اعلیٰ تعلیم جہالت میں ڈوبتی جا رہی ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تحریر: کرسچین سمِتھ، ترجمہ: وجاہت رفیق بیگ۔

میں بہت جہالت دیکھ چکا۔ یہ غلاظت امریکی اعلیٰ تعلیم کے ہالوں، کلاسوں اور انتظامی امور کی عمارتوں کو اتنا آلودہ کر چکی ہے کہ مجھے کچھ خبر نہیں میں مزید کتنی دیر اس میں رہ سکوں گا اور کب تک اپنے حواس اور راست بازی کو قائم رکھ سکوں گا۔

مزید ستم یہ ہے کہ تعلیمی جہالت کے مجموعی اثرات ملک کی بدترین سیاسی صورتحال کی وجہ بن رہے ہیں اوردر حقیقت تہذیب کی پائداری اور اس کے کردار پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ جہالت سے میری کیا مراد ہے؟

سچ، حقیقت، عقل، دلیل، ادب اور انسانیت پر یقین کے بحران کی وجہ سے یونیورسٹی کا زندگی کے بنیادی سوالات کوزیرِبحث نہ لا سکنا ہی جہالت ہے۔

دانش گاہ ہونے کا دعویٰ کرنے والی تفرقہ گاہوں کا مضامین کی تقسیم در تقسیم کا ڈھونگ اور مختلف تعلیمی شعبوں کا آپس میں سنگین سانجھے مسائل پر ایک دوسرے سے بات ہی نہ کر سکنا ہی جہالت ہے۔

یہ توقع ہی جہالت ہے کہ فیکٹریوں، سرکاری بیوروکریسی اور شاپنگ مالوں کے ڈھانچے پر قائم کی گئی یونیورسٹیاں اچھی تعلیم مہیا کر سکتی ہیں۔ وسیع و عریض یونیورسٹیاں طلباء کے ریوڑایسے تیار کر رہی ہیں جیسے وہ محض مویشی ہوں یا ایک قطار میں انتظار کرنے والے ہندسے ہوں یا شاپنگ کے شوقین گاہک ہوں۔

یونیورسٹیوں کا دولت اور شہرت کی نہ ختم ہونے والی ہوس کے ہاتھوں یرغمال بن جانا اور حقیقی تعلیمی برتری کے عوض درجہ بندیوں کے پیچھے یہ جانتے ہوئے بھاگناکہ وہ نقائص سے بھرپور ہیں، جہالت ہے۔

مختلف شعبوں میں اپنی خود ساختہ وقعت کی دھاک بٹھائے رکھنے اور زبان و بیان کے کھیل کو نہ سمجھنے والوں کو جوابدہ ہونے سے بچنے کے لئے نظریاتی مقاصد رکھنے والی ناقابلِ فہم زبان کا استعمال جہالت ہے۔

جہالت وہ میعادی نظام ہے جو بیمارذہن اساتذہ اور بے کار سکالروں کو عمر بھر کی ملازمت کی ضمانت غیرمقبول نقطہ ہائے نظر کی حمایت کرنے کے نتیجے میں تعلیمی آزادی کی حفاظت کے لئے نہیں دیتا بلکہ محض اس لئے دیتا ہے کہ برسوں پہلے انھیں کسی طرح ملازمت دے دی گئی تھی۔

انڈرگریجویٹ طلباء کو پڑھانے کا بوجھ روایتی مستقل اساتذہ کی بجائے کم تنخواہ لینے والے عارضی طور پر رکھے گئے اساتذہ اور گریجویٹ طلباء کو منتقل کرنا بھی جہالت ہے۔

قانون سازوں کی طرف سے اعلیٰ تعلیم کے بجٹ میں سال ہا سال سے کی جانے والی کٹوتیوں کے باوجود ریاستوں کا اپنی عظیم سرکاری درسگاہوں پر فخر سے پھولے نہ سمانا جہالت ہے۔

یہ گمان کہ فاصلاتی نظامِ تعلیم سے تعلیم کہلانے کی حق دار کوئی چیز اخذ کی جا سکتی ہے جہالت ہے۔

جہالت انعام و اکرام کا وہ ادارہ جاتی نظام ہے جو گریجویٹ طلباء اور اساتذہ کو بجائے کچھ وقت لگا کر شعوری پختگی حاصل کرنے اور حقیقی طور پر اہم علوم کی ترویج کرنے کے جلدازجلد کچھ چھپوانے پر اکساتا ہے۔ اس سے کتابوں اورمضامین کا ایک ایسا انبار لگتا جا رہا ہے جو اصل انسانی مسائل کے بارے میں ہمارے علم میں بہت ہی کم اضافہ کرتا ہے۔

دوسرے درجے کے پی ایچ ڈی طلباء کو تیسرے درجے کی یونیورسٹیوں کی طرف سے ایسی نوکریوں کے لئے بے کار گریجویٹ پروگراموں کی پیشکش جو وجود ہی نہیں رکھتیں یقیناًجہالت ہے۔ ان ڈگریوں کا اصل مقصد اساتذہ کو گریجویٹ ریسرچ اسسٹنٹ مہیا کرنا ہوتا ہے تاکہ یونیورسٹی کے نام کا حق ادا کیا جاسکے۔

جہالت انڈرگریجویٹ میں وہ لازمی کورس ہیں جو اصل میں لازم نہیں ہوتے بلکہ کلاسیں بھری رکھنے کے لئے مختلف شعبوں کے درمیان ایک مشکل سمجھوتے کے نتیجے میں ہونے والی تقسیم کا نتیجہ ہوتے ہیں۔

جہالت بہت سے شعبوں خصوصاً ہیومینیٹیز اور سوشل سائنسز کے اساتذہ کے یک طرفہ سیاسی نظریات ہیں جو ایک مخصوص طرزِ فکر کو جنم دیتے ہیں۔ ایسے اساتذہ اپنے طرزِ فکر سے خود بھی پوری طرح واقف نہیں ہوتے جبکہ باتیں وہ حسنِ اختلاف، تنوع اوربرداشت کی کرتے ہیں۔

تعلیمی اداروں میں سپورٹس اور ایڈمنسٹریشن کو کاروبار بنا لینا جہالت ہے۔ یہ دولت کے انبار ہضم کر جاتے ہیں اور اس عمل میں کھلاڑیوں کو تعلیم دینے کی بجائے انھیں استعمال کر کے پھینک دیتے ہیں۔ اس سے بھرتیوں کے عمل، تعلیمی خدمات اور گریڈنگ کے نظام میں بھی مسلسل خرابیاں پیدا ہوتی ہیں۔

جہالت دوسرے تیسرے درجے کی یونیورسٹیوں میں چلنے والے مہنگے سپورٹس پروگرام ہیں جن کا فائدہ کم ہے حالاں کہ وہ بہت سا پیسہ علمی سرگرمیوں کے حصے کا بہت سا پیسہ اُڑا لیتے ہیں۔ ایسے میں عام طالب علم اپنی کلاسوں کی تیاری کے لئے محض اس لئے وقت نہیں نکال پاتے کیونکہ انھیں اپنی فیس دینے کے لئے دو سے تین جز وقتی نوکریاں کرنی پڑتی ہیں۔

جہالت ہر بات پہ برا ماننے اور مشتعل ہونے کا وہ کلچر ہے جو نہ صرف خیالات کے آزادانہ اظہار کو روکتا ہے بلکہ دلیل اور عقل کی کسوٹی پر باہمی احتساب کے دروازے بھی بند کر دیتا ہے۔ یہ عمل یونیورسٹی کے قائدین کے سیکولر اور حال کے بنیاد پرستوں کی ٹھیکیداری کے آگے خوف اور تذبذب میں ہتھیار ڈالنے کے مترادف ہے۔

جہالت وہ اَن دیکھی اندرونی سینسرشپ ہے جوکچھ اساتذہ اور طلباء کے مابین ہوتی ہے اور ان لوگوں کو راہِ راست پر لانے کے لئے ڈھکی چھپی کوششیں ہیں جو اس سینسرشپ کا حصہ نہیں بنتے۔

جہالت کسی حد تک سمجھ میں آنے والے نفرت کے وہ طوفان ہیں جو تعلیمی اداروں کی طرف سے بات چیت پر عائد بندشوں کے نتیجے میں باہر کے مشتعل لوگوں میں اٹھتے ہیں کیونکہ یہ طوفان بنیادی طور پر انھیں دبانے والوں ہی کی خود ساختہ برتری کو درست ثابت کرتے ہیں اور بعض اوقات دوسروں کی صحیح آوازوں کو بھی دبانے میں مدد کرتے ہیں۔

جہالت وہ الجھن ہے جو کچھ قدامت پسند علاقوں میں اساتذہ کو ڈرائے رکھتی ہے اور انھیں اپنے پڑھے لکھے لیکن جدت پسندانہ خیالات کا اظہار کرنے سے روکتی ہے۔ اس کی وجہ تنگ نظر طلباء اور والدین یا بڑے سیاست دانوں کانشانہ بننے کا خوف ہوتا ہے۔

جہالت ہمارے پورے کلچر کی وجہ سے وجود میں آنے والی انڈرگریجویٹ طلباء کی وہ ذہنیت ہے جس کے مطابق یونیورسٹی کا تعلق یاتو دھن کمانے سے ہے یا جنون کی حد تک جشن منانے سے ہے۔

جہالت لبرل آرٹس کے حقیقی مقاصد کو حاصل کرنے میں اعلیٰ تعلیم کے سربراہان کی ناکامی اور ان کامعیشت کے عارض بے رنگ کو گلنار کرنے کے لئے ماہر کارکن پیدا کرنے کی ہلچل میں شامل ہونا ہے۔ لبرل آرٹس کا حقیقی مقصد تو یہ ہے کہ درس گاہ طلباء کے اذہان و قلوب کوچیلنج کرے، ان کی نشو ونما کرے اور اس خوبصورتی سے ان کی کایا پلٹ دے کہ وہ اچھی، توانا اور معاشرتی طور پر معنی خیز زندگی بسر کر سکیں۔

جہالت منتظمین کی یہ خام خیالی ہے کہ اعلیٰ تعلیم کے اہم اجزاء کی اعداد و شمار میں پیمائش کی جا سکتی ہے۔ ایسا کرنے سے ان کے خیال میں یونیورسٹیوں کو کارپوریشنوں کی طرز پر چلایا جا سکتاہے۔ تاہم ایسے میں یہ جانتے ہوئے کہ یہ سب جہالت کے سوا کچھ نہیں، اساتذہ اور عملے کا خاص وقت اس پیمائش کے لئے معلومات کی فراہمی کی نظر ہو جاتا ہے۔

میں اس گندگی کی فہرست میں مزید اضافہ کر سکتا ہوں جو ہماری اعلیٰ تعلیم میں جمع ہو گئی ہے لیکن فی الحال میں نے بات کا مقصد واضح کر دیا ہے۔ اگر کوئی یہ سوچے کہ یہ انگور کھٹے ہیں والی بات ہے تو میں ذرا زیادہ وضاحت سے عرض کر دیتا ہوں۔ مجھے عالمانہ تحقیق سے محبت ہے۔ یونیورسٹی کے ریسرچ کے نظام میں میں بہت خوش قسمت رہا ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ کمال تک پہنچنے کے لئے پیسہ لگتا ہے۔ اس سلسلے میں میں نے اپنی یونیورسٹیوں کے پروگراموں کی درجہ بندی بہتر کرنے اور ان کے استحکام کے لئے بہت کام کیا ہے۔ میں نے تین تین سو طلباء کی کلاسوں کو بھی پڑھایا ہے۔ اور مجھے سپورٹس خصوصاً فٹ بال، والی بال، باسکٹ بال اور ساکر بھی بہت پسند ہیں۔ لہٰذا جہالت کی نشاندہی میرے لئے باعثِ تکلیف بھی ہے اور اخلاقی طور پر پریشان کن بھی۔

لیکن جہالت کی نشاندہی کرنا میرے ذاتی تجربے، دائرہ کار یا احساسات کا مسئلہ نہیں ہے۔ یہ محض اس لئے بھی نہیں ہے کہ لاتعداد لاکھوں طلباء کویونیورسٹیوں میں غیر معیاری اور بعض دفعہ بے کار تعلیم دی جاتی ہے۔ آخر کار تو ہمیں اس خوف ناک حقیقت سے آنکھیں ملانی ہوں گی کہ تعلیم میں موجود یہ گندگی ہماری معاشرت اور سیاست کے لئے زہر قاتل ہے۔

خیالات اور ان سے جڑے اعمال کے کوئی نہ کوئی نتائج ہوتے ہیں۔ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں اچھا برا جو بھی کچھ وجود میں آتا ہے، کچھ دہائیوں کے بعد وہ سرکاری ملازمین، سیاسی مہموں، ملکی پالیسی کی بحثوں، شہریوں کی شمولیت، معاشرتی سرمائے، میڈیا کی پروگرامنگ، ابتدائی تعلیم، صارف کی پسند ناپسند، کاروباری اخلاقیات، تفریح اور بہت سی دوسری چیزوں کے کردار اور معیار میں منعکس ہو جاتا ہے۔ اور سیاست اور معاشرت میں زہر کے طویل مدتی پھیلاؤ کا علاج بھی طویل مدتی ہی ہو سکتا ہے۔ اس کے لئے کوئی فوری علاج نہیں ہے۔ لہٰذا جب میں کہتا ہوں کہ اس جمع شدہ گندگی سے خود ہماری تہذیب خطرے سے دوچار ہے تو میں بالکل مبالغے سے کام نہیں لے رہا۔

دنیا میں ہمیشہ سیاسی، اقتصادی، مذہبی اور معاشرتی بے عقلی، تشدد، نادانی، فریب اور طاقت کا راج رہا ہے۔ لیکن میرا پھر بھی عرصے سے یہ یقین ہے کہ اپنی کوتاہیوں کے باوجود امریکی اعلیٰ تعلیم کو ایک بلند جزیرے کا کردار ادا کرنا چاہیے۔ یہ ایسا کر سکتی ہے اور اس نے اکثر ایسا کیا ہے۔ اسے آزادانہ تحقیق، عقلی استدلال، تنقیدی سوچ بچار، دلیل اور ثبوت سے قائل کرنے اور باہمی تعلیم میں حقیقی ترقی کے لئے ایک محفوظ پناہ گاہ ہونا چاہیے۔

افسوس ناک بات یہ ہے کہ مجھے اپنا یہ یقین اب غیر معقول نظر آنے لگا ہے۔ وہ جزیرہ گندگی کی دلدل میں اب ڈوب چکا ہے۔ اس پناہ گاہ کو بہت سے بیرونی دشمنوں نے جنھیں روکنا اور درست کرنا تعلیم کا مقصد تھا، آلودہ کر دیا ہے۔ امریکی اعلیٰ تعلیم جن مسائل کو حل کرنے کے لئے تھی اب وہ خود ان سے دوچار ہے۔ بے عقلی، منافقت، احتساب سے فرار، صورتحال کی مکمل تصویر اور اس کی پیچیدگیاں نہ دیکھ سکنے اور ادھ ڈھکے جبر میں پناہ لینے جیسے مسائل۔

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
وجاہت رفیق بیگ کی دیگر تحریریں
وجاہت رفیق بیگ کی دیگر تحریریں