شاہ زیب قتل کیس: شاہ رخ جتوئی کی سزائے موت عمرقید میں تبدیل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 45
  •  
  •  

شاہ رخ جتوئی

AFP
شاہ رخ جتوئی اور ان کے ساتھیوں نے دسمبر 2012 میں تلخ کلامی کے بعد فائرنگ کر کے شاہ زیب خان کو قتل کر دیا تھا

سندھ ہائی کورٹ نے سات برس قبل کراچی میں شاہ زیب نامی نوجوان کے قتل کے مقدمے میں مجرمان شاہ رخ جتوئی اور سراج تالپور کی بریت کی اپیل مسترد کرتے ہوئے ان کی سزائے موت کو عمرقید میں تبدیل کر دیا ہے۔

جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں عدالتی بینچ نے یہ فیصلہ پیر کو سنایا۔

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق عدالت نے اپنے فیصلے میں دیگر دو مجرموں سجاد تالپور اور غلام مرتضی لاشاری کی عمر قید کی سزا برقرار رکھی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

شاہ زیب قتل کیس کے چاروں مجرمان دوبارہ گرفتار

کراچی: شاہ زیب قتل کیس کے مجرمان رہا

شاہ زیب قتل کیس میں دہشت گردی کی دفعات ختم

سماعت کے دوران مجرمان کے وکیل نے کہا کہ فریقین کے درمیان صلح ہو چکی ہے اور صلح نامے کی بنیاد پر تمام مجرمان کو بری کردیا جائے۔

تاہم ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نے کہا کہ دہشت گردی کے مقدمات میں فریقین کے درمیان صلح نہیں ہو سکتی۔

پاکستان کے قانون میں قتل کی سزا موت یا عمر قید ہے لیکن اس میں اگر مدعی چاہے تو ملزمان کو معاف بھی کر سکتا ہے جبکہ انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت درج ہونے مقدمات میں صلح کی راستہ موجود نہیں ہے کیونکہ ان دفعات کے تحت درج ہونے والے مقدمات میں ریاست مدعی ہوتی ہے۔

شاہ زیب خان کی ہلاکت کا واقعہ 24 دسمبر 2012 کی شب کراچی میں ڈیفینس کے علاقے میں پیش آیا تھا جہاں شاہ رخ جتوئی اور ان کے ساتھیوں نے تلخ کلامی کے بعد فائرنگ کر کے انھیں قتل کر دیا تھا۔

شاہ زیب خان

BBC
شاہ زیب خان کے اہلخانہ اب بیرونِ ملک مقیم ہیں

جون 2013 میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے مرکزی ملزم شاہ رخ جتوئی سمیت دو ملزمان کو سزائے موت جبکہ دو کو عمر قید کی سزا دینے کا حکم دیا تھا۔

سزائے موت سنائے جانے کے بعد نومبر 2013 میں سندھ ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ نے مقدمے سے انسداد دہشت گردی کی دفعات ختم کر کے ماتحت عدالت کو مقدمے کی دوبارہ سماعت کی ہدایت کی تھی۔

2017 میں شاہ زیب خان کے والدین نے قصاص اور دیت کے قانون کے تحت صلح نامے کے بعد ملزم شاہ رخ جتوئی کو معاف کر دیا تھا جس کے بعد انھیں رہا کر دیا گیا تھا۔

تاہم فروری 2018 میں سپریم کورٹ نے اس مقدمے سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کے بعد سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے اس مقدمے میں ملوث چاروں مجرمان کو دوبارہ گرفتار کرنے کا حکم دیا تھا جس کے بعد انھیں دوبارہ حراست میں لے لیا گیا تھا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 45
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 8455 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp