اِک بھرم تھا سو وہ بھی گیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لبرل جمہوریت کا پاکستان میں رواج تو خیر کبھی بھی نہیں رہا۔ یہ ایسا پھل رہا ہے جسے پاکستانی عوام کو دور سے دکھایا تو ضرورگیا لیکن وہ ان کے ہاتھ کبھی نہیں آیا اور نہ ہی وہ اس کاحقیقی مزہ ہی کبھی چکھ سکے۔ جوں جوں مغربی ممالک میں رائج اس نظام کی کرتا دھرتا سیاسی وعسکری قیادت کا ہماری سیاسی اشرافیہ سے میل میلاپ بڑھنے لگا تو ہمارے حکمرانوں نے ان جمہوری اقدار کے لئے اپنی قدرافزائی کا اظہار بھی شروع کردیا جو محض زبانی جمع خرچ تک ہی رہا۔ عملی طورپر وہ ان اقدار سے کنارہ کش ہی رہے جو مغربی معاشروں میں رائج تھیں۔

مغربی اقدار کے لئے یہ فریفتگی ہم نے تب بھی دیکھی جب بے نظیر بھٹو نے وزارت عظمی کا قلمدان سنبھالنے کے بعد ’نیو لبرل ایجنڈا‘ اپناتے ہوئے ریاست کی ملکیت صنعتی اداروں اور سرکاری کاپوریشنوں کی نجکاری شروع کردی۔ یہ مغربی لبرل جمہوریتوں میں شامل شخصیات سے روابط کا شاخسانہ تھا جنہوں نے 1980 کے بعد حکومتی حجم میں کمی لانے کے اقدام کی کھل کر حمایت شروع کردی تھی۔ ضیا دور کے بعد اگرچہ پاکستان کی سیاسی اشرافیہ تقریر اور اظہار کی آزادی کی جمہوری اقدار کے ساتھ رسمی طورپر وابستگی اور ان پر یقین کا اظہار کرتی تھیں لیکن اس کے باوجود یہ حقیقت بہرحال اپنی جگہ ہے کہ ضیا دور کے بعد سیاسی حریفوں کی پکڑ دھکڑ اور انہیں جیل میں ڈالنے کا رجحان مسلسل کم ہوتا گیا۔

میں ہر گز یہ ثابت کرنے کی کوشش نہیں کررہا کہ پاکستانی سیاسی اشرافیہ کے مغربی لبرل جمہوریتوں سے رابطے بڑھنے کی وجہ سے ہی پاکستان ایک لبرل جمہوریت کے وجود میں تبدیل ہوا جن میں پاکستانی فوج کے بیرکوں میں واپس جانے کے بعد خاطرخواہ اضافہ دیکھاگیا تھا۔ میرے زیرغور پہلو اس بیرونی اثرونفوذ کا تجزیہ کرنا ہے جس سے پاکستانی حکمران اشرافیہ کبھی بھی اپنا دامن او رخود کو بچا نہیں پائی۔

کسی کو اب بھی یہ شک ہے کہ پاکستانی حکمران اشرافیہ بیرونی اثر کے سامنے ڈھیر نہیں ہوتی تو اسے چاہیے کہ وہ امریکہ میں ستمبر 11 کے رونما ہونے والے واقعات کے بعد کی صورتحال کا جائزہ ضرور لے۔ پاکستانی حکومتی حکام نوگیارہ سے پہلے میز کے پیچھے مزے سے بیٹھ کر پریس کانفرنس کیاکرتے تھے لیکن گیارہ ستمبر کے واقعات کے بعد صورتحال یہ نہ رہی۔ جنرل مشرف حکومت کے امریکی محکمہ دفاع کے طاقتور مرکز پینٹاگون، محکہ خارجہ اورخفیہ ادارے ’سی آئی اے‘ سے سرکاری سطح پر رابطے بڑھنے کے بعد تبدیلی آتی گئی۔ صدر، وزیراعظم، وزیرخارجہ سمیت حکام کی فوج ظفرموج سب ہی نے ’ڈیسک‘ کے پیچھے کھڑے ہوکر پریس کانفرنسیں شروع کردیں۔ ان کا اندازبالکل ویسا ہی ہوگیا تھا جیساکہ ان کے امریکی ہم مناصب تنہا ڈیسک کے پیچھے کھڑے ہوکر کیاکرتے تھے۔

بیرونی اثر بذات خود شاید کوئی اتنی بُری شے نہیں۔ لیکن جب اس کی قیمت آپ کی اپنی اقدار اور روایات بن جائیں تو پھر اس کا لامحالہ نتیجہ سیاسی عدم استحکام کی صورت برآمد ہوتا ہے۔ پاکستان کا وجود پانے والے برصغیر کے اس حصہ میں پارلیمانی جمہوریت کم ازکم ڈیڑھ سوسال پرانی ہے۔ بلاشبہ برطانیہ نے اپنے مفتوحہ بھارت میں پارلیمانی طرز حکومت متعارف کرایا تھا۔ ایک صدی سے زائد عرصہ تک ہم ان روایات کے ساتھ اپنی زنسگی بسر کرتے آئے ہیں اور پھر ان اقدار کو ہم نے اپنی اقداروروایات کے دھارے میں سمونے کی کوشش کی۔

مغربی لبرل سیاسی اقدار کے ساتھ ہمارا پہلا تعارف سرد جنگ کے دوران امریکی اتحادی بننے کے بعد نہیں ہوا تھا بلکہ یہ واقعہ ا صل میں برطانوی راج کے دوران رونما ہوا تھا۔ اس حقیقت پر ہمیں شرمسار ہونے کی چنداں ضرورت نہیں کہ کثیر تعداد میں جدید اور آزاد جمہوری روایات ہم نے برطانیہ سے سیکھیں اور مستعار لی ہیں۔ ہمارے دانشوروں، مفکرین، سیاسی رہنماؤں اور مذہبی سکالرز سمیت سب ہی نے برطانوی لبرل روایات کا گہرا اثر قبول کیا۔

اس ضمن میں انہیں کبھی کوئی شک نہیں رہا۔ سیاسی دھارے میں ان برطانوی جمہوری اقدار وروایات کی موجودگی پرکوئی اعتراض نہ ہونے کی سب سے واضح مثال یہ حقیقت ہے کہ ہمارے قدامت پسند مذہبی سکالرز نے پاکستان کے جنم کے بعد اس کے ابتدائی سالوں میں پارلیمانی جمہوریت کے متعارف کرائے جانے کی مخالفت نہیں کی۔ حتی کہ 1956 میں پہلے دستور کی تشکیل کے وقت بھی ایسا کوئی اعتراض دیکھنے میں نہیں آیا۔

قومی شاعر علامہ اقبال نے ”اسلامی فکر کی تشکیل نو“ کے انتہائی اہم موضوع پر اپنے فلسفیانہ خطبات میں بھی پارلیمانی نظام حکومت کو ترجیحی نظام قرار دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔ یہ خطبات کتابی شکل میں موجود ہیں۔ ان کے خیال میں جدید دور میں یہ نظام ”مفتیوں“ کی جگہ لے سکتا ہے۔ اس مثال سے برطانوی جدید جمہوری روایات کے اس گہرے اثر کی جھلک دیکھی جاسکتی ہے جس سے ہمارے مفکرین نہ صرف متاثر تھے بلکہ پاکستان کے مستقبل کے لئے بھی اسے پسند کیا۔

لیکن اب وقت بدل گیا ہے اور نئے سیاسی نظام ابھر رہے ہیں جنہیں مغربی جمہوری نظام کے متبادل کے طورپر پیش کیاجارہا ہے۔ عالمی سطح پر اور ہمارے خطے میں نئے سیاسی اتحادتشکیل پا رہے ہیں۔ ہماری حکمران اشرافیہ کے ساتھ مسئلہ یہ درپیش ہے کہ ان کے بیرونی اثر قبول کرنے کی صلاحیت پہلے سے بھی بڑھ گئی ہے۔

مغرب کی طرف دیکھیں تو وہاں ”قوم پرستی“ کی مقبول لہر ابھرتا ہوا نظریہ بن چکی ہے جس سے سب سے بڑا خطرہ خود مغربی جمہوری اقدار کو لاحق ہے۔ دنیا کے ایک طاقتور معاشی محور کے طور پر چین کا ابھرنا مغربی معاشروں میں شرح نمو میں کمی لارہا ہے۔ دنیا پر چین کا معاشی سورج چمکنے سے مغرب میں ایک طرف متوسط طبقات بیروزگاری کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں تو دوسری جانب مغربی معاشرے آزاد اور جدید آزاد جمہوری اقدار سے بھی دور ہوتے جارہے ہیں۔ اب وہاں کثیرالقومیتی یا دنیا کے دیگر خطوں سے آنے والے ’پردیسیوں‘ کی بنا پر عدم برداشت انتہاؤں کو چھونے لگی ہے۔ امریکی صدر کے منصب پر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی فتح نے مستقبل کے بارے میں کافی کچھ واضح کردیا ہے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •