پرانے وقتوں کے دس فٹ لمبے، ہزار سال جینے والے لوگ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پہلا شخص: پرانے زمانے میں لوگ دس دس فٹ کے ہوتے تھے۔
دوسرا شخص: اس بات کا کیا ثبوت ہے؟

پہلا شخص: بزرگوں سے یہی سنا ہے۔
دوسرا شخص: کوئی تصویر ہے ان دس فٹ قامت کے لوگوں کی؟

دوسرا شخص: نہیں، اس زمانے میں کیمرے نہیں ہوتے تھے۔
دوسرا شخص: کوئی ریکارڈ لکھائی میں ہے جس پہ بھروسا کیا جاسکے۔ مثلا، کوئی سرکاری یا فوجی ریکارڈ جس میں لوگوں کے ناموں کے ساتھ ان کے قد کا اندراج ہو۔

پہلا شخص: کیسی حماقت کی بات ہے؟ جس زمانے کی یہ باتیں ہیں اس زمانے میں ایسے کوئی ریکارڈ نہیں ہوتے تھے۔
دوسرا شخص: پھر کیسے اس بات کو مان لیں کہ پرانے وقتوں میں دس فٹ لمبے لوگ ہوا کرتے تھے؟

پہلا شخص: آپ کے ماننے یا نہ ماننے سے کیا فرق پڑتا ہے؟ یہ ایک حقیقت ہے۔
دوسرا شخص: کیا آثار قدیمہ کی کسی کھدائی میں کبھی اتنے طویل قامت لوگوں کی ہڈیاں ملی ہیں؟

پہلا شخص: اس بارے میں ہمیں کوئی علم نہیں۔
دوسرا شخص: میں آپ کو بتاتا ہوں۔ ایسی کوئی ہڈیاں نہیں ملیں۔ بلکہ جتنی بھی ہڈیاں ملی ہیں ان سے یہی بات سامنے آتی ہے کہ پرانے وقتوں میں لوگوں کے قد چھوٹے ہوتے تھے اور اُن کی عمریں کم ہوتی تھیں۔

پہلا شخص: مگر ایسے پتھر ہیں جن پہ بنے پیروں کے نشان بہت بڑے ہیں۔ موجودہ دور میں کسی کا پاؤں اتنا بڑا نہیں ہوتا۔
دوسرا شخص: اگر میں آپ کو ایک پتھر پہ کھڑا کروں تو کیا آپ کے وزن سے آپ کے پاؤں کا نشان اس پتھر میں بن جائے گا؟

پہلا شخص: نہیں مگر میرا اتنا وزن نہیں ہے۔

دوسرا شخص: آپ کا قد کتنا ہے؟
پہلا شخص: پانچ فٹ چھ انچ۔

دوسرا شخص: اور وزن کتنا ہے آپ کا؟
پہلا شخص: ستر کلو۔

دوسرا شخص: تو اگر کسی شخص کا قد دس فٹ ہے تو اس کیا وزن ہونا چاہیے؟
پہلا شخص: مجھے کیا پتہ؟

دوسرا شخص: پتہ تو مجھے بھی نہیں کیونکہ میں نے دس فٹ لمبا کوئی شخص نہیں دیکھا مگر ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس شخص کا وزن آپ کے وزن سے دوگنا ہوسکتا ہے کیونکہ وہ شخص آپ سے قد میں دوگنا ہے۔ یعنی دس فٹ کے شخص کا وزن ایک سو چالیس کلو ہونا چاہیے۔ اگر میں ایک سو چالیس کلو وزنی پتھر کسی چٹان پہ رکھوں تو کیا اُس پتھر کا نشان اُس چٹان پہ پڑ جائے گا؟

پہلا شخص: مجھے کیا پتہ؟
دوسرا شخص: آپ میرے ساتھ مل کر یہ تجربہ کرنا چاہیں گے؟

پہلا شخص: نہیں، میرے پاس اتنا وقت نہیں ہے۔
دوسرا شخص: یعنی آپ ایمان کے اس درجے پہ ہیں جہاں عقل سے کام لینا، کسی دعوے کا منطقی جائزہ لینا حرام خیال کیا جاتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
علی حسن سمند طور کی دیگر تحریریں
علی حسن سمند طور کی دیگر تحریریں