پاکستان میں میڈیا کی صنعت کی ترقی کے لیے ’ڈیجیٹائزیشن‘ کتنی ضروری ہے؟

شہزاد ملک - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پیمرا

BBC

اسلام آباد ہائی کورٹ کی طرف سے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کو 38 نئے چینلز کو لائسنس جاری نہ کرنے کے حکم کے بعد ماہرین کا کہنا ہے کہ نئے لائسنس جاری کرنے کا فائدہ اُس وقت تک نہیں ہوگا جب تک ملک میں رائج کیبل سسٹم کو ڈیجیٹائز نہیں کیا جاتا۔

عدالت نے پیمرا کو یہ حکم پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن (پی بی اے) کی طرف سے دائر کی گئی درخواست پر دیا جس میں استدعا کی گئی تھی کہ پیمرا کے پاس 80 سے زیادہ چینلز چلانے کی صلاحیت نہیں ہے جبکہ اس وقت ملک بھر میں لائسنس یافتہ چینلز کی تعداد 119 ہے۔

یہ بھی پڑھیے!

مذہبی چینلز: تفریق یا آزادیِ اظہار کا ذریعہ؟

پیمرا کو عدلیہ مخالف تقاریر کی نشریات روکنے کا حکم

ٹی وی چینل اور ریٹائرڈ فوجی

پیمرا نے حال ہی میں 38 نئے سیٹلائٹ چینلز کو لائسنس جاری کیے ہیں جن میں سے سات نیوز چینلز ہیں جبکہ باقی انٹرٹینمنٹ اور انفوٹینمنٹ کے ہیں۔

ایک نیوز چینل کو لائسنس 28 کروڑ 35 لاکھ روپے میں جاری کیا گیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پیمرا کو مزید لائسنس جاری کرنے سے پہلے ملک کے نشریاتی نظام کو ’ڈیجیٹائز‘ کرنا پڑے گا۔

ان کے خیال میں اگر ایسا نہ کیا گیا تو پھر ٹی وی انڈسٹری جمود کا شکار رہے گی اور اس بات کے بھی امکانات ہیں کہ پاکستان سے الیکٹرانک میڈیا کی صنعت ختم ہو جائے گی۔

پیمرا

Getty Images
اسلام آباد ہائی کورٹ کی طرف سے پیمرا کو نئے 38 چینلز کو لائسنس جاری نہ کرنے کے حکم دیا گیا

غیر سرکاری تنظیم میڈیا میٹرز فار ڈیموکریسی کے اسد بیگ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کیبل سسٹم سنہ 2002 سے چل رہا ہے اور اس میں بیک وقت صرف 72 سے 78 چینلز دکھانے کی صلاحیت ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ انڈیا میں بھی سنہ 2009 میں کیبل سسٹم تھا لیکن اُنھوں نے سنہ 2014 میں اس سسٹم کو ڈیجیٹل کر دیا تھا جس کی وجہ سے وہ ایک وقت میں کئی سو چینلز بھی دکھا سکتے ہیں۔

اسد بیگ کا کہنا تھا کہ اس کے برعکس پاکستان میں کیبل آپریٹرز ٹی وی چینلز کے مالکان کو نہ صرف رقم ادا نہیں کرتے بلکہ اکثر اوقات مالکان اپنے چینلز کو پہلے نمبروں پر لانے کے لیے کیبل آپریٹرز کو پیسے بھی ادا کرتے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ ملک میں ڈائریکٹ ٹو ہوم (ڈی ٹی ایچ) ٹیکنالوجی بھی آنے والی ہے لیکن موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ابھی صرف سسٹم کو ہی ڈیجیٹائز کرنے کے لیے ایک عرصہ درکار ہوگا۔

صحافی اور تجزیہ نگار طلعت حسین کا کہنا ہے کہ بعض ٹی وی مالکان کے مفادات اسی میں ہیں کہ ملک میں ٹی وی چینلز کی تعداد میں اضافہ نہ کیا جائے کیونکہ ایسا ہونے کی صورت میں ان کا کاروبار متاثر ہوگا۔

اُنھوں نے کہا کہ قانون میں پیمرا پر کوئی قدغن نہیں ہے کہ وہ جتنے مرضی لائسنس جاری کرے۔ اُنھوں نے کہا کہ پیمرا کو مارکیٹ کو دیکتھے ہوئے چیزوں کو ریگولیٹ کرنا ہوگا۔

طلعت حسین کا کہنا تھا کہ اس معاملے کو بھی دیکھنا ہوگا کہ ایک طرف پاکستان میں میڈیا انڈسٹری بحران کا شکار ہے جبکہ دوسری طرف کون ہیں وہ لوگ جو ان حالات میں نئے ٹی وی چینلز کے لائسنس لے کر اپنی سرمایہ کاری کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔

پیمرا

Getty Images
پاکستان کا کیبل سسٹم ایک ہی وقت میں 72 سے 78 چینلز دکھانے کی صلاحیت رکھتا ہے

یہ بھی پڑھیے!

دس منٹ میں چینل بند کریں ورنہ۔۔۔

سنسر: پاکستان بھی سعودی،چینی ماڈل پر عمل پیرا؟

’میڈیا نگرانی کا ایک ادارہ بنانے سے آسانیاں پیدا ہوں گی‘

اُنھوں نے کہا کہ پاکستان میں جہاں پر صحافیوں اور دیگر ٹیکنیکل سٹاف کو مختلف ٹی وی چینلز سے نکالا جا رہا ہے یا اُن کی تنخواہوں کو کم کیا جارہا ہے تو ایسے حالات میں ایسے افراد کی چھان بین کی بھی ضرورت ہے جنھیں لائسنس جاری کیا گیا ہے۔

طلعت حسین کا کہنا تھا کہ اگر ایک طرف معاشی صورت حال تسلی بخش نہیں تھی تو دوسری طرف کچھ ریاستی اداروں کی طرف سے ان صحافیوں پر، ان چینلز پر یا ان پروگراموں پر ضرب لگائی گئی ہے جن سے ریاست کو خوف اور تکلیف ہوتی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ایسی صورتحال میں ملک کی میڈیا انڈسٹری کو جو خطرات لاحق ہوں گے اس میں جو اچھے پروگرام ہیں وہ بند ہوتے جائیں گے اور ان کی جگہ ایسے ’گھس بیٹھیے‘ آجائیں گے جن کے پاس لاًئسنس بھی ہوں گے مگر ان کے ڈانڈے کہیں اور ملتے ہوں گے اور یہی لوگ مارکیٹ کو کنٹرول کریں گے کیونکہ طلعت حسین کے بقول ریاستی اداروں کے پاس فنڈز کی کوئی کمی نہیں ہے۔

’مارکیٹ میں ان چینلز کا قلع قمع کیا گیا جن سے ریاستی ادارے خطرہ محسوس کر رہے تھے لیکن اس کے ساتھ ایسے چینلز بھی سامنے لائے گئے جن کے ڈانڈے کہیں اور سے ملتے ہیں۔‘

طلعت حسین کا کہنا تھا کہ اگر عدالتیں آج پیمرا کو کام کرنے سے روک رہی ہیں تو پھر کل یہ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کو بھی ریگولیٹ کرنے میں لگ جائیں گے جسں سے ملک کا نظام درہم برہم ہو جائے گا۔

ابصار عالم

BBC
سابق چئیرمین پیمرا ابصار عالم کہتے ہیں کہ پاکستان سمیت دنیا کے چند ایک ممالک ایسے ہیں جہاں پر کیبل کو ڈیجیٹائز نہیں کیا گیا

پیمرا کے سابق چیئرمین ابصار عالم کا کہنا تھا کہ چینلز کی تعداد میں اضافہ ہونا چاہیے اور محض اس چیز کو بنیاد بنا کر لائسنس جاری کرنے کا عمل نہیں رکنا چاہیے کہ پیمرا اس کو ریگولیٹ نہیں کرسکتا۔

اُنھوں نے کہا کہ اگر پیمرا کی طرف سے کیبل سسٹم کو ڈیجیٹائز نہ کیا گیا تو اس انڈسٹری میں کوئی سرمایہ کاری نہیں ہوگی۔

ابصار عالم کا کہنا تھا کہ کیبل سسٹم کو ڈیجیٹائز کرنا اس لیے بھی ضروری ہے کیونکہ پاکستان نے اس بارے میں بین الاقوامی معاہدے پر دستخط بھی کیے ہوئے ہیں اور پاکستان میں پہلے ہی اس معاہدے پر عمل درآمد کرنے میں تاخیر کی جارہی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ پاکستان سمیت دنیا کے چند ایک ممالک ایسے ہیں جہاں پر کیبل کو ڈیجیٹائز نہیں کیا گیا۔

پیمرا کے سابق چیئرمین کا کہنا تھا کہ نئے چینلز کھولنے کے لیے دیے گئے لائسنس پر عمل درآمد کو روکنے کے لیے عدالتوں میں جانے کا صرف ایک ہی مقصد ہوتا ہے اور وہ یہ ہے کہ چند افراد اپنے مفادات کا تحفظ چاہتے ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 9178 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp