بی جے پی کی کامیابی اور جمہوریت کا مستقبل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کیا بھارت کے عوام نے اپنا ہاتھ ہندو انتہا پسندی کے ہاتھ میں دے دیا ہے؟
کیا جنوبی ایشیا بدستور اس مذہبی سیاست کی گرفت میں ہے جس نے تقسیمِ ہند کی بنیاد رکھی؟
کیا جمہوریت کو ایسے عوارض لاحق ہو گئے ہیں جن کے باعث، اس کا مستقبل خدشات میں گھر گیا ہے؟
کیا انسان کا فکری ارتقا محض ایک واہمہ تھا جو واقعات کے چند تھپیڑوں کو برداشت نہ کر سکا؟
بی جے پی کی کامیابی نے سیاسیات کے ایک طالب علم کے لیے بہت سے سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سیاسی واقعات دراصل ان نظریات کو پرکھنے کا ایک ذریعہ ہیں جو ذہنِ انسانی میں نمو پاتے اور ایک وقت کے بعد مسلمات کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ سماجی و سیاسی تبدیلیاں اگر ان نظریات کی تائید میں نہ کھڑی ہوں تو ان کے بارے میں شکوک سر اٹھانے لگتے ہیں۔ امریکہ، یورپ، پاکستان اور اب بھارت میں ہونے والے انتخابات نے نیشنلزم، سیکولرازم اور جمہوریت سمیت بہت سے نظریات کو معرضِ امتحان میں لا کھڑا کیا‘ جن کو مسلمات کی حیثیت حاصل ہو گئی تھی۔
چند باتوں سے انکار ممکن نہیں۔ ایک یہ کہ بی جے پی، آر ایس ایس کا سیاسی چہرہ ہے۔ گویا اس ہندو انتہا پسندی کا سیاسی اظہار ہے جو مسلمان تو درکنار، گاندھی جیسے ہندو مہاتما کو برداشت کرنے پر بھی آمادہ نہیں جو مسلمانوں سے اظہارِ ہمدردی کر بیٹھے۔ دوسرا یہ کہ مذہب کی بنیاد پر ہند کی تقسیم، ہندو اکثریت کی یادداشت کا انمٹ حصہ ہے‘ جس سے وہ جان چھڑانے پر آمادہ نہیں۔ تیسرا یہ کہ ان انتخابات میں عوام کی غیر معمولی تعداد (67 فیصد) نے حصہ لیا ہے اور انتخابی عمل کو بھی فی الجملہ شفاف مانا گیا ہے۔
ہم جس عہد میں زندہ ہیں، اس میں تینوں باتیں اجنبی ہیں۔ دنیا بھر میں، اب یہ کہا جاتا ہے کہ انتہا پسندی، بالخصوص مذہبی انتہا پسندی کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ انسان نے اسے مسترد کر دیا ہے اور نتیجتاً مذہب بھی اجتماعی فیصلوں سے غیر متعلق ہو گیا ہے۔ انسان تہذیبی و مذہبی تکثیریت (Pluralism) کے عہد میں داخل ہو چکا‘ جس میں تہذہبی و مذہبی نرگسیت کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ پھر یہ کہ انسان ماضی کی گرفت سے نکل رہے ہیں۔ مشرقی یورپ اور مغربی یورپ میں فاصلے مٹ گئے۔ پرانے حریف آج کے حلیف ہیں۔ یہ بھی کہا گیا کہ جمہوریت پر عالمِ انسانیت کا اجماع ہو گیا کہ اس سے بہتر سیاسی نظام انسانی عقل دریافت نہیں کر سکا۔
بھارت میں بی جے پی کی کامیابی نے، کیا ان سب دعووں اور تہذیبی ارتقا کو رد کر دیا ہے؟ کیا نیشنلزم بیسویں صدی کی طرح، آج بھی توانا ہے؟ کیا انسان آج بھی رنگ و نسل کی بنیاد پر سوچتا ہے اور اس کا اصل مسئلہ شناخت ہے؟ کیا جمہوریت ایک واہمہ ہے جو فی نفسہ عوامی آمریت ہی کی ایک صورت ہے ؟ کیا انسان کبھی ماضی کی گرفت سے نہیں نکل سکتا؟ سیاسیات کا کوئی طالب علم، ان سوالات سے صرفِ نظر نہیں کر سکتا۔
یہ معلوم ہے کہ جمہوریت نے سرمایہ دارانہ نظام کی کوکھ سے جنم لیا ہے۔ جمہوریت اگرچہ ارتقا سے گزرتی رہی، اس نے مگر سرمایہ دار کے خادم ہی کا کردار ادا کیا۔ سرمایہ دار نے ہمیشہ اسے اپنے مفادات کے لیے استعمال کیا ہے۔ اس سفر میں ایسے مراحل بھی آئے جب سرمایہ داری کو اپنے مزاج کے بر خلاف عوام کو بعض مراعات دینا پڑیں۔ انہیں سرمایہ دار نے اپنی بقا کی ناگزیر ضرورت کے تحت قبول کیا۔
یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ انسانی تاریخ میں کوئی دور ایسا نہیں آیا‘ جب کسی علاقے میں عوام کی حکومت قائم ہوئی ہو۔ تختِ حکمرانی ہمیشہ اعیان و خواص ہی کے درمیان گردش کرتا رہا ہے۔ جمہوریت میں یہ حق عوام کو دے دیا جاتا ہے کہ وہ ان اعیان میں سے کسی ایک کا انتخاب کر لیں۔ اب چونکہ فیصلہ عوام کے ہاتھ میں ہوتا ہے، اس لیے یہ اعیانی طبقہ اس پر مجبور ہوتا ہے کہ عوام کی تائید حاصل کرنے کے لیے، ایسے اقدام کرے جن میں ان کا کچھ نہ کچھ فائدہ عوام کو بھی ملے۔
ہمارے ہاں جب لوگ خاندانی سیاست پر معترض ہوتے اور اِس پر غصے کا اظہار کرتے ہیں کہ نواز شریف کے بعد ان کی بیٹی اور زرداری کے بعد ان کا بیٹا کیوں‘ تو مجھے ان کی سادگی پر ہنسی آتی ہے۔ وہ اسے غلامی کہتے ہیں۔ وہ اس پر غور نہیں کرتے کہ اگر یہ غلامی ہے تو عوام کبھی اس کی گرفت سے نہیں نکل سکتے۔ اقتدار نواز شریف یا بھٹو خاندان سے نکل جائے، تو بھی اُس اعیانی طبقے ہی میں گردش کرتا رہے گا۔ عوام کو بس اتنی ہی آزادی حاصل ہے کہ اگر وہ پرانے بتوں سے مراد نہیں پا سکے تو کوئی نیا بت تراش لیں۔ کیا عمران خان عوام میں سے ہیں؟
سیاست میں ایک سرمایہ دار، افراد پر سرمایہ کاری کرتا ہے اور جماعتوں پر بھی۔ جہاں وہ سیاسی جماعتوں پر سرمایہ کاری کرتا ہے، وہاں یہ ممکن ہوتا ہے کہ کسی عام آدمی کو اقتدار سونپ دیا جائے؛ تاہم اس کا وظیفہ یہی ہوتا ہے کہ وہ اس سرمایہ دار طبقے کے مفادات کا تحفظ کرے۔ جیسے امریکہ میں کسی اوباما کو صدر بنا دیا جائے یا بھارت میں کسی مودی کو وزیر اعظم۔
مودی ایک عام آدمی ہیں۔ ان کی کامیابی کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ بھارت کے سرمایہ دار نے ان پر سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔
حالیہ انتخابات میں بھارت کے کاروباری اداروں نے دیگر جماعتوں کی نسبت بی جے پی پر بارہ گنا زیادہ سرمایہ کاری کی ہے۔ آج بھارت کے پچاس فی صد وسائل صرف نو افراد کے ہاتھ میں ہیں۔ گویا جتنا پیسہ وہاں کے چھ سو ملین افراد کے پاس ہے، اتنا نو افراد کے پاس ہے۔ سرمایے کا یہ ارتکاز، اس نظام کی وجہ سے ہے، مودی جس کے دوسری بار محافظ بنائے گئے ہیں۔ میڈیا اس نظام میں سرمایہ دار کا دست و بازو ہے۔
یہ بات بھی سامنے اور پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ شناخت انسان کا فطری مسئلہ ہے اور جدید تکثیرت اس کا متبادل نہیں بن سکی۔ اس شناخت میں رنگ و نسل کے ساتھ مذہبی شناخت بھی شامل ہے۔ امریکہ میں سفید فام کی برتری کے احساس نے ٹرمپ کو لیڈر بنا دیا اور بھارت میں ہندو نرگسیت نے مودی کو۔ شناخت کے یہ عوامل جب ایک جمہوری نظام میں بروئے کار آئے تو انہوں نے ‘پاپولزم‘ (Populism) کو جنم دیا۔ یوں جمہوریت پاپولزم کے ہاتھوں یرغمال بن گئی۔ ہٹلر سے مودی تک سامنے آنے والے راہنما اسی پاپولزم کا مظہر ہیں۔
دور رس نتائج کے اعتبار سے یہ پیش رفت انسانیت کے لیے تباہ کن ہے۔ بی جے پی کی کامیابی بھارت کے لیے نیک شگون نہیں۔ یہ ان سماجی و مذہبی تضادات کو نمایاں کر دے گی‘ جو بھارت کی تاریخ اور خمیر کا حصہ ہیں۔ اس کے باوصف، مجھے اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جمہوریت سے بہتر کوئی سیاسی نظام، انسانی عقل ابھی تک دریافت نہیں کر سکی؛ تاہم یہ انسانی دانش کا کام ہے کہ وہ اس کو لاحق امراض کا علاج تلاش کرتی رہے۔
جمہوریت کے وجود سے آج دو بڑے عوارض لپٹ گئے ہیں۔ ایک سرمایہ داری اور دوسرا پاپولزم۔ پہلے عارضے کی وجہ سے اس کے ثمرات کا بڑا حصہ سرمایہ دار سمیٹ لیتا ہے اور عوام تک اس کا کچھ حصہ ہی پہنچ پاتا ہے۔ دوسرے مرض کی وجہ سے مذہبی انتہا پسندی، نسلی نرگسیت اور طبقاتی کشمکش وغیرہ جنم لیتی ہیں جو اعلیٰ انسانی اقدار سے متصادم ہیں۔
بی جے پی کی کامیابی نے نسلی امتیاز، مذہب کے کردار اور جمہوریت کے بارے میں جن سوالات کو پھر سے زندہ کر دیا ہے، اہلِ دانش کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان پر غور کریں اور وہ حل پیش کریں جو ایک طرف عالمِ انسانیت کے لیے ایک انصاف پر مبنی سیاسی نظم کو یقینی بنائے اور دوسری طرف اس کے ذہنی و فکری ارتقا کے لیے سازگار ماحول فراہم کرے۔ یہ ممکن ہے مگر کیسے؟ اس پر پھر بات ہو گی۔ یہ سوال بھی ایک مستقل کالم کا موضوع ہے کہ مذہب کی بنیاد پر جنوبی ہند کی تقسیم نے خطے کے مستقبل کو کس طرح متاثر کیا؟
بشکریہ روزنامہ دنیا
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •