بلاول بھٹو، بلاول زرداری، مریم نواز اور مریم صفدر کی بحث

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کل میں نے اپنی ٹوئیٹر آئی ڈی سے اپنی ساس مرحومہ شبنم شکیل کے حوالے سے کچھ لکھا تو مجھے بہت پذیرائی ملی۔ سب نے ان کی بہو ہونے کے طور پر بہت اہمیت اور احترام دیا اور مجھے لگا کہ اب ان کے حوالے سے بات کرنے کے بعد ایک خاص رکھ رکھاؤ اور وضع داری کا برتاو مجھ پر واجب ہو گیا ہے۔ میرا آئی ٹی کے حوالے سے ایک حلقہ احباب ہے مگر اس کے باوجود میری ساس کا حوالہ بھی مجھے پسند ہے۔ آخر ایک رشتہ ہے میرا ان سے۔

جب میری بیٹی لاہور کے ایک نجی ہسپتال میں پیدا ہوئی تو انہوں نے اس کے بازو پر ایک پٹی باندھ دی اس کی پہچان کے لئے جس پر بے بی مریم لکھا ہوا تھا۔ یعنی مریم کی بیٹی ہے یہ کیونکہ تکلیف سہہ کر ایک مضبوط ماں نے اسے جنم دیا تھا۔ گلابی رنگ کا بہت خوبصورت بچہ تھی وہ اس وقت بھی اور سر کے بالوں سے پیروں کے ناخنوں تک ہر چیز مکمل چاہے اس وقت اس کا اپنا کوئی نام تھا ہی نہیں اس لئے اس کی شناخت کا حوالہ تھی ہی اس کی ماں۔ اب بھی ہر جگہ میری بیٹی کہلاتی ہے مگر اس کے سکول میں مجھے حلیمہ کی ماں کہہ کر بلایا جاتا ہے کیونکہ اس کے سکول میں تو مجھے کوئی نہیں جانتا، اسے سب جانتے ہیں۔

کل ٹوئیٹر پر ایک ہیش ٹیگ چل رہا تھا کہ میری ولدیت میرا فخر، اس ہیش ٹیگ کو پڑھ کر مجھے بنت پاکستان کا خیال آ گیا جو اپنے باپ کا نام اپنے ساتھ لگانا نہیں چاہتی تھی۔ سٹیو جابز نے بھی اس باپ کا نام لگایا جس نے اسے پالا تھا۔  اور بل کلنٹن کو بھی اچھا لگا کہ وہ سوتیلے باپ کا نام اپنے ساتھ لگا لے کیونکہ وہ بھی سگے باپ کا حوالہ پسند نہیں کرتا تھا۔

ہمارے ہاں رواج ہے کہ شادی کے بعد خواتین اپنے نام کے ساتھ شوہر کا نام لگا لیتی ہیں۔ اس زمانے میں شاید اچھے شخص سے شادی ہو جانا ایک ڈگری کے حصول سے بھی زیادہ مشکل ہے۔ مگر کچھ نہیں بھی لگاتیں۔ کہتی ہیں کہ ہماری اپنی ایک پہچان ہے ایک شناخت ہے، ہم اپنا نام کیوں بدلیں۔

یا پھر یہ کہ ہمارے باپ سے ہمیں بہت محبت ہے اور وہی ہمارا حوالہ ہے۔

شبنم شکیل صاحبہ، شبنم عابد علی کے نام سے شاعری کے میدان میں آئیں، مگر شادی کے بعد شبنم شکیل بن کر بھی ادبی نام انہوں نے اپنی محنت سے برقرار رکھا بالکل اس گلاب کی طرح جسے جس نام سے بھی پکارو اس کی خوشبو وہی رہتی ہے۔

ایسے ہی بے نظیر صاحبہ بھی اپنے والد کا نام لے کر سیاست میں آئیں مگر اب جو ان کا خود کا مقام بنا، زرداری صاحب نے نہ صرف اس سے فیض پایا بلکہ باوجود صدر رہنے کہ اپنا حوالہ ‘بے نظیر بھٹو’ نام کے قریب تر بھی نہ لا سکے۔ مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کے نام ساتھ نہ لگانے کے باوجود جو رشتہ بی بی سے مرتے دم تک ان کا تھا وہ ایک اٹل حقیقت ہے اور اسی طرح مریم نواز کے میاں بھی کیپٹن صفدر ہی ہیں، چاہے وہ جس نام سے بھی پکارا جانا پسند کریں۔

مریم نواز شریف اپنے والد کے حوالے سے ایک مراعات یافتہ مقام لے کر میدان سیاست میں آئی ہیں مگر جب تک ان میں کوئی صلاحیت نہیں ہو گی، یہ حوالہ ان کا زیادہ ساتھ نہیں دے سکے گا۔ وہ بے نظیر بھٹو کی طرح ایک مکمل شخصیت بننے کی بجائے اپنے باپ کا سایہ ہی دکھائی دیں گی۔ ایک نام ساتھ لگانا محض زندگی کا ایک حصہ ہے۔ بعد میں وہ کیسے سیاسی فیصلے کرتی ہیں۔ کس مقام تک جاتی ہیں؟ وہ کیا کر پاتی ہیں؟ یہ سب ان پر ہے اور پھر چاہے وہ مریم صفدر کہلائیں یا مریم نواز۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مریم نسیم

مریم نسیم ایک خاتون خانہ ہونے کے ساتھ ساتھ فری لانس خاکہ نگار اور اینیمیٹر ہیں۔ مریم سے رابطہ اس ای میل ایڈریس پر کیا جا سکتا ہے [email protected]

maryam-nasim has 62 posts and counting.See all posts by maryam-nasim