میں چاہتا تھا کہ مجھے دفن کرنے کی بجائے جلا دیا جائے

ستاون سال کی عمر میں جب میں مکمل طورپر چاق و چوبند تھا، توانائی سے بھرپور اور ایک اچھی زندگی گزار رہا تھا کہ مجھ پر انکشاف ہوا کہ مجھے کینسر ہوگیا ہے۔

اس دن کام سے گھر آتے وقت ریڈیو پر خبر تھی کہ جس ہائی وے پر میں جاتا تھا اس پر ایک بڑا حادثہ ہوگیا ہے جس کی وجہ سے ٹریفک جام ہے۔ میں نے فوراً ہی گاڑی چھوٹے روڈ پر ڈال دی تھی۔ امریکا میں ہائی وے پر چلنے کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ راستے میں کہیں بھی کوئی ٹریفک لائن نہیں ملتی ہے اور سفر بغیر کسی رکاوٹ کے ختم ہوجاتا ہے اور آرام سے بغیر رُکے ہوئے اپنے محلے یا شہر پہنچا جاسکتا ہے۔ پورا امریکا اسی قسم کے ہائی وے کے جالوں میں جکڑا ہوا ہے۔

پچھلے کئی سالوں سے اس قسم کے ہائی وے مسلسل بن رہے ہیں۔ بڑے شہروں کو چھوٹے شہر اور چھوٹے شہروں کو گاؤں دیہاتوں سے ملانے کی کوشش جاری ہے تاکہ عوام کو مستقل سہولتیں ملتی رہیں۔ ان راستوں کا نام نہیں بلکہ نمبر ہوتے ہیں جو ہائی وے طاق نمبروں پر ہیں وہ شمال سے جنوب کی طرف آجارہے ہیں اور جو ہائی وے جفت نمبروں پر ہیں وہ مشرق سے مغرب کی طرف آجارہے ہوتے ہیں۔ مجھے ان ہائی ویز پر گاڑی چلانے میں بہت مہارت تھی اور شوق بھی تھا۔ امریکا میں گزرے ہوئے اکیس سالوں میں ان سڑکوں پر چلتے گھومتے ہوئے گاڑی چلاتے ہوئے تقریباً سارا امریکا ہی گھوم چکا تھا۔

امریکا کی یہ بڑی بڑی سڑکیں مجھے حیران کردیتی تھیں۔ میری سمجھ میں آتا تھا کہ جب ملک اور قومیں اپنے عوام کے لیے کچھ کرنا چاہتی ہیں تو کس طرح وہ دھرتی کے اوپر پہاڑوں کو چیر کر، دریاؤں میں شگاف ڈال کر، سمندروں کے نیچے اور جنگلوں کے درمیان راستے نکال لیتی ہیں۔ ان سڑکوں پر گھومتے ہوئے اور پاکستان کی سڑکوں کے بارے میں سوچتے ہوئے دل میں شدید تکلیف ہوتی تھی۔

ان ہائی ویز کے علاوہ دوسری سڑکیں بھی ہیں جو مختلف شہروں، محلوں، گاؤں، دیہاتوں سے ہوتی گزرتی ہیں۔ فرق یہ ہوتا ہے کہ ان سڑکوں پر ٹریفک کی لائٹس ہوتی ہیں جن کی وجہ سے سفر طویل ہوجاتا ہے۔

جیسے ہی میں نے ریڈیو پر ہائی وے کے بند ہونے کی خبر سنی تو گاڑی چھوٹے راستے پر ڈال دی۔ تقریباً آدھا راستہ طے کیا تھا کہ نہ جانے کیوں مجھے بے اختیار کھانسی ہونے لگی۔ سڑکیں صاف ستھری تھیں، دھواں بھی نہیں تھا، مجھے بعض گاڑیوں کے دھویں سے کھانسی ہونے لگتی ہے اور موسم بہار بھی نہیں تھا کے جب فضا پالوشن سے بھرا ہوا ہوتاہے اور میرے جیسے کچھ لوگوں کو اس کی الرجی کی وجہ سے بعض دفعہ شدید کھانسی ہوتی ہے۔

گھر کے قریب پہنچتے پہنچتے ایک دفعہ پھر شدید کھانسی کے ساتھ مجھے لگا کہ تھوک میں کچھ خون بھی آرہا ہے۔ گاڑی گیراج میں کھڑی کرنے کے بعد میں فوراً ہی غسل خانے میں جا کر اچھی طرح سے کھانسا تھا، بلغم کے ساتھ خون موجود تھا۔

میں ڈاکٹر نہیں ہوں لیکن مجھے کچھ احساس سا ہوگیا کہ بلغم میں خون آنا کوئی اچھی بات نہیں ہے۔ میں نے اپنی بیوی کو بتایا جو کہ میری کھانسی سے پریشان سی ہوگئی تھی اور خون کی موجودگی کا سن کر اس کے چہرے پر بھی ہوائیاں سی اُڑنے لگی تھی۔

شام کے کھانے کے بعد رات کو ہی اس نے فون پر فیملی ڈاکٹر سے صبح ملنے کے لیے وقت لے لیا۔ کھانے کے بعد اس نے مجھے لیموں اور شہد کی چائے بنا کر دی تھی، رات کو ایک ٹی وی کا پروگرام دیکھ کر میں سکون سے سوگیا تھا، رات اطمینان سے ہی گزری تھی، سونے سے پہلے میں نے دفتر ای میل کردیا تھا کہ مجھے ڈاکٹر کے پاس جانا پڑ رہا ہے۔

ڈاکٹر کیلی نے مجھے تفصیل سے دیکھا۔ گزشتہ گیارہ سالوں سے وہ ہماری ڈاکٹر تھی۔ خوش اخلاق، خوش گفتار اور خوش پوشاک۔ مجھے اس کے چہرے کے تاثر سے اندازہ ہوا کہ وہ کھانسی کے ساتھ آنے والے خون سے کچھ تردد کا شکار ہوگئی ہے۔

میں نے اسے بتایا کہ کالج کے زمانے سے لے کر شادی کے سات سال تک میں نے خوب سگریٹ پی تھی مگر شادی کے بعد نائلہ کے اصرار پر پہلی بچی کی پیدائش کے بعد میں نے سگریٹ چھوڑدی تھی۔ شروع میں مجھے تکلیف تو ہوئی مگر نائلہ کے مسلسل اصرار اور تکرار نے سگریٹ چھڑا ہی دیا تھا۔

میں نے ڈاکٹر کیلی سے کہا کہ مجھ سے کچھ چھپانے کی ضرورت نہیں ہے، کوئی معمولی بات ہے تو بتائیں اور اگر کوئی خطرناک مسئلہ ہے تو اسے بھی چھپانے کی ضرورت نہیں ہے۔ میں ذہنی طور پر لفظ کینسر بھی سننے کو تیار ہوں۔

امریکی ڈاکٹروں کی یہ بات مجھے پسند ہے کہ وہ مریضوں سے کچھ چھپاتے نہیں ہیں۔ ڈاکٹر کیلی نے مجھے کہا کہ عام طور پر اس عمر میں سگریٹ کی کہانی کے ساتھ کھانسی میں خون آنا کوئی اچھی بات نہیں، میں ابھی فوراً ہی آپ کے کچھ خون کے ٹیسٹ کررہی ہوں اور ساتھ ساتھ کوشش کرکے آپ کا جلدازجلد سی ٹی اسکین کرانا ہوگا تاکہ اگرخدانخواستہ کوئی بُری بات ہے تو فوری طور پر پتہ چل جائے گا۔ ڈاکٹر کیلی کو تشویش اس بات کی تھی کہ نہ تو مجھے بخار تھا نہ ہی میری نبض تیز، میرا گلا بالکل صحیح تھا۔ اس حالت میں کھانسی کے ساتھ یکایک خون کا آنا کافی تشویشناک بات تھی۔

تیسرے دن میرا سی ٹی اسکین ہوگیا، پانچویں دن ہی مجھے بتادیا گیا کہ میرے داہنے پھیپھڑے میں ایک رسولی ہے جو کہ کینسر ہے۔ ڈاکٹر کیلی نے مجھے ہمارے شہر میں موجود سب سے اچھے ہسپتال میں پھیپھڑوں کے کینسر کے ماہر کے پاس بھیج دیا تھا۔

میں دیکھ رہا تھا کہ گزشتہ پانچ چھ دنوں میں ہماری پرسکون زندگی میں بھونچال سا آگیا تھا۔ میرا بڑا بیٹا نیویارک میں ایک اکاؤٹنگ کی فرم میں اچھی پوسٹ پر کام کررہا تھا۔ دوسرا بیٹا کمپیوٹر انجینئرنگ میں ماسٹرز کرنے کے بعد سلی کون ویلی میں ابھی ملازمت پر فائز ہوا تھا۔ بڑی بیٹی ہمارے شہر میں ہی ایک بینک میں کام کررہی تھی اور چھوٹی بیٹی انجینئرنگ کالج کے تیسرے سال میں تھی اور ہمارے شہر سے تین سو میل دور یونیورسٹی میں ہی رہتی تھی۔ چھ مہینے کے بعد میری بڑی بیٹی اور بیٹے کی شادی بھی ہونے والی تھی۔ نائلہ ان کی شادی کی تیاریوں میں مصروف تھی کہ یکایک کینسر کے اس مرض کی تشخیص ہوگئی۔ ابھی تک ہم نے اپنے بچوں کو کچھ نہیں بتایا تھا۔ میرا خیال تھا کہ ایک دفعہ بیماری اور علاج کے بارے میں ساری معلومات مل جائیں تو بتانا بہتر ہوگا۔

میں کم عمری میں ہی امریکا آگیا تھا، کراچی یونیورسٹی سے فزکس میں ماسٹرز کرنے کے بعد مجھے میرے ٹافل کے امتحان میں کامیابی کی بنیاد پر نیویارک یونیورسٹی میں داخلہ مل گیا تھا، حالات نے میرا ساتھ دیا، کچھ میری محنت تھی اورکچھ میری قسمت بھی شاید اچھی تھی کہ میں نے آسانی سے فزکس میں ہی ماسٹرز اور اس کے بعد پی ایچ ڈی کرلیا تھا۔ پی ایچ ڈی کرنے کے دوران ہی نائلہ سے شادی ہوگئی تھی جسے شادی کے بعد امریکا لے کر آگیا تھا۔ پاپا اور امی جان دونوں ہی پاکستان میں رہ گئے تھے۔ بڑی بہن کی شادی کراچی میں ہوئی تھی اوروہ اپنے شوہر کے ساتھ خوش حال زندگی گزاررہی تھی۔ اس کا شوہر کاروباری آدمی تھا اور وہ لوگ دو تین سالوں میں امریکا کا چکر لگالیتے تھے۔ میرے دونوں بچوں کی شادی میں بھی ان لوگوں کا آنے کا پروگرام تھا۔

پاپا اورامی تین دفعہ چند مہینوں کے لیے میرے پاس رہ کر گئے تھے مگر چار سال پہلے اچھے خاصے چلتے پھرتے ہوئے، پہلے امی پھر چھ مہینے بعد پاپا کا انتقال ہوگیا تھا۔ دونوں ہی بظاہر صحت مند تھے۔ پہلے امی پر دل کا دورہ پڑا اور وہ ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی انتقال کرگئیں، امی کے انتقال کے بعد آپا نے ابو کو کراچی کے بہترین ڈاکٹروں کو دکھا کر یہ پتہ کرلیا تھا کہ انہیں دل کی کوئی بیماری نہیں ہے۔ دل کے علاوہ ان کے دوسرے نظام بھی صحیح کام کررہے تھے مگر ان کا بھی انتقال ایک اچانک دل کے دورے کے بعد ہوگیا۔ میرا خیال تھا کہ میں بھی ایک دن کسی اچانک دل کے دورے کے بعد مرجاؤں گا لیکن ہوا یہ تھا کہ مجھے کینسر کے مرض نے آن دبوچا تھا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

پی ایچ ڈی کے بعد تین مختلف شہروں میں اچھا تجربہ حاصل کیا تھا جس کی وجہ سے مجھے ورجینیا میں عدسے بنانے کی مشہور کمپنی میں اچھے عہدے پر کام مل گیا تھا۔ میں اپنے کام سے بہت مطمئن تھا اور کمپنی کی انتظامیہ میرے اوپر بہت اعتماد کرتی تھی۔ اچھی کمپنی میں اچھے عہدے پر کام کرنے کی وجہ سے میرا بہت اچھا ہیلتھ انشورنس تھا اور مجھے پتہ تھا کہ میرا امریکا میں بہترین ترین علاج ہوگا۔

پندرہ دن کے اندر اندر مختلف ٹیسٹوں، سی ٹی اسکین اور برونکواسکوپی کے بعد یہ فیصلہ ہوا کہ میرا آپریشن کرکے رسولی کے ساتھ دائیں جانب کے پھیپھڑے کو مکمل طورپر نکال دیا جائے۔ جس کے بعد شاید ریڈیو تھراپی اور کیموتھراپی کی ضرورت ہوگی۔ میں ڈاکٹروں کی رائے سے متفق تھا، مجھے آپریشن کی تاریخ دے دی گئی تھی۔ ڈاکٹروں نے بتایا کہ اگر کینسر زدہ حصہ مکمل پھیپھڑے کے ساتھ نکال لیا گیا تو میں عام آدمیوں کی طرح زندگی گزارنے کے قابل ہوجاؤں گا۔ ان کا خیال تھا کہ اس کے بعد اگر میری موت ہوئی بھی تو کسی اور وجہ سے ہوسکتی ہے مگر کینسر کی وجہ سے نہیں ہوگی۔

اس کے بعد کا مرحلہ کافی مشکل ثابت ہوا تھا۔ میں نے اس ہفتے کے اختتام پر اپنے سے دور تینوں بچوں کو بلالیا تاکہ انہیں مرض اور آئندہ کے لائحہ عمل کے بارے میں بتاسکوں۔ میری بڑی بیٹی کو یہ تو اندازہ تھا کہ میں صحیح نہیں ہوں لیکن ابھی تک ہم لوگوں نے اسے کینسر کے بارے میں کچھ بھی نہیں بتایا تھا۔

ہفتے کی صبح ناشتے کے بعد میں نے بچوں کو بتایا کہ مجھے دائیں طرف کے پھیپھڑے میں کینسر ہوگیا ہے اور تین ہفتے کے بعد آپریشن کرکے کینسر زدہ پھیپھڑے کے حصے یا پھیپھڑے کو ہی نکال دیا جائے گا۔ تین چار دن ہسپتال میں رہنے کے بعد میں گھر آؤں گا اور اگر ضرورت پڑی تو چار ہفتے کے بعد مجھے کیموتھراپی یا ریڈیوتھراپی دی جائے گی۔

میں نے دیکھا کہ میرے چاروں بچے اس قسم کی کسی اطلاع کے لیے تیار نہیں تھے۔ ان کے دھواں ہوتے ہوئے چہرے پر پریشانی بکھر گئی تھی، جس کی وجہ سے میں اور مجھ سے زیادہ نائلہ پریشان ہوگئی تھی۔

میں نے بتایا کہ اس بات کا کوئی امکان نہیں ہے کہ آپریشن کے دوران یا آپریشن کے بعد میری موت واقع ہوجائے۔ اگر رسولی مکمل طور پر نکل گئی اورکینسر جسم کے دوسرے حصوں میں نہیں پایا گیا جو اس وقت تک نہیں ہے تو میں ایک عام عمر تک کی زندگی گزارسکوں گا۔ لیکن اگر کینسر جسم کے دوسرے حصوں میں پایا گیا تو اس کا علاج کرنے کے بعد شاید چار سال مزید زندہ رہ سکوں۔

چارو ں بچوں کی آنکھوں میں آنسوؤں کی جھلملاہٹ نظر آئی تھی، فوری طور پر تو وہ کچھ نہیں بولے پھر بڑے بیٹے نے شکایت کی کہ اسے پہلے کیوں نہیں بتایاگیا۔

میں نے سمجھایا کہ یہ میرا ذاتی فیصلہ تھا کہ اس وقت تک نہ بتاؤں جب تک تمام تصویر واضح نہ ہوجائے۔ میرا خیال تھا کہ مرض کے انکشاف کے بعد جب تک مرض کی صورت حال واضح نہ ہواس وقت تک ہر ایک کو پریشان کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ میں نے انہیں سمجھایا کہ انہیں میرے اس ذاتی فیصلے کا احترام کرنا چاہیے۔

ہمارے گھر میں رواداری کا نظام ہے۔ میں مکمل طور پر غیرمذہبی ہوں۔ امریکا آنے کے بعد کچھ عرصے تک کچھ دوستوں کے ساتھ کبھی کبھار مسجد تو گیا مگر بہت جلدی مسجد، مذہب اور ملاؤں سے میرا رابطہ ختم ہوگیا تھا۔ نائلہ مذہبی تھی، نمازیں بھی پڑھتی مگر مسجد اورمذہبی تقریبات میں نہیں جاتی تھی۔ اس کی کوشش رہی تھی کہ بچوں کو بنیادی مذہبی تعلیم دے۔ وہ روزے رکھتی تھی، بچوں کو بھی روزے رکھوانے کی کوشش کرتی تھی۔ عید بھی مناتی تھی، اس کی وجہ سے میں عید بقرعید کی نماز میں بچوں کے ساتھ چلا جاتا تھا۔

میں نے کبھی بھی اس کے مذہبی اعتقادات کو گفتگو کا موضوع نہیں بنایا۔ میں اس کا اور اس کے اعتقادات کا احترام کرتا تھا۔ وہ میرے خیالات سے متفق نہ ہونے کے باوجود مجھ سے بحث نہیں کرتی تھی، مجھے پتہ تھا کہ وہ میرے لیے دعا ہی کرتی رہتی ہے۔ بچے شروع شروع میں مجھ سے مذہبی سوالات کرتے تھے جن کا سادہ جواب تو میں دے دیتا تھا مگر اس پر بحث کی نوبت نہیں آنے دیتاتھا۔

میری کوشش رہی تھی کہ میرے بچے اعلیٰ ترین تعلیم حاصل کریں۔ دنیا کے بارے میں مثبت نکتہ نظر رکھیں۔ اسکول میں دی جانے والی بنیادی اخلاقی اور سماجی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور ان پر عمل کریں۔ میں چاہتا تھا کہ وہ امریکی سماج کی بنیادی اچھائیوں کو اپنائیں۔ بوڑھوں، عورتوں، معذوروں اور جانوروں کا احترام کریں اوراس بات کو سمجھیں کہ ان کی وجہ سے کسی کا نقصان نہ ہو، کسی کوتکلیف نہ ہو۔ میں دوست کی طرح امریکی سماج کی برائیوں پر ان سے تبادلہ خیال کیا کرتا تھا۔ میرا خیال تھا کہ میں انہیں تعلیم یافتہ اور اچھا ذمہ دار شہری بنانے میں کامیاب ہوگیا تھا۔ میری بڑی بیٹی اپنی ماں کی طرح مذہبی تھی مگرمذہبی بنیادوں پر اس سے کبھی میرا جھگڑا یا بحث نہیں ہوتی تھی اور نہ ہی ہم دونوں کے تعلقات کشیدہ تھے۔ میں اس کا احترام کرتا اور وہ میرا احترام کرتی تھی۔

تھوڑے سے سوال جواب کے بعد میں نے کہا کہ علاج وغیرہ میں دو تین مہینے لگ جائیں گے۔ میں اور نائلہ یہ چاہتے ہیں کہ علاج کا جو بھی نتیجہ نکلے، چھ مہینے بعد جو شادی کی جو تقریب ہونے والی ہے وہ اپنے پروگرام کے مطابق ہی ہو۔ سب نے میری رائے سے اتفاق کیا تھا۔

وہ سارا دن اور شام تک ہم لوگ گپ شپ لگاتے رہے۔ مجھے پتہ تھا کہ اس گپ شپ کے بعد یہ لوگ انٹرنیٹ پر پھیپھڑوں کے کینسر کے بارے میں موجود بے شمار معلومات تک پہنچ جائیں گے۔ آپریشن سے پہلے اور آپریشن کے بعد مجھے کم اور میرے ڈاکٹروں کو ان کے بے شمار سوالات کا جواب دینا ہوگا۔

ہسپتال میں داخلے سے ایک دن پہلے وہ سب گھر آگئے۔ ہسپتال میں اچھی خاصی گہماگہمی تھی۔ بظاہر میرا آپریشن کامیاب ہوگیا تھا، دائیں جانب کا پھیپھڑا نکال دیا گیا تھا۔ چار دن کے بعد میں گھر آگیا۔ پیتھالوجسٹ کی رپورٹ کے بعد مجھے بتایا گیا کہ مرض محدود تھا اورجسم کے کسی بھی دوسرے حصے میں اس کے اثرات نہیں ملے۔ لیکن ڈاکٹروں کا خیال تھا کہ رسولی کی جو قسم تھی اس کا تقاضہ یہ تھا کہ مجھے کیموتھراپی کے کچھ کورس ضرور کرائے جائیں۔

میں نے ان کے فیصلے سے اتفاق کرلیا۔ ایک ماہ کے بعد کیموتھراپی شروع ہوئی اورتقریباً تین مہینوں تک میں پریشان رہا۔ میرے سر کے بال گرگئے تھے۔ اندر سے شدید بے چینی کا احساس ہوتا اور اتنی شدید قسم کی اُلٹیاں ہوتیں کہ میرے آنسو نکل اتے۔ کینسر خاموشی کے ساتھ میرے پھیپھڑوں میں اُگا تھا اور کسی بھی قسم کی تکلیف کے بغیر آہستہ آہستہ بڑھ رہا تھا مگر کینسر کا علاج میرے لیے جتنا تکلیف دہ ثابت ہوا اس کی شدت بیان کرنے کے لیے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔

میں کوشش کرتا کہ اپنی تکلیف کوظاہر نہیں ہونے دوں۔ خاموشی کے ساتھ برداشت کروں کیونکہ میری پریشانی سے میرے بچے اور نائلہ پریشان ہوجاتے تھے۔ ان کے چہروں پر لکھی ہوئی پریشانی، ہاتھوں سے چھوٹتے ہوئے پسینے، دھڑکتے ہوئے دل کی دھڑکنوں کو میں محسوس کرسکتاتھا۔

ڈاکٹر نے اُلٹیاں روکنے اور سونے کی دوائیں دی تھیں اور سر پر لگانے کے لیے ایک وِگ بھی دیا گیا تھا۔ وِگ تو میں نے نہیں لگایا کہ اسے لگا کر اپنے آپ کو اجنبی محسوس کرتا تھا۔ اُلٹیوں سے نجات کے لیے میں نے دوائیں ضرور لی تھیں۔ کاش میرے معالج میری اُلٹیوں کا علاج اور اچھی طریقے سے کرسکتے۔ میں نے اندازہ لگالیا کہ علاج معالجے کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ اچھے سے اچھے علاج دریافت ہوتے رہیں گے، مریضوں کی عمریں بڑھتی رہیں گی، کاش میں اگلے کسی زمانے میں پیدا ہوتا، جب ضرور ایسی دوائیں ہوں گی جن کے اس قسم کے نقصانات نہیں ہوں گے اور اگر ہوں گے تو ان کا بھی علاج ممکن ہوگا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

بُرا وقت گزرگیا، اُلٹیاں بند ہوگئیں، تھوڑے تھوڑے بال نکل آئے، اندر سے میں اپنے آپ کو توانا محسوس کرنے لگا۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ میں اندرونی طورپر اپنے دونوں بچوں کی شادی کے لیے تیار ہورہا تھا۔ ان کی شادیاں بھی ہوگئیں۔ میں نے دوبارہ سے اپنے کام پر جانا شروع کردیا۔ بیماری کے شروع ہونے کے ایک سال کے بعد ہونے والے تفصیلی معائنے کے بعد ڈاکٹروں نے مجھے مکمل طورپر صحت مند قرار دے دیا تھا۔

زندگی ویسی ہی حسین تھی اور دنیا اتنی ہی خوبصورت، جس سے میں نے ہمیشہ محبت کی تھی۔ کینسر کو میں ایک حادثہ سمجھتا تھا۔ اس وسیع و عریض کائنات میں جس کی وسعتوں کا اندازہ بھی کرنا مشکل تھا، اس کائنات کے کروڑوں اربوں گلیکسی میں سے ایک گلیکسی میں جہاں کروڑوں ستارے، سیارے اور دنیائیں موجود تھیں اس گلیکسی کے ایک چھوٹے سے شمسی نظام کے ایک چھوٹی سی زمین پر میرے جیسے انسان کی زندگی کا کیا مقصد ہوسکتا ہے۔ ایک ایسا انسان جسے اپنا اور اپنے ساتھ کے عوامل کا بھی ادراک نہیں ہے جو ایک کتے کے کاٹنے سے مرسکتا ہے، کسی بارش کا شکار ہوکر بہہ سکتا ہے، معمولی ملیریا کا مچھر اس کی جان لے سکتا ہے، ایک پہاڑی سے گرنے والا پتھر ایک سانپ کا ڈنک ایک سڑک کا حادثہ سب کچھ ختم کرسکتے ہیں، زندگی کتنی بے معنی ہے۔ ساری زندگی میں اسی بے معنی زندگی کے بارے میں سوچتا رہا، اپنے بچوں سے اس کے بارے میں بحث و مباحثہ کرتا رہا۔ اعتقاد سے بالاتر ہوکر میری کوشش یہی ہوتی تھی کہ وہ اس بے معنی زندگی کے بارے میں سوچیں اور کائنات کے گورکھ دھندے کو سمجھنے کی کوشش کریں۔

اس بے معنی اور بے مقصد زندگی کے باوجود مجھے یہ زندگی اچھی لگتی تھی اور میں نے اس زندگی کو دلچسپی کے ساتھ گزارا تھا۔ زندگی سے مجھے کوئی شکایت نہیں تھی۔ ایسی کئی اور زندگیاں مجھے مل جاتیں تو کتنا اچھا ہوتا۔ اس خوبصورت اور حسین دنیا کو دیکھنے سمجھنے اور اس سے لطف اندوز ہونے کا اور بھی موقع مل جاتا تو خوب ہوتا۔ یہی کچھ سوچتے ہوئے زندگی گزرگئی تھی اور جانے کا وقت آگیا تھا۔ جسے ڈاکٹروں نے فی الحال روک دیا تھا۔

میں دو سال کے اندر ہی دادا اور نانا بن گیا، زندگی مجھے اس سے زیادہ حسین تحفہ نہیں دے سکتی تھی۔ جب وہ بچے گھر آتے تو میرا دل کرتا کہ سارے کام چھوڑ کر ان دو ننھی جانوں کو اپنی بانہوں میں لے کر گھومتا رہوں۔ جیسے جیسے وہ بڑے ہوتے جارہے تھے۔ ویسے ویسے ان کا حسن نکھرتا جارہا تھا۔ زندگی کس طرح سے اپنے آپ کو آگے چلاتی رہتی ہے اور کس طرح سے ختم ہوجاتی ہے۔ ستارے ٹوٹ کر بکھر جاتے ہیں۔ سیارے غائب ہوجاتے ہیں، پوری کائنات میں نہ جانے کب سے یہی عمل ہورہا ہے۔ نہ جانے کتنی دفعہ کتنی زمینیں بنی ہوں گی کتنی زندگیاں وجود میں آئی ہوں گی اور اربوں سالوں تک قائم ودائم رہنے کے بعد کائنات میں بکھر گئی ہوں گی۔ یہ ایک ایسا عمل ہے جو مسلسل جاری ہے مقام اور وقت کے قیدوبند کے بغیر۔

چوتھے سال کے میڈیکل چیک اپ سے پہلے میں اتنا تندرست تھا کہ میرے دل میں خیال آیا کہ اب ڈاکٹر کے پاس جانے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ میں بالکل ہی ٹھیک ہوں بلکہ شاید ان چند دوستوں سے زیادہ اچھی حالت میں ہوں جنہیں کینسر نہیں ہوا تھا مگر وہ دوسرے جسمانی مسائل کا شکار ہیں۔ مجھے تو کچھ بھی نہیں تھا نہ کھانسی نہ بخار نہ جسمانی تھکن اور نہ ہی کوئی اور تکلیف مگر میڈیکل چیک اپ بری خبر لایا تھا۔

میرے بائیں پھیپھڑے کے نچلے حصے میں ایک پچیس سینٹ کے سکّے سے تھوڑی بڑی رسولی نظر آئی تھی۔ اس دفعہ اس کینسر نے بڑی خاموشی سے حملہ کیا تھا۔ نہ کوئی کھانسی، نہ سانس میں تکلیف نہ بلغم میں خون۔ مجھے بھی اس دفعہ وہ پریشانی نہیں ہوئی تھی جو پہلے کینسر کی تشخیص کے بعد ہوئی تھی۔ میں نے ایک طرح سے اس ہونی کو قبول کرلیا تھا۔ لوگ ٹھیک کہتے ہیں کینسر جڑ سے نہیں نکالا جاسکتا۔

میں غلط ثابت ہوا۔ پچھلا کینسر جڑ سے ہی نکال دیا گیا تھا۔ پھر سے ہونے والے تمام ٹیسٹ پیٹ اسکین اور برونکواسکوپی کے ذریعے بائیوپسی کے بعد پتہ لگا تھا کہ یہ بہت ہی خطرناک اور تیزی سے پھیلنے والا اوٹ سیل کارسی نوما ہے جسے اردو میں چھوٹے خلیوں کا کینسر کہا جاسکتا ہے۔

میرے صحت کے انشورنس کا کمال تھا کہ ملک کے ماہرترین ڈاکٹروں تک میری رسائی تھی، سب کا متفقہ فیصلہ تھا کہ اس دفعہ علاج صرف کیموتھراپی اور ریڈیشن سے کیا جائے۔ ان کا خیال تھا کہ مرض شاید پھیپھڑوں سے آگے نکل گیا ہے اگر علاج نہیں کیا جائے گا تو شاید بارہ مہینوں کی زندگی ہے اور علاج کے ساتھ شاید تین سال زندگی کھنچ جائے۔ مجھے میرے مستقبل کا اندازہ ہوگیا تھا۔ اچھی بات یہ تھی کہ مجھے پتہ تھا کہ مجھے کب جانا ہے، دونوں صورتوں میں میرے پاس وقت تھا کہ میں اپنی زندگی اور اس کے خاتمے کے بارے میں منصوبہ بندی کرلوں۔

کئی سالوں پہلے ڈرائیونگ لائسنس کی تجدید کے دوران میں نے اپنے جسم کے سارے اعضا کو عطیہ کرنے کے کاغذات پر دستخط کردیے تھے۔ امریکی قانون کے مطابق اس دستخط کے بعد کسی بھی حادثے کی صورت میں ڈاکٹروں کو اختیار تھا کہ وہ میرے مرنے کے بعد میرے اعضا کو استعمال کرلیں۔ پچھلی دفعہ کینسر کے علاج کے دوران مجھے پتہ لگا تھا کہ کینسر زدہ جسم کے اعضا کو عطیہ کے طور پر استعمال نہیں کیا جاتا ہے، صرف آنکھوں کے کورنیا کا عطیہ کام میں آتا ہے۔

میں نے پچھلے سال ہی اپنی وصیت لکھ دی تھی جس کے مطابق موت کے بعد میری خواہش تھی کہ مجھے جلادیا جائے۔ امریکا میں زیادہ تر لوگ پسند کرتے ہیں کہ انہیں جلا کر ان کی راکھ ورثا کے حوالے کردی جائے اورمرنے والے کی نصیحت کے مطابق راکھ کو دفن کردیا جاتا ہے یا دریا سمندر میں بہادیا جاتا ہے۔

امریکا میں تدفین پر بہت پیسہ خرچ ہوتا ہے۔ تدفین کرنے کی بہت ساری کمپنیاں ہیں جو مرنے والے اور مرنے والے کے خاندان کی خواہشوں کے مطابق تدفین کرتی ہیں۔ سادہ سے سادہ تدفین کرنے میں تقریباً آٹھ دس ہزار ڈالر کا خرچ آجاتا ہے اور مہنگی تدفینوں کی تو کوئی انتہا نہیں ہے۔ امریکا میں مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ مسلمانوں کی تدفین کے لیے بھی ادارے بن گئے ہیں۔ عام طور پر کسی مسلمان کی تدفین پر کم از کم پانچ ہزار ڈالر خرچ ہوجاتے ہیں۔ بعض دفعہ غریب مسلمان کے لیے کچھ مخیرحضرات امداد فراہم کرتے ہیں تاکہ خاندان مناسب طریقے سے تدفین کرسکیں۔

میں نے فیصلہ کیا تھا کہ میں ایک حد تک تو علاج کراؤں گا مگر جہاں یہ محسوس ہوگا کہ کیموتھراپی اور ریڈیشن کے اثرات میرے برداشت سے باہر ہیں تو میں خاموشی سے زندگی سے رخصت لے لوں گا۔ میں نہیں چاہتا تھا کہ جسم کے مختلف حصو ں میں ہونے والے دردوں سے بے چین رہوں، مجھے بار بار درد سے نجات کی دوائیں دی جائیں اور میں بے ہوش ہوتا رہوں اور میری بیوی بچے میرے کمرے کے آس پاس بے چین بھٹکتے رہیں۔ میں نہیں چاہتا تھا کہ ان کے سامنے اُلٹیوں کے دورے پڑنے پر اُلٹیوں کو روکنے کی کوشش میں اپنے آپ کو ہلکان کروں۔

میں اکیلے کمرے میں درد کو برداشت کرنے کو تیار تھا۔ اُلٹیوں کو سہہ بھی لیتا اور بے ہوش پڑے پڑے مرجاتا مگر یہ مجھے بالکل پسند نہیں تھا کہ میری بیوی اور میرے بچے میری پریشانیوں، تکالیف کو دیکھ دیکھ کر پریشان ہوں۔ میں ہنستا ہوا ان کے سامنے سے غائب ہوجانا چاہتا تھا۔ میں نے انہیں بٹھا کر اپنی وصیت سے بھی آگاہ کردیا تھا اور یہ بھی بتادیا تھا کہ وقت آنے پر میں پروقار طریقے سے مرجانا پسند کروں گا جس کے لیے میں نے ضروری کاغذات پر دستخط کردیے تھے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

پروقار موت قانون کے مطابق امریکا کے چند ریاستوں میں ہی ممکن ہے۔ کیلی فورنیا ان ریاستوں میں سے ایک ہے۔ مجھے وقت آنے پر وہاں جانا تھا جہاں ڈاکٹر میری وصیت اور معاہدے کے مطابق مجھے ڈرپ لگادیں گے جس میں وہ دوا ہوگی جس کے اثر سے میں سوتا ہوا بغیر کسی تکلیف کے مرجاؤں گا۔ وہ ڈرپ ڈاکٹر نہیں شروع کریں گے، اس کا اختیار میرے پاس ہوگا جس وقت میں سمجھوں گا اس وقت ایک بٹن دبا کر اس ڈرپ کا آغاز اور اپنی زندگی کا اختتام کرلوں گا۔ یہی میرا فیصلہ تھا اورمیں اپنے فیصلے سے مطمئن بھی تھا۔

میرا علاج بھرپور طریقے سے شروع کردیا گیا اورچھ مہینے کے اندر ہی ساری سرطان کش دوائیں مختلف اوقات میں میرے جسم میں داخل کی جاتی رہیں۔ یہ دوائیں جہاں سرطان کے خلیوں کو تباہ کررہی تھیں وہ عام صحت مند خلیوں کو بھی نقصان پہنچا رہی تھیں جن سے جسم مدافعت کر رہا تھا جو درد، بے چینی، پریشانی، نرگیست اور اُلٹیوں کی صورت میں ظاہر ہورہی تھی۔ اس دفعہ بھی مجھے انجکشن کی صورت میں دو قسم کی دوائیں مختلف اوقات میں دی گئیں جن کا سلسلہ چھ ماہ تک چلتا رہا، جنہیں میں نے برداشت کرلیا اور تھوڑی بہت تکلیف کے ساتھ زندگی گزارتا رہا۔ دعوتوں، شادیوں میں بھی گیا۔ کبھی کبھی فلمیں بھی دیکھیں اور بیوی بچوں کے ساتھ اپنے پسندیدہ ریسٹورانٹ اور ہوٹلوں میں کھانا بھی کھایا۔

تیس مہینے آرام سے گزرگئے جس کے بعد معمول کے ٹیسٹ میں دوبارہ سے کینسر کی علامات دریافت ہوئے اور میرے سرطان کے ڈاکٹر دوبارہ سر ملا کر بیٹھ گئے اور یہی فیصلہ ہوا کہ دوبارہ کیموتھراپی سے علاج کیا جائے۔

اس دفعہ کیموتھراپی مجھ سے برداشت نہیں ہوسکی، شاید میرے جسم کا مدافعتی نظام اندر سے کھوکھلا ہوچکا تھا۔ درد، پیروں میں جھنجھناہٹ، شدید بے چینی اور بار بار کی اُلٹیوں نے مجھے پریشان کرکے رکھ دیا۔ ڈاکٹروں کی امید کے برخلاف میرے اندر کا سرطان میری قربانی مانگ رہا تھا۔

ایک دن میں نے نائلہ سے جانے کی خواہش کا اظہار کردیا تھا۔ اکیلے کمرے میں دواؤں کے اثر سے خاموشی سے لیٹا ہوا تھا اور وہ میرے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں دبائے بغیر آنسوؤں کے رو رہی تھی۔

وہ میری خواہش کے احترام میں میرے ساتھ کیلی فورنیا چلنے کو تیار تھی۔ میں نے فیصلہ کرلیا تھا کہ دس دنوں کے اندر مجھے وہاں جا کر پروقار موت کوگلے لگالینا چاہیے۔
اس دن میرے ہاتھوں کو پکڑے پکڑے آہستہ سے دباتے ہوئے اس نے دھیرے دھیرے رُک رُک کر دھیمے لہجے میں کہا تھا کہ اب جدائی کا وقت آگیا ہے کیا میں اس کی ایک بات مانوں گا۔

مجھے بڑی حیرت ہوئی تھی کیونکہ میں اس کے مزاج سے آگاہ تھا وہ ہر بات صاف صاف کہنے کی عادی تھی۔ ایسی کیا خواہش تھی جسے اس نے چھپا کر رکھا تھا۔
ضرور۔ میں نے اسے غور دیکھتے ہوئے سوچتے ہوئے کہا۔

وہ تھوڑی دیر تک سوچتی رہی، دیوار کے پار نہ جانے کیا دیکھنے کی کوشش کرتی رہی، اس کے معصوم غم والم سے بھرے ہوئے چہرے سے میرا دل دھڑکنے لگا تھا پھر وہ آہستہ سے بولی آپ جو فیصلہ کریں گے میں اس پر راضی ہوں آپ نہیں مانیں گے تو بھی میں خوش ہوں یہ صرف ایک خواہش ہے میرے لیے نہیں ہمارے بچوں کے لیے ہے۔ اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے، میری سمجھ میں نہیں آیا کہ نائلہ کیا سوچ رہی ہے پہلی دفعہ میں پریشان ہوگیا۔

آپ انتقال کے بعد جسم کو جلانے کی وصیت واپس لے لیں۔ اس لیے نہیں کہ میں ایسا چاہتی ہوں، بچوں کو بھی اس بات پر کوئی اعتراض نہیں ہے، مجھے صرف یہ احساس ہے کہ آپ کے بعد میں بہت دنوں تک زندہ نہیں رہوں گی مگر ہمارے بچے پھر ان کے بچے تو زندہ رہیں گے۔ عزیزوں رشتہ داروں دوستوں کے ساتھ زندگی گزاریں گے۔ آپ کو تو پتہ ہی ہے ہمارے لوگ کیسے ہیں، نہ جانے کیا کیا باتیں کریں گے، انہیں تو اس بات کا پتہ نہیں چلے گا کہ آپ خاموشی کے ساتھ اپنی مرضی سے دنیا سے رخصت ہوگئے ہیں لیکن انہیں یہ تو پتہ چلے گا کہ آپ نے اپنے لیے جل کر راکھ ہونا پسند کیا ہے پھر جو باتیں ہوں گی اس کا مجھ سے زیادہ آپ کو اندازہ ہوگا۔ میں صرف اُنہیں ان باتوں سے بچانا چاہتی ہوں لیکن آپ کی خوشی اور خواہش سب سے بالاتر ہے۔ اس کا چہرہ لال تھا اور آنکھیں جھلملارہی تھیں۔

مجھے وہ بہت خوبصورت لگی تھی وہ بالکل صحیح کہہ رہی تھی۔ میں نے اس طرح سے نہیں سوچا تھا۔ ساری زندگی میں نے اپنے طریقے سے گزاری تھی، اپنے طریقوں سے بچوں کو پالا تھا، بڑا کیا تھا، تعلیم دی تھی، ذمہ دار انسان بنایا تھا، ان میں کوٹ کوٹ کر رواداری بھردی تھی، وہ جھوٹ نہیں بولتے تھے، دھوکہ نہیں دیتے تھے ان میں منافقت نہیں تھی لیکن وہ وہ صحیح کہہ رہی تھی، میری وجہ سے میرے بعد انہیں نشانہ بنایا جائے گا۔ وہ جن لوگوں کے درمیان اُٹھیں گے بیٹھیں گے وہ باتیں بنائیں گے، ایسی باتیں جن کا نہ کوئی سر ہوگا نہ پیر۔ ایسے لوگ جن کی زندگی دوسروں کی زندگیوں میں داخلاندازی کرتے ہوئے گزری ایسے لوگوں کی باتوں کو میں تو جھیل سکتا ہوں لیکن بچوں کو کیوں تکلیف پہنچے۔

میں نے اسے گلے لگالیا تھا، میں ابھی دستخط کردوں گا، کیلی فورنیا جانے سے پہلے قانونی دستاویز بنوالوں گا بالکل فکر نہ کرو۔ میرے مرنے کے بعد کورنیا نکالنے کے بعد میرے جسم کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ اس کے ساتھ جو بھی کرو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے، میں نے مسکرا کر کہا تھا۔
دوسری صبح نائلہ کے ساتھ کیلی فورنیا کا سفر بہت خوشگوار تھا۔