جماعت اسلامی کی کامیابی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جماعت اسلامی کے دوسری بار منتخب ہونے والے امیر مولانا سراج الحق اپنی سابقہ اتحادی جماعت تحریک انصاف کی کارکردگی سے بہت مایوس دکھائی دیتے ہیں اور کمال یہ ہے کہ اسی مایوسی میں ان کی امید کی کرن یہ ہے کہ اب عوام کی امیدوں کا مرکز جماعت اسلامی ہوگی۔ خوش اخلاق اور خوش گفتار مولانا سراج الحق کا دعویٰ ہے کہ ملک کو جو چیلنج درپیش ہیں انہیں صرف جماعت اسلامی ہی حل کرسکتی ہے کیونکہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) پہلے ہی عوام کو ریلیف دینے میں ناکام رہے ہیں اور اب پی ٹی آئی کی نو ماہی حکومت بھی مکمل طور پر ناکام دکھائی دیتی ہے۔

مولانا سراج الحق اگرچہ ایک منظم اور مخصوص طبقہ فکر کی جماعت کے سربراہ ہیں اس لئے دیگر رہنماؤں کی طرح ان کا یہ دعویٰ ان کے جذبات کی بھی عکاسی کرتا ہے اور ان کی سیاسی فکر سے بھی پردہ ہٹاتا ہوا دکھائی دیتا ہے مگر سیاسی حقیقت تو یہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت پاناما کے طوفان میں بہہ جانے کے باوجود اب بھی عوام کی مقبول جماعت ہے اور اگر ملک بھر میں صرف مسلم لیگ (ن) اور جماعت اسلامی کے امیدواروں کے درمیان مقابلہ کروایا جائے تو کسی بھی سیٹ پر جماعت اسلامی مقابلہ کرتی ہوئی دکھائی نہیں دیتی۔

اسی طرح پیپلز پارٹی کی قیادت کے خلاف اصلی نوٹوں کے جعلی اکاؤنٹس کا ایک نیٹ ورک مکڑی کے جالے کی طرح پھیلا ہوا نظر آرہا ہے لیکن سندھ کی حد تک اب بھی پیپلز پارٹی ناقابل تسخیر نظر آرہی ہے۔ اس لئے مولانا سراج الحق کی آدھی بات درست ہے کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی عوام کے دکھوں کا علاج کرنے میں ناکام رہے ہیں اور یہ کہ پی ٹی آئی بھی عوام کو کچھ نہیں دے سکی البتہ ان کی یہ بات درست نہیں کے کہ عوام اب جماعت اسلامی کے چاند کو عید کے چاند کی طرح دیکھ رہے ہیں۔

ماضی میں اسٹیبلشمنٹ جماعت اسلامی کو دھرنوں اور احتجاجوں کے لئے بھرپور استعمال کیا کرتی تھی اور اس کے بدلے میں مسلم لیگ (ن) کے ساتھ اس کا فکری اتحاد کروا کر قومی اسمبلی کی چند سیٹیں اور چند وزارتیں دے کر جماعت اسلامی کی ”خدمات“ کا اعتراف کرلیا جاتا تھا۔ یہ بات سب جانتے ہیں کہ جماعت اسلامی وسیع النظر مذہبی جماعت ہونے کے ساتھ ساتھ اسٹیبلشمنٹ کی ہمیشہ سے ”ڈارلنگ“ جماعت رہی ہے۔

ماضی قریب میں خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کے ساتھ جماعت اسلامی کو بٹھایا گیا اور پھر اقتدار میں حصہ بقدر جثّہ بھی دیا گیا اور اس سے پہلے ایم ایم اے کے ذریعے بھی تمام مذہبی جماعتوں کو خیبر پختونخوا میں اقتدار دیا گیا تھا اور مرکز میں اپوزیشن کا طے شدہ کردار بھی دیا گیا تھا۔ اگرچہ ان حقائق کوجماعت اسلامی سمیت دیگر مذہبی جماعتوں کی قیادت تسلیم نہیں کرتی مگر حقائق تو یہی ہیں۔

مولانا سراج الحق کی طرف سے ایڈیٹروں کو دیے گئے افطار ڈنر میں انہوں نے ملک کو درپیش مسائل پر فکر انگیز گفتگو بھی کی ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف سے حکومت کا معاہدہ عوام کو قرضوں اور ٹیکسوں کی سولی پر چڑھانے کا معاہدہ ہے۔ آئی ایم ایف جب پیسے دیتی تو وہ ساتھ میں سود کے ساتھ ساتھ اپنی دیگر شرائط بھی لاگو کردیتی ہے۔ ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ جب میں خیبر پختونخوا حکومت میں وزیر خزانہ تھا تو اس وقت ورلڈ بینک نے ہمیں پانچ ارب روپے کے فنڈز دینے سے انکار کردیا تھا۔

فنڈز کی ادائیگی کے لئے جب اصرار کیا گیا تو ورلڈ بینک کے عہدیداروں نے کہا کہ پشاور میں خواتین کی تصاویر والے بورڈز کونوجوانوں نے کیوں گرایا ہے؟ ورلڈ بینک کے صدر کی طرف سے دو ٹوک الفاظ میں کہا گیا کہ جب تم ہم سے پیسے لیتے ہو تو ہمارا کلچر بھی اختیار کرو۔ مولانا سراج الحق نے کہا کہ آئی ایم ایف سے معاہدہ صرف پیسوں کا لین دین نہیں ہے بلکہ یہ لوگ ہمارے کلچر میں سرائیت بھی کریں گے اور ہماری خارجہ پالیسی پر بھی اثر انداز ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے سابق حکمرانوں اور موجودہ نے بھاری قرضے لئے اور اب ان کا سود بھی بہت بڑھ چکا ہے جس کی ادائیگی بہت مشکل دکھائی دیتی ہے لہٰذا جب ادائیگی نہیں ہوگی تو وہ پہلے ہمارے اداروں پر قبضہ کریں گے مثلاً ایئر پورٹس، موٹر وے، سٹیل ملز وغیرہ پر اپنے بندے بٹھا دیں گے اور آخر میں کہیں گے ایک مقروض قوم ایٹمی پروگرام کو کیسے سنبھال سکتی ہے اور یہ پوری دنیا کے لئے سیکیورٹی رسک ہے لہٰذا اس کے نگران بھی ہمارے بندے ہوں گے اس طرح آئی ایم ایف سے معاہدے رفتہ رفتہ قومی خوداری کو ختم کردیں گے۔

امیر جماعت اسلامی نے یہ بھی کہا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے ادوار میں منتخب لوگوں نے آئی ایم ایف سے معاہدے کیے جبکہ موجودہ حکومت نے غیر منتخب لوگوں کے ذریعے یہ معاہدے کروائے۔ اس طرح سابقہ حکومتوں نے بھی برا کیا مگر موجودہ حکومت نے تو بہت ہی برا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم عید الفطر کے بعد حکومت کے خلاف سڑکوں پر آئینگے مگر مسلم لیگ (ن) یا پیپلز پارٹی کی کسی مہم جوئی کا حصہ نہیں بنیں گے ان کے مسائل اور ہیں جبکہ ہم حقیقی طور پر عوامی مسائل کے حل کے لئے سڑکوں پر آنے کا اردہ رکھتے ہیں۔

مولانا سراج الحق افطار ڈنر میں اردو زبان کے نفاذ پر بہت خوش دکھائی دیے ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ سے ان کی قرارداد کی منظوری کے بعد قائداعظم محمد علی جناح کی روح بھی خوش ہوگئی ہوگی کیونکہ اب اعلیٰ مناصب تک صرف انگلش میڈیم سکولوں والے ہی نہیں پہنچ پائیں گے بلکہ اردو میڈیم والوں کے لئے بھی اب راستے آسان ہوگئے ہیں۔ اردو زبان سے متعلق اظہار خیال کرتے ہوئے مولانا سراج الحق نے استاد محترم جناب ضیاء شاہد کو بھی خراج تحسین پیش کیا انہوں نے کہا کہ سچ یہ ہے کہ اس کام کے لئے مجھے جناب ضیاء شاہد سے ہی ضیاء ملی کیونکہ انہوں نے ایک ملاقات کے دوران اس دکھ کا اظہار کیا تھا کہ میری لائبریری میں اردو کی ہزاروں کتب موجود ہیں لیکن ان سے استفادہ کرنے والوں کی تعداد بہت کم ہے۔

مولانا سراج الحق نے کہا کہ جناب ضیاء شاہد کی اپنی تصانیف بھی نئی نسل کے لئے مشعل راہ ہیں ہمارے نوجوانوں کو ان سے رہنمائی لینی چاہیے اردو زبان کے نفاذ سے اب وہ 65 فیصد بچے جو اردو میڈیم سکولوں میں پڑھتے ہیں وہ بھی سی ایس ایس کے امتحانات میں حصہ لے سکیں گے کیونکہ مقابلے کے امتحان کے لئے اب صرف انگلش لازمی نہیں ہوگی بلکہ نوجوان اردو میں بھی یہ اہم امتحان دے سکتے ہیں انہوں نے دعویٰ کیا کہ اب اردو زبان کو لگے تالے کھل گئے ہیں یہ ایک بڑی کامیابی ہے قوم کی بھی اور جماعت اسلامی کی بھی

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شمشاد مانگٹ

شمشاد مانگٹ گذشہ 25برس سے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ساتھ منسلک ہیں۔اس وقت بطور گروپ ایڈیٹر روزنامہ جناح اور آن لائن نیوز ایجنسی کے ساتھ کام کر رہے ہیں

shamshad-mangat has 46 posts and counting.See all posts by shamshad-mangat