غضب الٰہی!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کرم الٰہی گزشتہ روز اپنے دکھوں کی کہانی سنانے میرے پاس آیا، اُس نے روتے ہوئے اپنی ساری بپتا سنائی مگر میرے دل میں اُس کے لئے رحم نہیں آیا۔ جب روتے روتے اُس کی ہچکیاں بندھ گئیں تو میں نے کہا ختم کرو یہ ڈرامے کرم الٰہی، تمہارے ساتھ جو ہو رہا ہے اُس کے ذمہ دار تم خود ہو۔

کرم الٰہی کو ڈانٹنے کے بعد میں اپنی سوچ کے دھارے میں بہہ گیا۔ دراصل کرم الٰہی اور اُس کے طبقے کے درمیان کوئی ایک نہیں بلکہ ملک کے تمام طاقتور طبقے اُن کا راستہ روکے کھڑے ہیں۔ جو حکومت سے زیادہ مضبوط ہیں۔ وہ جب چاہتے ہیں روز مرہ استعمال کی اشیاء ذخیرہ کر کے اُن کی قیمت بڑھا دیتے ہیں اورعدالت اور حکومت اُن کا منہ دیکھتی رہ جاتی ہے۔ محکمہ صحت کے افسرانِ بالا کو راضی کرکے فارما سیوٹیکل کمپنیاں ادویات کی قیمتیں اتنی بڑھا چکی ہیں کہ اُن تک کرم الٰہی کا ہاتھ ہی نہیں پہنچ سکتا۔

جعلی ادویات بنانے والے بھی محکمہ کی چشم پوشیوں کے مزے لوٹ رہے ہیں۔ کرم الٰہی کی دسترس میں تو انصاف بھی نہیں ہے بلکہ خود انصاف دلانے والے اُس کے رستے کی سب سے بڑی رکاوٹ ہیں اور جب چاہتے ہیں اُسے کچہری تک پہنچنے ہی نہیں دیتے۔

میری کڑوی کسیلی بات سے وہ اداس ہو گیا، جو میں نے اُس کے آتے ہی کی تھی، چنانچہ اُس نے ویران آنکھوں سے میری طرف دیکھا اور بولا صاحب جی اِس سارے قصے میں میرا کیا قصور ہے؟ میں نے کہا میں تمہاری عدالت میں نہیں کھڑا کہ میں تمہارے سوالوں کا جواب دوں، تم میرے پاس چل کر آئے ہو لہٰذا جو میں پوچھوں تم اُس کا جواب دو۔

گلوگیر آواز میں بولا پوچھیں صاحب جی۔ میں نے کہا پاکستان کی مظلوم بیٹی عافیہ صدیقی پر ہونے والے مظالم کے خلاف جلسے ہوتے ہیں اور تم بھی اُن میں شریک ہوتے ہو۔ میں تمہارے انسانی جذبات کو سلام کرتا ہوں لیکن جب کوئی ظالم کسی کی بیٹی کے چہرے پر تیزاب پھینک دیتا ہے اور وہ دم توڑ دیتی ہے یا باقی ساری عمر آئینے توڑنے میں صرف کر دیتی ہے تو تم ظالم کے خلاف کیا کرتے ہو۔ کرم الٰہی نے جواب دیا صبر کرتے ہیں جی۔

میں نے پوچھا جب تمہارے بچے گھر میں چولہا نہ جلنے کی وجہ سے بھوکے بیٹھے ہوتے ہیں اور تمہارے گھر سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر تمہارے بچوں کا قاتل آٹے کے گودام میں بیٹھ کر نوٹ گن رہا ہوتا ہے تو تم اُن لمحوں میں کیا کرتے ہو؟ کرم الٰہی بولا کرنا کیا ہے صاحب جی اپنے بچوں کو افیم دے کر سلا دیتے ہیں۔ میں نے پوچھا اشیائے خوردنی کے ذخیرہ اندوزوں کا پیچھا تم نے کبھی کیا ہے جنہوں نے تمہاری زندگیاں اجیرن کی ہوتی ہیں۔ بولا نہیں صاحب جی۔

میں نے پوچھا تمہارے بچوں کی خوراک میں ملاوٹ کرنے والے تمہارے سامنے دندناتے پھرتے ہیں، تمہارے بچوں کو جعلی ٹیکے لگانے والے بھی اِسی معاشرے میں باعزت زندگی گزار رہے ہیں تم نے کبھی اُن کے گریبانوں پر ہاتھ ڈالا ہے؟ نہیں صاحب جی۔ اُس کی باتیں سن کر میں نے کہا :اِس کا مطلب ہے کہ تم یہ سب ظلم سہتے ہو اور کچھ کرنے کے بجائے ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہتے ہو۔ بولا :نہیں صاحب جی بالکل ایسا بھی نہیں ہے ہم سب غریب لوگ ہر سال تبلیغ کے سالانہ اجلاس میں لاکھوں کی تعداد میں شریک ہوتے ہیں اور گریہ زاری کرتے ہوئے خدا سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں پریشانیوں سے نجات دلائے۔

میں نے پوچھا کیا تمہیں پتا ہے اِس اجتماع میں وہ سب لوگ بھی شریکِ دعا ہوتے ہیں جو تم پر ظلم کرنے والوں میں سے ہیں اور جن کی وجہ سے تمہاری زندگیاں اجیرن بنی ہوئی ہیں؟ بولا مجھے علم نہیں جی، لیکن ہمیں تو صرف دعا کرنا آتا ہے، آپ بتائیں ہم غریب لوگوں کو اور کیا کرنا چاہئے؟

یہ سن کر میں نے کرم الٰہی کی طرف دیکھا جس کا چہرہ آنسوؤں سے تر ہو چکا تھا مگر میرے دل میں اس بار بھی اس کے لئے رحم کا جذبہ پیدا نہیں ہوا۔ میں نے اِسے مخاطب کیا اور کہا جب تک ظالم طبقوں کی طرح تم لوگ بھی متحد اور منظم نہیں ہوجاتے اُس وقت تک تمہارا کوئی پرسان حال نہیں ہوگا۔

میرے دل میں تمہارے لئے اُس وقت رحم پیدا ہوگا جب تم کروڑوں مظلوموں میں سے کم سے کم تیس چالیس لاکھ لوگ سڑکوں پر آجائیں اور ذخیرہ اندوزوں، ملاوٹ اور لوٹ مار کرنے والے طبقوں پر طوفان کی طرح ٹوٹ پڑیں اور اسی طرح کے ’’تبلیغی اجتماع‘‘ہر ماہ کراچی، پشاور، کوئٹہ، لاہور اور پاکستان کے دوسرے شہروں کی مرکزی شاہراہوں پر منعقد کریں اور پھر اُن اجتماعات میں خدا سے گڑگڑا کر دعا مانگیں تم دیکھنا وہ فوراً قبول ہوگی۔ میں دیکھوں گا تم پر ظلم کرنے والوں پر ’’غضب الٰہی‘‘ کیسے نازل نہیں ہوتا؟

یہ سن کر کرم الٰہی نے حیرت سے میری طرف دیکھا اور پھر اُسے اچانک کچھ یاد آیا بولا ’’سر آپ کے پاس ایک ڈرائیور ہوتا تھا، نام تو اُس کا کچھ اور تھا مگر لوگ اُس کی غصیلی طبیعت کی وجہ سے اُسے غضبِ الٰہی کہہ کر پکارتے تھے، وہ آج کل کہاں ہے‘‘؟ میں نے بے دلی سے اُس حقیر سے انسان کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا ’’وہ آج کل لمبی چھٹی پر ہے۔‘‘ پھر میں نے مصنوعی خوشدلی سے کہا ’’جب تک وہ واپس نہیں آتا تم غضب الٰہی بن جاؤ‘‘۔

آخر میں فیض احمد فیض کی ایک حسبِ حال غزل:

نہ گنواؤ ناوکِ نیم کش، دلِ ریزہ ریزہ گنوا دیا

جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو، تنِ داغ داغ لٹا دیا

مرے چارہ گر کو نوید ہو، صفِ دشمناں کو خبر کرو

وہ جو قرض رکھتے تھے جان پر وہ حساب آج چکا دیا

کرو کج جبیں پہ سرِ کفن، مرے قاتلوں کو گماں نہ ہو

کہ غرورِ عشق کا بانکپن، پسِ مرگ ہم نے بھلا دیا

جو رکے تو کوہِ گراں تھے ہم، جو چلے تو جاں سے گزر گئے

رہِ یار ہم نے قدم قدم تجھے یاد گار بنا دیا

بشکریہ روزنامہ جنگ

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •