پاکستان کو اقتصادی میثاق کی کیوں ضرورت؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کے معاملے میں سیاسی جماعتوں نے بارہا بلوغت دکھائی ہے۔ چاہے معاملہ قومی سلامتی، دہشت گردی، انتہا پسندی یا چھوٹے صوبوں میں احساس محرومی کا ہو۔ پیر کو قبائلی علاقوں (فاٹا) کے خیبرپختون خوا میں انضمام کے تاریخی دن پر سیاسی قوتیں ایک صفحہ پر دکھائی دیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں قومی اقتصادیات پر وسیع البنیاد اتفاق رائے پر متفق ہو جائیں۔ کوئی اور نہیں بلکہ وزیراعظم عمران خان ابتدا کریں۔

آئندہ قومی بجٹ سے قبل ملک کی پوری سیاسی قیادت کو مدعو کریں۔ مل بیٹھ کر اقتصادی میثاق طے کیا جائے۔ کیونکہ اقتصادی بدنظمی دہشت گردی کے خلاف جنگ کو متاثر کرے گی۔ جہاں تک کچھ رہنماؤں کے خلاف کرپشن سے متعلق مقدمات کا معاملہ ہے، یہاں قانون کو اپنا راستہ اختیار کرنے دیا جائے۔ جو قصوروار نکلا، اسے سزا ملنی چاہیے۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں ہی نیب قانون میں تبدیلی لانے پر متفق ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر حکومت آئی ایم ایف سے رجوع کرتی اور ہر اپوزیشن اس کی مخالفت کرتی ہے۔

یہی اپوزیشن جب اقتدارمیں آتی ہے تو اس کے ہاتھ میں بھی کشکول ہی ہوتا ہے۔ اس طرح تحریک انصاف کی حکومت بھی مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی حکومتوں سے مختلف نہیں ہے۔ لیکن بعض معاملات ایسے ہیں جن سے سیاسی ترجیحات سے بالاتر ہو کر نمٹنا ہوگا۔ جن سے عام آدمی براہ راست متاثرہوتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ وزیراعظم عمران خان اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کے اقتصادی میثاق کی تجویز کا خیرمقدم کریں، جس میں کوئی مضائقہ بھی نہیں۔

پیرکو 26 ویں آئینی ترمیم کی ایوان زیریں سے منظوری پر وزیراعظم نے تمام سیاسی جماعتوں کا شکریہ ادا کیا ہے۔ اب وقت ہے کہ الزام تراشیوں کی سیاست کو دفن کر دیا جائے۔ تاریخ کو طے کرنے دیں۔ پاکستان کے پاس ماہرین اقتصادیات کی قلت ہے، جو ماہرین بھی دستیاب ہیں انہیں ادھر ادہر کی تفریق کے بغیر مدعو کر کے جامع اقتصادی منصوبہ مرتب اور پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے۔ سیاسی درجہ حرارت بھی نیچے لانے کی ضرورت ہے۔ گزشتہ پیر کی طرح حکومت ان معاملات میں بھی کشیدگی دور کرے۔

عمران خان کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ سیاسی استحکام کے بغیر اقتصادی پائیداری آ سکتی ہے اور نہ ہی دہشت گردی اور انتہا پسندی کے عفریت سے نمٹا جا سکتا ہے۔ دہشت گردی کی تازہ لہر خصوصاً گوادر کا واقعہ پاکستان کی اقتصادی راہ داری پر براہ راست حملہ ہے۔ اسے محض ایک اور واردات تصور کرنا خام خیالی ہوگی۔ اسی طرح ملک کے تجارتی و اقتصادی مرکز کراچی پر بھی تمام سیاسی قومی جماعتوں کو اتفاق رائے پیدا کرنا ہوگا۔ جسے دہائیوں سے نظرانداز کیا جا رہا ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •