کیا ہر سوال کا صرف ایک درست جواب ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارے پاس ہر سوال کا جواب ہے۔ غربت اور معاشی مسائل کا حل موجود ہے۔ ہر سوال کے کئی جواب ہو سکتے ہیں، مگر صرف ہمارا جواب ہی درست ہے۔ جو ہم سے قرض لے گا، اسے ہماری شرائط ماننا ہوں گی۔ ہمارے مشورے کی پابندی اس پر لازم ہو گی۔ مشورے کی لازمی پابندی اور حکم میں کیا فرق ہوتا ہے؟ یہ قانون اور فلسفے کا سوال ہے۔ ہمیں اس سے کیا لینا۔ ہم ایک مالیاتی ادارہ ہیں، جس کا کام عالمی مالیاتی نظام کو دیکھنا ہے۔ یہ عالمی مالیاتی فنڈ کا بیان ہے، جو ہر اس ملک کو سننا اور تسلیم کرنا پڑتا ہے، جو قرض کی خاطر اس کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے۔
بیسویں صدی کا پہلا نصف موت، تباہی اور بربادی سے تعبیر ہے۔ اس دور میں انسان اپنی جدید تاریخ کی دو خوفناک ترین جنگوں سے گزرا۔ ان جنگوں کے بطن سے ایک عظیم معاشی ڈپریشن نے جنم لیا، جس نے یورپ اور امریکہ سمیت دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ان دو خوفناک جنگوں کی کئی وجوہات پیش کی جاتی رہی ہیں۔ مگر جس بات پر اہل دانش کا اتفاق ہے وہ یہ ہے کہ ان جنگوں کی بنیادی وجہ عالمی معاشی بحران تھا۔ ان جنگوں کا مقصد معاشی منڈیوں کی از سر نو تقسیم تھی۔ ان جنگوں کی تباہی و بربادی کی راکھ سے کئی نئے خیالات اور کئی نئے اداروں نے جنم لیا۔ ان میں ایک عالمی مالیاتی ادارہ بھی تھا، جسے دنیا آئی ایم ایف کے نام سے جانتی ہے۔
آئی ایم ایف کے کئی مقاصد تھے۔ ایک بنیادی مقصد ایک نیا عالمی مالیاتی نظام قائم کرنا تھا۔ اس مالیاتی نظام کے دیگر مقاصد میں کرنسی کو سونے کے ساتھ جوڑے بغیر کرنسی میں استحکام پیدا کرنا، عالمی ادائیگیوں میں توازن پیدا کرنا اور تباہ کن تجارتی پالیسیوں کا خاتمہ کرنا تھا۔ سال انیس سو چوالیس میں امریکہ کی ریاست نیو ہیمشائر میں اقوام متحدہ کے زیر اہتمام چوالیس ممالک کی ایک کانفرنس میں مجوزہ عالمی مالیاتی ادارے کے اغراض لکھے گئے، جس نے نئے عالمی مالیاتی نظام کی نگرانی کرنا تھی۔ نئے عالمی مالیاتی نظام کو بہتر طریقے سے چلانے کے لیے ترقی کا ایک عالمی نظریہ پیش کیا گیا۔ اسے آپ ”ڈویلپمنٹلزم‘‘ یا اپنی آسانی کے لیے ”ترقی‘‘کا نظریہ کہہ سکتے ہیں۔
ماضی کے دوسرے نظریات کی طرح ڈویلپمنٹلزم کا نظریہ بھی سماج کے تمام مسائل کا حل پیش کرتا ہے۔ خواہ یہ غربت ہو یا بے روزگاری ہو۔ جہالت ہو یا تشدد ہو، حکمرانوں کی کرپشن ہو یا لوٹ کھسوٹ ہو، اس نظریے کے پاس ہر سوال کا جواب موجود ہے۔
دوسرے نظریات کی طرح ترقی کے اس نظریے کا یہ اصرار ہے کہ کسی بھی سوال کے کئی ایک جواب ہو سکتے ہیں، مگر درست جواب صرف ایک ہوتا ہے۔ یہ نظریہ اپنے جواب کو واحد درست جواب ماننے پر اصرار کرتا ہے، اور اس کی مخالفت کرنے والوں کے لیے بہت کم برداشت رکھتا ہے۔ اس کا خیال ہے کہ یہی ایک درست جواب سب کے لیے، اور ہر جگہ پر درست مانا جانا چاہے؛ چنانچہ تعمیر و ترقی کے لیے مقامی دانشوروں، ماہرین معاشیات یا اہل کاروں کی ضروت نہیں ہے۔
ڈویلپمنٹلزم کے نظریے کے پاس اس کے اپنے دانشور ہیں۔ اپنے ماہرین ہیں۔ یہ ماہرین اور دانشور لوگ بین الاقوامی مالیاتی ادارے، ورلڈ بینک اور اقوام متحدہ میں بیٹھتے ہیں۔ یہ ان جگہوں پر بیٹھ کر دنیا کو”دانش‘‘ کی باتیں بتاتے ہیں‘ اور ان کی مہارت اور تجربے سے فائدہ اٹھانے پر اصرار کرتے ہیں۔
ترقی کا یہ نظریہ دل شکن ہے، مایوس کن ہے۔ ماضی میں تمام نظریات کی ناکامی نے ایک نئی سوچ پیدا کی ہے۔ وہ سوچ ہے انفرادی آزادیاں، سماجی آزادیاں اور عام انسان کا اپنے مقدر کے بارے میں خود فیصلہ کرنے کا اختیار۔ مگر غریب دنیا کے لیے ایک ہی درست جواب کا مطلب یہ ہے کہ صرف وہ کچھ کرو، جو عالمی مالیاتی ادارہ یا ورلڈ بینک آپ کو کرنے کے لیے کہہ رہا ہے۔ لیکن بہت سارے ممالک نے یہ ماننے سے انکار کر دیا۔
افریقہ، سنٹرل ایشیا، لاطینی امریکہ، مشرق وسطیٰ اور روس میں رد عمل یہ رہا ہے کہ ایک درست جواب کو قبول کرنے کے بجائے اس کے خلاف لڑو۔ ممکن ہے فری مارکیٹ کے خیال میں کوئی اچھائی بھی پوشیدہ ہو، مگر جس طریقے سے یہ دنیا میں پیش کیا گیا وہ بہت بھونڈا طریقہ تھا‘ کیونکہ اس طریقے سے باہر سے آئے ہوئے لوگ مقامی لوگوں پر اپنے سخت اصول لاگو کرنے کا حکم دیتے ہیں۔
اس کا رد عمل اتنا سخت ہوا کہ جو نظریات بظاہر ناکام لگتے تھے، وہ دوبارہ بعض علاقوں میں زور پکڑنا شروع ہو گئے۔ ورلڈ بینک اور مالیاتی فنڈ نے عشروں پہلے نکاراگوا میں ”واحد درست جواب‘‘ کے تحت منصوبہ بندی شروع کی تھی۔ مگر اس کے منصوبے وہاں اس طرح ناکام ہوئے کہ ان کے سامنے پہلے والی بد ترین حکومتیں بھی اچھی لگنے لگیں۔
اس طرح اس صدی کے شروع میں ارجنٹینا میں آئی ایم ایف کے منصوبے اتنے بری طرح ناکام ہوئے کہ وہاں پر وینزویلا کے صدر کا ہیرو کی طرح استقبال کیا جانے لگا۔ اس طرح انہی اداروں کی ناکام پالیسیوں کے بطن سے بولیویا میں نئی سوشلسٹ سوچ پیدا ہوئی۔ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی پالیسیوں نے روس میں بڑے پیمانے پر سوشلسٹ نظریات دوبارہ جگائے۔ اور انہی پالیسیوں نے مشرق وسطیٰ میں بنیاد پرستی کو ہوا دی۔
صرف ”ایک درست جواب‘‘کے اصول کی روشنی میں ترقی یافتہ امیر ممالک کی غریب ممالک کے بارے میں پائی جانے والی فکر مندی عالمی اداروں کی بیوروکریسی کے زیر اثر ہو جاتی ہے۔ اس طریقہ کار کے تحت افراد کی خواہشات کے بجائے، قومی سطح پر غربت میں کمی، قومی معاشی ترقی، اور عالمی ترقیاتی اہداف کو اہمیت دی جاتی ہے۔ اس طرح فرد کی آزادی پر مارکیٹ دوست پالیسیوں، سرمایہ کاری کے لیے مناسب ماحول، اور غریب دوست گلوبلائزیشن جیسے نعروں کو ترجیح دی جاتی ہے۔
ان اداروں کا خیال ہے کہ غربت کا ہر جگہ ایک ہی طرح کا حل تلاش کرنا ایک سائنس ہے۔ عالمی مالیاتی اداروں کے ماہرین کو ہمیشہ یقین ہوتا ہے کہ ان کے پاس ہر سوال کا جواب ہے۔ وہ اختلاف رائے کو سختی سے مسترد کر دیتے ہیں‘ اور بعد میں اپنا جواب بھی بدل دیتے ہیں۔ نفسیات کی زبان میں اسے بارڈر لائن پرسنیلٹی ڈس آرڈر کہا جاتا ہے‘ مگر ترقی کے ماہرین کے لیے یہ ایک طرز زندگی ہے۔
اگر ان کی تاریخ غور سے دیکھی جائے تو شروع شروع میں ان کا منترہ معاشی امداد اور انڈسٹریلائزیشن تھی، پھر حکومت کی طرف سے پالیسی میں تبدیلی کی بات ہوئی، پھر کرپشن کے خاتمے کو واحد حل قرار دیا گیا، پھر گلوبلائزیشن کی باری آئی، اور پھر عالمی اہداف کے ذیل میں غربت کے خاتمے کا نعرہ بلند ہوا، جو آج کل مروج ہے۔
ان ماہرین کے مشورے ماننے کے باوجود جو ممالک ترقی کرنے میں ناکام ہوئے اس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ انہوں نے ترقی کی تمام شرائط کماحقہ پوری نہیں کیں۔ بد قسمتی سے ترقی کے نظریے والوں کا غریب ممالک کو ترقی میں مدد دینے کا ریکارڈ بہت کمزور ہے۔ جن علاقوں میں ترقی کے نظریے کا زیادہ اثر تھا، وہاں کے نتائج بہت برے نکلے۔ لاطینی امریکہ اور افریقہ میں خاطر خواہ نتائج نہیں نکلے۔ ان میں سے کچھ آج تک ترقی کے اس فارمولے کے پیچھے بھاگ رہے ہیں، مگر ان میں سے کچھ ایسے ہیں جو یہ راستہ چھوڑ کر ترقی کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
گزشتہ چالیس سالوں میں جن قوموں نے ترقی کی ہے انہوں نے اتنے مختلف راستے اختیار کیے ہیں کہ ان کا ترقی کے لگے بندھے نظریے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ساٹھ کی دھائی میں جب عالمی اداروں کا اس بات پر زور تھا کہ داخلی منڈیوں کے لیے صنعت کاری کی جائے، مگر ایسٹ ایشیا کے ٹائیگرز نے اس کے برعکس راستہ اختیار کیا اور کامیاب ہوئے۔
چین نے گزشتہ پچیس سالوں میں جو تیز رفتار ترقی کی اس کے دوران اس نے جمہوریت کے قیام یا کرپشن کے خاتمے پر کوئی کام نہیں کیا، جو اسّی اور نوے کی دھائی میں عالمی اداروں کی طرف سے ترقی کی بنیادی اور لازمی شرائط قرار دی گئی تھیں۔ تاریخ کا سبق یہ ہے کہ ترقی کی حقیقی خواہش مند کسی قوم کے لیے ترقی کا واحد راستہ عالمی اداروں کی شرائط ماننا، اور اپنی خود مختاری پر سمجھوتا کرنا ہی نہیں ہے۔ کچھ دیگر راستے بھی ہیں۔
بشکریہ روزنامہ دنیا
image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •