ایف اے ٹی ایف سے جڑی پاکستان کی مشکلات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

قومی سطح پر رواں مہینے میں تین ایسے اہم واقعات رونما ہوئے جن کے دور رس اثرات مرتب ہونے جارہے ہیں۔ سب سے پہلے یکم مئی کو اقوام متحدہ نے کالعدم جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر کو دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کردیا ہے۔ ماضی کے برعکس اس بار چین نے مسعود اظہر کا نام اس فہرست میں ڈالنے کے خلاف ویٹو کا اختیار استعمال نہیں کیا۔ دوسرا اہم واقعہ 11 مئی کو رونما ہوا کہ جس میں وزارت داخلہ نے کالعدم جیش محمد اور کالعدم جماعت الدعوۃ سے منسلک کم و بیش 11 تنظیموں پر پابندی عائد کردی۔

ان تنظیموں کی سرگرمیوں کا مرکز پنجاب اورسندھ کے مختلف علاقے تھے۔14اور 15مئی کی درمیانی شب لاہور سے کالعدم جماعت الدعوۃ کے رہنما ڈاکٹر پروفیسر عبدالرحمان مکی کی گرفتاری رواں مہینے میں رونما ہونے والا تیسرا اہم واقعہ ہے۔ انہیں چندروزقبل گجرانوالہ میں اشتعال انگیز تقریر کرکے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کو تنقید کا نشانہ بنانے اور مبینہ طور پر اپنی جماعت کے لئے چندہ مانگنے کی پاداش میں پابند سلاسل کیا گیا ہے۔

اوپر ذکر کئے گئے تین واقعات ریاست پاکستان کی طرف سے عالمی دبائو کے نتیجے میں دہشت گردی و انتہاپسندی کی روک تھام کے لئے عملی اقدامات کے طور پر چین میں ایشیا پیسفک گروپ کی ٹیم کو پیش کئےگئے ہیں، جن کے ساتھ پاکستان کے دس رکنی وفد نے 15 مئی سے 18 مئی تک سہ روزہ مذاکرات کئے۔ ان مذاکرات کی روشنی میں پاکستان پرعالمی سطح پر پابندیاں لگانے یا نہ لگانے کا حتمی فیصلہ اگلے چند ہفتوں میں ہوجائے گا۔

عالمی دباو پر کئے جانے والے یہ اقدامات اپنی جگہ لیکن اب اس سارے معاملے کا ایک اہم داخلی پہلو بھی دیکھ لیں۔ کالعدم جماعت الدعوۃ افرادی قوت کی عددی حیثیت کے اعتبار سے ملک کی سب سے بڑی تنظیم رہی ہے جبکہ انسداد دہشت گردی کے ماہرین کالعدم جیش محمد کو سب سے خطرناک تنظیم شمار کرتے ہیں۔ پڑوسی ممالک دونوں جماعتوں پر دہشت گردی میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔ دونوں جماعتوں کی قیادت اور کارکنان عمومی طور پر پاکستان میں دہشت گردی یا جرائم کے کسی قابل ذکر واقعے میں ملوث نہیں رہے۔اِس لئے وہ اپنے خلاف ہونے والی کارروائی پر کرب کا شکار ہیں۔

تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ ماضی میں دونوں جماعتیں افغانستان اور بھارتی مقبوضہ کشمیر میں ہماری جنگ لڑتی رہی ہیں۔ ان جماعتوں اور ان کے کارکنوں کو پھلنے پھولنے کا موقع کوئی اور نہیں ہم دیتے رہے ہیں اور اب ان جماعتوں کے خلاف کارروائیاں بھی ہم ہی عمل میں لارہے ہیں۔ اگرچہ ہم یہ اقدامات دبائو اور عالمی مجبوریوں کے باعث کر رہے ہیں لیکن سوچئے کہ کیا اس اقدام سے ان جماعتوں میں ردعمل پیدا نہیں ہوگا؟

سچ تو یہ بھی ہے کہ ان کالعدم جماعتوں میں شامل نوجوانوں کو ہم نے تربیت دی، بندوق پکڑوا کرانہیں لڑنا سکھایا اور ایسا سب کرنے کے بدلے میں ہم نےان کی عزت افزائی کی اور انہیں ہرطرح کا تحفظ فراہم کیا۔ اب ہم خود ان نوجوانوں کے ہاتھ سے بندوق چھین کر اُن کے خلاف مقدمات درج کر رہے ہیں۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایسے افراد کے گھر کا چولہا بھی یہی کالعدم جماعتیں جلاتی تھیں۔ ان نوجوانوں اور ان کے اہل خانہ کے نان نفقے کا بندوبست بھی انہی کے ذمے تھا جنہیں اب کالعدم قرار دے کر ان کے آپریشنز بند کئے جارہے ہیں۔ ہمیں اِن کی نگہداشت اور اُنکی اصلاح کا بند و بست بھی کرنا ہو گا۔

10 مئی کو وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وزیراعظم ہاؤس میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں وزیرداخلہ بریگیڈیئر ریٹائرڈ اعجاز شاہ، سیکرٹری داخلہ میجر ریٹائرڈ اعظم سلیمان اور دیگر متعلقین نے بھی شرکت کی۔ یہ وہی اجلاس ہے جس میں کالعدم جماعت الدعوۃ وجیش محمد سے منسلک ذیلی تنظیموں پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ میری اطلاعات کے مطابق اس اجلاس میں ان تنظیموں سے جڑے افراد کی ’’ڈی ریڈیکلائزیشن‘‘بھی ایجنڈے میں شامل تھی ۔

ان تنظیموں کی عام زندگی میں بحالی کے کسی منصوبے کوحتمی شکل دی جانی چاہئے مگر ایسا نہ ہو سکا۔ ہم تو کوئی فیصلہ نہ کرسکے مگر دنیا اپنے کام جاری رکھے ہوئے ہے۔ چین میں ایشیا پیسفک گروپ کے فورم پر پاکستان کی طرف سے کالعدم جماعتوں کے خلاف کاروائیوں کے بارے میں آگاہ کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں کالعدم جماعتوں کے ساتھ مجموعی طورپرلگ بھگ 400 افراد منسلک تھے جبکہ ان جماعتوں کی ملکیت 700 پراپرٹیز قبضے میں لے لی گئی ہیں۔

ایشیا پیسفک گروپ کے ارکان پاکستان سے کالعدم حقانی نیٹ ورک کے خلاف کاروائی پربھی مطمئن نہیں۔ پاکستان سے کہا گیا ہے کہ اب تک کالعدم تنظیموں کے رہنماوں اور کارکنوں کے خلاف مقدمات کیوں نہیں بنائے گئے ۔

ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ہم ان کالعدم جماعتوں کے خلاف کارروائی سے قبل ان کی قیادت اور کارکنوں کی عام زندگی میں بحالی کے لئے کوئی ٹھوس منصوبہ تیار کرتے تاکہ ان کی توہین ہوتی نہ رزق چھنتا۔ اگر ایسا سرکاری سطح پرممکن نہیں تھا تو اس ضمن میں اس کام میں جتی مقامی غیر سرکاری تنظیموں کی مدد ہی لے لی جاتی۔ مگر ایسا کچھ نہیں ہوا۔

اب ایک طرف پاکستان سے ان کالعدم تنظیموں کے رہنمائوں اور کارکنوں کے خلاف مقدمات درج کرنے کا مطالبہ ہے تو دوسری طرف اس بات کا خطرہ کہ اگر ایسا کیا گیا توان میں سے کچھ نوجوان اپنی ہی ریاست اور لوگوں کے خلاف ہتھیار نہ اٹھا لیں۔ اگر ایسا ہوا اور پاکستان میں خون خرابہ دوبارہ شروع ہوگیا تو اس کا ذمہ دار کوئی اور نہیں ہم خود ہوں گے۔ کالعدم تنظیموں کے خلاف عالمی دبائو میں کسی بحالی منصوبے کے بغیر کی گئی ان کارروائیوں نے پاکستان کو واقعی ایک نئی مشکل میں ڈال دیا ہے۔

بہتر یہی ہے کہ ہم کالعدم تنظیموں کی قیادت اور کارکنان کی عام زندگی میں بحالی کا فوری منصوبہ تیار کرکے عالمی برادری کو اس پر اعتماد میں لیتے ہوئے اس پر عمل کریں ورنہ مشکل تو آنکھیں بند کرنے سے نہیں ٹلتی۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
––>