہ سالوں کے برابر لگنے لگا۔ ماں سارا دن اس رستے کو ٹکٹکی باندھ کر دیکھتی رہتی جہاں سے جاتے ہوئے اس نے آخری بار اپنے لخت جگر کو سینے سے لگایا تھا۔ اور اس کے جسم پر اپنے گرم شال کو لپیٹ کر گرہ باندھی تھی۔ تاکہ ممتا کا پیار اسے سرد ہواوں سے محفوظ رکھے۔ خدا خدا کر کے وہ کربناک ہفتہ گزرا اور گائیڈ کی بتائی ہوئی رات اس قافلے نے ایک بار پھر رخت سفر باندھا۔ سرحد پر موجود پاکستانی چوکیوں کو قافلے نے رات کے اندھیرے میں عبور کر لیا اور آدھے سے زیادہ سفر بھی طے کر لیا۔

ایک محفوظ جگہ پر گائیڈ نے قافلے کو آرام کرنے کا مشورہ دیا اور خود راستے کا جائزہ لینے کے لیے چلا گیا۔ کوئی ایک گھنٹے بعد گائیڈ ایک مایوس خبر کے ساتھ واپس آیا کہ اس پار جانے والے جن راستوں کو وہ جانتا ہے وہاں بھارتی فوج نے مورچے بنا لیے ہیں اور مسلح پہرے داروں کی تعداد میں بھی اضافہ ہو گیا ہے۔ لہذا متبادل راستے کی تلاش تک قافلے کو واپس جانا ہو گا۔ یہ بھیانک خبر کسی بھاری بھرکم چٹان کے سر پر گرنے سے کم نہ تھی۔ لیکن جذبات کے سامنے ایک مادی حقیقت کھڑی تھی۔ مایوسی کے عالم میں قافلے نے واپسی کی راہ لی۔ اور گائیڈ کے پیغام کا انتظار کرنے لگے۔ کوئی ایک مہینے بعد گائیڈ نے بتایا کہ واپسی کے سارے راستے بند ہو گئے ہیں۔

اس خبر سے بچی کھچی امید بھی دم توڑ گئی اور اس ماں باپ کی زندگی میں بیٹے سے جدائی کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو گیا۔ ادھر ماں کی ممتا نے انگڑائی لی اور اس نے بیٹے کے پاس جانے کے لیے ہر خطرے کو مول لینے کی ٹھان لی۔ پھر ایک رات اس نے اپنے خاوند کو ساتھ لے کر سرحد کی اس طرف بغیر گائیڈ کے سفر شروع کردیا۔ راستے میں وہ پاکستانی فوج کے ہاتھ آگئے اور انویسٹیگیشن کے نام پر انہیں حراست میں لے لیا گیا۔

پھر کوئی ہفتے بعد گاؤں کے لوگوں کی مداخلت پر اصل صورتحال جاننے کے بعد ان کی رہائی ممکن ہوئی۔ لیکن ستم بالائے ستم کہ پاکستانی فوج نے بھی رات کی پہرے داری اور گشت بڑھا دی۔ یوں ہفتے۔ مہینے سال گزرنے لگے۔ اور اس ماں کا دھیان ہر وقت سرحد کے اس پار جانے والے رستے کی طرف رہتا۔ گاؤں کی عورتیں جب بھی پانی کی باولی یا کھیت کے کام کاج میں کہیں اکٹھی ہوتیں تو اس ماں کی نظریں سرحد پر لگی ہوتیں جہاں چار میل کی دوری پر اس کا بیٹا تھا۔

اس کی آنکھوں کے آنسو بھی خشک ہو گئے لیکن ملن کی آس بھی ہر گزرتے دن کے ساتھ ٹوٹتی رہی۔ اسی دوران 1971 کی جنگ شروع ہو گئی۔ اور پونچھ میں بھارتی فوج نے مزید پاکستانی زیر انتظام علاقے پر قبضہ کر لیا۔ اس ماں کی امیدیں دم توڑ گئیں۔ بھارتی فوج نے تو چند دنوں میں تین میل کا سفر کر کے مزید علاقے اپنے زیر تسلط کر لیے لیکن اس ماں کے سفر کے چار میل چھ سالوں میں بھی طے نہ ہو سکے۔

ان رستوں کو دیکھتے دیکھتے ایک دن وہ ماں دلبرداشتہ ہو گئی اور 1978 میں اس سرحدی گاؤں سے دور جا کر آباد ہو گئی۔ پھر اسی کی دھائی کے اوائل میں پنجاب کے علاقے جھنگ میں کسی مہاجر کالونی میں چلی گئی۔ آخری امید پر اس نے اپنے بیٹے کو خط لکھا کہ وہ اب جھنگ میں آباد ہو گئی ہے۔ لیکن مرنے سے پہلے اسے دیکھنا چاہتی ہے۔ یوں ماں بیٹے کے درمیان خط و کتابت کا سلسلہ شروع ہو گیا اور ملن کی آس ایک بار پھر جاگ اٹھی۔ طویل انتظار کے بعد 1995 میں سردیوں کی ایک شام ماں کو اپنے لخت جگر کا خط ملا کہ اسے پاکستان کا ویزہ مل گیا ہے اور وہ بہت جلد ماں سے ملنے جھنگ آریا ہے۔

پھر ایک شام تیس سال پہلے چار میل کی مسافت پر جانے والا نو سال کا بچہ ایک چالیس سال کے مرد کی شکل میں۔ مینڈھر۔ جموں۔ دہلی۔ اور لاہور کا ہزاروں میل کا سفر طے کرتے ہوئے بالآخر چار میل کا سفر طے کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ لیکن اس بیچ اس کی ماں جوانی سے بڑھاپے اور وہ خود بچپن سے لڑکپن کا سفر طے کرتے ہوئے ادھیڑ عمر میں قدم رکھ چکا تھا۔ تقسیم اور قبضے کی صرف یہ ایک کہانی ہے۔ ایسی کہانیاں سیز فائر لائن کے دونوں اطراف کم وبیش ہر خاندان کی کہانیاں ہیں۔ جو نوحے بن کر تاریخ کی دیوی کے ماتمانہ جلوس بن چکے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •