صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ جنگ کے حق میں نہیں: نیویارک ٹائمز

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

صدر ٹرمپ، صدر روحانی

Reuters

اامریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے پینٹاگون کو بتایا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ جنگ کے حامی نہیں ہیں جس کے بعد اعلی امریکی سفارت کار ایران کے ساتھ کشیدگی کو کم کرنے کے راستے ڈھونڈ رہے ہیں۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق صدر ٹرمپ نے قائم مقام وزیرِ دفاع پیٹرک شیناہین سے کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ جنگ نہیں چاہتے۔

اخبار نے امریکی انتظامیہ کے حوالے سے بتایا کہ وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو نے بدھ کے روز اومان کے صدر کو فون بھی کیا تھا۔ اومان ماضی میں ایران اور امریکہ کے درمیان ثالث کے طور پر مانا جاتا ہے۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق بدھ کے روز صبح ہونے والی میٹنگ میں ایران کے ساتھ جنگ کے حوالے اپنے خیالات کا اظہار کرکے اپنی انتظامیہ میں ایران مخالف اپنے مشیروں کو پیغام دیا کہ وہ ایران پر پریشر ڈالنے کی مہم میں اتنا آگ نہیں جانا چاہتے کہ وہ دونوں ممالک میں کھلے تصادم کی شکل اختیار کر لے۔

ادھر ایران کے وزیرِ خارجہ جواد ظریف کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی کے باوجود ان کے خیال میں جنگ نہیں ہوگی۔

ان کا کہنا ہے کہ تہران جنگ نہیں چاہتا اور انھوں نے اس طرف اشارہ دیا کہ امریکی یہ نہیں سوچتے کہ وہ ایران کے ساتھ جنگ کر سکتے ہیں۔

ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ کشیدگی میں اضافے کی ایک وجہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایرانی تیل کی فروخت پر سخت تر پابندیاں لگانا ہے۔

ایران

Reuters

یہ بھی پڑھیے

کیا امریکہ ایران کے ساتھ جنگ کرنے جا رہا ہے؟

پومپیو: امریکہ ایران کے ساتھ جنگ نہیں چاہتا ہے

ایران سے خطرہ: امریکی جنگی بیڑا خلیجِ فارس میں تعینات

’ایران پابندیوں کی وجہ سے سخت دباؤ میں ہے‘

ادھر گذشتہ روز ریٹائرڈ امریکی جنرل ڈیوڈ پٹریاس نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے خیال میں واشنگٹن میں سیاسی قیادت ایران کے خلاف کسی قسم کی بھی عسکری کارروائی کے خلاف دی جانے والی تنبیہ مان جائیں گے۔

انھوں نے کہا کہ ایران کی آبادی اور اس کا حجم وہ وجوہات ہیں جن کی بنا پر ایران پر حملہ کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ایران کےلیے امریکہ یا اس کے اتحادیوں پر حملہ کرنا خود کشی کے مترادف ہوگا۔ انھوں نے کہا اگرچہ وہ نہیں سمجھتے کہ جنگ ہونے والی ہے۔

واضح رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اتوار کو کشیدگی میں اس وقت مزید اضافہ ہوا جب متحدہ عرب امارات کے پانیوں میں دو سعودی آئل ٹینکرز سمیت چار ٹینکرز کو ‘سبوتاژ’ کرنے کی کوشش کی گئی۔

امریکہ کو شبہ ہے کہ اس کارروائی میں ایران یا اس کے حمایتی گروہ شامل ہیں تاہم اس واقعہ میں ایران کے ملوث ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔

دوسری جانب تہران نے اس واقعہ میں ملوث ہونے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی تفتیش ہونی چاہیے۔

اس سے قبل امریکہ نے خطے میں اپنی فوجی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے طیارہ بردار بحری بیڑہ خلیج فارس روانہ کیا تھا۔

اس کے ساتھ اس نے عراق میں ‘غیر ضروری’ سفارتی عملے کو عراق سے نکال لیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق امریکہ میں ایران کے ساتھ جنگ کے تیار شدہ پرانے منصوبے کی جھاڑ پونچھ کی جا رہی ہے۔

ایران پر دوبارہ امریکی معاشی پابندیاں ایران کی معیشت کو بری طرح متاثر کر رہی ہیں۔ ایران نے عالمی طاقتوں کے ساتھ طے پانے والےجوہری معاہدے کے دوسرے فریقین کو خبردار کیا ہے کہ اگر ایران پر معاشی پابندیاں جاری رہیں تو وہ بھی جوہری معاہدے پر عمل درآمد ختم کرتے ہوئے یورینیم کی دوبارہ افزودگی شروع کر سکتا ہے۔ ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ کے فریقین میں امریکہ، روس، چین، برطانیہ، فرانس، اور جرمنی ہیں۔ امریکہ ایک سال پہلے یکطرفہ طور پر اس معاہدے سے نکل چکا ہے۔

ایرانی صدر حسن روحانی فوجی پریڈ کا معائنہ کرتے ہوئے

EPA
ایران نے کہا ہے کہ امریکی انتظامیہ ایک خظرناک کھیل کھیل رہے ہی ہے

صدر ٹرمپ کا اقتدار میں آنا ایک اہم موڑ تھا۔ صدر ٹرمپ نے امریکہ کو جوہری معاہدے سے علیحدہ کر کے ایران پر مکمل معاشی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

امریکی صدر نے پچھلے برس اس معاہدے سے علحیدہ ہوتے وقت کہا تھا کہ یہ معاہدہ اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا کیونکہ بقول ان کے ایران بدستور خطے میں دہشت گردی پھیلا رہا ہے۔ تاہم اس معاہدے پر دستخط کرنے والی دیگر طاقتیں اس معاہدے کو بچانے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اس معاہدے کے تحت ایران نے اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرتے ہوئے بین الاقوامی مبصرین کو دورے کی اجازت دینے کی آمادگی ظاہر کی تھی جس کے بدلے اسے عائد پابندیوں میں نرمی کا کہا گیا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 10044 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp