سندھی ادب کے افق کا قطب تارہ۔ منظر جو رہ گیا

یہ اس دور کی بات ہے جب ہم بچے ہوا کرتے تھے۔ غالباً ٹین ایج کے ایام تھے۔ ہمارے گھر میں ادبی کتب آتی بھی تھیں اور چھوٹے بڑے سب بڑے شوق و ادراک کے ساتھ انھیں پڑھتے بھی تھے۔ میں چونکہ سب بھائی بہنوں میں چھوٹی تھی تو آنکھیں پھاڑ کے ان کی باتیں سنتی ہی رہتی تھی اور کوشش کرتی تھی کہ وہ جو کتابیں پڑھتے ہیں وہ میں بھی پڑھوں اور پھر ان کے ساتھ اپنی ماھرانہ رائے کا اظھار بھی کروں۔ بس اسی لگن میں کافی کتابیں پڑھ ڈالیں۔

کچھ سمجھ آتیں، کچھ، کچھ کچھ سمجھ آتیں اور کچھ تو بالکل سمجھ نہ آتیں۔ بس یہی دور تھا کہ طارق عالم ابڑو کا سندھی ناول ”رہجی ویل منظر“ منظر عام پر کیا آئی تھی گویا کوئی تہلکہ برپا ہوگیا تھا۔ جس کو دیکھو ناول کے کرداروں پر بات کر رہا تھا۔ اس دور میں کئی لوگوں نے تو اپنے بچوں کے نام اس ناول کے ہیرو اور ہیروئن پنہوں اور سنجھا کے ناموں پر رکھ ڈالے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میری ایک سہیلی کی بڑی بہن کے بوائے فرینڈ پر تو بڑا زمانہ اس کتاب کا رومانس طاری رہا۔ وہ گویا پنہوں بن گیا تھا اور اپنی گرل فرینڈ کو سنجھا سمجھتا تھا۔ وہ اپنی سنجھا سے جب بھی بات کرتا تھا تو اس کو اپنی آکسیجن کہتا تھا۔ یہ صرف اس کی کہانی نہیں تھی اس دور کے جتنے بھی میاں مجنوں تھے اور خصوصن جو سندھ یونیورسٹی میں پڑھتے تھے وہ اس ناول کے بعد مجنوں نہیں بلکہ پنہوں بن چکے تھے۔

برا تھا شھر بھنبھور، دھویا آن کے آریانی نے۔ شاہ لطیف

یہ تھا اس ناول کا رومانس جس نے ایک دور پر حکمرانی کی اور جس پر سے سلطنت برطانیہ کی طرح سورج نہیں ڈھلتا تھا۔ اس لیے اس کو سندھی ادب کے افق پر رومانٹک ناولوں میں قطب تارہ کی حیثیت حاصل ہے۔

اسی دیکھا دیکھی ہم نے بھی کتاب پڑھ ہی ڈالی تھی۔ کچھ باتیں تو سر کے اوپر سے اس طرح گزر گئیں جیسے مونال کی چڑھائی سے ازخود گاڑی اترتی ہی چلی جاتی ہے۔ بس تب سے لے کر آج تک اس کتاب کو لے کر ایک سرور کا احساس سا حواسوں پر قائم تھا۔ شکریہ نیاز ندیم کا کہ جس نے اس کتاب کے اردو ترجمہ کی کاپی بطور تحفہ تھما دی۔ بہت شکریہ سدرت المنتہا جیلانی کا جس نے اس شاھکار ناول کا ترجمہ بھی ویسا ہی کیا ہے کہ جیسا اس کو کرنے کا حق تھا۔

میں تراجم پڑھنے سے اس لئے کتراتی ہوں کہ اکثر و بیشتر ان میں وہ مزہ کہیں کھو جاتا ہے جو کہ اصل میں ہوتا ہے۔ اسی ناول سے پہلے ایک کتاب کا اردو ترجمہ صرف ایک باب پڑھ کر پھر اس کے انگریزی اصل مسودہ پر اس لئے آ گئی کہ اردو ترجمہ میں گویا دہرائیت کے ساتھ ساتھ بوریت بھی ہو رہی تھی۔ اب جب اس کا انگریزی اصل پڑھ رہی ہوں تو قدرے بہتر ہے۔ مگر میں بڑی خاطری کے ساتھ یہ کہتی ہوں کہ سدرت المنتہا نے کمال ترجمہ کیا ہے۔

گو موصوفہ سامنے نہیں آتیں اور اپنی ادبی خدمات پس پردہ رہ کر ادا کرنا چاہتی ہیں۔ بات سامنے آنے کی بھی نہیں ہے۔ حق تو یہ ہے کہ حق ادا ہو گیا۔ ورنہ کئی لوگ تو سامنے ہی سامنے ہیں اور صرف سامنے ہی ہوتے ہیں۔ کام ہو نہ ہو سامنے رہنا ان کی جیسے کوئی مجبوری ٹھری۔ حد تو یہ ہے کہ سینکڑوں نام گنوائے جا سکتے ہیں جو اس تگ و دو میں لگے ہوئے ہیں کہ یہاں وہاں سے اٹھا کر، اس اس سے لکھوا کر اپنا نام دے کر چھپوا دیں اور پھر اس کے نام کا کھائیں۔ یہ تو گویا وہی بات ہوئی کہ بدنام ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا۔ یہ مرض بھی اسی طرح عام ہورہا ہے جیسے ایچ آئی وی ایڈز۔ روز ایک نیا کیس۔

آج جب اس کتاب کو پھر پڑھا ہے تو حقیقی معناؤں میں اس کو اور اس کی گہرائی کو سمجھ اور پرکھ سکی ہوں۔ اور طارق عالم ابڑو کے لکھنے کے فن کی قائل ہوگئی ہوں۔ کمال استعاروں کا لاجواب استعمال، خوبصورت الفاظ اور ان کی کاٹ، دلکش منظرنگاری کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے عظیم ادیبوں اور ادبی فن پاروں کے حوالے اور انسان کی نفسیات کے مختلف پہلووں کا امتزاج اس ناول کی اھم خصوصیات ہیں۔ وہ لکھتے ہیں :

 اس وقت مجھے چائے کی کڑواہٹ نہیں محسوس ہوئی تھی، بالکل ایسے ہی جیسے سانپ کے ڈسے ہوئے کو نیم کا پیالہ پیتے وقت پھیکا لگتا ہے۔

 صبا کے جملے سقراط کی آخری تقریر کی سطروں جتنے ہی امر لگے تھے۔

رابیلا کے چہرے پر مائیکل اینجلو کی پینٹینگز میں بنے معصوم چہروں پر نظر آنے والی مسکراہٹ دکھائی دینے لگتی تھی۔

 الماری میں پڑی ہر چیز سے لے کر میرے جسم کے ہر حصے تک کیلاش بن گیا تھاجس کے ہر طرف برف سوئی ہوتی ہے اور اس کے اندر آگ ہوتی ہے۔

 ہوا زنا کے جرم میں بھاگتے ہوئے مجرم کے پیچھے بپھرے ہجوم کی طرح زناٹے کے ساتھ اندر آکر پھیل گئی تھی۔

 سمندر مجھے رابندر ناتھ ٹیگور کی گیتانجلی لگتا ہے۔ میں نے ٹیگور کی گیتانجلی ہمیشہ جوتے اتار کر آلتی پالتی مار کر پڑھی ہے۔

 سیلف میں رکھی کتابوں میں بائیبل سے لے کر داس کیپٹال اور کامیو، ہرمن ہیس اور کافکا سے میکسم گورکی تک کی کتابیں اپنے خیالوں میں گم تھیں۔

 سنو تمہیں راجندر، قرت العین، منٹو اور پریم چند اچھے لگتے ہیں نا۔ میں نے ان سب کو الگ کرکے رکھا ہے، اگر لے جانا چاہو تو بے شک لے جاؤ۔

وہ منظر جو رہ گیا وہ وہی منظر ہے جو کم و پیش شاید ہم سب کی زندگیوں میں آتا ہے مگر طارق عالم ابڑو کا انداز بیاں اور لفظوں کا لینڈ اسکیپ اس منظر کو اس طرح امر بنا دیتا ہے کہ کچھ دن تو آپ خود اس منظر کی زد میں رہتے ہیں گویا خود پنہوں بن جاتے ہیں۔

پنہوں بنی میں خود، سسئی تھی تو درد تھے۔ شاہ لطیف

بس یہی فن تحریر اس ناول کو کامیابیوں کے ہمالیہ تک پہنچاتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں :

” ہم سندھی اپنے دوستوں کی محبوباوں کو اپنی بہنوں جتنا ہی مقدس سمجہتے ہیں۔ ہم تو ان طوائفوں کی طرف بھی نہیں جاتے جن سے ہمارے یاروں کے واسطے ہوتے ہیں۔“

” تمہیں دیکھنے کے لئے میرے قدم خودبخود ریڈیو اسٹیشن کے گیٹ کی طرف بڑھنے لگے تھے۔ بوڑھے پیپل کی اوٹ میں کھڑا ہوکر تمہارا انتظار کرنے لگا تھا۔ اور شام جیسے پیپل کے پتوں سے چھن کر سارے حیدرآباد پر چھا گئی تھی۔ تمہیں دیکھنے کی شدت اور زیادہ گہری ہوگئی تھی۔ چاہا تھا تم جلدی سے نکل آو۔ مگر تم ٹائم سے بھی دو گھنٹے تاخیر سے نکلی تھیں۔ ظہیر تمہارے ساتھ تھا۔ مجھے اندازہ تھا کہ وہ تمہیں گیٹ کے پاس سے ہی رکشہ پکڑ کر دے گا مگر میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا تھا کہ وہ تمہیں رکشہ پکڑ کر دینے کے بجائے تمہارے ساتھ چلنے لگا تھا۔

تم دونوں ایک دوسرے کے قریب قدم سے قدم ملائے چلنے لگے تھے۔ بالکل اسی طرح جیسے پہلے تم میرے ساتھ انہی راستوں پر چلا کرتی تھیں اور چلتے ہوئے آنے والے رومینٹک مستقبل کے خواب دیکھا کرتی تھیں۔ ہر قدم پر قہقہہ لگا کر کھل اٹھتیں۔ آج انہیں راستوں پر تم ظہیر کے ساتھ مسکراہٹیں بکھیرتی چلی جا رہی تھیں۔ میرے پیار کے شہر پر دکھ کا ایٹم بم گر گیا تھا اور سارا اندر ہیرو شیما بن گیا تھا۔ “

طارق عالم نے کمال کاریگری کے ساتھ وہ ڈکشن اور اسٹائل اپنایا ہے جو کہ سندھ یونیورسٹی کے طلبا کا رہا ہے۔ مثال کے طور پر یہ ملاحظہ کیجئے :

” اتنی ٹریفک میں آکر مجھے اپنی حیثیت صفر محسوس ہوتی ہے۔ “
”تم نے ہی تو کہا تھا۔ ۔ ۔ ؟ “
”کیا؟ “
” کہ صفر وہ عدد ہے جو کسی بھی عدد کے سامنے لگے تو اس کی تعداد بڑھ جاتی ہے۔ “

قہقہہ نکل گیا تھا۔
” بڑی سوئر ہو۔ “
مسکرا دی تھی اور اس کی مسکراہٹ روڈ سے گزرتی خالی ٹیکسی کو بلانے میں گم ہو گئی تھی۔

بعض جگہوں پر دانستہ طور پر اس ڈکشن کو قائم رکھنے کے لئے سلپنگ پلز، ڈور میٹ، کانسیپٹ اور دیگر انگریزی الفاظ کا استعمال کیا گیا ہے جو کہ طلبا عام طور پر کرتے ہیں اور مترجم نے بھی اس بات کو سمجھتے ہوئے اس طرز تحریر کو بگاڑنے سے گریز کی ہے۔

میں حیران ہوں کہ طارق عالم عورت کی نفسیات اتنی باریک بینی سے کیسے سمجھ سکے۔ وہ لکھتے ہیں :

” کراچی کی بس ہم دونوں کے درمیان آکر، کچھ لمحے رک کر چلی گئی تھی۔ میں نے دیکھا تھا صبا مسلسل ناخنوں سے پالش کھرچ رہی تھی۔ “

تھوڑی دیر کے لئے تو مجھے یہ گمان ہونے لگا تھا کہ کہیں یہ اصل کہانی تو نہیں اور یہ کہانی خود ان کی اپنی تو نہیں۔ پنہوں کہیں خود طارق عالم تو نہیں۔

فی الوقت تو میں اس کتاب کے سحر میں ہوں اور خود کو اس سحر سے باہر نہیں نکال پائی۔ مگر ایسے حسیں سحر سے کون نکلنا چاہے گا۔ بلکہ اسی سحر میں رہتے ہوئے اب تو دل چاہتا ہے ایک ناول لکھنے کی جسارت ہم بھی کر ہی ڈالیں۔ ناول اور ایک شاہکار ناول، منظر جو رہ گیا کا پارٹ ٹو۔

بھابھی رضیہ طارق اور سدرت المنتہا کو اس کاوش پر اور اس ناول کو ایک بار پھر ہماری پھیکی سی زندگیوں میں لانے پر تہہ دل سی مبارکباد۔