شیخ رشید توہین عدالت کیس: عدالت کے ساتھ مذاق کیا تو اڈیالہ جیل تک کمشنر اور ڈی سی ہنستے ہی جائیں گے

وزیر ریلوے شیخ رشید کے خلاف توہین عدالت کیس میں سپریم کورٹ نے حکم عدولی پر کمشنر اور ڈی سی راولپنڈی پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے ،جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے ہیں کہ عدالت کیساتھ مذاق کیا تو اڈیالہ تک دونوں افسران ہنستے ہی جائیں گے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں وزیر ریلوے شیخ رشید کے خلافتوہین عدالت کی سماعت ہوئی، جسٹس عظمت سعید اور جسٹس اعجازالاحسن پر مشتمل بنچ نے سماعت کی۔ سپریم کورٹ حکم عدولی پر کمشنر اورڈی سی راولپنڈی پر برہم ہو گئی۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ کیاعدالتی حکم انگریزی میں پڑھ لیتے ہیں؟ کیوں نہ آپ کوتوہین عدالت کانوٹس دیا جائے۔ دونوں افسر اپنے لئے دوسری نوکری تلاش کریں۔

ڈی سی راولپنڈی نے کہا کہ ہم نے عدالتی فیصلے کی توہین نہیں کی۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ عدالتی حکم کے باوجود دیوار گراد ی، کیا یہ توہین عدالت نہیں؟ ڈپٹی کمشنر راولپنڈی نے کہا کہ دیوار گرانےکا حکم ہم نے نہیں دیا۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ کیا دیوار خود گر گئی یا آندھی نے گرا دی؟ کس کے حکم پر دیوارگرائی گئی؟ اے سی اور ایس ایچ او نے خود دیوار گرانے کی نگرانی کی۔

جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ ڈی سی اور کمشنر شاید عدالت کو مذاق سمجھتے ہیں۔ عدالت کے ساتھ مذاق کیا تو اڈیالہ تک دونوں افسر ہنستے جائیں گے۔ عدالت نے کہا کہ کسی کو خوش کرنے کیلئے عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی گئی۔

واضح رہے کہ منگل کے روز عدالت عظمیٰ نے شیخ رشید کے خلاف توہین عدالت کے مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے ریمارکس دیے تھے کہ کیا پنجاب حکومت قبضہ گروپ بن گئی ہے؟عدالت کا حکمنامہ تھا کہ کوئی قبضہ نہیں کرے گا۔ اس کے باوجود دیواریں گرا دی گئیں اور درخت کاٹ دئیے گئے۔ عدالت عظمیٰ نے کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کو آج طلب کرتے ہوئے ایڈیشنل اٹارنی جنرل پنجاب کو 24 گھنٹے میں ہدایات لینے کا حکم دیا تھا ۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ دیوار گرنے سے گرلز گائیڈ کی عمارت عیاں ہو گئی ہے۔ گرلز گائیڈ کی عمارت میں بچیوں کی سرگرمیاں ہوتی ہیں۔ ایک گھنٹے کے لئے فیتہ کاٹنے جانا تھا اس کے لئے درخت کاٹ دئیے گئے اور دیوار گرا دی گئی۔