انڈیا میں انتخابات: کیا بنارس میں اپوزیشن مودی کو شکست دے پائے گی؟

بنارس مودی

BBC
ملک کے وزیراعظم نریندر مودی بنارس سے بی جےپی کے امیدوار ہیں

انڈیا میں انتخابات کے ساتویں اور آخری مرحلے میں ریاست اترپردیش کے شہر بنارس میں 19 مئی کو پولنگ ہو گی۔

بنارس ہندو مذہب کے چند مقدس ترین مراکز میں شامل ہے اور لاکھوں زائرین ہر برس یہاں آتے ہیں۔ مذہبی مرکز ہونے کے علاوہ اترپردیش کے مشرقی خطے میں واقع بنارس بنیادی طور پر ایک تجارتی شہر ہے جس کی ساڑیاں دنیا بھر میں مشہور ہیں۔

بنارس کی انتخابی فضا کافی گرم ہے۔ ملک کے وزیراعظم نریندر مودی یہاں سے اپنی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے امیدوار ہیں اور ان کا مقابلہ سماجوادی اور بہوجن سماج پارٹی کی مشترکہ امیدوار شالنی یادو اور کانگریس کے امیدوار اجے رائے سے ہے جن کے بڑے بڑے رہنما شہر میں ریلیاں اور جلسے کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

انڈیا انتخابات: چھٹے مرحلے کی پولنگ

غلط ووٹ ڈالنے پر آدمی نے اپنی انگلی کاٹ لی

مسلمان اب کسی کا ووٹ بینک نہیں

بنارس ہندو مذہب کے اعتبار سے ہی نہیں بلکہ سیاسی اعتبار سے بھی انتہائی اہم ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کا بذات خود اس حلقے سے انتخابات لڑنے کے فیصلے کے بعد اس کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے اور ان کی مقبولیت یہاں پہلے سے کہیں زیادہ نظر آتی ہے ۔

بنارس گھاٹ

BBC
بنارس ہندو مذہب کے چند مقدس ترین مراکز میں شامل ہے

نریندر مودی گذشتہ انتخاب میں بھی یہیں سے رکن پارلیمان منتخب ہوئے تھے اور وہ دوسری بار یہاں سے انتخاب لڑ رہے ہیں اور شہر میں لوگوں کی بڑی تعداد اس بات سے خوش ہے کہ ان کے حلقے کی نمائندگی ملک کے وزیر اعظم کر رہے ہیں۔

مقامی باشندوں کے مطابق مودی نے اس حلقے کے نمائندے کے طور پر شہر کے لیے بہت کچھ کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ شہر پہلے سے بہت صاف ہو گیا ہے، شہر کے گھاٹوں پر اب پہلے سے زیادہ صفائی نظر آتی ہے۔

کھمبوں سے لٹکے ہوئے بجلی کے تار زیرِ زمین کر دیے گئے ہیں۔ ہوائی اڈے سے شہر تک سڑک چوڑی کر دی گئی ہے جبکہ اہم مندروں کے علاقے میں زائرین کے لیے ایک راہداری بنائی جا رہی ہے۔

اجے رائے

BBC
اجے رائے کے مطابق مودی نے جو وعدے کیے ان میں سے کوئی پورا نہیں کیا

شہر کے بیشتر لوگ ان ترقیاتی کاموں سے خوش ہیں تاہم مودی کے حریف اور کانگریس کے امیدوار اجے رائے کہتے ہیں کہ مودی نے شہر سے جو وعدے کیے تھے ان میں سے ایک بھی پورا نہیں کیا۔

ان کے بقول ’ہوائی اڈے سے شہر تک جو سڑک بنوائی وہ بھی سابقہ حکومت کے منصوبے کی تھی۔‘

وہ کہتے ہیں ‘یہاں کون سا کام ہوا ہے؟ لڑکے پڑھ لکھ کر بڑے ہو رہے ہیں، کوئی انجینیرنگ کر رہا ہے، کوئی ایم بی اے کر رہا ہے۔ مودی جی نے ان لڑکوں سے کہا تھا آپ کو باہر نہیں جانا پڑے گا، آپ کو اپنے گھر میں ہی نوکری ملے گی مگر ایک بھی کارخانہ لگا ہے کیا؟ آپ یہاں کسی سے بھی پوچھ لیجیے سنہ 2014 کے بعد اس پورے علاقے میں ایک بھی انڈسٹری لگی ہے کیا۔‘

شالنی یادو

BBC
شالنی کا کہنا ہے کہ بنارس کی بات کرنے والا کوئی نہیں ہے

شالنی یادو سماجوادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی اتحاد کی مشترکہ امیدوار ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ اس انتخاب میں کوئی بھی مقامی مسائل کی طرف توجہ نہیں دے رہا ہے۔ ’یہاں پینے کا صاف پانی پہلی ضرورت ہے۔ لوگ پانی کے لیے باہر آ کر مظاہرے کر رہے ہیں۔‘

ان کے مطابق یہی نہیں بلکہ ’شہر کے بہتے ہوئے گٹر نالی کے ناقص نظام، ٹریفک جام اور فضائی کثافت اور دریائے گنگا کی آلودگی ایسے اہم مسائل ہیں جو پہلے سے زیادہ بڑھ گئے ہیں۔‘

شالنی مزید کہتی ہیں کہ ’یہ وزیر اعظم کا اپنا حلقہ ہے۔ لوگوں کو ان سے بڑی امیدیں تھیں لیکن ان امیدوں کے برعکس یہاں صرف کاسمیٹک ترقی ہوئی ہے۔ وزیر اعظم اصل مسائل پر بات نہ کر کے پلوامہ کے حملے، نیوکلیئر بم اور سرجیکل سٹرائیک کی بات کر کے لوگوں کی توجہ اصل مسائل سے ہٹا رہے ہیں۔ بنارس کی بات کرنے والا کوئی نہیں ہے۔‘