کیا مائیں بھی مر جاتی ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بچہ پہلا سوال ماں سے پوچھتا ہے، اور پھر ساری عمر ماں سے ہی پوچھتا رہتا ہے۔ خصوصاً متوسط طبقے میں تو باپ احترام کا نام ہے، اور احترام میں سوال پوچھتے جھجک، ڈر، خوف سب سامنے آن کھڑے ہوتے ہے۔ مل کر زبان روکتے، الفاظ کے سامنے دیوار کھڑی کرتے۔ جبکہ ماں سے پوچھا جاسکتا ہے، بغیر الفاظ کے پوچھا جاسکتا ہے کیونکہ ماں اور اولاد کی گفتگو تو زبان پر لفظ اترنے سے کہیں پہلے شروع ہوتی ہے۔ یہ گفتگو الفاظ کی محتاج نہیں۔

باقی دنیا بچے کی پیدائش کے بعد ایک رشتہ جوڑتی ہے۔ ماں اس سے کئی ماہ قبل رشتہ جوڑے ہے، احساس، محبت، بوجھ، تکلیف سب ساتھ لیے۔ سخت کھیتی کی مزدوری، دن رات کا کسب، رات کی بے آرامی، لمبے دن کا کٹھن، ایک لمبی فہرست ہے۔ اور پھر ایک لمبا سفر آگے بھی ہے۔ ایک ننھی روح کو پروان چڑھانا، تربیت دینا، اوصاف نکھارنا۔ محبت، خلوص، الفت، چاہ، قربانی، برداشت سب کا تعلق ماں سے ہے۔ لیکن الفاظ کا دامن اس رشتے کو بیان کرنے سے خالی ہے کیوں کہ یہ رشتہ الفاظ کے اترنے سے کہیں پہلے بنتا ہے۔ الفاظ بے بس ہیں اور اس سے آگے جملے، مضامین سب تہی دامن، بیکار، کسی نہ کام کے۔ الفاظ یوں ہی لنگڑاتے، گھسٹتے، سر پر خاک ڈالتے اس رشتے کو بیان کرنے کی کوشش میں ہیں، ناکام کوشش۔

کبھی ماں کو بتانا نہیں پڑتا، اسے خود پتہ چل جاتا کہ آگے کیا آرہا ہے، بچہ خوش ہے یا پریشان ہے۔ اور یہ بچے چاہے کسی عمر کے بھی ہوں ؛ عمر رسیدہ، سفید بال، سمندر پار، ماں سب جانتی ہے۔ ماں کا رشتہ الفاظ، فاصلوں، عمروں سب کی بند شوں سے کہیں آگے ہے۔ ماں سے پوچھا جاسکتاہے، اسے بتایا جاسکتا ہے، لفظوں کے ساتھ یا لفظوں کی بیساکھی کے بغیر۔ گھر میں کیا پکا ہے کے سوال سے لے کر میں یہ نہیں کھاتا، سب کہا جاسکتا ہے۔

گورنمنٹ سنڑل ماڈل سکول میں جب میں تیسری جماعت میں پڑھتا تھا تومیری جماعت میں ایک لڑکا عثمان بھی تھا۔ نام تو اس کا عثمان تھا مگر سب ہم جماعت اُسے بودی شاہ کہتے تھے۔ بودی شاہ کا حلیہ عجیب تھا، سر پر مشین پھری ہوتی یا پھر چھوٹے بال مگر سر کے عین درمیان بالوں کی ایک لمبی لٹ ہوتی، گردن تک آتی لٹ۔ بودی شاہ باقی لڑکوں سے مختلف تھا۔ اُس زمانے میں میں نے اماں سے بودی شاہ کے بارے میں پوچھا۔ سوال ماؤں سے ہی پوچھے جاتے تھے۔ اماں نے کہا کہ یہ منت کا بچہ ہے، اس کے سر کے درمیان میں جو لمبے بالوں کی لٹ ہے اسے بودی کہتے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ اس کی ماں کئی سال لوگوں سے کپڑے مانگ مانگ کر اسے پہنائے گی، یہ منت کا بچہ ہے۔ مجھے سمجھ نہ آئی، عرصے بعد سمجھ آئی کہ مِنت سے کام نہ ہو تو لوگ منت مان لیتے ہیں۔

چوتھی جماعت میں جب ہمارا ہم جماعت عارف کرشن نگر میں پتنگ لوٹتے چھت سے گر کر مر گیا، تو میں نے اماں سے پوچھا، اماں، کیا بچے بھی مر جاتے ہیں؟ ۔ اماں نے مجھے اپنے ساتھ بھینچتے اداس لہجے میں کہا، ”بیٹا، بڑی بڑی باتیں نہ کیا کر“۔ ان کی آواز میں وہ کرب تھا کہ اس دن کے بعد سے میں ڈر گیا کہ اگر میں مر گیا تو اماں کو کتنا دکھ ہوگا۔ یہ ڈر اتنا بھاری تھا کہ موت کا ڈر کہیں دور پیچھے رہ گیا۔

اماں چند سال پہلے دنیا سے چلی گئیں۔ سب خالی ہو گیا، گھر، محلہ، شہر، سب خالی ہوگیا۔ اگر مائیں مِنت سے واپس آتیں تومسجدوں، مزاروں پر ہجوم مِنت گذاراں ہوتا۔ اگر منت سے کام چلتا توشہر بودیاں رکھے، مانگے کے کپڑے پہنے لوگوں سے بھرا ہوتا۔ مگر کیا کریں اس معاملے میں مِنت یا منت کسی سے کام نہیں چلتا۔

آج جب کبھی مسکراتا ہوں تو نہ جانے کہاں سے اماں کا خیال ساتھ آجاتا ہے، لگتا ہے کہ وہ ساتھ مسکرا رہی ہیں۔ آج بھی بچپن کی مانند وہ میری شرارتوں میں شریک ہیں۔ ان کی باتیں کئی مناظر کے ساتھ خود بخود آن ملتی ہیں۔ بچے کبھی فراڈ کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو اماں یاد آجاتی ہیں کہ ہر ماہ کے شروع میں وہ پورے مہینے کا جیب خرچ بچوں کو دے دیتی تھیں۔ بچے ایک ہفتے بعد پھر جیب خرچ لینے کے لیے آ جاتے تھے کہ آپ نے تو اب تک اس ماہ کا جیب خرچ نہیں دیا۔

مسکرا اٹھتیں اور کہتیں کہ فراڈ لگاتے ہو، مگر پھر بھی کچھ نہ کچھ اور مل جاتا تھا۔ کوئی کسی امتحان میں کامیاب ہوتا ہے تو اسے مبارکباد دیتے اماں ساتھ آ کھڑی ہوتی ہیں کہ بچوں کی پڑھائی میں کامیابی ان کے لیے بہت خوشی کا باعث ہوتی تھی۔ رات سونے سے قبل کتاب پڑھتے اماں کی یاد ساتھ ہوتی ہے کہ وہ ہمیشہ رات سونے سے قبل کتاب پڑھ رہی ہوتی تھیں۔ کبھی کسی کو کسی کی مدد کرتے دیکھا تو اماں کی یاد بھاگ کر اپنا حصہ ڈالنے پہنچ جاتی ہے۔ کبھی مشکل وقت آیا تو اماں کندھے پر ہاتھ رکھے حوصلہ بڑھانے آن موجود ہوتی ہیں۔

سوچتا ہوں کہ کیا مائیں بھی مر جاتی ہیں؟

شاید نہیں۔ ماں کہاں اولاد کو چھوڑ کر جاسکتی ہے۔ موت تو بہت کمزور ہے کہ کسی ماں کو ہرا سکے۔ ماں یہیں ہے میرے آس پاس۔ ان کی مسکراہٹ میرے ساتھ ہے، میرے لرزتے قدموں کو وہ آج بھی سنبھالا دیتی ہیں۔ وہ اب ایک فرد سے زماں میں بدل چکی ہیں۔ میرے اردگرد کسی شناسا یا اجنبی کے ہر شفقت، محبت، خیال، جدوجہد، بہادری کے عمل میں وہ جھلک رہی ہیں، آج بھی کہتے ہوئے، ”بیٹا، بڑی بڑی باتیں نہ کیا کر“۔
موت تو بہت کمزور ہے کہ کسی ماں کو ہرا سکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عاطف ملک

عاطف ملک نے ایروناٹیکل انجینرنگ {اویانیکس} میں بیچلرز کرنے کے بعد کمپیوٹر انجینرنگ میں ماسڑز اور پی ایچ ڈی کی تعلیم حاصل کی۔ یونیورسٹی آف ویسڑن آسڑیلیا میں سکول آف کمپیوٹر سائنس اور سوفٹ وئیر انجینرنگ میں پڑھاتے ہیں ۔ پڑھانے، ادب، کھیل اور موسیقی میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ طالبعلمی کے دور میں آپ نے اپنی یونیورسٹی کا400 میٹر کی دوڑ کا ریکارڈ قائم کیا تھا، جبکہ اپنے شوق سے کے-ٹو پہاڑ کے بیس کیمپ تک ٹریکنگ کر چکے ہیں۔

atif-mansoor has 45 posts and counting.See all posts by atif-mansoor