بابائے لیاری رحیم بخش آزاد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لیاری کا آپ کے ذہن میں نہ جانے کیا تصور ہو گا لیکن میں نے جب بھی لیاری کے بارے میں سوچا تو مجھے رحیم بخش آزاد بلوچ یاد آتا تھا (آتا ہے) جسے ہر دور میں اس کےکام سے متاثر ہو کر ہر آنے والی نسل ’’ابا‘‘ کہتی تھی۔ میں اسے بابائے لیاری کہوں گا۔ غریب اور مقہور لیاری کا ابا رحیم بخش آزاد طویل علالت کے بعد سنگھو لین کی اس پتلی گلی والے گھر میں اس دنیا سے گزر گیا جسے اس نے تبدیل کرنے کے خواب دیکھے تھے۔

مجھے نہیں معلوم کی اسی لیاری کی گلی میں پیدا ہوکر بڑا ہونے والا میرا نوجوان صحافی دوست رزاق سربازی اب یورپ میں کس جگہ ہوگا لیکن رحیم بخش آزاد بلوچ نے اس نسل کو خواب دکھائے تھے۔ اس نے لیاری اور اس کی اس گلی کو مر کر چھوڑا۔ لیاری کی وہ تاریک گلیاں جن میں رحیم بخش جیسے لوگ تپتے سورج جیسے رہتے تھے، تین ایک مورتی کا حصہ ہیں۔ جب بھی میں نے لیاری یا بلوچ تاریخ، زبان ادب ثقافت و سیاست کا سوچا تو مجھے یہ تین مورتیاں رحیم بخش آزاد، زبانی تاریخ داں یوسف نسقندی اور لال بخش رند المعروف لالا یاد آئے۔

روس کے ٹوٹنے سے اس کے بڑوں کے بتوں سمیت بہت کچھ ٹوٹا تھا لیکن یہ لوگ ٹوٹے نہیں تھے۔ میں نے بیس سال قبل لالا یا لال بخش رند کو ان کے گھر چاکیواڑہ کے پاس والی گلی میں دیکھا تھا۔ جہاں ان کی بیٹھک میں تب بھی اسٹالن، لینن اور مارکس کے بڑے فریموں والے پورٹریٹ لگے ہوئے تھے اور لالا بلوچ روایت کے مطابق ان کی تصاویر کے نیچے فرشی نشست جماتے تھے۔

اس سے کئی دن قبل برصغیر کے بٹوارے کے سلسلے میں جب میں یوسف نسقندی سے ان کے گھر گل محمد لین میں جاکر ملا تھا تو وہ مجھے تقسیم کے وقتوں کی زبانی تاریخ سناتے تھے، ایسا لگتا تھا کہ میں صرف لیاری کی ان گلیوں سے نہیں زندہ سانس لیتی سندھ کی تاریخ سے مل رہا ہوں۔

یوسف نسقندی مجھے وہ سب کچھ بتاتے تھے جو انہوں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ جب جی ایم سید مسلم لیگ سندھ کے صدر تھے اور جب سر عبداللہ ہارون کے ساتھ جی ایم سید نے جناح صاحب کا کراچی میں پہلا جلسہ نپیئر روڈ پر کروایا تھا اس وقت جی ایم سید مسلم لیگ کے لیڈر کی حیثیت سے اتنے مقبول تھے کہ اگر ان کے نام پر کوئی بجلی کا کھما یا درخت کھڑا کر دیا جاتا تو لوگ اس کو ووٹ دے دیتے۔

یوسف نسقندی بتا رہا تھا کئی برس پہلے انگریزوں نے لیاری میں کس جگہ قادر مکرانی کو پکڑ کر پھانسی پر لٹکایا تھا۔ لیکن قادر بخش بلوچوں اور لیاری کے لوگوں کا انگریزوں کے خلاف ہیرو بن گیا تھا۔ انگریزوں نے بلوچوں کے اس ہیرو کا حقارت سے کالو مکرانی نام رکھا تھا۔

مجھے تب سندھی لیکن بلوچ نظریہ رکھنے والا قادر بخش نظامانی یاد آیا جس کی قبر بھی لیاری میں ہے کہ اس نے وصیت کی تھی کہ اسے لیاری میں دفن کیا جائے۔ جبکہ تقسیم سے قبل شمالی ہندوستان میں پیدا ہونے والے اور تمام زندگی ’’انقلابی جہدوجہد‘‘ کرنے والے عزیز سلام بخاری جس نے تمام عمر سندھ کے ہاریوں اور ان کی اولادوں کے ساتھ کام کیا، بھی اپنی وصیت کے مطابق قادر بخش نظامانی کے گائوں ٹنڈو قیصر میں دفن ہیں۔

آج سے بیس سال قبل جب لیاری کے آٹھ چوک کی ایک گلی کے گھر میں معروف فوٹو گرافر محمد علی قادری لال بخش رند ’’لالا‘‘کی کیمرے سے تصاویر لے رہا تھا تو میں سوچ رہا تھا کہ ماسکو جیسے شہروں کی گلیوں سے ہو سکتا ہے لالے کے بڑوں (یعنی لینن، اسٹالن اور مائو وغیرہ) کے مجسمے سڑکوں پر گھسیٹے جا چکے ہوں لیکن آٹھ چوک لیاری کے اس گھر میں لالا کی بیٹھک میں اب تک ان کی وہی اہمیت ہے۔ لال بخش رند 1973ء میں بھٹو حکومت کے خلاف بلوچ مزاحمت میں ’’حیدر آباد سازش کیس‘‘ کا ملزم تھا ۔

یوسف نسقندی، لال بخش رند اور رحیم بخش آزاد۔ لیاری کی سہ مورتی، رحیم بخش نے اپنے سارے سرمائے سے آرٹ اور ادب پر کتابیں اکٹھی کیں۔ ایک سے ایک کتاب۔ اب میں سوچ رہا ہوں کہ رحیم بخش کے بغیر اس کے کمرے میں پلنگ پر بکھری کتابیں اور کمرے کی دیواریں ایک دوسرے کو گھور رہی ہوں گی کہ ان کو دیکھنے والا اور پڑھنے والا کہاں گیا۔

وہ سب لوگ کہاں گئے جو اس کمرے میں اس سے بلوچ تہذیب و تمدن، زبان، ادب اور سیاست سیکھنے اور سمجھنے آتے تھے۔ فیصل ایدھی اور اس کے چند اعزاء اور دوستوں کے علاوہ اس کے جنازے میں وہ تمام لوگ کیوں نہ شریک ہوئے جن کے علم میں اضافہ کرنے کے لئے رحیم بخش آزاد ہمہ وقت تیار رہتا تھا، لیاری سے بلوچستان تک لوگ اسے ’’استاد‘‘ کہتے تھے۔ رحیم بخش آزاد بلوچ نے اپنے بیٹے کا نام انقلابی حسن ناصر کے نام پر رکھا تھا۔

کراچی میں لیاری کا وہی مقام تھا جو نیو یارک میں ہارلیم کا تھا۔ سماجی و سیاسی حوالوں سے نشاۃ ثانیہ جس نے پورے سندھ اور ملک کی سیاست پر بھی اپنے اثرات چھوڑے، جس طرح امریکہ میں شہری حقوق و آزادیوں کی ہارلیم کی نشاۃ ثانیہ یا نئے جنم کی تحاریک نے تمام امریکی کلچر، ادب و سیاست کو متاثر کیا تھا۔

گزشتہ ہفتے اس کے مشہور اپولو تھیٹر میں جہاں مائیکل جیکسن نے اپنے کیرئیر کا آغاز کیا تھا، میں پین امریکہ رائٹرز کے آرتھر ملر ایوارڈ کی تقریب سے خطاب کرنے ارون دھتی رائے پہنچی ہوئی تھی جو مودی کے بھارت کے ضمیر کو بہرحال چرکے لگاتی رہتی ہے۔ وہ لیاری جو لال بخش رند، یوسف نسقندی، عمر کوچ، رحیم بخش آزاد، نادر شاہ عادل، بلوچ شاعرہ بانل دشتیاری، رمضان بلوچ، صدیق بلوچ، لطیف بلوچ، نون میم دانش، ارمان بلوچ کے نام سے جانا جاتا تھا، گینگ وارز کے حوالے سے جانا جانے لگا۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •