سول سسٹرز پاکستان کی بانی کنول احمد: ’اتنے فالوورز ہوں تو درست مواد کی فراہمی ذمہ داری بن جاتی ہے‘

عبداللہ فاروقی - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سکول میں اپنی ہی کتابوں کو دقیانوسی کہہ کر بہتر سکول میں داخلہ لینا، ڈگری مکمل کیے بغیر پسند کی شادی اور بعد میں ڈگری مکمل کرنا، سوشل میڈیا پر گروپ بنانا اور پھر دن کے چودہ گھنٹے اُس پر صرف کرنا اور اپنی زندگی اپنی مرضی سے گزارنے کی زندہ مثال ہیں کنول احمد، جو ’سول سسٹرز‘ (Soul Sisters) نامی فیس بُک پیج کی بانی ہیں۔

اِس فیس بُک گروپ کے ممبران کی تعداد ایک لاکھ 64 ہزار ہے اور یہاں خواتین مخلتف موضوعات پر کھل کر اظہارِ خیال کرتی ہیں۔ اِسی پیج کی وجہ سے کنول حال ہی میں فیس بُک لیڈرز پروگرام میں پاکستان کی نمائندگی کر پائیں۔

پاکستان میں ایسی خواتین کی تعداد خاصی کم ہے جو ماں باپ کے گھر میں اور شادی کے بعد اپنے گھر میں بھی اپنی زندگی اپنی مرضی اور اپنے طے کردہ اہداف کے حصول کے لیے گزار پاتی ہیں۔

کنول احمد کا شمار بھی اُن خواتین میں ہوتا ہے، لیکن یہ سب حاصل کرنا آسان نہ تھا۔

یہ بھی پڑھیے

’اب خاموش رہنے کا رواج ختم ہوگیا ہے‘

’میں عورت ہوں، دنیا کو ایک عورت کی نظر سے دیکھتی ہوں‘

’عورت کی شناخت مرد سے نہیں ہوتی، اس کا اپنا وجود ہے‘

سول سسٹرز پاکستان کیوں بنایا گیا؟

ایک ایسا فیس بک گروپ بنانے کا خیال کنول احمد کو اُس وقت آیا جب اُنھوں نے میک اپ اور کھانے پکانے کے ایک گروپ میں خواتین کے مسائل سنے جو وہ عام طور پر بتانے یا اُن پر گفتگو کرنے سے کتراتی ہیں۔

یہ ایسے موضوعات ہیں جن میں عام طور پر عورت کو ہی قصوروار قرار دیا جاتا ہے یا پھر اُن کو خاموش رہنے کو کہا جاتا ہے۔ مثلاً شادی نہ ہونا، ہو کر ختم ہو جانا، جنسی ہراسگی، جسمانی ساخت کی بنیاد پر امتیازی سلوک یا باڈی شیمنگ، گھریلو تشدد یا پھر دفاتر میں مخلتف وجوہات کی بنا پر امتیازی سلوک اور زبردستی کی شادی وغیرہ۔

کنول احمد بتاتی ہیں کہ اُنھوں نے سوچا ’اِن باتوں کے لیے ایک الگ گروپ ہونا چاہیے، کیونکہ عورتوں کے بے پناہ مسائل ہیں۔‘

اِس گروپ میں خواتین نہ صرف اُن موضوعات پر کھل کر بات کر سکتی ہیں، بلکہ ایسی خواتین جو اپنی سماجی یا معاشی حیثیت کی وجہ سے کسی کی قانونی، مالی یا جذباتی یا پھر پیشہ ورانہ مدد کرنا چاہتی ہوں تو وہ بھی کر سکتی ہیں۔

یہاں تک کا سفر کیسے ممکن ہوسکا؟

’سول سسٹرز پاکستان گروپ بناتے وقت میں نے خود اِسے سنجیدگی سے نہیں لیا تھا۔ شروع میں اِس کے پانچ ہزار ممبران تھے، لیکن بعد میں بہت ساری ریکویسٹس آنا شروع ہوگئیں اور اتنی باتیں ہونے لگیں کہ اُنھیں سنبھالنا مشکل ہو جاتا تھا۔‘

پانچ سال بعد یعنی رواں سال جنوری تک کنول احمد سول سسٹرز پاکستان کی اکیلی ایڈمن تھیں۔ اُن کے مطابق اِس فیس بُک گروپ میں ہر ماہ تقریباً 32 لاکھ پوسٹس اور کمنٹس کیے جاتے ہیں۔

پھر یہ دیکھنا کہ گروپ میں کوئی غلط بات نہ کہہ دے، بد تمیزی نہ کرے، کوئی غلط مشورہ نہ دے دے، درست اور اصل پروفائل کو فلٹر کرنا، ان سب کی نگرانی کرنا انتہائی مشکل کام ہے جس میں کنول احمد دن کے بارہ سے چودہ گھنٹے صرف کرتی تھیں۔

لیکن کنول کو اکثر کئی باتیں بھی سننے کو ملتیں۔ ’بہت سے لوگ سمجھتے نہیں تھے، پوچھتے تھے ’کیا کام کرتی ہو؟‘ جب میں بتاتی تھی کہ فیس بُک پیج چلاتی ہوں تو کہتے ’اِس میں کون سی بڑی بات ہے؟ یعنی تم سارا دن فیس بُک پر بیٹھی رہتی ہو؟‘

اب فیس بُک کے فنڈز کی مدد سے دو نوجوان خواتین اِس پیج کو چلانے میں اُن کی مدد کرتی ہیں۔

اس گروپ کے بارے میں بتاتے ہوئے کنول کہتی ہیں ’یہ ایک کلوزڈ گروپ (ایسا گروپ جس میں آپ اجازت کے بغیر شامل نہیں ہو سکتے) ہے جس میں مرد شامل نہیں ہوتے اور خواتین کی بھی پروفائلز کی اسکریننگ کی جاتی ہے۔ اِس کا مقصد صرف اِس گروپ میں خواتین کو بات کرنے کی آزادی اور تحفظ فراہم کرنا ہے اور ایسا ماحول فراہم کرنا ہے جس میں وہ اپنے مسائل بیان کر سکیں اور ایک دوسرے کی مدد کرسکیں یا مشورہ دے سکیں۔‘

ایک خاتون خانہ کا فیس بُک لیڈرز پروگرام تک کا سفر

کنول کہتی ہیں ’کسی دوست نے مجھے فیس بُک لیڈرز پروگرام کے لیے نامزد کیا تھا اور میں نے فارم بھر دیا۔ اُس کے بعد انٹرویو کیا گیا۔ فیس بُک پیچ تھا تو اُن کو معلوم تو سب تھا ہی لیکن وہ مجھ سے سننا چاہتے تھے۔ انٹرویو کے بعد اُنھوں نے مجھ سے دو منٹ کی اپنی ویڈیو منگوائی اور پھر کافی دن بعد مجھے یہ خبر ملی کہ میں لیڈرز پروگرام کے لیے منتخب کرلی گئی ہوں جو فیس بُک کے مرکزی دفتر میں منعقد ہوگا۔‘

گذشتہ برس کنول احمد کے لیے مشکل سال تھا۔ اُنھیں پانچ سال کی محنت وصول ہوتی نظر نہیں آرہی تھی۔ لیکن اُنھوں نے سوچا کہ اِس پیج کے ذریعے ہزاروں افراد کے مسئلے حل ہوئے اور دوستیاں ہوئیں تو کسی نہ کسی طرح اسے چلاتے رہنا چاہیے۔

’لیکن جب میں فیس بُک کے ہیڈ کوارٹرز پہنچی اور وہاں لوگوں کی باتیں سنیں تو میں رو پڑی کیونکہ مجھے احساس ہوا اِس ہال میں میرے علاوہ 115 افراد موجود ہیں جنھوں نے ایسی باتیں سنیں ہوں گی کہ ’یہ تو بس عورتوں کو بہکاتی رہتی ہے۔‘ لیکن ہم نے کچھ تو اچھا کام کیا ہے جس کی وجہ سے فیس بُک ہمیں سراہا رہا ہے۔‘

تو کیا سول سسٹرز چلا کر کنول کو منزل مل گئی؟

فیس بُک پیج سے ٹاک شو تک کا سفر

لیڈرشپ پروگرام میں کنول احمد سمیت تمام لیڈرز کو کوئی بھی فلاحی کام شروع کرنے کے لیے فنڈز فراہم کیے گئے تھے جسے آگے چلانا خود لیڈز کی ذمہ داری ہوگی لیکن ابتدائی رقم فیس بُک کو فراہم کرنی تھی۔

کنول احمد کا خیال تھا کہ ایک ایسا شو شروع کیا جائے جس میں خواتین آئیں اور اپنی منفی اور مثبت کہانیاں لوگوں کے سامنے پیش کریں۔ تاکہ اگر کوئی اُن کی مدد کرنا چاہے تو کر سکے اور دیگر خواتین محتاط بھی رہ سکیں۔

’میں چاہتی ہوں کہ میڈیا پر میں جو مواد دیکھتی ہوں اُسے تبدیل کروں کیونکہ میڈیا لوگوں کی سوچ پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اور جب آپ کے اتنے سارے فالوورز ہوں تو درست مواد فراہم کرنا آپ کی ذمہ داری بن جاتی ہے۔‘

کنول احمد نے بتایا کہ اُنھیں بلاگنگ کا شوق اُس وقت سے تھا جب بہت کم لوگ بلاگز لکھا کرتے تھے۔

ایک دن اُنھوں نے اپنی سکول ٹیچر کو خط لکھا کہ جو کتاب اُنھیں پڑھائی جا رہی ہے وہ بہت بچگانہ ہے جبکہ دیگر سکولوں میں بچے شیکسپیئر کو پڑھ رہے ہیں۔ جس پر اُن کی پرنسپل نے اُن کے والد سے اُنھیں کسی اعلی معیار کے سکول میں داخل کرانے کو کہا۔

تعلیمی مراحل طے کرتی ہوئی وہ آئی بی اے پہنچ گئیں۔ ڈگری مکمل کیے بغیر پسند کی شادی کی۔ اُس کے کچھ عرصے بعد ڈگری مکمل کی۔ ایک بیٹی کی والدہ ہیں اور تمام کاموں کے ساتھ اپنی بیٹی کی تربیت بھی کرتی ہیں۔

اُنھوں نے اعتراف کیا ہے کہ اُن کے شوہر نے نہ صرف اُن کی حوصلہ افزائی اور مدد کی ہے بلکہ وہ گھریلو کاموں اور بیٹی کی تربیت میں اُن کا ہاتھ بھی بٹاتے ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 8368 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp