گوادر کا پرل کانٹینیٹل ہوٹل، سب سے بڑی سرمایہ کاری

ریاض سہیل - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پرل کانٹینیٹل ہوٹل گوادر

AFP
پرل کانٹینیٹل ہوٹل گوادر

چین پاکستان اقتصادی راہداری کی شہہ رگ گوادر میں پرل کانٹینیٹل ہوٹل نجی شعبے کی پہلی سب سے بڑی سرمایہ کاری ہے، جس کو ریکارڈ ڈھائی سال کے عرصے میں مکمل کیا گیا تھا اور جنرل پرویز مشرف نے اس کا افتتاح کیا۔

گوادر میں جب سرمایہ کاروں کو درپیش مسائل اور خاص طور پر قیام اور سیکورٹی کی بات ہوئی تھی تو اس وقت کے فوجی صدر پرویزمشرف نے صدرالدین ہاشوانی کو ہوٹل کی تعمیر کے لیے کہا جن سے میاں نواز شریف کے بعد ان کے خوشگوار تعلقات رہے۔

2006 میں جنرل پرویز مشرف نے اس فائیو اسٹار ہوٹل کا افتتاح کیا تھا۔ اس موقع پر انھوں نے ہاشو گروپ کے سربراہ صدرالدین ہاشو کی تعریف کرتے ہوئے کہا تھا کہ جہاں کوئی بھی سرمایہ کاری کرنے سے گبھراتا ہے وہاں صدرالدین ہاشوانی نے ایک بڑی سرمایہ کاری کی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

گوادرحملہ: تین حملہ آوروں سمیت آٹھ افراد ہلاک

گوادر کی تاریخ پر ایک نظر

’ترقی کے سمندر میں ڈوبتے گوادر کے ماہی گیر‘

گوادر شہر میں اسماعیلی کمیونٹی تجارت سے وابستہ رہی ہے۔ صدر الدین ہاشوانی کے نانا گوادر اور دادا کا تعلق لسبیلہ بلوچستان سے تھا۔ ان کے والد کراچی منتقل ہوگئے جہاں انھوں نے کھالوں کا کاروبار شروع کیا تھا۔

صدر الدین ہاشوانی چاول، اسٹیل سمیت مختلف کاروبار سے منسلک رہے جبکہ انھیں کامیابی اور شہرت ہوٹل کے کاروبار سے ملی۔ ان کے گوادر اور کراچی کے علاوہ اسلام آباد میں بھی ہوٹل ہیں۔ 2008 میں اسلام آباد میں ان کے ہوٹل میریٹ پر حملہ کیا گیا تھا۔

پی سی ہوٹل گوادر کوہ باطل پر واقع ہے۔ جہاں سے بحیرہ عرب کا دلکش نظارہ اور گوادر پورٹ واضح طور پر نظر آتا ہے۔ اس ہوٹل میں 114 گیسٹ روم اور چار سویٹس موجود ہیں۔ ہوٹل کے قیام کے وقت کہا گیا تھا کہ یہ ہوٹل ساڑھے تین سو لوگوں کو روزگار فراہم کرے گا۔

گوادر پورٹ کے افتتاح سے لے کر صدر، وزیر اعظم سمیت تمام وی آئی پیز کی آمد اسی ہوٹل میں ہوتی ہے، جبکہ بڑے سرمایہ کاروں کی پہلی ترجیح بھی یہ ہی ہوٹل ہوتا ہے، جو سنگھار سوسائٹی میں واقع ہے جہاں اہم سیاسی رہنماؤں کے پلاٹ مختص ہیں۔

ہوٹل میں داخل ہونے کے لیے ایک ہی سڑک واقع ہے جو چڑھائی سے ہوتے ہوئے ہوٹل تک پہنچتی ہے۔ اس سے قبل ایف سی سمیت دیگر اداروں کی نصف درجن کے قریب چیک پوسٹیں موجود ہیں۔

اس حملے کی ذمہ داری بلوچستان لبریشن آرمی نے قبول کی ہے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ اس حملے میں انھیں بلوچستان لبریشن فرنٹ اور بلوچ ریپبلکن آرمی بیبرگ گروپ کی حمایت حاصل تھی۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 9192 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp