چلاس کے اچھے لوگوں اور تاریخی سرزمین پر آخری کالم۔۔۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پہلی دفعہ 2001 میں چلاس سے گزرنا ہوا۔ حیرت سی حیرت تھی کہ ایسا لینڈ سکیپ تصورمیں بھی نہیں آ سکتا تھا۔ یہ ہی وہ دور تھا جب چلاس پر تحقیق شروع کی۔ معلوم ہوا کہ پروفیسر دانی نے چلاس پر بہت خوب کام کیا ہے۔ جتنا پڑھتا گیا اسی قدر تجسس بڑھتا گیا۔

اس تجسس کو طمانیت تب ملی جب 2011 میں سفر ہے شرط پر 14 قسطوں کا ایکسپریس نیوز پر پروگرام کیا۔ پروگرام میں کم از کم 4 قسطوں پر چلاس چھایا رہا۔ اس کی وجہ چلاس سے از حد محبت تھی۔ قدیم یونانی ادب سے لے کر حالیہ غیر ملکیوں کے سفرناموں تک سب کھنگالا۔ بعد میں جب چلاسی دوستوں کو چلاس کی اہمیت کے حوالے سے قصے سنائے تو وہ خود حیرت زدہ رہ گئے۔ کم لوگوں کے علم میں تھا کہ گلگت اور دوسری آبادیوں سے کہیں پہلے چلاس آباد تھا اور چلاس کو اس خطے کی سب سے قدیم آبادی تصور کرنا بعید از عقل نہیں ہو گا۔

چلاس کے ساتھ داریل اور تانگیر علم و فنون کے مراکز تھے اور یہ دور ٹیکسلا کی تہذیب کے متوازی تھا۔ سفر ہے شرط پروگرام میں چلاس کے تھانے کو دکھایا کہ یہ تھانہ پورے پاکستان کے لیے مثال ہے جبکہ اس وقت کے ایس ایچ او کا انٹرویو نشر کیا کہ پولیس کیونکر ایک مثالی پولیس بن سکتی ہے۔ چلاس کا تھانہ ایک پرانی عمارت میں ہے۔ اس عمارت کی ایک انتہائی دلچسپ تاریخ ہے۔ اس تاریخ کوبیان کرنے کے لیے پروفیسر لیٹنر کی کتاب داردستان سے مدد لی اور لیٹنر کا 1862 کے چلاس تک کے سفر کو بیان کیا۔

بعد میں میرے مختلف کالموں میں جس انداز سے چلاس کا ذکر ہوتا ہے وہ وارفتگی اور محبت، ہنزہ نگر یا سکردو کا ذکر کرتے ہوئے نہیں ملتی۔ مثال کے طور پر کچھ پرانے کالموں کا حوالہ دے رہا ہوں۔

”چلاس اس خطے بلکہ دریائے سندھ کا اہم ترین تاریخی شہر رہا ہے۔ پتھروں پر کندہ تصویری عبارتوں کی تعداد سب سے زیادہ یہیں ہے۔ سنتے ہیں کہ چلاس کے مرکزی بازار میں کوئی مجسمہ ہوا کرتا تھا جس کی ٹانگوں کے نیچے سے آمدورفت ہوتی تھی۔ گلگت بلتستان کے خطے کا بھی سب سے پرانا اور مرکزی شہر یہی چلاس تھا۔

چلاس کی جدید تاریخ بھی یعنی 1810 سے آگے کی تاریخ جنگوں اور جھڑپوں سے عبارت ہے۔ پروفیسر لیٹنر کی کتاب داردستان میں ان جنگوں کو مختلف ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے۔ چلاس اور داریل کی جنگ، چلاس اور استوریوں کی جنگ، چلاس کی سلطنت کشمیر کی ساتھ جنگ، چلاس اور گلگت کی جنگ وغیرہ وغیرہ۔

آج چلاس کا تھانہ جس قلعہ میں واقع ہے اس قلعہ کی تاریخ بھی بہت ہی دلچسپ ہے۔ پروفیسر لیٹنر کی جب 1860 کی دہائی میں یہاں آمد ہوئی تو چلاس اور استور کی جنگ جوبن پر تھی۔ چلاس کا استور کی زرخیز چراگاہوں سے جانور چرانا معمول بن چکا تھا۔ مہاراجہ کشمیر کئی دفعہ متنبہ کر چکا تھا لیکن اس جنگ میں استور کی مدد کے لیے مہاراجہ نے اپنی فوج بھیجی۔

آج کا سیاح بغیر چلاس پر توجہ کیے گزر جاتا ہے۔ آج کے چلاس کاتعارف کسی بھی سیاح کے تخیل میں چند ورکشاپوں، خشک میوہ جات کی دکانوں، کچھ ہوٹلوں، شدید گرمی، سیاہ خشک پہاڑوں کا ہے لیکن یہ تعارف ان سیاحوں کے تخیل میں ہے جو کہیں جانے پہلے اس جگہ کے متعلق مطالعہ نہیں کرتے۔

مقامی اور بالخصوص بین الاقوامی سیاحوں کی کثیر تعداد جانتی ہے کہ چلاس کیا ہے۔
جب آپ جانتے ہوتے ہیں کہ چلاس کیا ہے اور اس کی تاریخ قبل از مسیح تک جاتی ہے تو یہاں کے ایک ایک پتھر میں جان پڑ جاتی ہے۔

عجائب گھروں کی سیر کرنا، زمانہ قدیم کی اشیا کو سرسری دیکھنا ایک اور عمل ہے اور مستنصر حسین تارڑ کے ناول بہاؤ کو پڑھنے کے بعد کسی عجائب گھر کو دیکھنا ایک اور تجربہ۔
ہر پتھر میں جان پڑ جاتی ہے، ہر برتن ’پاروشنی‘ کا برتن دکھائی دیتا ہے کہ شاید اس برتن میں کسی پاروشنی نے گندم پیسی ہو گی۔

بس یہی فرق چلاس کو سرسری دیکھنے اور مطالعہ کے بعد دیکھنے میں ہے۔ ایک کثیر تعداد قراقرم ہائی وے پر چند ہوٹلوں اور ورکشاپوں کو چلاس جانتی ہے۔ چلاس قراقرم ہائی وے سے دو کلومیٹر اوپر کی جانب واقع ہے، یہ بَٹھو نالہ کے کنارے پر واقع ہے اور یہ نالہ خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہے۔ چلاس کے لوگ بہت باکمال لوگ ہیں۔ دوستی میں کھرے اور مخلص۔

بارہا ایسا ہوا کہ رات کو چلاس کے نواح میں ٹائر پنکچر ہوا یا گاڑی خراب ہوئی تو کوئی مقامی چلاسی آ نکلا۔ اس وقت تک پاس کھڑا رہا اور مدد کرتا رہا جب تک کہ گاڑی ٹھیک نہیں ہو گئی۔ سب سے حیران کن لمحہ ہوتا ہے جب آپ کسی چلاس والے کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ اس کے چہرے پر ایسے تاثرات ہوتے ہیں جیسے یہ تو میرا فرض تھا اس میں شکریہ کہاں سے آ گیا۔

چلاس میں ایک ہوٹل ایسا شاندار ہے کہ اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ یہ ہوٹل شنگریلا چلاس ہے۔ سڑک سے گزر جائیں تو ہوٹل کی وسعت اور جمال نظر نہیں آتے، صرف ایک بورڈ یا چند کمرے نظر آتے ہیں لیکن جیسے ہی ہوٹل میں داخل ہوں تو ایک کائنات کھلتی چلی جاتی ہے۔ مٹی سے بنی کائنات شنگریلا ہوٹل سڑک سے نیچے کی جانب دریائے سندھ کی جانب ہے، اس لیے سڑک پر صرف اس کے استقبالیہ کی عمارت اور چند کمرے ہی نظر آتے ہیں۔ یہ ہوٹل وسیع و عریض رقبہ پر پھیلا ہے۔

مٹی سے صرف عمارتیں ہی نہیں بنی ہوئیں بلکہ کمروں کے اندر بیڈ تک مٹی کے ہیں۔ بیڈ کیا ہیں مٹی کے چبوترے ہیں جن کے اوپر بستر بچھے ہیں۔ روشنی تک کا انتظام مٹی سے بنی لالٹینوں سے کیا گیا ہے جن کے اند ر ننھے بلب لگے ہیں۔ حتیٰ کہ واش روم میں سنک میں منہ ہاتھ دھونے کی جگہ کو چھوڑ کہنے دیجئے کہ چلاس میں شنگریلا کے باغیچے کی شام کرہ ارض پر اترتی بہترین شاموں میں سے ایک ہے۔ چلاس میں ہر وقت ہوا چلتی رہتی ہے۔ یہ ہوا دن کو تپش لیے ہوتی ہے لیکن شام اور رات کو یہی ہوا گالوں پر نرم تھپیڑے مارتی ہے۔

چلاس میں دوسرے ہوٹلز بھی کمال ہیں۔ مجھے ان ہوٹلوں میں باغیچے متاثر کرتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ ایسا شاید اس لیے ہوتا ہے کہ سبزہ دیکھے ایک مدت ہو چکی ہوتی ہے ایسے میں چلاس میں پینوراما ہوٹل کے باغیچے میں کسی انگور کی بیل کے نیچے بیٹھے حیرتیں اترتی ہیں کہ کیا کمال ہے کائنات میں سبز رنگ بھی ہوتا ہے اور کیا خوب رنگ ہے اور جن پر یہ رنگ چڑھا ہوا ہے یہ کیا عجیب مخلوق ہے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وقار احمد ملک

وقار احمد ملک اسلام آباد میں مقیم ایک صحافی ہے۔ وہ لکھتا نہیں، درد کی تصویر بناتا ہے۔ تعارف کے لیے پوچھنے پر کہتا ہے ’ وقار احمد ملک ایک بلتی عورت کا مرید اور بالکا ہے جو روتے ہوئے اپنے بیمار بچے کے گالوں کو خانقاہ کے ستونوں سے مس کرتی تھی‘ اور ہم کہتے ہیں ، ’اجڑے گھر آباد ہوں یا رب ، اجڑے گھر آباد۔۔۔‘

waqar-ahmad-malik has 160 posts and counting.See all posts by waqar-ahmad-malik