بے روزگار نوجوان اور ٹیسٹنگ سروسز کا جال

حالیہ مردم شماری کے مطابق پاکستان کی 64 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر کے نوجوانوں پر مشتمل ہے جن میں سے 70 فیصد تعلیم یافتہ ہیں۔ بدقسمتی سے ان ڈگری ہولڈر ز نوجوانوں کی بڑی تعداد بے روزگاری سے تنگ آکر نفسیاتی مریض بن چکے ہیں۔ یہ وہ طبقہ ہے جن کی تعلیم کے لیے ان کے والدین نے اپنا پیٹ کاٹ کر لاکھوں روپے بہتر مستقبل کی امید میں خرچ کردیے۔ اب ان نوجوانوں کی صبح اخبارات کے صفحات چاٹ کر ملازمت کے اشتہارات دیکھنے سے ہوتی ہے۔

تمام اشتہارات میں جو بات مشترک ہوتی ہے وہ ہے ”امیدوار کی قابلیت جانچنے کا ٹیسٹ“۔ یہ ٹیسٹ لینے کے لیے مختلف پرائیویٹ ٹیسٹنگ سروسز کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں اور اس کی آڑ میں امیدوار کی جیب پر ہاتھ صاف کیا جاتا ہے۔ اس وقت ملک بھر میں کئی ٹیسٹنگ سروسز کام کر رہی ہیں جن کے ذریعے نہ صرف مختلف اسامیوں بلکہ یونیورسٹیوں میں داخلے کے لیے بھی ٹیسٹ لیا جاتا ہے۔

عام طور پر ہر ادارے میں نئی لوگ بھرتی کرنے کے لیے باقاعدہ فنڈز مختص کیے جاتے ہیں لیکن اس کے برعکس ہر امیدوار کو اپلائی کرنے کے لیے پانچ سو سے لے کر ایک ہزار روپے تک کا چالان جمع کرانا پڑتا ہے جو ناقابل واپسی ہوتا ہے۔ اگر کسی نے ایک سے زیادہ اسامیوں کے لیے اپلائی کرنا ہے تو اسے ہر اسامی کے لیے علیحدہ چالان جمع کرانا ہوگا۔ چالان جمع کرانے کے بعد ہونا تو یہ چاہیے کہ آن لائن طریقے سے اپلوڈ کر دیا جائے لیکن یہاں بھی امیدوار کو مزید ذلیل کرنے کے لیے درخواست فارم کوریئر کرنا لازمی قرار دیا جاتا ہے جس پر اضافی پانچ سو روپے خرچ ہوجاتے ہیں۔

یہ خرچ اس کے علاوہ ہے جو اشتہارات اور درخواست کے پرنٹ نکلوانے، ڈاکومنٹس فوٹو کاپی کرانے اورتصویریں بنوانے پر آتا ہے۔ اس تمام بھاگ دوڑ کے بعد عموماً آ پ ٹیسٹ دینے کے لیے اہل قرار پاتے ہیں اور اگر آپ کو بھاری فیسیں بھرنے کے باوجود بھی اگر ٹیسٹ کے لیے منتخب نہیں کیا گیا تو آپ اس ضمن میں بے بس ہیں کیوں کہ ایسا کوئی نظام موجود نہیں جو آپ کی درخواست مسترد ہونے کی وجہ بتا سکے۔

ٹیسٹ کے لیے اہل قرار پانے والے طلبا ٹیسٹ کی تیاری کے لیے ہزاروں روپے خرچ کر کے مختلف اداروں کی کتابیں خریدتے ہیں اور جو اس سے بھی مطمئن نہیں ہوتے وہ ٹیسٹ کی بہترین تیاری کو یقینی بنانے کے لیے کسی اکیڈمی میں داخلہ لے لیتے ہیں جہاں انہیں سنہرے مستقبل کے خواب دکھا کر مزید لوٹا جاتا ہے۔ اس دوران ٹیسٹ کی تاریخ آجاتی ہے اور امتحانی سینٹرز کا اعلان کیا جاتا ہے۔ عموماً امتحانی سینٹرز دور دراز علاقوں میں قائم کیے جاتے ہیں جہاں خواتین کو جانے کے لیے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

پسماندہ علاقوں کے امیدوار جب ہزاروں روپے کرایہ دے کر جیسے تیسے امتحانی سینٹرز میں پہنچتے ہیں تو وہاں نئی مشکلات ان کی راہ دیکھ رہی ہوتی ہیں۔ امتحانی سینٹرز کے باہر موبائل فون جمع کرانا لازمی ہوتا ہے جس کے لیے پچاس روپے سے ڈیڑھ سو روپے تک اینٹھ لیے جاتے ہیں۔ یہی نہیں اگر کوئی ذاتی سواری پر آیا ہے تو انتظامیہ کے منظور نظر افراد پارکنگ کی مد میں بھی دوگنا دام وصول کرتے ہیں۔ عمومی مشاہدہ ہے کہ ٹیسٹ سنٹرز کا عملہ ناتجربہ کار ہوتا ہے اور ٹیسٹ کے لیے مناسب جگہ کا انتظام بھی نہیں کیا جاتا۔ کئی دفعہ ایسی شکایات بھی موصول ہوئی ہیں کہ ٹیسٹ تاخیر سے شروع کیا جاتا ہے یا جلدی لے لیا جاتا ہے جس کی وجہ سے امیدوار بہتر نتائج حاصل نہیں کر پاتے۔

اصولی طور پر پر ادارہ اس بات کا پابند ہوتا ہے کہ اعلان کردہ نصاب کے مطابق ہی ٹیسٹ مرتب کیا جائے لیکن اس ضمن میں بھی تمام اصولوں کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں اور زیادہ ترغیر معیاری اور غیر متعلقہ نصاب پر مشتمل پرچہ بنایاجاتا ہے۔ حال ہی میں ایجوکیٹرز کی اسامیوں پر عربی کے اساتذہ کی بھرتی کے لیے ٹیسٹ میں عربی کے سوالات کم اور انگریزی و سائنس کے سوالات زیادہ تھے جس کا نتیجہ یہ نکلا بڑی تعداد میں امیدوار فیل ہوگئے۔

مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ سیٹیں زیادہ تھیں اور کامیاب ہونے والے امیدواروں کی تعداد کم تھی۔ اس صورتحال سے ”نمٹنے“ کے لیے دوبارہ ٹیسٹ کے انعقاد کا اعلان کیا گیا جس کے ذریعے ایک ہی اسامیوں کے لیے دوسری دفعہ کروڑوں پر کما لیے گئے۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ سوچی سمجھی پالیسی کے تحت ایسے پرچے ترتیب دیے جاتے ہیں کہ کم سے کم امیدوار کامیاب ہوں تاکہ ان کی جیب سے فیسوں کی مد میں دوبارہ کروڑوں روپے ہتھیائے جاسکیں۔ اس مکروہ نظام کو یقینی بنانے کے لیے پیپر ری چیکنگ کی کوئی سہولت نہیں رکھی گئی۔

مزیدبرآں جب نتائج کا اعلان کیا جاتا ہے تو ویب سائٹ پر صرف حتمی نمبر ہی بتائے جاتے ہیں اور رزلٹ کی تفصیلات ظاہر نہیں کی جاتیں۔ حال ہی میں خیبر پختونخواہ میں ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کے پیپر آؤٹ ہونے کا انکشاف ہوا جس کی وجہ سے ضلع بھر میں پیپر کینسل کر دیے گئے۔ ملک کے دیگر علاقوں میں بھی کئی دفعہ پیپر آؤٹ ہونے اور کھلے عام نقل کی شکایات موصول ہوتی رہتی ہیں۔

ان واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹیسٹنگ سروسز کی شفافیت پر بھی سوالات اٹھتے ہیں کہ اگر پیپر آؤٹ ہوسکتا ہے تو اس کا مطلب رشوت اور اثرورسوخ کے بل بوتے پر مرضی کے نتائج حاصل کیے جاسکتے ہیں۔

گزشتہ سال اکتوبر میں زرعی ترقیاتی بنک کی طرف گریڈ تھری افسر زکی بھرتی کے لیے 350 اسامیوں کا اعلان کیا گیا جس کے لیے اوپن ٹیسٹنگ سروس (اؤ ٹی ایس) کے ذریعے 2 دسمبر کو ٹیسٹ لیا گیا۔ غیر مصدقہ ذرائع کے مطابق ملک بھر سے ایک لاکھ سے زائد امیدواروں نے درخواستیں جمع کرائیں جس کی مد میں ادارے کو کروڑوں روپے کی آمدن ہوئی۔ تادم تحریر چھ ماہ گزر جانے کے باوجود بھی اس ٹیسٹ کے نتائج کا اعلان نہیں کیا گیا اور نہ ہی اسامیوں کے بارے میں کوئی اطلاع دی گئی ہے۔

امیدواروں کے مطابق جب زرعی ترقیاتی بنک سے رابطہ کیا جاتا ہے تو او ٹی ایس انتظامیہ سے رابطہ کرنے کا کہتے ہیں جبکہ اوٹی ایس کی طرف سے نتائج میں تاخیر کی وجہ زرعی ترقیاتی بنک کے ڈائریکٹر کو قرار دیا جارہا ہے۔ تکلیف دہ بات یہ ہے کے ٹیسٹنگ سروس اور زرعی بنک کے گھن چکر میں غریب امیدوار پس کر رہ گئے ہیں لیکن ان کی فریاد سننے والا کوئی نہیں ہے۔

یہ ٹیسٹنگ سروسز خود کو غیر منافع بخش ادارے کے طور پر ظاہر کرتے ہیں لیکن درحقیقت یہ بے روزگار نوجوانوں کی جیب پر ڈاکہ ڈالنے کے علاوہ ملک و قوم کا سرمایہ بھی لوٹ رہے ہیں۔ سابق وزیر خزانہ اسحق ڈار نے اپنے دور میں انکشاف کیا کہ کروڑوں روپے کمانے والی ان ٹیسٹنگ سروسز نے حکومت کو کبھی ایک روپیہ بھی ٹیکس ادا نہیں کیا۔ نیب اور ایف آئی اے کی تحقیقات کے مطابق یہ ادارے نہ صرف مالی بے ضابطگیوں، ٹیکس چوری، کرپشن میں ملوث پائے گئے ہیں بلکہ نیشنل ٹیسٹنگ سروس کے سابق سربراہ ڈاکٹر ہارون رشید کی ڈگری بھی جعلی ثابت ہوئی ہے۔

حرفِ آخر یہ ہے کہ ٹیسٹنگ سروسز کا نظام ایک مافیا کی صورت اختیار کرچکا ہے جو بے روزگار نوجوانوں کے لیے مسائل میں مزید اضافہ کا باعث بن رہا۔ گردشِ دوراں کے ستائے ہوئے نوجوان جو اپنی زندگی اور جمع پونچی نوکری کی امید میں لٹا دیتے ہیں ان کے لیے ٹیسٹنگ سروسز کے بھاری بھرکم چالان گھناؤنا مذاق ہے۔ موجودہ حکومت کو اقتدار تک پہنچانے میں سب سے زیادہ کردار نوجوانوں کا ہے جنہوں نے روزگار اور بہتر مستقبل کی امید پر انہیں ووٹ دیا۔

وزیر اعظم عمران خان نے بھی ہمیشہ نوجوانوں کی فلاح اور روزگار کی بات کی ہے لیکن اب وقت آگیا ہے کہ ایک کروڑ نوکریوں کے خواب کو عملی جامہ پہنانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جائیں۔ اس کے لیے کئی ٹیسٹنگ سروسز کے نظام کو ختم کر کے ایک ٹیسٹنگ سروس متعارف کرائی جائے جو امیدواروں پر بھاری بھرکم فیسوں کا بوجھ ڈالنے کے بجائے صحیح معنوں میں ان کی قابلیت کا امتحان لے۔ کسی ادارے کا حصہ بننے والے لوگ ہی اس کی ترقی کا ذریعہ ہوتے ہیں اس لیے ٹیسٹ اور انٹرویوز میں شفافیت کے عمل کو یقینی بنایا جائے تاکہ قابل اور حقدار لوگ ہی جا ب حاصل کرسکیں۔