چار درویش اور ایک کچھوا

لڑکا کتابوں کی دکان میں داخل ہوا اور دکاندار سے کہنے لگا، کھچوے پر کوئی کتاب موجود ہے؟ دوکاندار نے نیچے کیبن میں کئی کتابیں کھنگالنے کے بعد سر اٹھا کر پوچھا، ”ہارڈ بیک آر پیپر بیک“؟ لڑکے نے سمجھتے نہ سمجھتے ہوئے جواب دیا، ”آف کورس ہارڈ بیک ود فور کیوٹ لٹل لیگز“۔ اس کو مطلوبہ کتاب مہیا کی گئی تو میری باری آئی۔ عرض کیا حضور مجھے بھی وہ کھچوے والی کتاب دیجیے۔ دکاندار نے شرارتاَ مسکرا کو پوچھا، ”کیا آپ کو بھی چار ٹانگوں والا کھچوا چاہیے“؟ عرض کیا نہیں مجھے چار درویشوں والا کچھوا درکار ہے۔ یوں کاشف رضا کی کتاب لے آیا۔

سید کاشف رضا کا ناول پڑھنے کے بعد جو پہلا تاثر قائم ہوا، اس پس منظر میں کہ ادب کا کوئی بھی بڑا شہ پارہ کسی کائناتی موضوع سے کتنا متعلق ہے؟ دو چیزیں سامنے آئیں۔ کاشف نے ’سچائی کو دیکھنے کا مختلف تناظر اور اس سے سچائی کی بدلتی صورت‘ اور ’جنس‘ کو موضوع بنایا ہے۔ یہ دونوں بڑے موضوعات ہیں۔ جہاں تک سچائی کو دیکھنے کے تناظر کی بات ہے تو اس باب میں کاشف سے اختلاف یا اتفاق رکھنا اصولاَ کوئی معنی نہیں رکھتا ہے۔

 دونوں صورتوں میں، چاہے مجھے یا کسی کو اور قاری کو کاشف سے اختلاف ہو یا اتفاق ہو، چونکہ سچائی اپنی تمام معروضیت کے باوجود بھی موضوعی ہوتی ہے۔ اس لئے دو تین چار افراد کا کسی سچائی پر متفق ہو جانا اسے مطلق سچائی قرار نہیں دیتا۔ تاہم کاشف نے اس موضوع کو باریکی سے بار بار بیان کرنے سے یہ کامیابی تو حاصل کر لی کہ قاری سچائی کے مختلف پرتو دیکھ سکے۔ جہاں تک جنس کا تعلق ہے تو یہ ایک پیچیدہ معاملہ ہے۔ فیس بک تبصروں سے میرا تاثر یہ بنا تھا کہ کاشف نے جنس کو موضوع بنایا ہو گا۔

 جنس کو موضوع بنانے سے میری مراد جنسیات کے عمومی علم میں کسی نظریے سے اتفاق یا اختلاف کر کے ایک نیا نظریہ یا کم ازکم نکتہ نظر پیش کرنا ہے۔ کیونکہ علم کے مجموعی سفر کا راستہ بہرحال یہی ہے۔ آپ کسی نظریے یا فکر پر تحقیق کر کے اسے مزید نتائج پیدا کرنے کے لئے آگے بڑھاتے ہیں یوں علم اپنی ارتقا میں تخلیقی ہوتا جاتا ہے۔ دوسری صورت میں آپ کسی نظریے یا فکر کو رد کر کے اس کے مقابلے میں نیا نظریہ یا فکر پیش کرتے ہیں۔

 یوں علم کی نئی جہتوں کا آغاز ہوتا چلا جاتا ہے۔ کاشف رضا جنس کو اس کی epistemology یا اس کی ontology سے کم دیکھتا نظر آتا ہے۔ انہوں نے جنس کے عمومی نظریات (ان سے اتفاق اور اختلاف سے بالکل پرے ) پر بہت کم بحث کی ہے بلکہ جنس کو جنسی عمل سے عمومیت میں دکھانے کی کوشش کی ہے۔ راوی کے اپنے بیان یا ارشمیدس کے چند جملوں کے علاوہ جنس کی بحث جنسی عمل کے پس منظر میں ہی مخصوص انداز میں چلتی جاتی ہے اور قاری کو مجبور کرتی ہے کہ وہ جنس کو جنسی عمل کی جانب جانے والے واقعات کے پس منظر کو دیکھتے ہوئے اپنا نکتہ نظر خود طے کرے۔

میرا خیال ہے یہاں کاشف سے اختلاف بنتا ہے۔ موجودہ دور میں فرد کو درپیش وجودی بحرانوں میں سے جنس کا سوال پرائمری کی بجائے بہت ثانوی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ اور خود جنس کا سوال بہت پیچیدہ ہو چکا ہے۔ اب جنس کا سوال صرف جینڈر بائنریز کے درمیان نہیں رہا بلکہ اس میں کئی اور جہتیں وقوع پذیر ہو چکی ہیں، جس نے جنس کے معاملات کو بہت پیچیدہ بنا دیا ہے۔ خود بائنری سطح پر پوسٹ ماڈرن پرسپیکٹیو اور فیمنزم کی تحریک نے جینڈر بائنریز کے درمیان قائم پرانے جنسی تعلق میں دونوں کے کردار کو زسر نو ترتیب دینے کا مطالبہ شامل ہو چکا ہے۔

 اس مطالبے نے جنسی معاملہ کو اب ایسا چھوڑا نہیں جیسے کہانی میں چل رہا ہے یا جیسے عموماَ روایتی سماج میں پایا جاتا ہے۔ پورن انڈسٹری، جنسی آلات کی صنعتی پیداوار، جنس عمل کی خود کفالت، فرد کی آزادی، گے رائٹس اورجنس کے ساتھ معاشی صنعت کے جڑنے نے جنس کے تناظر کو یکسر بدل دیا ہے۔ اور پھر یہ بھی کہ سماج اب جنس کے معاملے میں خاندان کی شرط سے آزاد ہو چکا ہے اور یا کم ازکم اس کا وجودی سطح پر مطالبہ یہی بن چکا ہے۔

 جنس اپنے ابتدائی تاریخ میں تو صرف بقا سے جڑا تھا۔ اس کے بعد جب انسان کا تہذیب سے تعلق بنا تو جنس کا تعلق آسودگی اور خوشی کے بہت قریبی تجربے کے بعد بنیادی طور پر خاندان کا ارادہ قائم کرنے کے لئے تھا۔ مانع حمل تحقیق نے جنس کے سوال بدل دیا۔ اب جنس اور اولاد یا خاندان کا آغاز بالکل دو الگ الگ موضوعات ہیں۔ ایسے میں اگر کاشف رضا کے کردار جنس کی عمومی بائنریز میں رہ کر جنسی عمل کے دوران ایک ناجائز بچے کی پیدائش (بالا) جیسے پرانے کلیشے کو لے کرجنس کے جدید موضوعات پر کسی کائناتی تناظر کے خواہاں ہیں تو میرا خیال ہے کاشف رضا یہاں کامیاب نہیں ہو سکے۔ یوں یہ ناول کوئی کائناتی تناظر قائم کرنے یا اس میں کوئی قابل ذکر حصہ ڈالنے میں شاید کامیاب نہ ہو سکے۔ بطور قاری میں اسے کوئی بڑا ناول قرار دینے میں بخل سے کام لینے پر مجبور ہوں۔

جہاں تک ناول کے تیکنیک کی بات ہے تو میرا خیال ہے نئے قارئین یا یوں کہنا زیادہ بہتر ہو گا کہ صرف اردو فکشن سے واقف قارئین کے لئے کاشف رضا کا ڈکشن بہت دلچسپ ثابت ہو گا۔ جدید عالمی فکشن میں ناول کے صنف نے غیر معمولی اہمیت اختیار کر لی ہے۔ اس نے عملاَ شاعری، ڈرامہ، ریڈیو حتی کہ سینما تک کو اعداد و شمار کے پیمانے میں شکست سے دو چار کیا ہے۔ اس شہرت نے ناول کے نہ صرف موضوعات کی ورائٹی بڑھائی ہے بلکہ ڈکشن کے ساتھ نت نئے اور کامیاب تجرباتکیے گئے۔

 ناول اپنے روایتی ہمہ داں راوی (omniscient narrator)، یا ضمیر متکلم (First۔ Person Narration)کے پس منظر سے بہت آگے بڑھ چکا ہے۔ جیمز جوائس کے stream۔ of۔ consciousness کی تکنیک نے ناول کی ڈکشن میں بلاشبہ ایک انقلاب برپا کیا۔ مختصر کہانیوں میں بورخیس نے بھی اس طرز میں لازوال تخلیقات کی ہیں۔ یوں ڈکشن کے لئے میدان کھل گیا۔ اردو میں stream۔ of۔ consciousness کی تیکنیک اگر میں غلط نہیں یا کم از کم میری معلومات کی حد تک صرف مرزا اطہر بیگ نے استعمال کی ہے بلکہ مرزا صاحب نے اس کے سٹرکچر کو مزید توڑتے ہوئے کہانی میں بطور ناول نگار باقاعدہ مداخلت بھی کی ہے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

 مرزا صاحب نے کہانی سنانے والے شخص کے ساتھ ساتھ بطور کہانی کار جگہ جگہ خود مداخلت کی ہے اور کردار یا راوی پر تبصرہ کیا ہے۔ اس طرز کو انہوں نے ’حسن کی صورت حال، خالی جگہیں پر کریں میں‘ مدیر حیرت ’کا نام دیا ہے۔ مدیر حیرت کہانی میں کہیں سے بھی نمودار ہو کر کسی کردار، یا کسی منظر کی وضاحت یا اس پر اعتراض کر سکتا ہے۔ کاشف رضا نے بھی کم و بیش کہانی بیان کرنے کے لئے اسی جدید تیکنک کا سہارا لیا ہے۔ اردو ناول کے روایتی طرز کے برعکس یہ طرز قارئین کے لئے نہایت دلچسپی کا سبب ہو گا۔

اس تیکنیک کے ساتھ ساتھ کاشف نے ناول میں دو تصویری خاکے بھی چھاپ دیے۔ میں نہیں جانتا کہ ناول میں یہ روایت کب اور کہاں پڑی۔ میں اس پر روایت سے جڑ کر ادبی پولیسنگ کا کردار ادا نہیں کرنا چاہتا۔ اگر کوئی شخص روایت کا سہارا لے کر اس طرز پر اعتراض کرے گا تو میں خود کو کاشف کے ساتھ کھڑا پاؤں گا۔ تاہم میرا اس پر اعتراض بطور قاری بالکل ایک ریشنل سطح پر ہے۔ میں سمجھتا ہوں اگر لکھنے والے کو کہانی لکھتے وقت اشکال بنانے کی نوبت پیش آتی ہے تو اسے اپنے لفظ ضائع کرنے کی ضرورت ہی کیوں ہے؟

 اگر ایسا کرنا درست ہے تو کیا یہ بہتر نہیں ہے کہ وہ ہر مرکزی کردار کی تصویر چھاپ دے۔ پھر سلمی، زرینہ اور مشعال کے خدوخال پر سینکڑوں جملے لکھنے کی بجائے ان کی تصاویر چھاپنے میں کیا امر مانع ہے؟ آخر یہی روایت ڈائجسٹ نے بھی تو برسوں تک چلائے رکھی بلکہ اب بھی جاری ہے۔ اگر ایک ناول میں کچھوے کی تصویر چھپ سکتی ہے تو سلمی کی کیوں نہیں۔ اور پھر اگر بات تصاویر پر چلی ہی گئی ہے اور آپ ایک میڈیم سے نکل کر دوسرے میڈیم میں جانا چاہ رہے تو پھر تصویر ہی کیوں؟ کیا ناول کو فلما کر اس کی ایک ڈی وی ڈی کتاب کے ساتھ منسلک نہیں کرنی چاہیے؟ یہ سوال جواب طلب ہے۔ اس سے پرے مجھے روایت ٹوٹنے کی کوئی فکر نہیں۔

کتاب کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ کاشف رضا عالمی ادب پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ انہوں اپنے ناول میں جا بجا عالمی ادب سے شستہ اقتباسات اٹھا کر اپنی کہانی میں جوڑے ہیں۔ تاہم بطور قاری میرا خیال ہے کہ یہ اقتباسات کہانی کی اساس میں پوری طرح ڈھلنے میں کامیاب نہ ہوسکے۔ یہ ایک باریک نکتہ ہے۔ میں اگر اپنے بیان کو واضح کرنے میں کامیاب ہو سکا ہوں تو میں یہ کہنے کی کوشش کر رہا ہوں کہ اگر ان کی کہانی سے یہ اقتباسات منہا کر دی جائیں تب بھی کہانی کے تسلسل پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ یوں یہ اقتباسات مصنف کے وسیع مطالعہ کی دھاک تو بٹھاتے ہیں مگر کہانی میں ڈھل کر کہانی کو کومپلیمنٹ نہیں کرتے۔

جہاں تک ناول کی کہانی کا تعلق ہے تو یہ پانچ کرداروں پر مشتمل کہانی ہے جن میں ایک کچھوا بھی شامل ہے۔ آئیے ناول کے ایک ایک کردار کے ساتھ بطور قاری منظر بینی کے سفر پر چلتے ہیں اور دیکھتے کہ قاری اور کرداروں میں سے کس کا سانس پہلے اکھڑتا ہے۔

جاوید اقبال ایک صحافی ہیں۔ کراچی کے علاقے گلشن اقبال کے ایک فلیٹ میں رہتے ہیں جس کو انہوں نے کرینہ کپور کی کئی قد آدم اور چھوٹی تصاویر سے مزین کر رکھا ہے۔ ایک صحافتی ادارے میں نوکری کرتے ہیں۔ اکیلے رہتے ہیں اور غیر شادی شدہ ہیں۔ ارشمیدس جو کہانی کا ایک اور کردار ہے دراصل جاوید اقبال کا پالتو کچھوا ہے۔ جاوید اقبال کا زندگی کے بارے ایک الگ تناظر ہے یا کم از کم وہ اس کا دعوی کرتے ہیں کہ وہ تناظر مختلف ہے۔

 ان کی دلچسپی کا اہم موضوع عورت ہے۔ جاوید اقبال کی کہانی کا آغاز یوں ہوتا ہے، ’زندگی کے اگلے برسوں کے دوران اس روز کو کئی مرتبہ دھیان میں لاتے ہوئے اسے واضح طور پر یاد آتا ہے کہ اس روز وہ مشعال کی گردن کی ناڑ کو بہت دیر تک دیکھتا رہا تھا۔ کسی عورت کو سوچتے رہنا، اسے دیکھنے اور اس کے جمال کی ذاتی ترین تفاصیل کو کھوجنے کی جستجو کرنا اور پھر ان تفاصیل کو اپنانے کی خواہش اور کاوش کرنا زندگی کی کتنی بڑی عیاشی تھی جو ان دنوں اسے فراوانی سے فراہم تھی اور وہ سوچا کرتا‘ ۔

 کچھ عورتوں کو دیکھ جاوید اپنی رگوں میں جھاگ بھرتا ہوا محسوس کرتا ہے۔ ایسے موقعوں پر اسے محسوس ہوتا ہے جیسے اس کے جسم کو کسی غیر مرئی طاقت نے اپنے شکنجے میں کس لیا ہو۔ کوئی مزیدار عورت اس کے قریب ہو تو وہ اپنے تمام تر جسم سے اور اپنی حسیات سے اس سے کلام کر رہا ہوتا ہے۔ یہ بعض اوقات اتنا شدید ہوتا ہے کہ اسے اپنی بعض نسیں پھٹتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔ بظاہر وہ خود کو ایک شریف النفس آدمی سمجھتا ہے۔ وہ عورتوں سے اتنا obsessed ہے کہ اپنی ڈائیریوں میں ان خواتین کی مکمل تفصیلات لکھتا ہے جن سے وہ تعلق کے کسی بھی مرحلے میں ہوں۔

 وہ ان کے نام، ان کی ادائیں، ان سے تعلق کے دوران محسوسات تک لکھتا ہے۔ ان چیزوں کے نوٹ کرنے سے وہ آئندہ کے لائحہ عمل طے کرتا ہے۔ اسے ان سے ایک خاص خوشبو محسوس ہوتی ہے جو اگر اس کے تعلق میں موجود خواتین میں نہ پائی جائے تو وہ فلمی اداکاروں کی تصاویر سے پورا کرتا ہے۔ اس پورے معاملے کو وہ اپنی جبلت قرار دیتا ہے۔ نہ صرف جبلت بلکہ یہ طے کرنے کے بعد کہ یہ جبلت ہے اسے اس عمل میں پاکیزگی محسوس ہونے لگتی ہے۔

 وہ اس پاکیزگی کے بارے میں کہتا ہے کہ یہ ایسی چیز ہے جو کسی، ’رشی منی یا صوفی صافی اپنے گیان دھیان یا عبادت و ریاضت میں محسوس کر سکتا ہے‘ ۔ وہ عورتوں کے ساتھ تعلق کے لئے باقاعدہ منصوبہ بندی کرتا ہے۔ اپنے اس جذبے کو وہ محبت قرار دیتا ہے۔ اسی جذبے سے مغلوب ہو کر وہ ایک دن زرینہ سے صرف دیکھنے کے وعدے پر زبردستی کرتا ہے کیونکہ اس کے جسم سے اس کی نسیں پھوٹنے لگتی ہیں۔ یہ جنسی زیادتی کے عمل کا آغاز تھا جسے راوی نے دوران جنسی عمل زرینہ کی آمادگی پر منتج کر کے باہمی رضامندی کا معاملہ بنانے کی کوشش کی ہے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

 مگر مشکل یہ ہے کہ راوی نے یہاں زرینہ کی مزاحمت سے اچانک آمادگی کی کوئی توجیہہ نہیں کی۔ اسی جذبے کے تحت وہ اس لڑکی کو جس کو وہ سالوں سے چاہتا ہے اور کئی سال بعد جب ان کی ملاقات ایک پبلک مقام پر ہوتی ہے جہاں جاوید اقبال بظاہر اسے شادی کا پروپوزل دینے کے لئے موجود ہوتا ہے۔ مشعال نیم آمادہ ہو جاتی ہے۔ واپسی پر جاوید اس کے پیچھے ایسکلیٹر میں کھڑے ہو کر اسے گروپ (grope) کرتا ہے۔ اس کے جسم پر پبلک مقام پر ہاتھ پھیرتا ہے۔

 نفسیات کی زبان میں ایسے شخص کو جنسی ناآسودگی کا شکار کہا جاتا ہے۔ ایک جنسی نا آسودگی کے شکار شخص کے کردار سے جنس کے بارے میں کوئی نظریہ تخلیق کرنا آج کے دور میں قدرے مشکل ہے۔ جو ناول کا ایک طرح سے بنیادی موضوع ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے جاوید اقبال جنس کے معاملے کو بائنری سطح پر بھی دیکھنے کا اہل نہیں بلکہ صرف اپنی ذاتی تسکین کے تناظر میں دیکھنے کا عادی ہے۔ ایسے میں وہ جنس جیسے پیچیدہ موضوع پرکوئی اچھا تناظر یا سرے سے کوئی تناظر قائم کرنے میں اس لئے ناکام ہوتا ہے کیونکہ اس کا رویہ صرف اور صرف خود غرضانہ نظر آتا ہے۔

 بات صرف یہیں تک محدود نہیں ہے بلکہ راوی جو اس ناول میں ایک کردار کے طور پر شامل ہے یعنی خود ناول نگار، وہ بھی جاوید اقبال کے اس مریضانہ فہم کو چیلینج کرنے کی بجائے اسے شہ دے رہا ہوتا ہے یا بہت سے مقامات پر ستائشی انداز میں برت رہا ہوتا ہے، مثال کے طور پر ”اصل میں جاوید ہر لڑکی یا عورت سے اپنے تعلق کو ایسے اہتمام اور محبت سے ترتیب دیتا تھا جیسے کوئی شاعر کوئی طویل نظم بنا رہا ہو، یا کوئی مصور ایک بڑی سی تصویر پر آہستہ آہستہ کام کر رہا ہو۔

وہ اس تعلق میں بڑی احتیاط سے مصرعے لگاتا اور اسٹروک جماتا ہے۔ بظاہر لگتا یوں ہے کہ کہانی کار جاوید کی ستائش اس لئے کر رہا ہے کیونکہ اسے جاوید کے عمل کو اپنے ناول کے دوسرے بڑے موضوع یعنی“ سچ کو دیکھنے کے مختلف تناظر ”سے متعلق کرنا چاہتا ہے تاکہ جاوید کا رویہ ایک انفرادی سچائی کے طور سچائی کے عمومی تناظر میں ایک مختلف زاویہ نگاہ کے طور پر اسٹیبلش کر سکے۔ مشکل یہ ہے کہ تناظر کی تمام انفرادیت کے باوجود یہ ایک معلوم شدہ رویہ ہے جس کی کم ازکم تفہیم مریضانہ سطح پر کی جاتی ہے۔

ایسے مریضانہ تناظر بھلے وہ وجودی سطح پر جتنے بھی واقعاتی شہادت رکھتے ہوں، نظریہ سازی کے عمل میں شامل نہیں کیے جا سکتے یا اگر کسی کا اصرار ہے کہ چونکہ واقعاتی شہادت رکھتے ہیں اس لئے شاملکیے جانے چاہیں۔ اس دلیل پر بحث ممکن ہے مگر واقعہ یہ ہے کہ یہ رویہ نظریہ سازی میں شامل نہیں جاتا۔ یوں یہ کہنے میں کوئی مبالغہ نہیں ہونا چایئے کہ جاوید کا کردار ناول کے دونوں موضوعات سے انصاف قطعی طور نہیں کر پاتا۔

آفتاب اقبال اس کہانی کے دوسرے درویش ہیں۔ یہ پیشے سے پروفیسر ہیں اور فلسفہ پڑھاتے ہیں۔ ایک خوبصورت، سمارٹ اور الی جیبل بیچلر ہیں۔ یہ جاوید اقبال کے بھائی ہیں۔ ان کی مائیں الگ الگ ہیں۔ آفتاب اقبال کی ماں نے اپنے شوہر اقبال محمد خاں سے چند غیر شرعی وجوہات کی بنا پر علیحدگی اختیار کی تھی۔ آفتاب کو فلسفے سے شغف ہے۔ نہایت پڑھے لکھے اور ریشنل آدمی ہیں۔ زندگی کے معاملات کا بہت گہرائی سے تجزیہ کرنے کی صلاحیت سے مالا مال ہیں۔

 سچائی کے موضوع پر ناول نگارنے آفتاب اقبال کے ذریعے فلسفے کے سچائی سے متعلق گنجلک معاملات پر بہت طویل مباحث بہت آسان پیرائے میں بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔ کیونکہ وہ ایک استاد ہیں اور شاگردوں سے سچائی کے موضوع پر بہت خطیبانہ انداز میں کلام کرتے ہیں۔ تاہم کہانی کی بنت میں آفتاب اقبال کا کردار ایک قاری کی توقعات سے یکسر مختلف ہے۔ ان کو سلمی سے محبت ہو جانا کوئی انوکھا واقعہ نہیں۔ اس محبت کے فوراَ بعد جب کہانی بڑھتی ہے تو آفتاب اقبال کے کردار کا سانس اکھڑ جاتا ہے۔

وہ اپنے بنیادی تعارف یعنی ایک ریشنل انسان ہونے کے معیار سے آہستہ آہستہ نیچے چلے جاتے ہیں۔ قاری کے لئے حیرت کا پہلا پڑاؤ تب آتا ہے جب آفتاب اقبال سلمی سے پہلی ملاقات کرتا ہے۔ سلمی ایک مذہبی مگر کھاتے پیتے خاندان سے ہے۔ آفتاب اقبال ایک اچھی نوکری پر ہیں۔ ایسے میں دونوں احباب پہلی ملاقات کے لئے ایوب پارک جیسے مقام کا انتخاب کرتے ہیں جو حیران کن ہے۔ ایوب پارک کالج کے لڑکے لڑکیوں کے لئے تو ایک ڈیٹنگ سپیس قرار دی جا سکتی ہے مگر ایک بیالیس سالہ فلسفے کا استاد ایسے عوامی پارک میں جاتا ہے یہ قاری کے تناظر میں کم ازکم بھی ایک غیر شائستہ انتخاب ہے۔

اس بات سے صرف نظر کر کے اگر پہلی ملاقات کی روداد پر غور کیا جائے تب بھی آفتاب اقبال کی شخصیت اپنے تعارف کے مقام سے بہت کم ہوتی چلی جاتی ہے۔ آپ اندازہ لگائیے کہ فلسفے کا ایک پروفیسر جو بہت ریشنل ہے، اقبال کے تصور خودی اور تصور حقیقت پر بحث کرتا ہے، افلاطون اور ارسطو کے تصور ممیسس پر بحث کرتا ہے، ریالٹی اور اس کے لئیرڈ کانسیپٹس پر بحث کرتا ہے، محبت کے بارے میں ایک فلسفہ رکھتا ہے، انسانی جذبات کو گہرائی میں سمجھتا ہے، بشری رحمان سے لے کر فیمنزم جیسے جدید مسائل پر طلباءکو کتابیں سجیسٹ کرتا ہے، اس کی پہلی ملاقات میں مکالمے کی صورت پر ذرا نظر ڈال لیں۔

 سلمی بولی، ”کل آپ فون پر کافی پریشان لگ رہے تھے“۔ آفتاب، ہاں۔ مجھے پکا یقین ہے کہ پرویز مشرف القاعدہ والوں کو پاکستان میں پناہ دے رہا ہے۔ اللہ کرے یہ بات غلط ہو، لیکن اگر صحیح ہوئی تو امریکہ القاعدہ والوں کی تلاش میں پاکستان میں بھی داخل ہو سکتا ہے ”۔ سلمی، “ آپ تو خواہ مخواہ پریشان ہوتے ہیں۔ کچھ نہیں ہو گا ایسا۔ اور امریکہ آ بھی گیا تو کیا ہم نے چوڑیاں پہن رکھی ہیں ”۔

کہانی کی زبان میں ایسے مکالموں کو کردار کا سانس اکھڑنا کہتے ہیں۔ کردار کے پاس کہنے کو اور کہانی آگے بڑھانے کو ایسا بیان نہیں ملتا جس سے کہانی آگے بڑھے سو کچھ بھی لکھ کر کہانی چلا لیجیے۔ یہ ”کچھ بھی“ اس لئے کہ اگر آفتاب پولیٹکل سائنس کے استاد ہوتے تو اس مکالمے کی جگہ بنتی تھی۔ آفتاب اپنے بھائی جاوید اقبال کی طرح صحافی ہوتے تب بھی یہ مکالمہ بنتا تھا۔ سلمی کو سیاست سے کوئی دلچسپی ہوتی یا یہ موضوع کلاس میں پہلے کبھی زیر بحث آتا تب بھی درست تھا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

 یوں اچانک پرویز مشرف اور القاعدہ جیسے سیاسی موضوع سے ایک فلسفے کے استاد کا اپنی محبوبہ سے پہلی ملاقات کے وقت اس موضوع کا انتخاب کرنا ’کچھ بھی‘ کے علاوہ کیا ہو سکتا۔ اس سے ایک تاثر یہ بھی ابھرتا ہے کہ ناول نگار نے کینوس کو مزید رنگوں سے مزین کرنے کے لئے کہانی میں ایک سیاسی بیانیہ بھی ڈال رکھا ہے جو بہرحال اس کا اپنا سیاسی ورلڈ ویو ہے۔ یہ تاثر اس وقت مزید گہرا ہو جاتا ہے جب یہی کردار بے نظیر کی شہادت کے cause of death کے لئے اسی بیانیے کا سہارا لیتا ہے جو سرکاری بیانیہ تھا۔ اس بیانیے کو پیپلز پارٹی رد کر چکی ہے۔ یوں ایک کردار جسے کہانی کے فلسفیانہ تناظر کو سنبھالنا تھا وہ غیر ضروری طور پر ناول نگار کے سیاسی ورلڈ ویو میں پھنس کر اختلافی ہو جاتا ہے۔

سانس اکھڑنے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ اسی ملاقات میں چوڑیوں اور اسلام میں عورتوں کے حقوق جیسے مسائل بھی زیر بحث آتے ہیں۔ پون گھنٹے کی اس ملاقات کے بعد آفتاب اگلے پیراگراف میں سلمی کی آنکھوں کی پر ایک گہرا فلسفیانہ تجزیہ کرتا ہے اور پھراگلے ہی باب کے شروع ہوتے ہی اسے سلمی کے باپ کا فون آجاتا ہے جو روایتی طور پراسے سلمی سے دور رہنے کا مشورہ دیتا ہے۔ چونکہ اسے اور سلمی کو علم ہو جاتا ہے کہ آفتاب کی ماں احمدی فرقے سے تعلق رکھتی ہے۔

سلمی کا باپ آفتاب کو دھمکی دیتا ہے کہ اگر اس نے ملازمت سے استعفی نہیں دیا تو وہ اس کے خلاف ہریسمنٹ کی انکوائری شروع کرا دے گا۔ یوں محبت کی لازوال داستان تخلیق کرتے اور ختم کرنے میں ناول نگار کو صرف دو صفحات کا فاصلہ درکار تھا۔ گو یہ باب طویل ہے اور سلمی اور آفتاب کی محبت کا ذکر آگے بھی آئے گا۔ وہ ذکر مگر اس کے سوا کیا ہے کہ they lived happily ever after۔ تاہم یہاں تک بالی وڈ کی کلیشیڈ فلمی کہانیوں کی طرح کہانی میں ظالم سماج کود پڑتا ہے اورآفتاب اقبال ریشنل اور تعلیم یافتہ ہوتے ہوئے بھی فوراَ استعفی دے دیتا ہے کیونکہ وہ اپنی محبوبہ کو بدنام نہیں دیکھنا چاہتا۔ ایسے مقامات پر قاری کا دل چاہتا ہے کہ ابن انشا کو پکارے اور کہے، سب مایا ہے۔

سانس اکھڑتے کردار آفتاب کو اگر یہاں روایتی سادگی کی شک کا فائدہ دے کر بری بھی کر دیا جائے تو بھی بادی النظر میں اسے مکمل بری الذمہ نہیں کیا جا سکتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ناول کے بڑے موضوعاتی تناظر میں چونکہ آفتاب اقبال ’سچائی کے مختلف تناظر‘ واضح کرنے کے مقام پر فائز ہے اور وہ جب فلسفہ پر گفتگو کرتا ہے تو اپنا پیغام بہت واضح انداز میں پہنچاتا ہے اس لئے اس سے ایسی کلیشیڈ گفتگو کی توقع نہیں ہوتی۔ اس کردار سے ناول نگار نے جہاں سچائی کا تناظر واضح کرنے کا کام لیا ہے وہاں اس کے کاندھوں پر کہانی کی المیہ جہت کی ذمہ داری بھی ڈال دی ہے۔

چونکہ اس کی ماں احمدی ہے اس لئے سلمی نے اس سے قطع تعلق کر لیا ہے اور اسے اپنی نوکری سے بھی ہاتھ دھونے پڑے۔ یہاں تک کہ ایک دن اسے بھاگ کر کہیں اور پناہ لینی پڑی۔ ادھر صورت حال یوں ہے کہ ہمارے سماج میں موجود اقلیت کے المیوں میں سے یہ ایک اہم المیہ ہے، تاہم اسے فکشن میں سمو کر کہانی کی المیہ جہت واضح کرنے کے لئے یہ واقعہ بہت ضمنی اور چھوٹا ہے۔ ہمارے سماج میں مرد و عورت کے اس نوعیت کے تعلق کی پاداش میں دونوں فریقین کے قتل کے المیے موجود ہیں۔

اس سماج میں اقلیتیوں کے گھروں کو جلانے جیسے واقعات ہوئے ہیں۔ ہماری اس تہذیب نے تو تقسیم جتنا بڑا المیہ دیکھا ہے جہاں لاکھوں انسان محض چہرے کی رنگت اور لباس دیکھ کر قتلکیے گئے۔ ایسے میں آفتاب اقبال کا واقعہ گو اہم ہے، گو افسوس ناک ہے، گو قابل مذمت ہے مگر ان اعترافات کے باوجود کہنے دیجیے کہ یہ واقعہ کہانی میں لارجر سطح پر المیہ تخلیق کرنے میں ناکام رہا۔

اس کہانی کا تیسرا کردار ارشمیدس ہے۔ ار شمیدس جاوید اقبال کا پالتو کچھوا ہے جو ایک پانچ فٹ کے پنجرے میں اس کے فلیٹ میں بند ہے۔ جدید ڈکشن کو اپناتے ہوئے کاشف رضا نے یہاں وہ تیکنیک استعمال کی ہے جس میں کہانی کا ہر کردار اپنی کہانی خود بیان کرتا ہے۔ کچھوا بھی اپنی کہانی خود بیان کر رہا ہے۔ اس کی جدید مثالیں جیمز جوائس کے ناول ”یولیسیز“ اور اورحان پاموک کے ناول ”مائی نیم از ریڈ“ اور مرزا اطہر بیگ کے ناول ”حسن کی صورت حال، خالی جگہیں پر کریں“ جیسے ناول ہیں۔

بلکہ قرین قیاس ہے کہ جدید ادب کے ساتھ ساتھ کاشف رضا نے مرزا اطہر بیگ سے بھی کوئی تاثر لیا ہوا ہے۔ اس باب کے آغاز میں وہ فرماتے ہیں، ”میرے چاروں مرکزی کردار اپنے بارے میں جو کچھ بتانا چاہتے ہیں، اس سے ان کی کہانی پوری طرح سمجھی نہیں جا سکتی۔ اسی لئے میں نے ان کی کہانی میں بطور راوی بہت جگہوں پر خالی جگہیں پر کی ہیں“۔ بالکل یہی کام مرزا صاحب نے حسن کی صورتحال میں کیا ہے۔ انہوں نے حسن کی صورت حال میں کئی خالی جگہوں پر بطور مدیر حیرت مداخلت کرتے ہوئے خالی جگہیں پر کرنے کی کوشش کی ہے یا اس کی دعوت دی ہے۔ حتی کہ ناول کے نام کا حصہ ہی خالی جگہیں پر کریں رکھا۔ ایک اور حسین اتفاق شاید یہ بھی ہے کہ حسن کی صورت حال میں بھی حسن کو ایک کھچوا پھول بیچنے والے کی دکان پر نظر آتا ہے جس کے بارے میں حسن کئی کہانیاں تخلیق کر کے خالی جگہیں پر کرتا ہے۔ کاشف کے اس باب کا کردار بھی کچھوا ہی ہے۔

بطور قاری یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہاں ناول نگار نے کچھوے سے دو کام لئے ہیں۔ ایک تو کچھوے کی موجودگی علامتی ہے۔ کچھوے نے اپنی موجود شکل میں کئی صدیوں سے ارتقا قبول نہیں کیا اس لئے اسے صدیوں کے عظیم گواہ کی علامتی حیثیت حاصل ہو جاتی ہے۔ اس کا اعتراف خود ناول نگار نے بھی اسی پیرائے میں کیا ہے۔ دوسرا یہ کہ چونکہ ناول کا بڑا موضوع جنس بھی ہے سو ناول نگار نے جب کچھوے کے زبانی مرد اور عورت کے جنسی معاملات پر کلام کیا ہے تو گویا اس علامت کے طور کیا ہے کہ وہ ان تعلقات کے صدیوں کا گواہ ہے اس لئے جانتا ہے کہ مرد اور عورت کے تعلق کی نوعیت کیا ہوتی ہے۔ اس لئے وہ کچھوا اکثر اوقات ایسے موضوعات پرخطیانہ اور بہت حد تک تمسخرانہ گفتگو کرتاہے۔ گویا جنس کے موضوع پر لکھتے ہوئے کسی حد تک ناول نگار نے اپنے حتمی نظریات یا اپنا پرسپیکٹیو بیان کرنے کے لئے کچھوے کی علامت کا سہارا لیا ہے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

کیا کچھوا اپنے مقام سے انصاف کر پایا ہے؟ آئیے کچھوے کے چند بیانات پر نظر ڈالتے ہیں۔ ”جب میں مرئی وجود رکھتا تھا تو چاہتا تھا کہ جب میں کسی سے بات کر رہا ہوتا ہوں تو اس دوران میرا مخاطب مجھے نہ دیکھے۔ میں ان سے باتیں کرتے ہوئے ان کے جسم کے انتہائی دلچسپ حصوں کو دیکھنا اور دیکھتے رہنا چاہتا تھا، کیونکہ ان کے اجسام مجھے ان سے متعلق اس سے کہین زیادہ بتاتے تھے جو وہ مجھے اپنے منہ سے بتا سکتے تھے۔ عورتوں کے لباس میں چھوٹے چھوٹے رخنے ہوتے ہیں جو ان کے چلنے پھرنے، اٹھنے بیٹھنے کے دوران کبھی فراخ ہو جاتے اور کبھی تنگ۔

 یہی میرا رزق تھا اور میں بس اسی پر قانع۔ لیکن لوگوں خصوصاً عورتوں کو جلد ہی میری دیدہ وری کا پتا چل جاتا اور وہ مجھ سے محتاط رہنے لگتیں۔ اپنے سبجیکٹ کے اس سمٹاؤ سے میں بہت تنگ تھا اور چاہتا تھا کہ میرے انہیں دیکھنے کے دوران وہ مجھے نہ دیکھیں۔ بالآخر کامیابی ملی اور میں بصری حقیقت سے معدوم ہو گیا“۔ ایک اور بیان دیکھ لیجیے، ”یہ میں ہوں جو انسانوں کی ناف کے نیچے کینچلی بنا کر سویا رہتا ہوں۔ اور جب جاوید کسی لڑکی سے یا کسی عورت سے باتیں کر رہا ہوتا ہے تو مجھے معلوم ہوتا ہے کہ مجھے کب سر اٹھا کر اس لڑکی یا اس عورت کو سراہنا ہے۔

 میں ہوں وہ بیرو میٹر جو جاوید اقبال کی یا کسی بھی اور مرد کی، عورت کے لئے پسندیدگی کی اصل پیمائش کر سکتا ہے۔ میں کبھی اس عورت کی مسکراہٹ کو دیکھتا ہوں، کبھی اس کے ہونٹوں کو۔ یہ میں ہوں جو سوچتا ہوں کہ اس عورت کے چہرے پر کس جگہ کا بوسہ لینا مناسب رہے گا۔ یہ میں ہوں جو عورتوں کی ہڈیوں کی مضبوطی دیکھ کر انہیں کڑکڑانے کی تمنا کرتا ہوں۔ ان کی گولائیوں کو دیکھنے کے لئے اپنا سر اٹھاتا ہوں اور اٹھائے ہی چلا جاتا ہوں۔

 یہ میں ہوں جو ان کے دوپٹوں میں داخل ہوتا، چادروں میں گھس جاتا، لباس کے مہین سے مہین رخنے سے اپنی خوراک حاصل کرتا، ان کے پنڈلیوں کے بال دیکھتا، ان کی ملائمت یا سختی کا ندازہ لگاتا، ان کے ننگے بازؤں پر ہاتھ پھیرتا، ان کی گدی سے اٹھنے والی مہک سے سانسیں بھرتا، ان کے گدیلے کولہوں پر سے اپنی ہتھیلی پھیرتا چلا جاتا ہوں“۔

دیکھیے یہاں کھچوا کیا کر رہا ہے؟ یہ ایک علامتی بیان ہے۔ تین چار امکانات ہو سکتے ہیں۔ کچھوا اپنا تناظر بیان کر رہا ہے۔ کچھوا جاوید اقبال کا تناظر بیان کر رہا ہے، کچھوا روایت میں انسانی تعلق کے صدیوں کے گواہ ہونے کی بنا پر انسان کا عمومی تناظر بیان کر رہا ہے۔ یا کھچوا تینوں تناظر ایک ساتھ بیان کر رہا ہے۔ آپ جس بھی تناظر کو درست قرار دیں، حقیقت یہی ہے کہ کچھوا جنس کے پیچیدہ موضوع کے ایک رخ یعنی بائنیری تناظر، یا دوسرے الفاظ میں مرد و عورت کے باہمی تعلق کے تناظر سے بھی کہیں بہت پرے صرف وہ تناظر دکھانے کی کوشش کر رہا ہے جس پر جاوید اقبال کاربند ہے۔

 جاوید اقبال تو پھر بھی اسے محبت قرار دیتا ہے۔ یہاں تو خالص خود لذتی کشید کرنے کا تناظر ہے۔ یہاں جنس کے کلی موضوعیت پر گواہی کی بجائے کچھوا جنسی عمل کا گواہ زیادہ محسوس ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ کھچوے کی علامت کا ایک تناظر مردانہ جنسی عضو کا بھی بنتا ہے۔ تاہم اس کے لئے زیر ناف کینچلی بنانے کی اصطلاح درست نہیں۔ کچھوا کینچلی نہیں بناتا۔ یہ خصوصیت سانپ سے متعلق ہے۔

ناول میں جنسی عمل کے کچھ مناظر موجود ہیں جن کی زبان راوی نے ایسی رکھی ہے کہ شرمیلے قارئین سہولت سے پڑھ سکیں۔ ایسے میں جگہ جگہ کھچوا ان مناظر کو دوبارہ اس تمسخرانہ اور بے باکانہ انداز میں بیان کر دیتا ہے جن میں غیر شرمیلے قارئین کے ذوق کا بھی سامان موجود ہوتا ہے۔ بطور قاری میرا خیال ہے کہ کوئی بھی کہانی کار جب ٹیبو موضوعات کو زیر بحث لاتا ہے تو اسے اصطلاحات زمانی ہی استعمال کرنی چائیں۔ اگر بطور کہانی کار یا لکھاری آپ کسی ٹیبو کو چیلنچ کرنا چاہتے ہیں تو پھر اس میں شرمیلے قارئین کی سہولت یا متقی احباب کے ذوق کا باہم اہتمام ممکن نہیں رہتا۔ دھکے مار، کتے زور سے مار، وہ بہہ چکا جیسی اصطلاحات سے تحریر میں زیادہ شہوت انگیزی کا تاثر غالب رہا۔ اس سے کہیں بہتر ہوتا کہ موضوع سے راست تعلق رکھتے ہوئے جنسی عمل یا سیکس جیسی مروج زمانی اصطلاحات اختیار کی جاتیں تاکہ قاری ناول کے بڑے موضوع جنس پر غور و خوض کرتا۔

بالا اس کہانی کا تیسرا درویش ہے۔ بالے کے باب میں ناول نگار نے کہانیت کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا ہے۔ بالا کہانی کا ایک ایسا کردار ہے جس کی کہانی سنتے ہوئے قاری کی پوری توجہ کہانی پر ہی مرکوز رہتی ہے۔ قاری تحریر سے گنجلک فلسفیانہ، نفسیاتی مباحث و نتائج کشید کرنے کی بجائے صرف کہانی کی بنت پر غور کرتا جاتا ہے۔ بالا، اقبال محمد خاں کی ناجائز اولاد ہے۔ یعنی جاوید اقبال اور آفتاب اقبال کا ناجائز بھائی ہے۔ اپنے گرد و پیش کی دنیا میں نفرت وصول کرنے کے نتیجے میں باغیانہ رویوں کا عادی ہو جاتا اور بچپن میں ہی غیرت کے نام پر قتل کرتا ہے۔ فرار ہونے کے بعد جہادیوں میں پناہ لیتا ہے اور بالآخر ایک خود کش بن جاتا ہے۔

بالے کے باب میں البتہ ناول نگار نے ایک مقام پر ایسا کلام کیا ہے جس کا تاثر عمومی ہوتا نظر آ رہا ہے۔ بالا ایک ناجائز اولاد ہے۔ وہ ایک قاتل ہے۔ اب وہ جہادیوں کے ہاتھ لگ کر دین کی سربلندی جیسے معاملات سے اپنی روزی روٹی چلا رہا ہے۔ اس کو جس ٹریننگ کیمپ میں بھیجا جاتا ہے وہاں کیمپ کا کمانڈر قاری حسین ہے۔ ان کم عمر ”مجاہدین“ کی تربیت اب ایسے خطوط پر کی جاتی ہے کہ وہ خدا کی مرضی کو قاری حسین کی مرضی سمجھ لیں۔

 قاری حسین کے ہر حکم کو خدا کی مرضی سے متعلق کریں۔ اس تمام عمل سے گزرنے کے بعد یہ مجاہد آخری مجاہدے کے طور پر قاری حسین کے ساتھ تربیت کے لئے شب بسری کرتے ہیں۔ اس واقعہ کا ذکر راوی یعنی ناول نگار ایسے الفاظ میں کرتا ہے جن کو شرمیلے قارئین سہولت کے ساتھ پڑھ سکتے۔ وہ لکھتے ہیں، ”دو ہفتے میں اسے امتحان میں پاس قرار دے دیا گیا اور اسے مزید دو ہفتے بعد اوراد و وظائف کے لئے غار میں قاری حسین کے ساتھ شب بسری کا موقع ملا، لیکن اس سے پہلے اسے اور دوسروں لڑکوں کو استاذ عبدالقدیر کے درس سے گزرنا پڑا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

 دہشت گردی کی انڈسٹری میں اس عمل کے وجود سے انکار ممکن نہیں ہے۔ تاہم اس عمل کا تعلق یوں عمومیت کے ساتھ سماج کے کسی بھی گروہ سے جوڑنا درست نہیں ہے۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے کسی ہاسٹل کا وارڈن، کسی سکول کا استاد، کسی مدرسے کا استاد یا کسی جہادی تنظیم کا استاد اپنے شاگردوں کے جنسی استحصال میں ملوث ہو سکتا ہے۔ بات اگر یہاں تک محدود رہتی تو نظر انداز کی جا سکتی تھی۔ معاملہ مگر ذرا اور بھی دراز ہے۔ اس واقعہ کے ظہور پذیر ہونے سے بہت پہلے کچھوا اس عمل کو اپنے انداز میں راوی سے پہلے ہی نہ صرف اردو بلکہ انگریزی میں بھی دو متصل ابواب میں بہت برے اور کراہت آمیز اندازمیں بیان کرتا ہے۔

میں اس بیان کے اقتباسات لکھنے سے معذرت کا اظہار کرتا ہوں۔ بطور قاری میں سمجھتا ہوں کہ اگر ایک کہانی کار خود کو معاشرتی گھٹن سے آزاد کرتے ہوئے اورایک بے لاگ نقاد تصور کرتے ہوئے، ایسے عمل پر کھلے انداز میں تبرا کرنا چاہتے ہیں تو اسے ضرور کرنا چاہیے تاہم ایک ادبی تحریر میں ایسی کراہت آمیزی کو جگہ دینے سے کہانی میں ایک برے ذائقے کا ا ضافہ ہوا ہے۔ کہانی کار اکثر اخلاقی قدروں پر بھی سوال اٹھاتے ہیں اور سوال اٹھانے میں تو وہ حق بجانب بھی ہیں اس کے باجود ہر کہانی کار یا تخلیق اپنے لئے خود کچھ اخلاقی اقدار متعین کرتا ہے۔

اس کہانی میں بھی کہانی نویس نے جنسی عمل کے لئے مروج اصطلاحات کی بجائے کچھ اور اصطلاحات استعمال کیں ہیں جن کا بیان اوپر ہو چکا ہے۔ پھر کہانی کے عمومی منظر نامے سے متعلق رہتے ہوئے صرف راوی کا سادہ بیان اس واقعہ کے بیان کے لئے کافی ہونا چاہیے تھا اور کہانی کو یوں برے ذائقے سے آلودہ نہیں کرنا چاہیے تھا۔

کہانی کا چوتھا درویش تحصیلدار اقبال محمد خاں ہے۔ یہ پہلے تینوں درویشوں کا باپ ہے، جن میں سے جاوید اقبال اور آفتاب اقبال ان کے جائز اور بالا ناجائز اولاد ہے۔ اس باب میں بھی ناول نگار نے ناول کے دونوں موضوعات سے زیادہ کہانیت پر توجہ مرکوز کر رکھی ہے۔ گو بالے کے باب کے مقابلے میں یہاں اقبال محمد خاں کا کردار جنس سے بہت متعلق ہے مگر کہانیت حاوی ہے۔

اقبال محمد خاں کا پہلا تعارف ہمیں ان کا بیٹا آفتاب اقبال شروع میں کراتا ہے۔ آفتاب بہت ابتدا میں ہمیں بتاتا ہے کہ اقبال محمد خاں کے پاس کتابوں کا ایک اچھا ذخیرہ تھا۔ ان میں اقبال محمد خاں کی ڈائریاں بھی شامل تھیں۔ آفتاب اقبال کی والدہ نے اپنے شوہر سے اس وقت علیحدگی اختیار کی جب آفتاب ابھی کم عمر تھا۔ اس لئے آفتاب اپنے والد کی شخصیت سے پوری طرح واقف نہیں ہے۔ وہ اپنے والد کی ڈائریوں سے ان کی شخصیت کا اندازہ لگانا چاہتے ہیں۔

 وہ بتاتے ہیں کہ خواتین کی تفصیلات کے اور دیگر رطب و یابس کے علاوہ اقبال محمد خان کی ڈائریوں میں آثار قدیمہ سے متعلق بہت مواد موجودہے۔ وہ آثار قدیمہ میں دلچسپی رکھتے تھے اور اس شہر کی کھوج میں تھے جو سکندر اعظم نے دریائے جہلم کے کنارے آباد کیا تھا۔ وہ اپنی ان دریافتوں کا احوال اپنی زندگی کے احوال کے ساتھ ڈائریوں میں لکھتے تھے۔ آثار قدیمہ سے ان کی دلچسپی کا ذکر آفتاب نے دو تین مختلف مقامات پر کیا ہے۔

اس سے پہلے مگر ایک اور واقعہ سن لیجیے۔ ایک معاصر سیاسی و ادبی شخصیت پر ایک صحافی نے ان کی برسی کے موقع پر ایک تحریر لکھی جس کا عنوان تھا ”شیخ صاحب کی قید و بند کی صعوبتیں“۔ ان کا پہلا جملہ یوں تھا کہ شیخ صاحب نے اپنے نظریات کی پاداش میں قید و بند کی بہت صعوبتیں برداشت کیں۔ اس کے بعد انہوں نے شیخ صاحب کی تعلیم، ان کی سیاست، ان نظریات پر طویل روشنی ڈال کر کالم کا اختتام کر دیا تھا۔ وہ عموماَ اپنے کالم دوستوں کو وٹس ایپ بھی کرتے ہیں۔

ہمارے ایک کرم فرما ان کے دوستوں میں ہیں۔ انہوں نے یہ کالم پڑھا تو ان کو جواباَ لکھا کہ حضور والا آپ کا کالم پڑھا۔ خوب لکھا تھا۔ عرض صرف یہ کرنا مقصود تھا کہ عنوان کی تفصیل کالم میں دستیاب نہ تھی۔ کیا شیخ صاحب کے دیگر کارناموں کو قید و بند کی صعوبتیں سمجھ لیا جائے؟ ایسے ہی آفتاب اقبال تو شروع میں بتا دیتے ہیں کہ ان کے والد کی آثار قدیمہ سے بہت دلچسپی تھی اور انہیں سکندر اعظم کے بسائے گئے شہر کی بھی تلاش تھی۔

 مشکل مگر یہ ہے کہ جب خود اقبال محمد خاں کا باب تمام ہوتا ہے تو قاری کو احساس ہوتا ہے کہ تحصیلداری، نظر بازی، شکار، محبتیں، لوگوں کی تفصیل مثلوں سے نکالنے کے علاوہ اقبال محمد خاں آثار قدیمہ میں کس وقت دلچسپی لیتے تھے؟ ان کا باب آثار قدیمہ جیسی دلچسپی کے ذکر سے یکسر خالی ہے۔ ایک زیرک ناول نگار سے ایسی غلطی کیونکر ہو سکتی ہے؟

جہاں تک اقبال محمد خاں کا ناول کے موضوعات سے تعلق ہے تو اقبال محمد خاں کم و بیش ویسے ہی شخص ہیں جیسے ان کے بیٹے جاوید اقبال ہیں۔ کہانی کے بڑے کینوس سے ان کا تعلق کم و بیش اسی تناظر میں ہے جن میں جاوید اقبال کا ہے۔ ان کی دلچسپی بھی عورت ہی تھی۔ تاہم جاوید اقبال کے برعکس وہ اس دور کے نمائندہ تھے جب جنس کے ساتھ اولاد کا تصور بھی ملحق تھا۔ انہوں نے ایک پولیس والے کی بیوی کے ساتھ ایک ناجائز بچہ جن دیا تھا جس کا انہیں کوئی افسوس نہیں تھا۔

 بطور کردار اقبال محمد خاں کو جیسے جزیات نوٹ کرنے کی عادت تھی، اس سے توقع تھی کہ وہ اپنے اس عمل کا جائزہ بھی لیتا۔ دوصورتیں ممکن تھیں، یا تو اسے شرمندگی ہوتی کہ جو کام کیا ہے وہ درست نہیں تھا یا اسے ڈٹ کر کہنا چاہیے تھا کہ میں محبت پر یقین رکھنے والا شخص ہوں اور یہ میری محبت کی نشانی ہے جس کے جائز ہونے کے لئے میں کسی جنتر یا سماجی رشتے پر یقین نہیں رکھتا۔ مگر انہوں نے دونوں کام کرنے کی بجائے ابارشن کا ارادہ اس سماجی امیج کے خوف سے کر لیا تھا جو ان کی ساکھ برباد کر سکتی تھی۔ گویا جنس کا پیچیدہ سوال یہاں بھی صرف بائنریز سے ہی متعلق رہا جس کا تناظر خالص پرانا اور روایتی تھا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

کہانی میں ایک اور ضمنی کردار صادق عرف ککی کا بھی ہے۔ ککی بھائی زرینہ کے شوہر ہیں۔ ان کی خصوصیت خواب دیکھنے کی ہے۔ ان کے کئی خواب جو تمثیلی زبان میں ہوتے ہیں مگر عملی سطح پر مکمل حقیقت میں ڈھلتے ہیں۔ یہ کیسے ہوا؟ ایسا کیونکر ممکن ہے جب کہانی میں سرے سے کوئی فینٹاسائزڈ ماورائیت موجود ہی نہیں ہے۔ راوی نے خوابوں کے یوں حقیقت میں ڈھل جانے پر کوئی بھی تبصرہ نہیں کیا جو ان خوابوں کی توجیہ کر سکے۔

میری کاشف رضا سے ذاتی شناسائی نہیں ہے۔ کاشف رضا سے میری کل واقفیت ان کے اسی ناول کے توسط سے ہے۔ میں نے اس ناول کا ذکر فیس بک پر سنا تھا۔ کہیں ایک آدھ جملہ یوں بھی نظر سے گزرا کہ اردو زبان میں ناول میں جنس پر لکھے جانے والے ناولوں میں کاشف رضا کا ناول سب سے بڑا ناول ہے۔ کتاب کیسے حاصل کی، یہ تفصیل بیان ہو چکی ہے۔ طبیعت کی سست روی کا یہ عالم ہے کہ کتاب کئی دن گاڑی کی پچھلی سیٹ پر پڑی رہی۔ ایک دن اپنی روایتی منظر بینی کے سفر پر ابوبکر نے پوچھا کہ کیا آپ نے یہ ناول پڑھ لیا؟

 تب مجھے یاد آیا کہ ایک کام تو زندگی میں کرنے کا یہ بھی رہتا ہے۔ حق تجھے میری طرح صاحب پیکار کرے۔ سو حق کی جستجو میں تین دن پہلے ناول کا آغاز کر ڈالا۔ میری خوش قسمتی سمجھ لیجیے کہ کسی ادبی سوسائٹی کے ساتھ براہ راست تعلق سے محرومی کے ساتھ ساتھ کسی اعزازی ممبر سازی سے بھی محروم ہوں سو کوئی تعلق بار خاطر نہیں ہے اور کسی بھی جانبداری سے بری الذمہ ہوں۔

میں نے پوری دیانتداری سے اس ناول کو ایک قاری کی نظر سے پرکھا ہے۔ کاشف رضا کے موضوع میں جدت ہے۔ انہوں کہانی کی بنت اور بیان کو جدید طرز میں بیان کیا ہے۔ ان کا ناول کم ازکم اتنا دلچسپ ضرور ہے کہ فکشن کا ایک عمومی قاری ناول خرید کر نہ صرف توجہ سے پڑھتا ہے بلکہ اس کے نوٹس لے کر پڑھنے کے دوران ہی یہ طے کرتا ہے کہ مجھے اس ناول کا ریویو لکھنا ہے۔ یوں قریباً سات ہزار الفاظ کی طویل تحریر لکھتا ہے۔ کسی طویل کہانی کا ریویو لکھنا بالذات ایک نہایت کٹھن اور اذیت ناک کام ہے۔

اور جدید ناول میں کہانی کی جہتیں اتنی متنوع موضوعات لئے ہوتی ہیں کہ ہر موضوع پر کلام ممکن نہیں رہتا۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ کسی کالم یا کہانی سے اس لئے بھی زیادہ مشقت آمیز ہے کہ اس میں پڑھنے کے ساتھ جزیات اور باریکیوں کے نوٹس رکھنے پڑتے ہیں۔ کہانی پوری توجہ اور یکسوئی مانگتی ہے۔ اس کے بعد ریویو لکھنے کا عمل بہت تھکا دینے والا ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں ایک تو بدقسمتی سے فرمائشی ریویوز کا چلن عام ہے اور پھر وہ ریویوز عموماَ غیر ادبی پیرائے میں ہوتی ہیں جو ایک کالم کی شکل میں سپرد قلم کی جاتی ہیں جہاں چند کرداروں اور پلاٹ کے بارے میں عمومی تحسین سے مزین خوبصورت جملے لکھے جاتے ہیں اور یوں ریویو کا قرض اتر جاتا ہے۔

میرے خیال میں یہ ریویو پڑھنے والے قارئین اور مصنف دونوں کے ساتھ زیادتی ہے۔ میرا اپنا ماننا ہے کہ کسی کتاب خصوصاَ ایک ناول کا ریویو، کہانی کی گہرائی میں اتر کر ایک ایک کردار کے ساتھ چل کر اسے محسوس کر کے، اس کے پیغام کو سمجھ کر لکھنا چاہیے۔ اس لئے طوالت لازم ہو جاتی ہے۔ عمومی طور پر میرا اس ناول کے بارے میں تاثر یہ ہے کہ اس نے دو بڑے کائناتی موضوعات کو زیر بحث بنایا ہے تاہم ناول نگار اتنے بڑے موضوعات کے ساتھ اتنے ہی وسیع کینوس پر انصاف نہیں کر پایا۔ یوں میں اس ناول کو دلچسپ اور پڑھنے سے تعلق رکھنے والا ناول تو ضرور قرار دیتا ہوں مگر میں اسے کوئی بڑا ناول تسلیم کرنے میں ابہام کا شکار ہوں۔