جرمنی میں یہودیوں کو سرعام ٹوپی نہ پہننے کا مشورہ کیوں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہودی ٹوپی

Getty Images

جرمنی میں حکومت کے سام مخالف نظریات کے کمشنر نے یہودیوں سے کہا ہے کہ وہ سرعام اپنی روایتی مذہبی ٹوپیاں نہ پہنیں۔

کمشنر فلیکس کلیئن نے یہودیوں کو سام یا یہود مخالف جذبات میں اضافے کے پیش نظر ‘کپا’ یا یہودیوں کی روایتی مذہبی ٹوپی پہننے کے خلاف متنبہ کیا ہے۔

مسٹر کلیئن نے کہا کہ اس معاملے میں ان کا ‘خیال پہلے کے مقابلے میں بدل چکا ہے۔’

انھوں نے فنکے اخبار کے گروپ سے کہا: ‘میں یہودیوں کو یہ مشورہ نہیں دوں گا کہ وہ جرمنی میں ہر وقت ہر جگہ ٹوپی پہنیں۔’

جرمن حکومت نے گذشتہ سال یہود مخالف واقعات میں تیزی سے اضافہ ریکارڈ کیا ہے۔

حکومتی اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ سنہ 2018 میں یہودیوں کے خلاف نفرت پر منبی 1646 جرائم ہوئے جو کہ گذشتہ سال کے مقابلے میں دس فیصد زیادہ ہے۔

اس مدت کے دوران جرمنی میں یہودیوں کے خلاف جسمانی حملے میں بھی اضافہ ہوا ہے جس میں 62 پرتشدد واقعات ہوئے ہیں جو کہ اس سے پہلے سنہ 2017 میں 37 تھے۔

یہ بھی پڑھیے

’یہود مخالف رویہ‘، ڈزنی کا یوٹیوب سٹار سے قطع تعلق

’یہودیوں سے ہوشیار رہیں‘

ہینڈلسبلاٹ اخبار سے بات کرتے ہوئے وزیر انصاف کترینا بارلی نے کہا کہ یہود مخالف جرائم میں اضافہ ‘ہمارے ملک کے لیے شرمناک ہے’۔

فلیکس کلین نے کیا کہا؟

مسٹر کلیئن نے خیال ظاہر کیا کہ ‘امتناع کا ہٹانا اور سماج کا گنوارپن’ پورے ملک میں یہودی مخالف جرائم میں اضافے کا سبب ہو سکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ انٹرنیٹ، سوشل میڈیا اور ‘ہمارے حافظے کے کلچر کے خلاف مستقل حملے’ بعض ایسے عناصر ہیں جنھوں نے اس اضافے میں تعاون کیا ہے۔

انھوں نے پولیس، اساتذہ اور وکیلوں پر زور دیا کہ وہ ‘یہود مخالف چیزوں سے نمٹنے کے لیے’ اس چیز کی تربیت حاصل کریں کہ ‘کس چیز کی اجازت ہے اور کس چیز نہیں ہے۔’

ان کا یہ بیان جرمنی میں یہود مخالفت کے اعلی قانونی ماہر کے بیان کے بعد آیا ہے جس میں انھوں نے کہا کہ جرمنی کے معاشرے میں تعصب کی ‘جڑیں گہری ہیں۔’

کلوڈیا وینونی نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا: ‘یہود مخالف رجحان یہاں ہمیشہ رہا ہے۔ لیکن میرے خیال سے حال میں یہ زیادہ بلند، جارحانہ اور سرعام نظر آیا ہے۔’

یہود مخالفت میں اضافہ کیوں ہے؟

یہودیوں کے گروہ کا کہنا ہے کہ یورپ بھر میں انتہائی دائیں بازو کے گروپ کی مقبولیت میں اضافے سے یہود مخالفت اور دوسری اقلیتوں کے خلاف نفرت کو جلا ملی ہے۔

سنہ 2017 سے انتہائی دائيں بازو کے نظریات کی حامل آلٹرنیٹو فار جرمنی (اے ایف ڈی) ملک کی اہم حزب اختلاف رہی ہے۔ اے ایف ڈی کھلم کھلا پناہ گزینوں اور نقل مکانی کے خلاف ہے لیکن وہ جزوی طور پر یہود مخالف نظریات سے انکار کرتی ہے۔

بہرحال ان کے رہنماؤں کے کئی بیانات بشمول ہالوکاسٹ کے متعلق بیانات پر یہودی گروہوں اور دوسرے سیاستدانوں کی جانب تنقید کی گئی ہے۔

گذشتہ سال ہزاروں یورپی یہودیوں کے ایک سروے میں یہ بات سامنے آئی کہ وہ یہود مخالف رویے میں اضافے پر بہت پریشان ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 10411 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp