کیا اپوزیشن کی گرینڈ افطاری متحدہ اپوزیشن تحریک میں بدل سکے گی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس وقت حکومت اور اپوزیشن کے تعلقات کشیدہ ہیں اور وہ بھی ایسے وقت میں جب ملک کو سیاسی اور معاشی استحکام کی ضرورت ہے۔ حالات کو خراب کرنے کے لئے دونوں ہی لڑائی کی موڈ میں لگتے ہیں۔ یقیناًیہ ملک کے لئے اچھا نہیں ہے بالخصوص جب کچھ رہنما تیسری پارٹی کی مداخلت کے بارے میں باتیں کر رہے ہیں۔ لہٰذا ہم کہاں جا رہے ہیں اور حالات کو بہترکرنے کا کیا طریقہ ہے تاکہ الزامات کی جنگ لڑنے کی بجائے بڑھتے ہوئے معاشی اور سیاسی چیلنجزکے جوابات تلاش کیے جا سکیں۔

 اپوزیشن مڈٹرم انتخابات کا مطالبہ کرسکتی ہے جیسا کہ کچھ رہنماؤں کی جانب سے کہاجا رہا ہے جبکہ کچھ حکومت کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات کی تجویزدے رہے ہیں اس کے لئے اگر حکومت شروعات کرے گی تو ہی ایسا ہو گا۔ جمہوریت میں یہ وزیراعظم ہی ہوتا ہے جو مشکل حالات میں رہنمائی کرتا ہے۔ وزیراعظم عمران خان دوسری طرح سوچتے ہیں اور موجودہ حالات میں کم از کم وہ اہم معاملات پر اپوزیشن سے بات کرنے کے موڈ میں نہیں ہیں۔

آج اس پسِ منظرمیں پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی رہائش گاہ پر ”گرینڈ سیاسی افطاری“ کی بہت زیادہ اہمیت ہے لیکن یہ کہنا قبل ازوقت ہو گا کہ یہ کسی ’گرینڈ اپوزیشن الائنس‘ یا عید کے بعد حکومت مخالف کسی تحریک کا باعث بنے گی کیونکہ انھیں بھی ایک صفحے پر آنے کی ضرورت ہے۔ اس وقت بڑی جماعتیں اپنی ہی صفحات پر کام کر رہی ہیں۔ سیاسی عدم اعتماد کے پہلو نے انھیں دور کیا ہوا ہے۔ پی پی پی اور پی ایم ایل(ن) کی 2007 سے اور اب حال ہی میں ایک دوسرے پر سیاسی عدم اعتماد کی تاریخ ہے۔ دونوں نے 2018 کے انتخابات کے بعد ایک اورموقع گنوا دیا جس کے باعث پی ٹی آئی کے لئے سینٹ اور وزیراعظم کے انتخابات میں سفر مزید آسان ہو گیا۔

لہذا کافی زیادہ بسیں اور مواقع گنوانے کے بعدان کی لیڈرشپ کافی مشکل میں ہے۔ سابق وزیراعظم نواز شریف بطور مجرم جیل میں ہیں جبکہ سابق صدر آصف زرداری بھی مشکل میں ہیں اور گرفتار کیے جا سکتے ہیں۔ ان کے خاندان کو بھی کرپشن کی تحقیقات کاسامانہے۔ انھیں ’ایک صفحے‘ پر لانے کے لئے یہ ہی ایک بڑی وجہ ہوسکتی ہے۔ آج کی تقریب یقیناً میڈیا کی توجہ کا باعث بنے گی بالخصوص پی ایم ایل(ن) کی رہنما مریم نواز، جے یوآئی (ف) کے مولانا فضل الرحمٰن، اے این پی کے اسفند یار ولی، جماعتِ اسلامی کے اعلیٰ سطحی وفود کی شرکت۔ حتٰی کہ ابتدائی طور پر بلوچستان سے حکومت کے اتحادی اخترمینگل نے بھی دعوت قبول کی تھی۔

 اپوزیشن کے اتحادیوں نے اسے جی ڈے اے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا ہے اور افطار اور ڈنرکے بعد اپوزیشن نے مشترکہ حکمت عملی پر بات کی ہوگی تاکہ حکومت کو مشکل وقت دیا جائے۔ وزیراعظم عمران خان بظاہر کسی بھی مذاکرات کرنے کے موڈ میں نہیں ہیں حتیٰ کہ بگڑتی ہوئی معاشی صورتحال، مسلسل بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حتیٰ کہ قومی بجٹ کی آسانی سے مں ظوری پر بھی مذاکرات کے موڈ میں نہیں ہیں۔ گزشتہ نو ماہ میں موجودہ حکومت اسے موقع کم ہی آئے جب دونوں ایک ہی پیج پر آئے مثلاً پلوامہ حملے کے بعد اور حال ہی میں فاٹا کو کے پی میں شامل کرنے کے لئے 26 ویں آئینی ترمیم پر اور قومی اسمبلی اور خیبرپختونخواکی اسمبلی میں سیٹیں بڑھانے پر۔

وزیراعظم پہلی بار اپوزیشن کا شکریہ ادا کرنے کے لئے انھیں افطاری کی دعوت دے کر ایک آغاز کر سکتے تھے تاکہ وہ اپنی سیاسی بیانیے پر سمجھوتا کیے بغیر کشیدگی کو کم کر سکیں اور معاشی بحران پر قابو پانے کے اقدامات پر بحث کی جا سکے۔ کچھ لوگوں کا ماننا ہے کہ اب بالکل درست وقت ہے کہ عمران خان پاکستان کے کپتان بن کر دکھائیں اور محض پاکستان تحریک انصاف کے کپتان نہ بنیں۔ اس وقت حکومت ایسا کوئی اقدام اٹھانے کے موڈ میں نہیں ہے کیونکہ وہ پُراعتماد ہیں کہ نہ تو اپوزشین گرینڈ الائنس بنائے گی نہ ہی ان میں اتنی صلاحیت ہے کہ وہ حکومت کو مڈٹرم انتخابات کے لئے مجبور کرسکیں۔

 حکومت اوراس کے کچھ اتحادی سیاسی اورانتظامی دونوں اقدامات کی تجویزدیتے ہیں۔ شیخ رشید احمد، شاہ محمود قریشی، گجرات کے چودھریوں جیسے تجربہ کارسیاستدان جانتے ہیں کہ ’لڑائی جھگڑے‘ سے اکثر تیسری پارٹی کو مداخلت کرنے کا موقع ملتاہے۔ تاہم گزشتہ 40 سال میں حکومت مخالف تحریکوں کی سمت گلیوں میں احتجاج سے علامتی ’ملین مارچ‘ ، ٹرین مارچ سے 2014 کی طرز کے دھرنے تک بدل گئی ہے، جو اتنے اچھے ہوتے ہیں کہ اکثر سیاسی بحران پیدا کردیتے ہیں۔

 اپوزیشن کا موڈ دیکھنا بھی دلچسپ ہوگا۔ کیا وہ مولانا فضل الرحمان کی حکومت مخالف تحریک یعنی قومی اورصوبائی اسمبلیوں سے اجتماعی استعفیٰ دینے کی تجویزقبول کریں گے۔ اس سے قبل پی پی پی اور پی ایم ایل(ن) کی ہچکچاہٹ کے باعث جی ڈی اے نہیں بن سکا تھا۔ کیا بڑی سیاسی جماعتیں اب تیار ہیں؟ بظاہر ایسا مشکل ہی لگتا ہے۔ یہ یاد کیا جا سکتا ہے کہ پی ٹی آئی کے دھرنے کے دوران عمران خان کو بھی اس مشکل کا سامنا کرنا پڑا تھا جب اس وقت کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے کے پی اسمبلی کو تحلیل کرنے سے انکار کر دیا تھا اور آخر میں انھوں نے صرف قومی اسمبلی سے ہی استعفیٰ دیا تھا لیکن بعد میں جب 2013 کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی پر انھوں نے جوڈیشل کمیشن پر معاہدہ کیا تو استعفے واپس لے لیے تھے۔

ذرائع کہتے ہیں اپوزیشن جماعتیں مولانا کو منا لیں گی کہ یہ آخری آپشن ہوگا اور پہلے ’ملین مارچ‘ کے لئے اسلام آباد کی جانب جانا ہو گا۔ جبکہ پی پی پی مکمل طورپر تیار ہے جبکہ پی ایم ایل(ن) کی قیادت منقسم نظر آتی ہے اور وہ پیر کو اسلام آباد میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں فیصلہ کریں گے۔ دوسری جانب پی ٹی آئی اوراس کے اتحادی پُراعتماد ہیں کہ پی پی پی اور پی ایم ایل (ن) کی قیادت نیب کیسز میں جیل جائیں گے اور حکومت اور پارٹی اپوزیشن کے اقدامات پر قابوپالیں گے۔

 لیکن کیا ایسا تصادم کے بغیر ہوگا اور اگر اس کاجواب نہ میں ہے تو حکمران جماعت اور اس کے اتحادیوں کے لئے یہ کیسے بہترہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پہلے نو ماہ میں حکومت پریشان اور بغیر سمت کے نظرآئی ہے بالخصوص ’معاشی بحران‘ سے نمٹنے میں جس کے نتیجے میں ملک میں کافی زیادہ مہنگائی آ گئی۔ وہ خود سیاسی درجہ حرارت کو کم کرنے کی بجائے اپوزیشن کے موڈ میں زیادہ نظرآ تے ہیں۔ اگر آئندہ چند ماہ میں حکومت معاشی چیلنجز سے نمٹنے اور لوگوں کو ریلیف دینے کے قابل نہیں ہوئی تو معاشی تباہی پی ٹی آئی اور وزیراعظم عمران خان کے لئے سیاسی تباہی بھی ثابت ہوگی، یہ کہنا مشکل ہے کہ کیا اس کے باعث کوئی یوٹرن یا کوئی بڑا یوٹرن لینا پڑے گا۔

بشکریہ روز نامہ جنگ

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •