“جیو” کہتا ہے، جیو یا مرو ہمیں کیا ؟

میں یہ سب اپنی اخلاقی برآت کے لئے لکھنا چاہتا ہوں تاکہ کل اس ادارے پر تنقید کرنی پڑے تو کوئی یہ نہ کہے کہ دیکھا جب تک وہاں تھے، ان کا دم بھرتے تھے اور آج انہی کو کوسنے دے رہے ہیں جنہوں نے پندرہ برس (میں نے جیو نیوز دو ہزار چار میں جوائن کیا تھا) سیکھنے کا موقع دیا۔

جیو نیوز پروگرامنگ کے بارے میں اچھی باتیں تو بہت لکھ چکا ہوں لہذا آج جی بھر کے برائیاں کرنا چاہتا ہوں۔ ہم جیسے لوگ جن کا اوڑھنا بچھونا ہی خبرناک ہے اور جو خبرناک کرتے ہوئے کوئی دوسرا کام نہیں کر سکتے وہ تین ماہ سے تنخواہ کا انتظار کر رہے ہیں لیکن مجال ہے پروگرام کے ایک سیکنڈ پر بھی سمجھوتہ کیا ہو کیونکہ ہم نے کبھی پروگرام کسی سیٹھ کا کام سمجھ کر کیا ہی نہیں لیکن ہمارے ادارے میں روایت یہ ہے کہ جب آپ کسی دوسرے کے پاس جا کر دو ٹکے کا کام بھی کرلیں تو آپ مہاتما ہیں اور اپنے ادارے میں چاہے پہاڑ کو سونے کے پانی سے دھو دیں تو مٹی ہیں اور یہ میں کہہ رہا ہوں جسے ادارے میں بہت عزت ملی ہے۔ ویسے تو ہر اس شخص کو جو ذرا سا ہاتھ بھی ہلائے، یہ شکایت رہتی ہے کہ اس کا مول نہیں لگایا گیا۔ جس تکریم کا وہ مستحق تھا وہ نہیں مل سکی وغیرہ لیکن ایسی مثالیں بہرحال موجود ہیں۔

ایک وقت تھا جب سوچا جاتا تھا کہ فلاں پروگرام بند کریں گے تو اتنے لوگ بے روزگار ہوں گے یا فلاں کمپنی کے ساتھ بہت مخلص رہا ہے، فلاں کچھ نہ بھی کرے تو ہمارا اثاثہ ہے، فلاں چاہے بیٹھا ہی رہے لیکن کسی اور کے پاس نہ جائے، فلاں اگر کچھ نہیں کر سکتا تو ملازمین کی تربیت ہی کرتا رہے بہت ہے۔ یہ سب کچھ سوچا جاتا تھا اور اس کے مطابق کوئی راہ نکالی جاتی تھی لیکن اب تو نہ صرف لوگوں کو فارغ کرنے کے بہانے ڈھونڈے جاتے ہیں بلکہ اس بات سے کوئی غرض بھی نہیں ہوتی کہ جسے فارغ کیا جا رہا ہے وہ بے چارہ اس جھٹکے کی تاب لا بھی پائے گا یا نہیں۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ اینکرز کے لاکھوں روپے نہیں دکھتے لیکن جھاڑو لگانے والے کے چند سو بھی زیادہ لگتے ہیں۔ ہمیں افسوس جیو پر نہیں ہوتا بلکہ ان سیٹھوں پر ہوتا ہے جو دھڑا دھڑ چینل لائے اور اوسط درجے کے پروگرام کرنے شروع کر دئیے۔ چند ایسے لوگوں کو جنہوں نے کبھی پانچ منٹ کی ڈاکیومنٹری نہیں بنائی اٹھا کر بڑے بڑے عہدوں سے نواز دیا اور ایک سال بعد سر جوڑ کر بیٹھ گئے کہ ریٹنگ نہیں آ رہی۔ بھئی ریٹنگ کوئی حرافہ تو ہے نہیں جو آپ کے نوٹ پھینکنے پر چلی آئے گی۔ ان لوگوں نے بھونڈے طریقے سے پروگرام پیش کئے اور رسوا ہوئے۔ جب نئے چینلز ہی ٹینکوں سے مکھیاں ماریں گے تو جیو کو کیا تکلیف ہے کہ کام کرنے والوں پر پیسہ لگائے۔

جو دکھتا ہے وہ بکتا ہے کہ مصداق بس اینکروں کی ساری زندگی خالی جھولیاں بھرتے رہو اور ان کے نخرے اٹھاتے رہو۔ کبھی وہ کام چھوڑ کر گھر بیٹھ گیا، کبھی ناراض ہو گیا، کبھی مان گیا، کبھی چھٹیوں پر چلا گیا، کبھی کسی دوسرے چینل میں بس کسی کو ملنے چلا گیا تھا اور یہاں دورے پڑنے لگے۔ ان کی دیکھا دیکھی دوسرے چینلز نے بھی یہی شروع کر کیا اور آج ذلیل و خوار ہو رہے ہیں۔ سارا مسالہ موجود ہے۔ ڈمی بھی ہو رہی ہے، جگتیں بھی لگ رہی ہیں، آ رٹسٹ بھی ہیں، لڑکی میزبان بھی رکھ لی ہے، سامعین بھی ہیں، شور شرابا بھی ہے، موٹاپا اور میوزک بھی ہیں، بات بے بات دانت بھی نکل رہے ہیں لیکن اگر کچھ نہیں ہے تو لطف نہیں ہے، اچھوتا خیال نہیں ہے، کہانی نہیں ہے، تکنیک نہیں ہے، ڈویلپمنٹ آف تھاٹ نہیں ہے، ورائٹی نہیں ہے، بلند خیالی اور مزاح کا امتزاج نہیں ہے۔ پھیکے، بورنگ، بے معنی پروگرام اور لاگت پانچ پروگراموں جتنی۔ سیٹھ بھی اندھا دھند پیسہ پھینک رہا ہے کہ کبھی تو صابن مل مل کر حبشی کو گورا کروں گا۔

جیو کے حالات خراب ہیں، حالات خراب ہیں، حالات خراب ہیں۔ سبحان اللہ! جیو کے حالات صرف کیمرے کے پیچھے کام کرنے والوں کے لئے خراب ہیں ؟ یہاں تک ہوا کہ سکرین پر آنے والوں اور پیچھے رہ کر کام کرنے والوں سے معاوضہ بڑھانے کے وعدے ہوئے۔ معاملات طے پا گئے اور سکرین والوں سے کنٹریکٹ سائن کر کے ایک دم حالات پھر خراب ہو گئے۔ یعنی وہ لوگ جنہوں نے آپ کی ڈوبتی کشتی کو اور ایسی کشتی کو جسے آپ نے باہر سے لوگ لا کر ڈبونے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، سنبھالا، انہیں آپ نے بیوقوف بنا دیا کہ انہوں نے کونسا بھاگ جانا ہے اور اگر بھاگ بھی گئے تو مارکیٹ سے نئے لوگ اٹھا لیں گے۔ حالانکہ مارکیٹ سے جو سوغات آپ اٹھا کر لائے تھے اس نے آپ کے پروگرام کو تباہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔

یاد رکھیے ! جسے بھی لائیں گے رسوا ہی کرے گا کیونکہ آپ کی پراڈکٹ سے اول تو کسی کی وابستگی نہیں اور اگر ہو بھی تو وہ اس قابل نہیں کہ سنبھال سکے اور اگر اس قابل ہو بھی تو جتنے کم خرچ میں آپ چلا رہے ہیں وہ کبھی نہیں چلائے گا۔ میں لکھ کر دے دیتا ہوں۔ آپ بہت سمارٹ ہیں، مارکیٹ کو جانتے ہیں، پڑھے لکھے اور خوددار لوگوں کی مجبوری کو سمجھتے ہیں لیکن خدارا آہستہ آہستہ بربادی کی طرف جائیں ورنہ پیسہ تو شاید بچا لیں لیکن مقابلہ بازی میں ہمیشہ جیت کے لئے کھیلتے ہوئے شکست کی ذلت برداشت نہیں ہو گی۔

آپ اپنی کسی خوبی پر نمبر ون نہیں ہیں بلکہ دوسروں کی حماقتوں پر نمبر ون ہیں اور نمبر ون بھی زیادہ مارجن سے نہیں ہیں۔ آج خبرناک کے قریب بھی نہیں ہے کوئی کامیڈی شو اور بالکل نئی ٹیم ہے۔ پہلے ہم نے اینکروں کی مواد اور تکنیک پر اجارہ داری کو توڑا، پھر بڑے آدمی کے سنڈروم سے شوز کو نجات دلائی، فنکاروں کو لگے بندھے کام سے نکالا، پھر بڑے فنکاروں کے چنگل سے پروگرامز کو آزاد کروایا۔ آپ ٹکے ٹکے کے لوگوں پر کروڑوں روپے لگا رہے تھے، وہ آپ کے پلیٹ فارم سے اپنے آپ کو بناتے رہے لیکن آپ مجبور تھے کہ آپ کی نظر میں کام ہی انہیں آتا تھا۔

اور یہ صرف ایک تاثر تھا جو انہوں نے قائم کیا ہوا تھا۔ ہم نے آپ کی جان ایسی جونکوں سے چھڑائی اور آپ نے ہمارے نوالے چھین لئے۔ جناب ! ہم بیوقوف نہیں، خوددار ہیں جو آپ سے کبھی گلہ نہیں کیا۔ ورنہ کیا نہیں کر سکتے۔ کہیں اور جا کر بیٹھ جائیں تو دیکھتے ہیں، آپ کیا کرتے ہیں۔ پانچ گنا زیادہ خرچ کر کے بھی سنبھل نہیں سکیں گے۔ ہماری خودداری کو کمزوری نہ سمجھیں۔ آپ بہت سمارٹ ہیں اور ہم نے آپ جیسے سمارٹ لوگوں کو نوٹوں کی بوریاں لئے دو دو ٹکے کے لوگوں کے پیچھے پھرتے دیکھا ہے۔ بند کریں یہ تماشا ورنہ تیسرے درجے کی کہانیوں تک رہ جائیں گے۔ سارا نمبر ون جھاگ کی طرح بیٹھ جائے گا۔ خوددار لوگوں کی عزت کیجیے جیسے آپ کبھی کیا کرتے تھے۔

مجھے پتہ ہے آپ بہت سمارٹ ہیں اور آپ کو علم ہے کہ اوسط درجے کے لوگوں کو کیسے پروموٹ کرنا ہے، کیسے مارکیٹ کرنا ہے، کیسے استعمال کرنا ہے لیکن یہ تکنیک پر جگہ نہیں چلتی جناب۔ ان لوگوں کو بیوقوف یا مجبور نہ سمجھیں جو آپ کے غلط فیصلوں کے خلاف اپنی پراڈکٹ کے لئے کھڑے ہوئے، جنہوں نے آپ کا استیصال نہیں ہونے دیا، جنہوں نے اپنے معاوضے سے اس گنا بڑھ کر پراڈکٹ کی تعمیر میں محنت کی، جنہوں نے خود قرضوں میں جکڑے ہونے کے باوجود آپ کی پراڈکٹ کو کسی منفعت کے لئے استعمال نہیں کیا، جنہوں نے ہر روز نئی کاوش کی، نئے زاویے سے سوچا، نئے افق دریافت کئے، نت نئی کہانیاں لائے، نئے فقرے، نئے رنگ، نئے فنکار، نیا پن دیا۔ آپ بہت سمارٹ ہیں لیکن ہمارے تخلیقی شعور سے آگاہ ہیں اور تخلیق کسی بھی سمارٹ نس کو پچھاڑ سکتی ہے۔ تھوڑا کہے کو بہت جانیے گا۔