انڈیا پاکستان کشیدگی سے فضائی کمپنیاں کیوں پریشان؟

طاہر عمران - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 10
  •  
  •  

اس سال فروی میں پلوامہ کے مقام پر انڈین نیم فوجی دستے پر خود کش حملے اور اس کے بعد دونوں ملکوں کی جانب سے ایک دوسرے خلاف جارحیت کے مظاہرے کے بعد پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشیدگی کا سب سے زیادہ نقصان بین الاقوامی ہوابازی کی صنعت کو پہنچا ہے۔

اس نقصان کی بنیادی وجہ پاکستان کی جانب سے اپنی فضائی حدود کو پروازوں کے لیے بند کرنا ہے اور پھر جب جزوی طور پر فضائی حدود کو کھولا بھی گیا تو بھی انڈیا کی سرحد کے ساتھ کی فضائی حدود اس میں شامل نہیں تھی۔

اس کے نتیجے میں مغرب سے مشرق اور مشرق سے مغرب جانے والے دنیا کی پروازوں کا ایک بڑا حصہ متاثر ہو رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں جہاں فضائی کمپنیوں کے اخراجات بڑھ گئے ہیں وہیں پروازوں کا دورانیہ بھی بڑھا ہے اور کئی پروازیں جو نان سٹاپ تھیں اب انہیں ایندھن کے لیے رکنا پڑتا ہے جس کے اخراجات علاوہ ہیں۔

اس بندش سے سب سے زیادہ متاثر پاکستان کے ہمسایہ ممالک ہو رہے ہیں جن کی مختصر دورانیے کی پروازوں کو اب ایک طویل راستے سے گزر کر جانا ہوتا ہے مگر مشرق بعید، یورپ اور امریکہ کی پروازوں پر بھی اس کے شدید اثرات ہیں۔

مزید پڑھیے

انڈین فضائیہ: کراچی سے اڑنے والا طیارہ جے پور اتار لیا گیا

پاکستان: چھ ہوائی اڈے پروازوں کے لیے فعال

فضائی حدود پر معاہدہ کیا کہتا ہے؟

اس حوالے سے ہم اپنے قارئین کو آگاہ کریں گے کہ فضائی حدود کی پابندی کی باعث حالات اب کس نہج پر پہنچ چکے ہیں۔

https://twitter.com/PKAviation/status/1108315494459863046

صورتحال اب تک ہے کیا؟

اس وقت پاکستان کی مشرقی اور انڈیا کی مغربی سرحد کے اوپر سے پروازوں کو گزرنے کی اجازت نہیں ہے۔ اس کی وجہ سے دنیا بھر سے آنے والے پروازیں اس سرحد سے ہٹ کر گزرتی ہیں۔

پاکستانی حکومت نے اب تک اس بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا اور سول ایوی ایشن اتھارٹی کا کہنا ہے کہ وہ حکومت کی جانب سے احکامات پر عمل درآمد کرتے ہیں اور جو حکومت فیصلہ کرے گی اس پر عمل در آمد کیا جائے گا۔

اس مقصد کے لیے قومی سطح کی ایک کمیٹی ہے جس میں مسلح افواج اور سول ایوی ایشن کے حکام بیٹھتے ہیں جو گاہے بگاہے اس بات کا جائزہ لیتے ہیں۔ البتہ حکومت اس بارے میں کیا سوچ رہی ہے، اس بارے میں ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

اس وقت پاکستان کی فضائی حدود استعمال کر کے کوئی بھی پرواز مغربی سرحد سے مشرقی سرحد اور مشرقی سرحد سے مغربی سرحد کی جانب نہیں جا سکتی۔ یعنی اگر کابل سے دہلی پرواز چلانی ہے تو اسے ایران سے ہوکر بحیرہ عرب کے اوپر سے گزر کر دہلی کا راستہ لینا ہو گا۔

پاکستان آنے والی پروازیں یا پاکستان کے اوپر سے گزر کر چین، کوریا اور جاپان جانے والی پروازیں پاکستان کی فضائی حدود استعمال کر سکتی ہیں اور مشرقی سرحد سے بچتے ہوئے پاکستان کے اوپر سے گزر کر چین جاتی ہیں۔

سوال ایوی ایشن پر اس بندش کا کیا اثر پڑا ہے؟

پاکستان کے اوپر سے فضائی حدود کی بندش کی وجہ سے سول ایوی ایشن اتھارٹی کو کم ازکم 12 ارب روپے سے لے کر 15 ارب روپے تک کا نقصان ہونے کا اندیشہ ہے۔

لیکن اگر دوسرے تمام نقصانات کا تخمینہ لگایا جائے تو کل ملا کر اس ساری صورتحال سے سول ایوی ایشن کا نقصان 20 ارب تک پہنچ سکتا ہے۔

یاد رہے کہ سول ایوی ایشن اتھارٹی کی کل آمدنی 60 سے 70 ارب روپے کے درمیان ہے جس کا اندازاً 30 سے 35 فیصد حصہ مختلف بین الاقوامی فضائی کمپنیوں کی جانب سے فضائی حدود کے استعمال کے کرائے کے طور پر حاصل کیا جاتا ہے۔

اسی طرح پاکستان کے مشرق میں سفر کرنے والے مسافروں کے لیے بھی مشکلات کافی بڑھ چکی ہے۔ پاکستان سے مشرق بعید اور آسٹریلیا جانے والے اکثر مسافر تھائی ائیرویز کی پروازوں سے سفر کرتے تھے مگر انھوں نے آج کل اپنی پروازیں بند کی ہوئی ہیں۔

اسی طرح پی آئی اے کی کوالالمپور اور حال ہی میں لاہور سے شروع کی گئی بنکاک کی پروازیں بھی بند ہیں۔

کوالالمپور سے لاہور کے لیے سستے ٹکٹ فراہم کرنے والی ملائشیا کی ایک نجی فضائی کمپنی مالنڈو ایئر کی پروازیں بھی بند ہیں اور اس پرٹکٹ بک کرنے والے مسافر شدید متاثر ہوئے ہیں۔

پروازیں معطل ہونے کے بعد ایئرلائن نے ان مسافروں کو پیسے واپس کرنے کے بجائے واؤچر فراہم کیے جو اسی ایئرلائن کی مختلف پروازوں کے لیے استعمال کئے جاسکتے ہیں مگر یہ پاکستان آنے کے لیے کسی کام کے نہیں کیونکہ پاکستان کے لیے مالنڈو کی پروازیں بند ہیں۔

ہانگ کانگ کی ایئر لائن کیتھے پیسفک پاکستان کے لیے پروازیں شروع کرنے والی ہے مگر موجودہ صورتحال کی وجہ سے اب ایسا ہوتا مشکل نظر آرہا ہے۔

پرواز

Getty Images
فروری میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی کے باعث پاکستان کی فضائی حدود بند ہوگئی تھی جس کے بعد سے تھائی ائیرویز کی پاکستان کے لیے پروازیں معطل ہیں

متاثرین میں اور کون شامل ہے؟

اس بندش سے سے سب سے زیادہ متاثر فضائی کمپنیاں اور مسافر ہیں جن پر اضافی اخراجات کا بوجھ لادا جا رہا ہے۔

لندن سے دہلی یا ممبئی جانے والے مسافر اوسطاً تین سو پاؤنڈ تک اضافی خرچ کر کے اپنی منزل پر پہنچ رہے ہیں اور دہلی کی پرواز کم از کم ڈھائی گھنٹے طویل ہے۔

ورجن اٹلانٹک ایئرلائن پر لندن سے دہلی سفر کرنے والے ایک مسافر نے بی بی سی کو بتایا کہ ‘ہمیں ایک ٹکٹ کم از کم دو سو پاؤنڈ تک مہنگا پڑا مگر سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ کسی نے یہ نہیں بتایا کہ قیمت میں اضافہ ہوا ہے اور یہ کہ پرواز کے دورانیے میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ صرف پرواز کے دوران اعلان کیا گیا کہ پاکستان کی فضائی حدود کی بندش کی وجہ سے پرواز کے دورانیے میں اضافہ ہوا ہے جس پر ایئرلائن معذرت چاہتی ہے۔’

دوسری جانب متاثر ہونے والی بہت سی ایئرلائنز میں وسطی ایشیا، یورپ، امریکہ، مشرق بعید کی ایئرلائنز شامل ہیں۔

جو عالمی پروازوں کے آپریشن پر نظر رکھنے والے او پی ایس گروپ نے عالمی سول ایوی ایشن تنظیموں کے ڈیٹا سے اندازہ لگایا کہ روزانہ کی بنیاد پر 350 پروازیں اس بندش کی وجہ سے متاثر ہو رہی ہیں۔

جہاں پاکستان کی فضائی حدود کے دونوں ریجنز کراچی اور لاہور سمیت کابل کے فلائٹ انفارمیشن ریجن میں پروازوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی وہیں اومان کے ریجن میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

مثال کے طور پر افغانستان کی تمام ایئرلائنز جو انڈیا کے لیے پروازیں چلاتی ہیں ان کی پروازیں یا تو بند کر دی گئی ہیں یا ان کی تعداد میں کمی کی گئی ہے کیونکہ ایک گھنٹے دورانیے کی پرواز اب کم از کم ڈھائی گھنٹے تک کی ہو چکی ہے جس کی وجہ سے نہ صرف اخراجات میں اضافہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں کرائے بڑھا دیے گئے ہیں۔

انڈیا سے یورپ جانے والی پروازوں کے اوسط دورانیے میں 913 کلومیٹر کا اضافہ ہوا ہے جو 22 فیصد کے قریب ہے یعنی تقریباً دو گھنٹے کے قریب ہے۔

اسی طرح سنگاپور ایئرلائنز، برٹش ایئرویز، لفتھانسا، تھائی ایئرویز، ورجن اٹلانٹک، ایئر انڈیا، جیٹ ایئرویز سمیت کئی کمپنیاں اس پابندی سے شدید متاثر ہوئی ہیں۔

مثال کے طور پر لندن سے سنگاپور کی پرواز میں اس روٹ کی تبدیلی کی وجہ سے 451 کلومیٹر کی مسافت کا اضافہ ہوا جبکہ پیرس سے بنکاک کی پرواز میں 410 میل کا اضافہ ہوا ہے۔ کے ایل ایم، لفتھانسا اور تھائی ائیرویز کی پروازیں پہلے سے کم از کم دو گھنٹے زیادہ وقت لے رہی ہیں۔

اس صورتحال سے نمٹے کے لیے جہاں ایئرلائنز نے مختلف طیارے استعمال کیے ہیں وہیں طیاروں پر وزن کے بارے میں قوانین سخت کیے ہیں تاکہ طیارہ دور تک پرواز کر سکے اور ایندھن زیادہ لے جا سکے۔

البتہ یہ اقدامات یورپ سے ایشیا کی جانب پرواز کرنے والے طیاروں کے لیے ہوتا ہے کیونکہ واپسی کے وقت ٹیل ونڈ یا طیارے کی عقبی جانب سے چلنے والا ہوا کی وجہ سے طیارے کو اتنی مشکل کا سامنا نہیں ہوتا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  • 10
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 8447 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp