(روزہ کیوں نہیں رکھا؟ (جوابی بیانیہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اسی پلیٹ فارم پر ایک صاحب نے روزہ کیوں نہیں رکھا؟ کے موضوع پر اپنی ہی سوچ و فلسفہ کے مطابق اس ”روزہ“ کو بیان فرمایا جس کا ان کو ککھ ( زرہ برابر) نہیں پتا تھا۔ اپنی مرضی کی تشریح کر کے اس کے مطابق عمل کرنا آپ کا ذاتی فعل تو ہو سکتا ہے مگر اس کو پکڑ کر باقی روزہ رکھنے والوں کو بھی یہ کہنا کہ وہ زبردستی روزے رکھتے ہیں تو صاحب آپ کی یہ بات فوری رد کی جاتی ہے۔ آپ کی یہ بات اتنی ہی زیادہ بے وزنی ہے جتنی کہ آپ کی بیان کردہ روزہ رکھنے کی بے تکی تشریح۔

اب میری اگلی باتیں پڑھنے سے پہلے ذرا رکیے۔ اگر تو آپ اللّہ  کو ماننے والے ہیں اس کی کتاب قرآن کو اس کا کلام مانتے ہیں تو ہی میری تحریر کردہ اگلی باتیں پڑھئے گا تبھی سمجھ و یقین آے گا ورنہ آپ کا وقت ہی ضائع ہو گا۔ کیونکہ اگر تو آپ کے مطابق ”کاں کالے کی بجاے چٹا ہی ہے“ ( کوا کالے کی بجاے سفید ہے ) تو پھر آپ میری اس تحریر کو اگنور کرتے اپنے فلسفہ پر ہی زندہ رہیں۔

صاحب مضمون کے مطابق ”روزے کا مطلب پیٹ اور معدے کو بھوکا رکھ کے قوتِ ارادی کو کھانا کھلانا اور طاقت ور بنانا ہے؟ جھوٹی انا کو کمزور کرکے اپنی سچی شناخت کو طاقتور کرنا ہے۔ “ یا پھر یوں کہا گیا کہ ”روزہ قوتِ ارادی (will۔ power) کو مقوی اور طاقتور بنانے کا ذریعہ ہے“۔ تو بھائی صاحب روزہ کا یہ معنی و تشریح بالکل غلط اور من گھڑت ہے۔ صرف اپنا جی بہلانے کی کوشش۔ آپ چاہے روزہ نہ رکھیں مگر براہ مہربانی اپنی طرف سے بودی دلیل مت دیں۔ کہاں لکھا ہے کہ روزہ رکھنے کا یہ مطلب و مقصد ہے؟

عام زندگی میں بھی جب ہمیں کسی لفظ و بات کا پتا نہ چلے تو رہنمائی کے لئے لغات کا استعمال کرتے ہیں یا اس شعبہ کے صاحب علم سے رابطہ کرتے ہیں نہ کہ اپنی طرف سے مطلب گھڑ لیا جاتا ہے۔ تو جناب ”روزہ کو عربی زبان میں صوم کہتے ہیں۔ صوم کا لغوی معنی رکنے کے ہیں۔ شرح کی رو سے صبح صادق سے لے کر غروب آفتاب تک کھانے پینے اور عمل مباشرت سے رک جانے کا نام روزہ ہے۔ اب اس عمل کے نتیجہ میں فائدہ کیا حاصل ہوتا ہے؟ قوت ارادہ بڑھتی ہے یا کوئی جسمانی و روحانی طاقت پیدا ہوتی ہے یہ سب بعد کی باتیں ہیں۔ کیونکہ ہم مسلمانوں کے لئے پہلا درجہ اپنے پروردگار کے حکم کی اہمیت ہے۔

رہی یہ بات کہ ہم روزہ کیوں رکھتے ہیں تو اس کا سادہ سا جواب یہی ہے کہ یہ اللہ کا حکم ہے۔ اس رب کا حکم ہے جس نے ہمیں اور اس کائنات کو بنایا ہے۔ اس کے حکم کے آگے کوئی چوں چراں نہیں۔ کوئی اپنی مرضی، کوئی اپنی دلیل نہیں۔ روزہ فرض ہے اس کا واضح حکم اس کی تصنیف قرآن مجید میں موجود ہے۔ کب رکھنا، کیسے رکھنا، کس نے رکھنا، کون نہیں رکھ سکتا، کس کو آسانی و چھوٹ ہے یہ سب واضح کر کے بتا دیا گیا ہے۔

مزید یہ کہ روزہ اس لئے رکھا جاتا ہے تاکہ ”تقویٰ“ حاصل ہو۔ یہ بات اللہ نے خود بیان کی ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ ”روزہ میرے لئے ہے اور اس کا اجر بھی میں ہی دوں گا۔ “ جو مضمون نگار کی بیان کردہ مادی فوائد سے کہیں اعلیٰ درجہ کا فائدہ ہے۔ جب اللہ کی عظمت کو تسلیم نہ کرنے کے ساتھ ساتھ آخرت پر بھی یقین نہ ہو تب صرف دنیاوی فوائد پر ہی عقل رک جاتی ہے۔

جب آپ نے روزہ کے اصل و بنیادی مقصد کو ہی نہیں سمجھا تو پھر آپ جیسے مرضی اپنی باتوں و نام نہاد فلسفوں سے عجیب باتیں کرتے جائیں جیسے صاحب نے باقی مضمون میں کی۔ ”روزے کے نتیجے میں ملنی والی قوتِ ارادی کس مقصد کا ذریعہ ہے؟ سال میں کروڑوں مسلمان روزے رکھ کر قوتِ ارادی کو تقویت دیتے ہیں تو اس کروڑوں گیگا واٹ توانائی سے کیا کام لیتے ہیں؟ ایکسپورٹ کرتے ہیں یا پھر خود خرچ کرتے ہیں؟ “ یہ اور اس کے جواب میں باتیں ایسی ہی ہیں جیسے سوال گندم اور جواب چنا۔

پھر مضمون نگار کے مطابق ”باقی رہ گئے روزہ رکھنے والے 99.99 فی صد عام لوگ تو کیا انہیں قانون کے خوف سے روزے نہیں رکھوائے جارہے؟ کیا وہ صرف ثواب کے لئے روزے نہیں رکھتے“۔ یہ بات ہے کوئی کرنے والی؟ کیا واقعی اس میں کوئی حقیقت ہے؟ بندہ سر پکڑ کر بیٹھ جاتا ہے کہ اس طرح سطحی باتیں کرنے والے بھی پڑھے لکھے نا سمجھ کیسے موجود ہیں؟ جب ایک حکم ہے تو اس کے مطابق کیا پیروی نہیں کرنی چاہیے؟ اگر کوئی قانون ہے تو اس کے بنانے والے کے حساب سے ماننا چاہیے کہ توڑ دینا چاہیے کہ نہیں صاحب میں تو بغیر ویزا کے ہی ساری دنیا گھوم سکتا۔ ارے بھائی مجھے تو گاڑی چلانی آتی ہی ہے تو لائسنس کی کیا ضرورت؟

تو جناب عرض صرف اتنی سی ہے کہ بندہ کا جو شعبہ ہو بندہ اسی میں اپنی ایکسپرٹ راے دے۔ جس بات کا علم کم ہو یا پھر جان بوجھ کر دوسروں کے فعل کی ہتک اڑانی ہو تو ایسا کرنا زیب نہیں دیتا۔ آپ کی ذاتی پسند ہے جو مرضی کریں، مگر اس کو بنیاد بنا کر کسی کام کی غلط تشریح کر کے گمراہ مت کریں۔ ہمارے روزہ نہ رکھنے سے نہ تو اللہ کو فرق پڑتا ہے نہ کسی انسان کو۔ ہاں مگر اصل حقیقت کے ہوتے ہوے اپنی مرضی کی غلط تشریح بیان کرنا یہ علمی بددیانتی ہے اس سے فرق پڑ سکتا ہے۔ باقی کوئی بھی شخص غیر جانب دار ہو کر تحقیق کرے تو ”روزہ“ کے بارے میں مختلف مذاہب کے حوالے سے بھی سچے حقائق و فوائد خود ہی پتا کر سکتے ہیں جو میں یہاں مضمون کے طویل ہونے کی وجہ سے لکھنے سے قاصر ہوں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •