فلسطینی اتھارٹی اور حماس: تسلط کے آلاتِ کار؟

اگر فلسطینی اتھارٹی اور حماس حکومت کو تسلط کا آلاتِ کار کہا جائے تو شاید یہ ایک عجیب بات لگے۔ آخر باہمی اختلافات کے باوجود دونوں کا بنیادی مقصد تو فلسطین کی آزادی ہے۔ لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ دونوں حکومتیں قابض اسرائیلی فوج کی تقویت اور غزہ کے محاصرے کو قائم رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ ان کے پاس قبضے کو ختم کرنے کی گنجائش بہت محدود ہے کیونکہ موجودہ حالات میں حکومتی امور سنبھالنے کا نتیجہ یہی ہے کہ ان کی بقاقابض طاقت کے ساتھ تعاون سے ہر طرح مشروط رہے۔

یہ بات حماس پر بھی پوری طرح لاگو ہوتی ہے جس کے اسرائیل کے ساتھ کوئی سرکاری روابط نہیں لیکن بالواسطہ سیکورٹی امور میں تعاون ضرور ہے۔ مختصر یہ کہ دونوں فلسطینی حکومتیں اپنے زیرِانتظام علاقوں میں اپنا اثرورسوخ قائم رکھنے کو جدوجہدِآزادی پر فوقیت دیتی ہیں۔ اسرائیلی قبضے میں فلسطینی خود انتظامیاگرچہ اسرائیل نے باقاعدہ طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں کا صرف ایک حصہ (مشرقی بیت المقدس) اپنے ساتھ ضم کیا ہے تاہم ابھی بھی مغربی کنارے اور غزہ پر اس کی وسیع غیر علانیہ عملداری قائم ہے۔

اس عملداری کی بنیاد 1967 ء میں اسرائیل کے ان علاقوں پر فوجی قبضے اور ان کی قانونی اور انتظامی تعمیرِنو (بشمو ل اتحاد ِ یروشلم اور یروشلم لا 1980 ) سے ڈالی گئی۔ یہ عملداری 1993 ء اور 1995 ء کے اوسلو معاہدوں کے نتیجے میں مزید مضبوط ہو گئی جن پر تنظیمِ آزادیِ فلسطین (پی ایل او) نے یہ سمجھ کر دستخط کیے کہ وہ مستقل حل نہیں بلکہ پانچ سالہ عبوری مدت کے لیے تھے اور 1999 ء میں فلسطینی ریاست کے قیام اور اسرائیل اور فلسطین کے درمیان ایک معاہدے کے ساتھ ختم ہو جاتے۔

اگرچہ اوسلو معاہدوں میں یہ تسلیم کیا گیا کہ فلسطینی علاقوں کی علاقائی وحدت کو برقرار رکھا جائے گا تاہم مستقل امن معاہدے تک مغربی کنارے اور غزہ کو مختلف حیثیتوں کے حامل ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا گیا اور مشرقی یروشلم بلا شرکتِ غیرے اسرائیل کی عملداری میں دے دیاگیا۔ اس کے ساتھ ہی ان معاہدوں نے فلسطینی اتھارٹی کی ذمہ داریوں کواسرائیل کے اندر چھوٹے چھوٹے محصور ٹکڑوں پر مشتمل ’اے‘ اور ’بی‘ علاقوں میں خود انتظامی اور اندرونی نظم و ضبط تک محدود کر دیا۔

 ’سی‘ علاقے (جو آج مغربی کنارے کا تقریباً ساٹھ فیصد ہیں ) اسرائیل کی وسیع عملداری میں دے دیے گئے۔ سادہ الفاظ میں فلسطینیوں کی کوئی حفاظتی فوج ان علاقوں میں تعینات نہیں کی جا سکتی اور تعمیر و ترقی کا کوئی منصوبہ اسرائیل کی اجازت کے بغیر شروع نہیں ہو سکتا۔ اوسلو میں طے کی گئی شرائط سے سب سے بڑا انحراف غزہ کی پٹی میں نظر آیا۔ 2005 ء میں اسرائیل نے رضاکارانہ طور پر غزہ (جو مذہبی یا نظریاتی نقطہئی نظر سے غیر اہم ہے ) سے اپنے آباد کار اور فوجیں واپس بلا لیں۔

 تاہم اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اسرائیلی تسلط ختم ہو گیا۔ اسرائیل آج بھی غزہ کی زمینی اور بحری سرحدوں، اس کے سمندری پانیوں، وسائل، فضا، برقی نظام اور ترقی کے مواقع (جیسے بندرگاہوں یا ہوائی اڈوں کی تعمیر) پر قابض ہے۔ غزہ اور مصر کی سرحد البتہ اسرائیل کے تسلط میں نہیں۔ آج فلسطینی علاقوں کی وحدت کی بات کرنا شاید مضحکہ خیز لگے گا۔ انہیں چھوٹے چھوٹے علاقوں اور مختلف درجوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ یہ مختلف عوامل کا نتیجہ ہے۔

مشرقی یروشلم اور مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادیوں اور متعلقہ انتظامی ڈھانچے میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ آج تقریبا 125 آبادیوں اور 100 چوکیوں میں میں چھ لاکھ سے زائدآبادکار رہتے ہیں۔ 2002 ء میں قائم کی جانے والی دیوارِعلیحدگی اب مغربی کنارے کے تقریبا آٹھ فیصد علاقے اور مشرقی یروشلم کو باقی ماندہ فلسطینی علاقوں سے الگ کرتی ہے۔ اسرائیل اور مصر نے افراد اور اجناس کی نقل و حرکت اور ماہی گیری کو محدود کرنے کے لئے غزہ کا سخت محاصرہ یقینی بنایا ہے۔

 مزید یہ کہ فلسطینیوں کے ’سی‘ علاقوں کے تقریبا ستر فیصد علاقوں میں (جو مغربی کنارے کا چالیس فیصد ہیں ) تعمیر یا کاشتکاری کی مکمل ممانعت ہے۔ یہ وہ علاقے ہیں جو یا تو اسرائیلی آبادیوں کے لئے مخصوص ہیں یا سرکاری زمین قرار دیے گئے ہیں یا پھردیوارِعلیحدگی کی اسرائیلی سمت میں واقع ہیں۔ اسرائیل ان علاقوں اور مشرقی یروشلم میں بغیر اجازت ہونے والی تعمیرات کو باقاعدگی سے مسمار کرتا رہتا ہے۔ بعض علاقوں میں زمینیں ضبط کر کے، پینے کے پانی اور نکاسیِ آب کے نظام تک رسائی روک کر اور اسرائیلی آبادکاروں کے حملوں کی زد میں لا کر فلسطینیوں کو روزگار سے محروم کیا جاتا ہے۔

 یورپی کمیشن کے ڈائریکٹوریٹ جنرل برائے یورپی سول تحفظ واقدامات برائے انسانی امداد نے ان جبری بے دخلیوں کے متعلق لکھا ہے۔ فلسطینی آبادی کی مغربی کنارے کے علاقوں میں آزادانہ نقل و حرکت کو مخصوص سڑکوں کے استعمال پر پابندی اور اسرائیلی فوج کے ناکوں کے ذریعے محدود کیا جاتا ہے جبکہ مشرقی یروشلم جانے یا مغربی کنارے اور غزہکے درمیان نقل و حرکت کے لیے خاص اجازت نامہ درکار ہوتا ہے جو کم ہی عطا کیا جاتا ہے۔

1994 ء سے فلسطینی اتھارٹی نے بتدریج فلسطینی علاقوں میں اندرونی نظم و ضبط، خود انتظامی اور عوامی خدمات کی ذمہ داری اپنے ذمے لی جب کہ اخراجات کا بڑا حصہ عالمی برادری سے آتا رہا۔ اوسلومعاہدوں کے نتیجے میں اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان وسیع سیکورٹی تعاون بھی عمل میں آیا جس کا علامتی مظاہرہ فلسطینی علاقوں میں مشترکہ گشتوں کے ذریعے کیا جاتا۔ ایک فلسطینی سیکورٹی ڈھانچا تشکیل دیا گیا اور اسے چھوٹے ہتھیاروں سے لیس کیا گیا تاہم اسرائیل نے ’اے‘ اور ’بی‘ علاقوں میں مطلوب افراد کا پیچھا کرنے کا اختیار برقرار رکھا۔

 آج تک اسرائیل باقاعدگی سے وہاں مطلوب افراد کو حراست میں رکھتا ہے۔ 2005 ء میں غزہ سے اسرائیلی انخلاء، جنوری 2006 ء کے پارلیمانی انتخابات میں حماس کی فتح اور جون 2007 ء میں اس کے غزہ کا انتظام سنبھالنے کے بعد سے حقیقی انتظامی ذمہ داری حماس ہی کے پاس ہے۔ عالمی قوانین کے مطابق ایک قابض طاقت مقامی آبادی کی ضروریات پوری کرنے کی پابند ہوتی ہے۔ اوسلو معاہدوں کے ذریعے اسرائیل ایک قابض فوج کی کئی ذمہ داریوں سے بری الذمہ ہو گیا ہے۔

 ساتھ ہی ساتھ اس نے حقیقی کنٹرول بھی اپنے پاس رکھا ہے۔ معاہدوں میں یہ بات طے کی گئی کہ اسرائیل عبوری مدت کے لئے فلسطینی علاقوں کی زمینی اور بحری سرحدوں، فضائی اور برقی حدود کا کنٹرول اپنے پاس رکھے گا۔ ان معاہدوں نے فلسطینی معاشی نظام پر بھی اسرائیلی اثرورسوخ مستحکم کیا۔ ایسا فلسطینی علاقوں میں معاشی اورمالیاتی یگانگت، بیرونی سرحدوں پر عملداری اور وسائل تک رسائی کے ذریعے کیا گیا۔ حتیٰ کہ فلسطین کی آبادی کی رجسٹری بھی اسرائیل کے زیرِانتظام ہے جس میں مغربی کنارے اور غزہ میں پیدا ہونے والے تمام بچوں کا اندراج ضروری ہوتا ہے۔

 پچیدہ ترین سیاسی اور سرحدی مسائل کو اگلے مذاکرات تک ٹال کر ایک جامع اسرائیلی تسلط کی راہ ہموار کی گئی۔ ان مسائل میں یروشلم کی حتمی حیثیت، اسرائیلی آبادیوں کا مستقبل، اسرائیل اور فلسطین کی باہمی سرحد کا تعین اور مہاجرین کے مسائل شامل ہیں۔ آج تک ان میں سے ایک بھی مسئلہ حل نہیں کیا گیا۔ فلسطینی اتھارٹی کا تسلط کے خدمت گار کے طور پر کردار 1994 ء سے فلسطینی اتھارٹی نے فلسطینی علاقوں میں فلسطینی خود انتظامی کی ذمہ داری سنبھال رکھی ہے اور کوڑا جمع کرنے سے لے کر ٹریفک کنٹرول، تعلیم، صحت، بجلی، پانی اور کاروباری ترقی تک کئی خدمات انجام دے رہی ہے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

 فلسطینی اتھارٹی کی عملداری نہ صرف اوپر بیان کردہ سرحدی حدود تک محدود ہے بلکہ تقریباً تمام کاموں میں قابض طاقت کی مرہونِ منت ہے۔ تمام برآمدات اور درآمدات، پولیس کی ایک علاقے سے دوسرے میں تعیناتی، انتظامی ڈھانچے سے متعلق اقدامات اور بہت سے امور کے لئے اسرائیل کی اجازت ضروری ہے۔ مزید یہ کہ فلسطینی علاقے معاشی طور پر بڑی حد تک اسرائیل کے پر منحصر ہیں۔ اسرائیل اور اسرائیلی آبادیوں میں روزگاران کے لئے آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔

 فلسطینی علاقوں میں جانے والی زیادہ تر درآمدات یا تو اسرائیل ہی سے جاتی ہیں یا اسرائیل سے گزر کر جاتی ہیں۔ فلسطینی برآمدکنندگان کو اسرائیلی سہولت کاروں کی ضرورت ہوتی ہیں۔ برآمدات پر بھاری ٹیکس عائد کیے جاتے ہیں اوراسرائیل انہیں سیکورٹی کی بنیاد پر کسی بھی وقت روک سکتا ہے۔ فلسطینی اتھارٹی کی حکومتی صلاحیت کا دارومدار بڑی حد تک اوسلو معاہدوں میں طے پانے والے محصولات کے نظام پر ہے جس کے تحت اسرائیل فلسطینی برآمدات پر لگائے گئے ٹیکس فلسطینی اتھارٹی کو منتقل کرتا ہے۔

 اگرچہ فلسطینی اتھارٹی حال ہی میں خود کچھ ٹیکس اکٹھا کرنے میں کامیاب ہوئی ہے تاہم یہ ٹیکس کل محصولات کا تقریبا بیس فیصد بنتا ہے جوبہت کم ہے۔ اس کی اہم وجوہات میں کمزور فلسطینی معاشی نظام کے علاوہ فلسطینی اتھارٹی کا ’سی‘ علاقوں اور ( 2007 ء کے وسط سے ) غزہ میں ٹیکس اکٹھا نہ کر سکنا شامل ہیں۔ ناپسندیدہ طرزِعمل پر اسرائیل کا کثرت سے (معاہدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ) سزا کے طور پر ٹیکس کی منتقلی کو روکنا فلسطینی اتھارٹی کے اسرائیل پر انحصار کی نشاندہی کرتا ہے۔

 مثال کے طور پر جب 2015 ء میں فلسطین نے عالمی عدالتِ جرائم کی رکنیت حاصل کی تو اسرائیل نے چار ماہ تک فنڈز کو منجمد کیے رکھا۔ متنازعہ سیکورٹی تعاوناوسلو معاہدوں کے نتیجے میں اسرائیل اور فلسطینیوں کے مابین موثر سیکورٹی تعاون نظر آیا۔ اگرچہ دوسرے انتفادہ کے ساتھ ہی مشترکہ گشت ختم ہو گئی تاہم 2005 ء میں محمود عباس کے صدر بننے کے بعد دوسرے طریقوں سے یہ تعاون دوبارہ شروع ہو گیا۔ تب سے امریکہ اور یورپی یونین کی پرزور حمایت سے تعاون مزید بڑھایا گیا ہے۔

 فلسطینی سیکورٹی ادارے اسرائیل کو ایسی معلومات مہیا کرتے ہیں جو دہشتگردی کے فلسطینی ملزمان کو حراست میں لینے یا قتل کرنے میں اسرائیلی فوج کے لئے مددگار ہوں جبکہ اسرائیل بھی فلسطینی اتھارٹی کو معلومات فراہم کرتا ہے اور اسے ’چھوٹی مچھلیوں‘ کو خود پکڑنے کی ترغیب دیتا ہے۔ ایسے میں فلسطینی اتھارٹی ایک دوراہے پر آ کھڑی ہوتی ہے۔ ایک طرف تو وہ مغربی کنارے مسلح مخالف گروہوں کی افزائش کو روکنے کے لئے اسرائیلی تعاون کی مرہونِ منت ہے تو دوسری طرف جب وہ سیکورٹی تعاون پر سوال اٹھاتی ہے یا اسرائیلی مفادات کے خلاف کوئی اقدام کرتی ہے تو اسے اس کی قیمت اجازت ناموں اور مالیاتی معاملات میں رکاوٹ، مخصوص علاقوں کے سیل ہونے اور اسرائیل اور اسرائیلی آبادیوں میں کام کے لئے ملنے والے اجازت ناموں میں کمی کی صورت میں ادا کرنی پڑتیہے۔

فلسطینی اتھارٹی کے لئے مغربی (خصوصاً امریکی) حمایت بھی اسرائیل کے ساتھ سیکورٹی تعاون سے مشروط ہے۔ لہٰذافلسطینی صدر کا سیکورٹی تعاون کو ’مقدس‘ کہنا کوئی حیرانی کی بات نہیں ہونی چاہیے۔ دوسری طرف فلسطینیوں نے جن کی اکثریت فلسطینی اتھارٹی کو دشمن کا حمایتی سمجھتی ہے اس بات کا خوب مذا ق اڑایا۔ ان کا اس حوالے سے یہ کہنا ہے کہ سیکورٹی تعاون کا مقصد فلسطینی آبادی کو اسرائیلی فوج اور آبادکاروں کے حملوں سے بچانا نہیں بلکہ صرف اسرائیل اور اس کے آبادکاروں کی حفاظت کرنا ہے اور فلسطینیوں کی باہمی پھوٹ کے بعد سے سیکورٹی تعاون سے صرف فلسطینی اتھارٹی کی حکومت کی حفاظت ہوئی ہے۔

مخالفین خصوصاً حماس کے نمائندوں کو تو اسرائیلی فوج کے اشتراک سے مروا دیا جاتا ہے۔ سروے یہ بتاتے ہیں کہ تسلط کے خاتمے اور فلسطینی آزادی کی کوئی امید باقی نہ رہنے کے بعد آبادی کا ایک بڑا حصہ اب سیکورٹی تعاون کو مسترد کرتا ہے اور تسلط کے خلاف مسلح جدوجہد کا حامی ہے۔ آج کا فلسطینی سیکورٹی تعاون کو بنیادی طور پر قابض طاقت کی حفاظت کا ایک ذریعہ سمجھتا ہے۔ تسلط کے تحت حکومت کرنے کے دوران مفادات کا ٹکراؤفلسطینی اتھارٹی کی اشرافیہ قابض طاقت کے ساتھ سمجھوتاکر چکی ہے جس کے تحت فلسطینی اتھارٹی علمِ بغاوت بلند کرنے کی بجاے قابض طاقت کی کچھ ذمہ داریاں سنبھال کر تسلط برقرار رکھنے میں مدد کی جاتی ہے۔

اس طرزِعمل کی کئی وجوہات ہیں۔ اجازت ناموں کے اس نظام میں فلسطینی اشرافیہ کو کئی مراعات حاصل ہیں جو انہیں موجودہ نظام کے تسلسل کے فوائد میں حصہ دار بناتی ہیں۔ ان میں فلسطینی اتھارٹی کی قیادت اور منتخب تخلیقی کاروباری لوگوں کو ملنے والا وی آئی پی پروٹوکول اور وسیع سفری آزادی شامل ہیں جو عام فلسطینیوں کو میسر نہیں۔ اوسلو معاہدوں میں فلسطینی اتھارٹی کو یہ حق بھی دیا گیا تھا کہ کہ وہ جسے چاہے کاروباری لائسنس دے اور فلسطینی تجارت میں (مثلاًمواصلات میں ) جس کی چاہے اجارہ داری قائم کرے۔

 اس شق نے فلسطینی اتھارٹی کی قیادت اور ان کے خاندانوں کو دولت سمیٹنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ دوسرے انتفادہ ( 2000 ء سے 2005 ء) کے بعد سے فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی آبادیوں میں مسلسل اضافے اور آزادی کے کسی نظریے کے فقدان نے فلسطینی سول سوسائٹی اور سیاسی حلقوں میں یہ بحث چھیڑ دی ہے کہ شاید وقت آگیا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کو تحلیل کر دیا جائے اور مکمل ذمہ داری قابض طاقت پر ڈال دی جائے۔ یہاں تک کہ صدر محمود عباس نے بھی ایسی پیشکش کی ہے۔

 یہ الگ بات ہے کہ انہوں نے اس سلسلے میں کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کیے۔ کئی بار تو اس پیشکش کو حکمتِ عملی میں ایک بڑی بنیادی تبدیلی کے ساتھ جوڑا جاتا ہے جس کے تحت الگ ریاست کا مطالبہ ترک کر کے ایک ہی ریاست میں یکساں حقوق کے لئے جدوجہد کرنی چاہیے۔ تاہم ابھی تک فلسطینی معاشرے میں اس خیال کے حامیوں کی اکثریت نہیں ہے۔ فلسطینی اتھارٹی کی تحلیل اور تمام ذمہ داریاں قابض طاقت کو واپس کرنے کی راہ میں فلسطینی اشرافیہ کے ذاتی مفادات کے علاوہ تین اہم رکاوٹیں ہیں۔

 اول تو ایسا کرنے کا مطلب دو لاکھ سے زائد قومی اور مقامی سرکاری ملازمین کے ذریعہئی آمدن کا خاتمہ ہوگا۔ یہ نقصان غزہ اور مغربی کنارے دونوں کو متاثر کرے گا کیونکہ فلسطینی اتھارٹی کے غزہ کے ملازمین کی تنخواہیں بھی رام اللہ (مغربی کنارے ) سے ہی ادا کی جاتی ہیں حالانکہ وہ 2007 ء کے وسط سے اب تک کبھی بھی حاضر سروس نہیں رہے۔ دوم ایسا کرناخصوصاً مغربی کنارے میں معیارِ زندگی کو شدید متاثر کر سکتا ہے کیونکہ (سوائے انسانی بنیادوں پر دی جانے والی امداد کے ) بین الاقوامی امدادفلسطینی اداروں کی اسرائیل سے شراکت داری سے مشروط ہے۔

ایسا تصور کرنا بھی مشکل ہے کہ عالمی عطیہ دہندگان مقامی آبادی سے متعلق ذمہ داریوں کو سرانجام دینے کے لئے قابض طاقت کی براہِ راست اعانت کریں گے۔ سوم فلسطینی اتھارٹی کی تحلیل کا مطلب غیرعلانیہ طور پر اوسلو معاہدوں سے دستبرداری ہوگا۔ ایسا کرنے سے یورپی یونین اور امریکہ کی حمایت کی بنیادی وجہ ختم ہو جائے گی جو ایک دو ریاستی حل کے تحت فلسطینی ریاست کی مضبوطی کے لئے میسرہے۔ ایسا کرنا تنظیمِ آزادیِ فلسطین (پی ایل او) کی قیادت کی ان کوششوں پر بھی جو اس نے فلسطینی ریاست کو عالمی سطح پر ایک شناخت دلوانے کے لئے کی ہیں، ایک سوالیہ نشان ہوگاکیونکہ یہ عمل فلسطینی اتھارٹی کے وجود سے جڑا ہوا ہے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

 علامتی افادیت کے علاوہ ان کوششوں نے فلسطینیوں کو تسلط کے خاتمے اور ریاست کے حصول کے لئے سیاسی اور قانونی اثرورسوخ فراہم کیا ہے۔ اس کی ایک ادنیٰ مثال فلسطینی اتھارٹی کاجنوری 2015 ء میں عالمی عدالتِ جرائم (آئی سی سی) کا رکن بننا اور اسے 13 جون 2014 ء کے بعد سے مغربی کنارے اور غزہ میں ہونے والے تمام جنگی جرائم کی تحقیقات کا اختیار دینا ہے۔ آئی سی سی نے اس حوالے سے ابتدائی کارروائی شروع کر دی تھی۔ فلسطینی اتھارٹی کے لئے قابض اسرائیل کے ساتھ تعاون جو کہ تسلط کو بھی مضبوط کرتا ہے، ایک بڑا نازک معاملہ ہے۔

 اسرائیل کے ساتھ سیکورٹی تعاون کی وجہ سے ہونے والی بدنامی مارچ 2015 ء میں تنظیمِ آزادیِ فلسطین کی طرف سے اس کی معطلی کے ووٹ کا سبب بھی بنی تاہم فلسطینی اتھارٹی نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔ جنوری 2018 ء میں صدر محمود عباس نے فلسطینی مرکزی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے اس راستے کا نقشہ کھینچا جو فلسطینی اتھارٹی کو اختیار کرنا چاہیے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے یروشلم کو اسرائیل کادارالحکومت تسلیم کرنے کے اعلان پر ان کے ردِعمل میں امریکہ کے بطور ثالث کردار کو تسلیم کرنے سے انکار، اوسلو معاہدوں کی ناکامی کا اعلان، قابض طاقت سے تعلقات کا ازسرِنو جائزہ لینے کا مطالبہ، پرامن جدوجہداور حماس کے ساتھ صلح کا عزم اور تنظیمِ آزادیِ فلسطین میں ایک نئی روح پھونکنے کی خواہش شامل تھی۔

ان کے خطاب میں البتہ ٹھوس اقدامات کی طرف کوئی اشارہ نظر نہ آیا۔ مزید یہ کہ ان کی طرف سے آنے والے مہینوں میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی تشکیلِ نو کے لئے کوئی عملی اقدامات نہیں کیے گئے۔ ایک طرف تو فلسطینی اتھارٹی کی قیادت کا اپنا مفاد اپنی حکومتی صلاحیت، اپنی سیاسی بقاء، اپنی مراعات اور اپنی بین الاقوامی سطح پر حاصل کی گئی کامیابیوں کے تحفظ میں ہے۔ اس صورت میں اسے عالمی عطیہ دہندگان کو مطمئن رکھنے کے لئے سیاسی برداشت کا رویہ اختیار کرنا ہوگا اور اسرائیلی نقل و حمل کو خطرے میں ڈالنے سے گریز کرنا پڑے گا۔

 اسے اسرائیل کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے پر آمادگی کا اظہار کرنا ہے، عدم تشدد پر زور دینا ہے، حماس کے ساتھ صلح صرف چاررکنی اتحاد برائے مشرقِ وسطیٰ (امریکہ، روس، یورپی یونین اور اقوامِ متحدہ) کی طے کردہ شرائط پرکرنی ہو گی اور سیکورٹی تعاون کو جاری رکھنا ہوگا۔ فلسطینی قیادت کی سیاسی تدابیر کو محدود کرنے میں ایک اضافی ہاتھ عرب ریاستوں کا ہے جو اسرائیل اور فلسطین کے درمیان کسی بڑی پیش رفت کے خواہاں نہیں ہیں اور اسی لئے فلسطینی اتھارٹی کوکوئی سخت موقف اختیار کرنے کے لئے درکارسہارا پیش نہیں کرتے۔

 دوسری طرف اسرائیل کے ساتھ تعاون کے طرزِعمل نے فلسطینی آبادی میں فلسطینی اتھارٹی کی مقبولیت اور قانونی حیثیت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ آخرکار یہ راستہ نہ تو حماس کے ساتھ تعلقات کی بہتری یا اتحاد کی طرف جائے گا نہ ہی حقیقی فلسطینی تحریکوں (مثلاًغیر مسلح عوامی مزاحمت کا دائرہ بڑھانے کی تحریک یابی ڈی ایس تحریک جوعالمی برادری کے اسرائیل کے ساتھ معاشی عدم تعاون کی جدوجہد ہے ) کی کوئی خاص مدد کرے گا۔ جب تک فلسطینی مزدوروں کو کوئی اور کام نہیں مل جاتا تب تک اسرائیلی آبادیوں کامؤثر بائیکاٹ ممکن نہیں۔

 فلسطینی اتھارٹی اور آبادی کے درمیان گہری خلیج نے فلسطینی اتھارٹی کی الیکشن کروانے میں دلچسپی کم کر دی ہے اور اس کی قیادت کو مزید آمریت پسند بنانے میں کردار ادا کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جمہوری عمل کی طرف واپسی کے امکانات بہت کم ہیں۔ حماس حکومت: مزاحمت بمقابلہ بالواسطہ تعاونتنظیمِ آزادیِ فلسطین کے برعکس حماس نے کبھی اسرائیلی ریاست کو تسلیم نہیں کیا اور فلسطینی اتھارٹی کے برعکس حماس حکومت اسرائیل کے ساتھ مذاکرات یا براہِ راست تعاون نہیں کرتی۔

 اگرچہ حماس اسرائیل کی قانونی حیثیت یا وجود میں آنے کا حق تسلیم نہیں کرتی تاہم اس نے غیراعلانیہ طور پر اسرائیل کے وجود کو تسلیم کر لیا ہے اور بارہا فائربندی کے اقدامات کیے ہیں۔ حماس نے دو شرائط پر طویل المدتی فائربندی کا امکان بھی ظاہر کیا ہے جن میں اسرائیل کا 4 جون 1967 ء کی سرحدوں کے ساتھ ایک آزاد اور خودمختارفلسطینی ریاست (جس میں یروشلم بطور دارالخلافہ شامل ہو) کو تسلیم کرنا اور فلسطینی مہاجرین اور بے گھر کیے گئے لوگوں کی واپسی شامل ہیں۔

 اصولی طور پر حماس اب بھی پورے فلسطین کی آزادی کی خواہاں ہے جس سے مراد برطانیہ کا مکمل فلسطینی مینڈیٹ ہے۔ حماس کی مئی 2017 ء کی پالیسی دستاویز اس کے منشور کی تکمیل کرتی ہے اوراس کی حکمتِ عملی میں ہونے والی تبدیلیوں کے ثمرات کو بیان کرتی ہے۔ تنازعے کو اب مذہبی قرار نہیں دیا جاتا۔ اسرائیل کی بربادی بھی ایک معینہ ہدف نہیں رہی۔ تنظیمِ آزادیِ فلسطین کو فلسطینی نمائندگی کا موزوں ڈھانچاتسلیم کیا گیا ہے۔

 یہ دستاویز 1967 ء کی سرحدوں کے مطابق ایک ریاست کے حصول کے لئے ’فلسطینی اتفاقِ رائے‘ کی بھی بات کرتی ہے۔ دوسری طرف اسرائیل حماس کو ایک قانونی حکومت تسلیم کرنے سے انکاری ہے اور اسے ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیتا ہے۔ اس نے غزہ کی پٹی کو مخالف علاقہ قرار دے رکھا ہے۔ اس کے باوجود جون 2007 ء میں جب سے حماس حکومت میں آئی ہے اسرائیل غیرعلانیہ طور پرغزہ میں حماس کی حکومت کو ہی ذمہ دارسمجھتا ہے اوراسے اس کے زیرِ انتظام علاقوں سے ہونے والے حملوں کا جواب دہ ٹھہراتا ہے۔

 اسرائیل کا تسلیم نہ کرنا حماس کو اپنی آبادی اور ایران جیسے بین الاقوامی اتحادیوں کے سامنے اپنا بیانیہ برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ حماس طاقت کے استعمال یا لڑائی کے لئے مسلح ہونے کو درست ثابت کرنے کے ساتھ ساتھ تسلط کے خلاف مزاحمت کا اپنا قانونی حق جتاتی ہے جسے اس کے مطابق خدائی قوانین اور عالمی روایات کی ضمانت حاصل ہے۔ اسی تناظر میں وہ جنوری 2006 ء کے چاررکنی اتحاد برائے مشرقِ وسطیٰ کے پیش کردہ فارمولے کو بھی تسلیم کرنے سے انکار کرتی ہے جس کے تحت حماس کو تعاون بلکہ محض رابطے کے لئے بھی پیشگی کچھ شرائط تسلیم کرنا ہوں گی۔

 ان میں عدم تشدد کا وعدہ، اسرائیل کو تسلیم کرنا اور ماضی کے معاہدوں اور ذمہ داریوں کو قبول کرنا شامل ہیں۔ اسرائیل بھی حماس کی جانب سے تسلیم نہ کیے جانے کا خوب فائدہ اٹھاتا ہے اور اسے اپنی سرحدوں پر اپنا اختیار جتانے کے لئے طاقت کے استعمال، ناکہ بندی جاری رکھنے، جوابی حملے کرنے، غزہ میں مسلح گروپوں کی جنگی صلاحیت کو تہس نہس کرنے اور ان کے رہنماؤں کے قتل کو درست ثابت کرنے کے لئے استعمال کرتا ہے۔ جب سے حماس نے جنوری 5002 ء کے فلسطینی پارلیمانی انتخابات میں کامیابی حاصل کی ہے مسلح جھڑپوں کی تعداد اور بہیمیت میں بے حد اضافہ ہوا ہے اور 2006 ء، 2008 ء، 2012 ء اور 2014 ء میں تو نوبت عام جنگ تک پہنچ گئی تھی۔

 ساتھ ہی ساتھ حماس کے لئے محدود پیمانے پر امن قائم کرنا بھی ضروری ہے جس کے بغیر وہ اپنا حکومت کرنے کا حق جتانے سے قاصر ہے۔ حماس کے لئے یہ ایک طرف مزاحمت کے بیانیے اور دور رس مطالبوں اور دوسری طرف مزید مسلح تصادم سے گریز کی کوششوں کے درمیان توازن کا عمل ہے۔ اگرچہ غزہ کے لوگ بڑی حد تک یہ سمجھتے ہیں کہ فلسطینی اتھارٹی اور تنظیمِ آزادیِ فلسطین دونوں مذاکرات کے ذریعے فلسطینی مفادات کا تحفظ کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں لیکن بہرحال وہ یقینا مسلح مقابلوں کا ایک اور سلسلہ نہیں چاہتے جس میں انہیں پہلے سے بھی زیادہ تکلیف اٹھانی پڑے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

 اگرچہ حماس اسرائیل کے ساتھ تعاون کرنے والوں کے ساتھ بڑی سختی سے پیش آتی ہے اور انہیں پھانسیاں دینے سے بھی گریز نہیں کرتی، تاہم وہ ایسی تمام ذمہ داریاں جن کی اسرائیل کو ضرورت ہے، اٹھاتی ہے۔ بنیادپرست گروہوں کو اسرائیل میں راکٹ فائر کرنے سے روکا جاتا ہے۔ سرحد پر دراندازی کو روکنے کے لئے گشت کی جاتی ہے۔ عوامی مزاحمت کے مظاہروں پر پابندیاں لگائی جاتی ہیں۔ مسلح سلفی گروپوں اور القاعدہ کے حامیوں کو دبایا جاتا ہے جو نہ صرف اسرائیل مخالف ایجنڈا لئے ہوئے ہیں بلکہ حماس کے مقابل ہوتے ہیں۔

 حماس یہ حفاظتی خدمات اپنی طاقت کو بڑھانے اور (فلسطین میں ) طاقت کے استعمال پر اپنی اجارہ داری قائم رکھنے کے لئے مہیا کرتی ہے خواہ ایسا کرنا صرف مسلسل تسلط میں ہی کیوں نہ ممکن ہو اوراس حوالے سے کیے گئے اقدامات قابض طاقت کے مفادات کے کتنے ہی موافق کیوں نہ ہوں۔ بالواسطہ تعاونفلسطینی اتھارٹی حماس حکومت اور اسرائیل کے درمیان لوگوں اور اجناس کی نقل وحمل کے سلسلے میں بالواسطہ تعاون خصوصاً اجازت ناموں اور کاغذی کارروائی کے لئے پل کا کام کرتی ہے۔

 مثال کے طور پر نقل وحرکت اور رسائی کے معاہدے کے تحت فلسطینی اتھارٹی نے غزہ کی سرحدی گزرگاہوں کے فلسطینی طرف اسرائیل اور حماس کے درمیان رابطے کے لئے اہلکار تعینات کیے۔ اکتوبر 2007 ء میں الفتح اور حماس کے درمیان طے پانے والے سمجھوتے کے بعد سے فلسطینی اتھارٹی نے اسرائیل اور مصر کے ساتھ سرحدی گزرگاہوں کا مکمل اختیار سنبھال لیا۔ حماس حکومت کی قائم کردہ اضافی چوکیوں کو منہدم کر دیا گیا۔ (تاہم وزیرِاعظم رمی حمداللہ پر مارچ 2018 ء میں ہونے والے قاتلانہ حملے کے بعد ایک نئی چوکی قائم کر دی گئی)۔

 بالواسطہ تعاون کی ایک اور مثال فلسطینی اتھارٹی کے ذریعے غزہ کو اسرائیل سے ڈیزل اور بجلی کی فراہمی ہے جس کی قیمت ترکی اور قطر ادا کرتے ہیں۔ خصوصاً صدر عبد الفتح السیسی کی حکومت میں مصر سے ایندھن اور گیس کی عدم فراہمی اور رفاہ کی گزرگاہ بند ہونے سے بلواسطہ تعاون کی یہ شکل غزہ کے لئے ناگزیر ہو گئی ہے۔ عوام کے لئے بنیادی ضرورتوں کی فراہمی اور اپنی حکومت کرنے کی اہلیت ثابت کرنے کا یہی ایک راستہ ہے۔ اور یہ اس کے لئے محصولات کے چند ذرائع میں سے ایک بھی ہے کیونکہ بیرونی تجارت پر ٹیکس لاگو ہوتا ہے۔

 اس تناظر میں شفافیت کی کمی کے باعث اور سب سے بڑھ کر سمگلنگ کے پھیلتے ہوئے شعبے میں ٹیکس لگنے سے ذاتی مفادات کے حصول کے مواقع بھی ابھر کر سامنے آتے ہیں۔ اس حوالے سے گذشتہ کچھ برسوں سے اسماعیل ہنیہ (غزہ کے سابق وزیرِاعظم) کا خاندان خاصی تنقید کا شکار ہے۔ اسرائیل نے حماس پر دباؤ ڈالنے اور غزہ کے باسیوں میں ان کی قیادت کے خلاف نفرت بڑھانے کے لئے اپنا محاصرہ وقتی طور پر سخت کر دیا ہے۔ ساتھ ہی مصر نے عام فلسطینیوں کے ساتھ ساتھ حماس کے عہدیداروں کی آمد و رفت کو سختی سے محدود کر دیا ہے اور فلسطینی اتھارٹی کے سرحدی اہلکاروں کی واپسی کو غزہ کی پٹی کو جانے والی گزرگاہ کو مستقل طور پرکھولنے کی شرط قرار دیا ہے۔

 تاہم مصری یقین دہانیوں کے باوجود 2018 ء کے موسمِ گرما کے آغاز تک رفاہ کی گزرگاہ نہیں کھولی گئی حالانکہ حماس نے اکتوبر 2017 ء کے سمجھوتے کے تحت سرحدی گزرگاہوں پر فلسطینی اتھارٹی کے اہلکاروں کو تعینات کر دیا ہے اور سرحدپار کام کرنے والے جہادی گروپوں پر بھی گھیراتنگ کیا ہے۔ فلسطینی اتھارٹی نے اپنے پل کے کردار کو کئی بار حماس کو اپنی شرائط پر صلح پر آمادہ کرنے کے لئے استعمال کیا ہے۔ مثال کے طور پر بہار 2017 ء میں رام اللہ (فلسطینی اتھارٹی) نے غزہ کے خلاف سزا کے طور پر سخت ترین اقدامات کیے۔

 غزہ میں فلسطینی اتھارٹی کے سٹاف کی تنخواہیں روک لی گئیں، غزہ کی بجلی کی مد میں اسرائیل کو معاوضہ ادا نہیں کیا گیا اور صحت کی سہولتوں میں کمی کر دی گئی۔ لیکن یہ غزہ کے عوام ہی ہیں جو ہر طرف سے شدید دباؤ کا شکار ہوتے ہیں۔ 2017 ء میں فلسطینی اتھارٹی کی طرف سے عائدکردہ پابندیوں کے باعث انسانی فلاح کی صورتحال میں ڈرامائی بگاڑ پیدا ہوا۔ 2014 ء کی مسلح جھڑپوں کے نتیجے میں تباہ ہونے والے بنیادی ڈھانچے کی تعمیرِنو ابھی بڑی حد تک نامکمل ہے اور موجودہ حالات میں پائیدار معاشی ترقی ممکن نہیں۔

 ایسے میں عوام کے بڑے حصے کا انحصار عالمی امداد پر ہے۔ گذشتہ برسوں میں ماحولیاتی صورتحال بھی بگاڑ کا شکار ہوئی ہے۔ غزہ کا زیرِزمین پانی بڑھتے ہوئے استعمال کی وجہ سے کھاری ہو گیا ہے اور اس میں گنداپانی اس حد تک شامل ہو چکا ہے کہ زیرِزمین پانی کا بمشکل پانچ فیصد پینے کے قابل بچا ہے۔ ساحلی پانی بے حد آلودہ ہو چکا ہے۔ تقریباً ایک لاکھ کیوبک میٹر گنداپانی روزانہ مناسب صفائی کے بغیر بحیرہئی روم میں بہا دیا جاتا ہے۔

 اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پانی کی صفائی کے کارخانے بجلی کی قلت کے باعث اپنی مطلوبہ استعداد پر کام نہیں کر پاتے۔ ناکہ بندی کی وجہ سے تعمیری سامان نہ پہنچنے کے باعث پانی کی صفائی کے اضافی کارخانے فی ا لحال مکمل نہیں کیے جا سکتے۔ ماحولیانی مسائل نہ صرف بیماری اورخصوصاً شیرخوار بچوں میں غذائی اجزاء کیشدید قلت کا باعث بنتے ہیں بلکہ غزہ کی پٹی کی باقی رہنے کی صلاحیت پر بھی سوال اٹھاتے ہیں۔ غزہ میں جابرانہ طرزِحکومت ہے اور جمہوری اقدار کا شدید فقدان ہے۔

 غزہ کی حکومت کو اپنی مقبولیت میں بتدریج بڑھتی ہوئی کمی کا سامنا ہے۔ آخرکار حماس کی قیادت نے یہ جان لیا ہے کہ وہ تسلط، ناکہ بندی اور دوررس عالمی تنہائی کی صورتحال میں کامیاب حکومت نہیں چلا سکتی۔ وہ یہ بھی جان چکی ہے کہ روزمرہ کے بحرانوں کے حل پر توجہ دیتے دیتے ان کے قومی مقاصد کہیں کھو گئے ہیں۔ لہذٰا 2017 ء کے موسمِ گرما میں حماس نے حقیقت پسندانہ سیاست کی طرف قدم بڑھایاجو رام اللہ سے صلح، غزہ میں طاقت کی تقسیم اور قاہرہ کے ساتھ مصالحت میں نظر آیا۔

 فلسطینی علاقوں میں دونوں حکومتوں نے اپنی محدود طاقت بڑھانے کو اسرائیلی تسلط ختم کرنے پر ترجیح دے رکھی ہے۔ جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا، اس حوالے سے کلیدی عوامل میں اسرائیل (جو حقیقی اختیارات کا حامل ہے ) پر بھاری انحصار، بیرونی ذرائع پر معاشی انحصار، عالمی سطح پر دوسروں کے مقابلے میں اپنی کامیابیاں منوانے پر زور اور موجودہ نظام میں رہتے ہوئے ذاتی مراعات اور مواقع کا تحفظ شامل ہیں۔ ان حالات میں فلسطینی اتھارٹی اور حماس نے نہ چاہتے ہوئے سہی الگ الگ حد تک اسرائیلی تسلط کو مضبوط کرنے میں کردار ادا کیا ہے۔

 حالات کی اس صورتحال کو فلسطینیوں کی اندرونی تقسیم سے تقویت ملتی ہے جو اکتوبر 2017 ء کے مصالحتی سمجھوتے کے باوجود تاحال ختم نہیں ہوئی۔ اول تو یہ تقسیم جدوجہدِ آزادی میں ایک متحدہ فلسطینی حکمتِ عملی کی تشکیل کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ بلکہ دونوں حکومتوں کے مختلف علاقائی دوست تلاش کرنے کے عمل میں فلسطینی جدوجہد علاقائی دشمنیوں کے ماتحت ہو چکی ہے (مثلاً ایران اور سعودی عرب کی رقابت)۔ دوسرا اس سے اسرائیل کو ایک آسان بہانہ مل گیا ہے جس کا مذاکرات کے ذریعے حل تلاش کرنے میں کوئی فائدہ نہیں۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

 صدر محمود عباس تمام فلسطینیوں کا نمائندہ ہونے کا دعویٰ نہیں کر سکتے اور نہ ہی وہ اس پوزیشن میں ہیں کہ کسی معاہدہ پرپورے علاقے میں عمل کروا سکیں۔ تیسرا اس تقسیم نے جمہوری اداروں کو بڑی حد تک مفلوج کر دیا ہے، اختیارات کی تقسیم کو تہہ و بالا کر دیا ہے اور سیاسی آزادی کو محدود کیا ہے۔ اس کے نتیجے میں گذشتہ سالوں میں ایک پائیدار جمہوری فلسطینی ریاست کی طرف پیش قدمی کا سفر الٹ سمت میں رہا ہے۔ ایسے میں مذاکرات کے ذریعے بات چیت کا حل تقریباً ناممکن ہے۔

 تاہم بنیادی ذمہ داری اسرائیلی حکومت پر عائد ہوتی ہے جو نہ صرف دو ریاستی حل کے لئے سنجیدہ نہیں ہے بلکہ آبادیوں کی تعمیر اور مغربی کنارے کے حصے اپنے ساتھ ملانے کے تیاریوں میں آگے بڑھ رہی ہے۔ اس پس منظر میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کوئی امن منصوبہ دے بھی دیں (جو خود ایک انہونی بات لگتی ہے ) تو بھی نا امیدی کی گنجائش باقی رہتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ موجودہ صورتحال میں پر تشدد واقعات میں اضافے کا بڑا خدشہ ہے جو مختلف عوامل سے پھوٹ سکتے ہیں مثلاًفلسطینی اتھارٹی کا خاتمہ اور اس سے نتیجے میں پیدا ہونے والی افراتفری، اسرائیلی آباد کاروں کی مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں اشتعال انگیزی (جو اسرائیلی حکومت سے حوصلہ افزائی پاتے ہیں )، مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں اہم مقامات پر آبادیوں کی تعمیر کی اجازت اور حرم الشریف پر تنازعہ وغیرہ۔

 اقتدار کے لئے فلسطینیوں کی باہمی کشمکش شدت اختیار کر سکتی ہے اور حماس اسرائیل پر حملوں کو ایک حکمتِ عملی کے طور پر استعمال کر سکتی ہے۔ یورپی یونین کے لئے پالیسی کا انتخابیورپی یونین اور اس کے رکن ممالک کے لئے یقینا تسلط کی مضبوطی اور مستقل قبضے کی راہ روکنے اور تازہ تصادم کا رخ پھیرنے سمیت کئی راستے کھلے ہیں۔ اس حوالے سے تین نکات کو ترجیح دینی چاہیے۔ اول تو امریکی ثالثی میں ایک اور معاہدے کا انتظار کرنے کی بجائے یورپی ممالک کواس ڈھانچے پر اثرانداز ہونا چاہیے جس کے تحت مذاکرات ہوں گے (یہ فرض کر لیجیے کہ مذاکرات ہوں گے )۔

 مذاکرات تب ہی کامیاب ہو سکتے ہیں جب وہ فریقین کے جائز مفادات کو تسلیم کریں۔ اس حوالے سے یورپی یونین اور اس کے رکن ممالک کو چاہیے کہ اسرائیلی حکومت اور عوام کے نفع نقصان کے حساب کتاب پر اس طرح اثر انداز ہوں کہ انہیں مستقل قبضے کی بجائے تسلط کے خاتمے کی طرف راغب کیا جا سکے۔ اسی تناظر میں یورپی یونین کے ارکان کو یہ بحث کرنی چاہیے کہ مقبوضہ علاقوں میں اسرائیل کے آبادکاری سے متعلق اقدامات (جو عالمی قوانین کے تحت غیر قانونی ہیں ) کو یورپ کی طرف سے رد کرنے کا کیا طریقہ ہونا چاہیے۔

ان کو یہ بھی سوچنا چاہیے کہ اس بات کو کس طرح پہلے سے بہتر انداز میں اسرائیلی حکومت اور عوام کے سامنے رکھا جا سکتا ہے۔ دوم یہ کہ جہاں تک فلسطینی علاقوں کی اندرونی سیاسی صورتحال کا تعلق ہے تو یورپی ممالک کو الفتح اور حماس کے درمیان مفاہمت کے عمل کی حمایت کرنی چاہیے جو اکتوبر 7102 ء سے تعطل کا شکار ہے۔ مفاہمت کے لئے درکار اقدامات پر عملدرآمد اسرائیل اور غزہ کے درمیان ایک اور مسلح تصادم سے بچاؤ کے لئے ناگزیر ہے۔

 دسمبر 2017 ء میں صدر ٹرمپ کے اس بیان کے بعد کہ امریکہ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرلے گا، غزہ میں صورتحال خطرناک حد تک کشیدہ ہو گئی ہے۔ جن اقدامات پر اکتوبر 2017 ء میں اتفاقکیا گیا تھا وہ بھی جمہوری عمل کی طرف واپسی اور غزہ کو انسانی بنیادوں پر ملنے والی امداد پر انحصار سے معاشی ترقی اور اس کے مستقبل کی منصوبہ بندی کے لئے بے حد ضروری ہیں۔ یہ مسئلہ انسانی بنیادوں کے حوالے سے فوری حل طلب ہے۔

غزہ میں دیرپا امن کے لئے ایک دیرپا جنگ بندی اور بحرانوں سے نمٹنے کے موثر نظام کا قیام بھی ضروری ہے۔ مثال کے طور پر 2005 ء کے نقل و حرکت اور رسائی کے معاہدے کے تجارت اور آمد و رفت سے متعلق کچھ حصے دوبارہ استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ اس حوالے سے یورپی یونین کا سرحدی اعانت مشن برائے رفاہ سرحدی گزرگاہوں اور ساحلی پانیوں کی نگرانی کا کام کر کے بحران کے حل کے لئے کردار ادا کر سکتا ہے۔ لیکن یہ عمل حماس حکومت کی زمینی سطح پر شمولیت کے بغیر ممکن نہیں۔

 اس کا مطلب یہ ہے کہ یورپی ممالک کو اب فلسطینی صدر کی اپنے حریفوں کے ساتھ سختی کی حمایت نہیں کرنی چاہیے بلکہ انہیں حماس کے ساتھ رابطوں پر پابندی ختم کرنی چاہیے اور اسے مذاکرات کا حصہ بنانا چاہیے۔ حماس کی 2017 ء کی پالیسی دستاویز کو اس کے تمام تر نقائص کے باوجود ایک حوالے کے طور پر استعمال کیا جانا چاہیے۔ سوم یہ کہ یورپی یونین اور اس کے ارکان کو فلسطینی علاقوں کی حمایت کے حوالے سے اپنے طرزِ عمل پر نظرِ ثانی کرنی چاہیے۔

یہاں دو امر فیصلہ کن ہیں۔ پہلا یہ کہ ذرائع معاش اور علاقائی یکجہتی کے لئے کی جانے والی کاوشوں کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔ دوسرا یہ کہ فلسطینی سول سوسائٹی کی مضبوطی، جمہوری اداروں کی بحالی اورطاقت کی موثر تقسیم پر خصوصی توجہ دینا ضروری ہے۔ اس کے لئے پولیس میں اصلاحات ناگزیر ہیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ وہ شہریوں کی حفاظت کرے نہ کہ آمرانہ طرزِ حکومت اور تسلط کے آلۂ کار بنی رہے۔

یہ تحریر سٹفٹنگ وِسنشفٹ اُنڈ پولیٹِک جرمن ادارہ برائے بین الاقوامی و سیکورٹی امورجرمنی کے جون 2018 ء میں شائع کردہ انگریزی تحقیقی مقالے ’اسرائیل فلسطین تنازعے کے کردار‘ کے ایک مضمون کا ترجمہ ہے۔

تحریر: مورئیل ایسبرگ ترجمہ: وجاہت رفیق بیگ

Source: https://www۔ swp۔ berlin۔ org/fileadmin/contents/products/research۔ papers/ 2018 RP 03۔ ltl۔ pdf