سویڈن: وکی لیکس کے شریک بانی جولین اسانج کے خلاف ریپ کے مقدمات دوبارہ کھولنے کا حکم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جولین اسانج

Getty Images
47 سالہ اسانج کو ضمانت کی شرائط کی خلاف ورزی پر 50 ہفتوں کی سزا سنائی گئی ہے اور وہ فی الحال لندن کی بیلمارش جیل میں ہیں۔

سویڈن میں حکام نے ویکی لیکس کے شریک بانی جولین اسانج کے خلاف ریپ کے مقدمات دوبارہ کھولنے کا حکم دیا ہے۔

کیس کو مبینہ طور پر زیادتی کا شکار ہونے والی خاتوں کی وکیل کی درخواست پر دوبارہ کھولا گیا ہے۔

وکی لیکس کے بانی جولین اسانج کو گزشتہ ماہ لندن میں ایکواڈور کے سفارت خانے سے گرفتار کیا گیا تھا۔ سفارت خانے نے انھیں سنہ 2012 سے پناہ دے رکھی تھی۔

47 سالہ اسانج کو ضمانت کی شرائط کی خلاف ورزی پر 50 ہفتوں کی سزا سنائی گئی ہے اور وہ فی الحال لندن کی بیلمارش جیل میں ہیں۔

سویڈن کے پراسیکیوٹر نے دو برس قبل جولین اسانج کے خلاف ریپ کے الزام کی تحقیقات ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

جولین اسانج کون ہیں؟

وہ اہم راز جو جولین اسانج نے افشا کیے

سویڈن نے اسانج کے خلاف ریپ کی تحقیقات ختم کر دیں

سویڈن کے عوامی استغاثہ کی ڈپٹی ڈائریکٹر ایوا میری پیریسن نے پیر کو اعلان کیا ہے ’میں نے تحقیقات کو دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب بھی یہ ثابت کرنے کا امکان موجود ہے کہ جولین اسانج نے ریپ کیا تھا۔‘

آسٹریلیا میں پیدا ہونے والے جولین اسانج کو امریکہ میں دفاعی ادارے کے کمپیوٹروں میں موجود خفیہ معلومات تک رسائی حاصل کرنے کی سازش کا الزامات کا بھی سامنا ہے۔ اس جرم کی پاداش میں انھیں پانچ سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

سنہ 2006 سے اب تک وکی لیکس ہزاروں خفیہ دستاویزات شائع کر کے مشہور ہو چکا ہے۔ یہ خفیہ معلومات فلم انڈسٹری سے لے کر قومی سلامتی اور جنگوں سے متعلق رازوں پر مشتمل ہیں۔

جولین اسانج

Reuters

سویڈن جولین اسانج کے خلاف کیا تحقیقات کر رہا ہے؟

جولین اسانج پر سنہ 2010 میں سٹاک ہولم میں وکی لیکس کانفرنس کے دوران دو خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے اور دیگر جنسی جرائم کا الزام تھا۔

اسانج نے ہمیشہ ان الزامات کر تردید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جنسی تعلقات باہمی رضامندی سے قائم کیے گئے تھے۔

انھیں جنسی استحصال اور غیرقانونی طور پر زبردستی کرنے کے مقدموں میں بھی تفتیش کا سامنا رہا ہے تاہم 2015 میں ان مقدموں کا وقت گزر جانے کی وجہ سے انھیں ختم کر دیا گیا تھا۔

متاثرین کی وکیل الزبتھ ماسی فرٹز نے کہا ہے کہ اسانج کی گرفتاری حیران کن تھی لیکن ‘ 2012 سے اب تک ہم جس چیز کی امید اور انتظار کر رہے تھے وہ آخر کار ہو گیا ہے۔’

انھوں نے کہا ‘ریپ کا شکار ہونے والے کسی فرد کو انصاف کے لیے نو برس کا انتظار نہیں کرنا چاہیے۔’

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 8456 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp