دیپ جلتے رہے (گیارہواں حصہ)

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دوسرے دن امی واپس خیر پور جانے کے لیے تیار ہو گئیں۔ انہیں اطمینان تھا۔ بیٹی کو بے سکون کرنے والا اب اہسپتال میں تھا۔ ہم نے رشی کو ایک بار پھر یہ سوچ کر ان کے ساتھ خیر پور بھیج دیا کہ احمد ہاسپٹل سے جانے کس کیفیت میں آئیں گے۔ بچوں سے زیادہ ان کی دیکھ بھال ضروری ہوگی۔ دھیان بٹانے کو بچوں کے امتحانی پرچے چیک کرتے لیکن کبھی کوئی سوال چیک ہونے سے رہ جا تا تو کبھی بار بار ٹوٹل کرنے کے با وجود غلطی ہو جا تی۔ دوسرے دن سارے پیپر میڈم کو واپس کر دیے کہ اس ذہنی کیفیت میں کہیں بچوں کے سالانہ پرچوں میں کوئی نا انصافی نہ ہو جائے۔ میڈم اور سارے مہربان ساتھی اساتذہ نے ہمیں اسکول کی ہر فکر سے بے نیاز رہنے کے لیے کہا۔ اور آپس میں کام بانٹ لیے۔

ان دنوں، ہماری دادی حیات تھیں، ہماری بے بسی اور سگے رشتوں کی بے حسی پر کڑھتی تھیں۔ سوچ رہی ہوں یہ بیٹھے بٹھائے وہ کیوں یاد آگئیں۔ پاپا ان کے بڑے بیٹے تھے اور کچھ امی کی خدمت گزاری، وہ ہمارے پاس ہی رہتی تھیں۔ ہماری باغیانہ فطرت کی وجہ سے آئے دن ان سے جھگڑا رہتا۔

آج جب کہ 28 سال پر محیط بیتے دنوں کی تلخیص کا گیارہواں حصہ رقم کرنے جا رہی ہوں، جانے کیوں میرے کانوں میں اس سے بھی پہلے کی، کہ جب پاپا زندہ تھے، بے فکر آوازیں گونج رہی ہیں۔

ہم تو برقعہ نہیں پہنیں گے، کیا کیا ہے ہم نے کہ چہرہ چھپائیں۔

اچھا! تو سارے جہان کی عورتیں جو برقعہ پہنتیں ہیں، انہوں نے، کچھ کیا ہے کیا۔

دادی! وہ اپنی مرضی سے نہیں پہنتیں۔ گھر والے کہتے ہیں۔

اور ہم جو پہنتے ہیں اپنی مرضی سے۔

دادی! آپ نے کچھ تو کیا ہو گا؟ ہم اپنی انگلی لہرا کرقہقہ لگا تے۔

ہٹ بے شرم! منحوس دادی ہنس پڑتیں۔

اچھی لڑکیاں بال نہیں کٹواتیں، اتنے چھوٹے لڑکوں جیسے بال! خدا کا عذاب آئے گا۔

یہ ماتھے پر بندیا کیوں لگا ئی، ہندونی لگ رہی ہے کم بخت۔ دادی ماتھے پر بندیا دیکھ کر دھاڑتیں۔

تو کیا ہوا، دادا نے بتا یا تھا کہ ان کے پر دادا ہندو تھے۔ اگر وہ مسلمان نہ ہوئے ہوتے تو ہم آج ہندو ہی تو ہوتے۔ تب آپ مسلمانوں کو کوس رہی ہوتیں۔

ہائے ہائے توبہ کیسی باتیں کر رہی ہے۔

کتا گھر میں کیوں نہیں رکھ سکتے،

فرشتے گھر نہیں آتے۔

دادی! تو بے چارے فرشتوں کو گھر میں بلانا کیوں چا ہتی ہیں۔ گھر میں رہیں گے تو آپ کو برقعہ پہننا پڑے گا۔

یہ کالے کپڑے کیوں پہن لیے تم نے۔

دادی! محرم ہیں، ہماری ساری سہیلیاں شیعہ ہیں نہ۔

تم تو نہیں ہو۔

ہاں تو پیدائشی شیعہ تو وہ بھی نہیں ہیں۔ وہ وہی کرتی ہیں جوان کے ماں باپ کرتے ہیں۔

تو تم وہ کیوں نہیں کرتیں جو تمہارے ماں باپ کرتے ہیں۔

دادی اگر ہمارے رہنما بھی وہی کرتے جو ان کے ماں باپ کرتے ہیں تو آپ بھی اس وقت بندیا لگائے، منگل ستر ڈالے بیٹھی ہوتیں۔

اس کا لائبریری جانا بند کردو بہو، کچھ کام کاج سکھا ؤ، اگلے گھر جا کر کیا کرے گی یہ۔

دادی اتنا پڑھا ہے تو کیا ضرورت ہے ہمیں کام کرنے کی، ہم تو ہر کام کے لیے نوکر رکھیں گے۔

شادی کے لیے بھی کچھ چھوڑو گی یا سارے ارمان ابھی پورے کر لو گی۔ ایک دن ہمیں ساڑھی باندھے دیکھ کر دادی بولیں۔

دادی یہ کیا بات ہوئی کہ شادی کے بعد ہی ساڑھی باندھو، لپ اسٹک لگاؤ، لونگ پہنو ہم تو ابھی کریں گے سب کچھ۔

دیکھو کیسی بے غیرت ہے۔

دادی آپ کی بھی تو شادی ہوئی ہے، امی کی بھی تو ہوئی ہے۔ ہم نے تو کبھی آپ لوگوں کو بنا سنورا نہیں دیکھا۔ شادی کے بعد تو بس بچے پیدا کرو، انہیں بڑا کرو، اور مر جاؤ بس۔

توبہ توبہ۔ دیکھ رہے ہو اس کی زبان۔ دیکھ لینا اگر ایسی ہی زبان سسرال میں چلی، تو دوسرے دن ہی یہ گھر بیٹھی ہو گی۔ لکھوا لو۔

پاپا کے گھر آنے پر دادی دھائی دیتیں۔

جب کبھی پاندان میں کتھے چونے کو شیرو شکر دیکھتیں، یہ عفت گھسی ہو گی میرے پاندان میں۔ حالانکہ سب ہی ان کے پاندان سے پان بنا کر کھاتے تھے، لیکن شک وہ ہم پر ہی کرتی تھیں۔

کتا بھی گھر میں آیا، ہم نے بال بھی ہر فیشن کے رکھے، ناک میں لونگ بھی ڈالی، ماتھے پر بندیا بھی لگائی، ڈنکے کی چوٹ ساڑھی بھی باندھی۔

کہیں یہ سزا قدرت کی طرف سے اسی زبان درازی، ہٹ دھر می، نا فر مانی اورسر کشی کی تو نہیں ملی۔ لیکن اگر یہ سزا نہ پاتی تب ہو سکتا تھا، احمد نوید جیسا کل وقتی، کلی طور پر حسین شاعر، مضمحل اعصاب کے ہاتھوں، ہر نروس بریک ڈاؤن پر اپنوں کے کرم سے بجلی کے کرنٹ لگواتا نہ جانے کس خانے میں اپنی وحشتوں کو مہمیز کر رہا ہوتا۔

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹبن دبائیے 

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •