حسرت موہانی اور سیاست دانوں کی جیل یاترا

سیاست دانوں کے جیل کاٹنے کی ریت اس خطے میں بہت پرانی ہے۔ تقیسم ہند سے قبل اور اس کے بعد سیاستدانوں کا پس زنداں ہونا ہمیشہ سے فخر و مباہات کے زمرے میں گردانا گیا ہے۔ تقسیم ہند سے پہلے ایک سامراجی قوت کے سامنے ڈٹ جانے والے سیاستدان حریت فکر کے جذبے سے سر شار ہو کر ایک نظریے پر کاربند تھے اور اس کی پاسداری میں وہ ترغیب اور تادیب سے بے پروا ہو کر جم کر کھڑے ہوئے۔ پاکستان کے قیام کے بعد سیاستدانوں کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیلنے کی ریت بھی روز اول سے ایسی پڑی کہ آج تک سیاست دانوں کو جیل یاترا کرنی پڑ رہی ہے۔

اگر چہ پس زنداں جانے والے سیاستدانوں میں بہت سے نظریاتی سیاست کے علمبردار گزرے ہیں کہ جنہیں اپنے نظریات کی پاداش میں جیل کی سیر کرنی پڑی لیکن ان میں ایسے بھی ہیں کہ جنہیں مالی بے ضابطگیوں اور جرائم کے نتیجے میں جیل کی ہوا کھانی پڑی۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اس ملک میں کسی بھی مقتدر طبقے کے مقابلے میں سیاستدانوں کو ہی جیل کی سختیاں زیادہ جھیلنی پڑیں۔ آج بھی کچھ سیاستدان پابند سلاسل ہیں اور ماضی قریب میں بھی سیاستدانوں کو جیل کی سیر کر نا پڑی۔

آصف علی زرداری گیارہ سال جیل بھگت چکے ہیں اور دوبارہ انہیں جیل بھجوانے کی تیاریاں ہو رہی ہیں جس کا انداذہ قومی احتساب بیورو کے منی لانڈرنگ کیسز میں عدالتوں میں ان کے خلاف زیر سماعت کیسوں سے لگایا جا سکتا ہے۔ زرداری صاحب جیل جانے کے خواہشمند بھی ہیں تاکہ انہیں عوامی ہمدردیاں حاصل ہو سکیں جو وہ بری طرز حکمرانی کی وجہ سے کھو چکے ہیں۔ میاں نواز شریف اس وقت بدعنوانی اور معلوم ذرائع سے زیادہ اثاثے بنانے کے کیسیز میں سزا یافتہ ہو کر ایام اسیری گزار رہے ہیں۔

ان کی سزاؤں پر رائے زنی ہوتی رہتی ہے اور ملک میں اس پر رائے منقسم ہے کہ انہیں واقعتاً کردہ گناہوں کی پاداش میں سزا ملی یا بقول ان کے ہمدردوں اور حامیوں کے انہیں یہ سزا ان مقتدر حلقوں کے اشارے پر ملی جن سے دوران حکومت ان کے تعلقات کشیدہ ہو گئے۔ نواز شریف اس وقت کوٹ لکھپت جیل میں سزا کاٹ رہے ہیں اور انہیں طبی بنیادوں پر چھ ہفتوں کی ضمانت بھی ملی جس کی منسوخی پر وہ دوبارہ جیل جا پہنچے۔ میاں نواز شریف کو جیل میں صحت کی سہولیات میسر ہیں اور ان کے معائنے اور ٹیسٹوں کے لیے ڈاکٹروں کا پینل بھی ہمہ وقت تیار ہے۔

آخری اطلاعات تک جیل میں ان کے سیل میں ائیر کنڈیشنر بھی لگا دیا گیا ہے تاکہ گرمی کے ایام میں انہیں دوران اسیری بے آرامی اور تکلیف کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ سیاستدانوں کی جیل یاترا کا ذکر اس لیے کرنا پڑا کہ مئی کے مہینے میں مولانا حسرت موہانی راہی ملک عدم ہوئے۔ مولانا حسرت تحریک آزادی کے ایسے مجاہد اور رہنما تھے کہ جن کا کردار تاریخ کے اوراق پر روشن لفظوں میں ثبت ہو چکا ہے۔ مولانا نے اپنے نظریات کے پاداش میں کیا قیمت چکائی وہ ان کی بار بار کی اسیری ہے جو ایک سامراجی قوت کے ہاتھوں ان کا مقدر بنی۔

حسرت موہانی کا سیاسی قد کاٹھ اور ان کی بصیرت کس درجہِ بلند تھی اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب انہوں نے ”سوراج“ کا نعرہ لگایا تو اس وقت کانگریس بھی اس نعرے کو اپنانے سے گریزاں تھی اور بعد میں مسلم لیگ میں شامل ہو کر انہوں نے آزادی کی بات کی تو مسلم لیگ بھی ان کی اس پالیسی کو اپنانے سے گریز پا تھی اگرچہ دونوں جماعتوں کو بعد ازاں اس پر کار بند ہونا پڑا۔ اپنے اخبار ”اردو معلی“ میں ایک مضمون کی اشاعت پر انہیں بغاوت کے مقدمے کا سامنا پڑا اور انہیں سزا سنا کر جیل بھیج دیا گیا۔

اپنے ایام اسیری کی روداد انہوں نے ”مشاہدات زنداں“ کی صورت میں قلم بند کی۔ مولانا کے جیل کے شب و روز کن سختیوں اور تکالیف میں گزرے اور کس طرح انہیں ایذا پہنچانے کے کیا ہتھکنڈے استعمال کیے گئے اس کا عشر عشیر بھی آ ج کے سیاستدان کو بھگتنا پڑے تو وہ سستی شہرت کے حصول کے لیے جیل جانے کی تمنا کا خیال دل سے نکال دیں۔ مولانا حسرت موہانی رقم طراز ہیں ”سزا کا حکم پاتے ہی جیل پہنچے تو ایک لنگوٹ، جانگیا اور ایک کرتہ، ٹوپی پہننے کے لیے ایک ٹکڑا ٹاٹ کا اور ایک کمبل بچھانے اوڑھنے کے لیے ملا۔

شروع میں اتنے قلیل سامان سے تکلیف تو محسوس ہوئی لیکن پھر ایک عجیب و غریب سبق حاصل کیا کہ اگر انسان ہوا و ہوس ترک کر دے تو اس کی ضرورتیں کم ہوں تو وہ با آسانی سے فراہم ہو سکتی ہیں۔ البتہ ابتدا ء میں حالت نیم برہنگی نماز کے فریضے کے ادا کرنے میں دل میں تکلیف اٹھتی تھی لیکن رفتہ رفتہ اپنی مجبوری اور بے بسی کے احساس نے اس کا عادی بنا دیا ”۔

یہ بات بھی حسرت کی زندگی کے ساتھ ہی مخصوص ہوئی کہ قید کا زمانہ انہوں نے چکی پیستے گزار دیا اور وہ تمام رعایتیں جو جیل کے قواعد کی رو سے انہیں ملنی چاہئیں تھیں وہ ان سے محروم رکھے گئے۔ جیل کی سخت ترین مشقت یعنی چکی پیسنے سے پہلے روز ہی سابقہ پڑا اور یہ جبری مشقت جیل میں آخری ایام تک ان کا مقدر بنی رہی۔ اگرچہ انہیں تحریر اور مضمون نویسی کی اجازت نہ تھی اور جیل حکام نے سختی سے حسرت موہانی کو کاغذ کا پرزہ تک دینے پر سختی کر رکھی تھی لیکن اس کے باوجود انہوں نے ایام اسیری میں بہترین دیوان مرتب کیا۔ ایک جانب چکی کی مشقت اور دوسری جانب جیل حکام کی نظروں سے چھپا کر دیوان مرتب کرنے پر ان کا معروف شعر زبان زد عام ٹھہرا

ہے مشقِ سخن جاری، چکی کی مشقت بھی

اک طرفہ تماشا ہے حسرت کی طبیعت بھی

کھانے میں صبح چھٹانک ڈیڑھ چھٹانک چنے، کھانے میں جوار، باجرہ، ماش اور گیہوں کے مخلوط آٹے کی کچی روٹیاں جن میں گیہوں کی مقدار سے کچھ کم مٹی ملی ہوتی۔ جیل کی سخت مشقت سے مٹی تو کیا کنکر بھی ہضم ہو جاتے ورنہ کسی آزاد شخص کا معدہ اس روٹی کو قبول نہ کرتا، شام کے کھانے میں چولائی کا ساگ ملتا تھا کہ جو پھینکے جانے پر کوے بھی نہ کھاتے۔ رات کو پا خانے کا کوئی معقول بندوست نہیں تھا جس سے بعض اوقات رات بھر تکلیف رہتی۔ صبح جب بارک کا دروازے کھلتا تو سب قیدی پاخانے کے لیے جاتے لیکن سیدھے سادھے قیدیوں کو آخر وقت تک انتظار کرنا پڑتا۔

انہی مشاہدات کی بنیاد ہر حسرت موہانی کہا کرتے تھے کہ لوگ اب جیل جانا بڑا کمال سمجھتے ہیں حالانکہ اب وہ صرف پابندی ہے۔ اگر لوگوں کو وہ حالات درپیش ہوں جو میں نے دیکھے تو انہیں پتا چلے کہ جیل کیا چیز ہے؟

حسرت نے کہا ”اس آزمائش اور ستم گری سے گزرنے سے حق کے کام کو کر گزرنے کا ولولہ اور بڑھ گیا جو برسوں کی ریاضت و مجاہدے سے حاصل نہیں ہوتا۔

سید سلمان ندوی نے حسرت کی بابت کہا ”اس عہد پرفریب میں حسرت سے زیادہ کسی حق گو پر آفتاب کی کرن نہیں چمکی“