بچوں کو مجرمانہ حملوں سے کیسے بچائیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کسی بھی معاشرے میں بچے مجرمانہ حملوں کے لیے سافٹ ٹارگٹ ہوتے ہیں۔ ترقی پذیر یا تیسری دنیا کے ممالک جہاں غربت کی وجہ سے جرائم زیادہ ہوتے ہیں وہاں اس قسم کے جرائم بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک بھی اس سے مستثنی نہیں ہیں

لیکن وہاں زیادہ تر کیسز میں غربت، جنسی بے راوی یا ذاتی انتقام کا عنصر شامل نہیں ہوتا بلکہ وہاں ایسے جرائم میں نفسیاتی مریض پائے گئے ہیں۔ ان جرائم میں بچوں سے ریپ ایک بہت بڑا جرم ہے اور آج کا ہمارا موضوع بھی یہی ہے کہ آخر بچوں کو اس بے رحم اور خونخوار مجرمان سے کیسے بچایا جائے

ایسی بات نہیں ہے کہ ہمارے ہاں ان جرائم میں نفسیاتی مریض شامل نہیں ہوتے لیکن ان کی تعداد قلیل ہوتی ہے ان کے مقابلے میں ان مجرموں کی تعداد کہیں زیادہ ہے جو مخص اپنا جنسی جنون اور ہوس پوری کرنے کے لیے بچوں کو سافٹ ٹارگٹ سمجھ کر اپنا گھناونا مقصد پورا کرتے ہیں۔

یہ معاملہ اب حد سے آگے بڑھ چکا ہے اور ہمیں اگر مگر اور لیکن کی پردوں میں رہ کربات کرنے سے باہر آنا ہوگا۔ پاکستان بھر میں ہم نے زینب کا کیس دیکھا نوشہرہ کی دس سالہ بچی کا کیس دیکھا اور حال ہی معصوم فرشتہ کا کیس۔ ہم نے ایسے لاتعداد کیسز دیکھے جہاں معصوم بچوں کو جنسی تشددکے بعد بے رحمانہ طریقے سے مارا گیا۔ ان واقعات نے جہاں ہمارے قومی مزاج و قومی میڈیا کا ضمیر وقتی طور پر جھنجھوڑا وہاں ہماری اداراجاتی بے حسی کا پول بھی کھولا۔ وقت آگیا ہے کہ ہم کھل کر ان وجوہات پر بات کریں جن کی وجہ سے یہ جرائم ہوتے ہیں۔

جرم انسانی جبلت میں شامل ہے اور انسان جرم ازل سے کرتا آیا ہے اور کرتا رہے گا۔ قوانین اور سزاوں سے ہم جرم کنٹرول کرسکتے ہیں ختم نہیں کرسکتے۔ سعودیہ اور ایران کی مثالیں دیتے وقت ہم بھول جاتے ہیں کہ وہاں آج بھی جرائم ہوتے ہیں۔ ہم سے تھوڑے ہیں

لیکن اگر پاکستان کی آبادی، اس کی کثیر جہتی فیکٹرز جیسے غربت، افلاس، لسانیت اور دہگر عوامل سے اس کا موازنہ کریں تو سعودیہ بھی ہم سے کچھ زیادہ اچھا نہیں ہے۔ ایسے معاملات کو معاملے کو کثیر ابعاد زاویوں سے دیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

ریاست اور اداروں کا کام جرم وقوع پذیر ہونے کے بعد شروع ہوتا ہے۔ ریاست کا ایک کام یہ بھی ہے کہ ایسے جرائم کی بیخ کنی کے لیے شعور اجاگر کرے اور اقدامات کرے۔ لیکن کیا ضروری ہے کہ ہم رہاست اور اداروں میں بیٹھے بے حس لکیر کے فقیر بابووں کی مدد کا انتظار کریں؟

ریاست اور قانون سے پہلے ایک اور ادارہ بھی ہے۔ وہ ہے والدین کا ادارہ۔ زندگی کی آسائیشیں اور تعلیم مہیا کردینا ہی بھرپور تربیت نہیں ہوتی۔ والدین کو بچوں سے گھل مل جانا بھی ہونا ہے۔ بچوں کے ساتھ خیالات کا تبادلہ اور ان کے خیالات جاننے کا وقت نکالنا چاھیے۔

ہمارے سماج میں بچوں کو گڈ ٹچ اور بیڈ ٹچ شرم سمھ کر نہیں سمجھایا جاتا اور یہ والدین کی ذمہ داری میں آتا ہے۔ بچوں کے ساتھ بیٹھ کر سمجھائیے کہ والدین کے علاوہ کوئی بھی فرد مخصوص جگہوں پر ٹچ کرے، روپیہ یا ٹافیاں دینے کی کوشش کرے تو کیا کرنا چاھیے۔

بچوں کے میل جول، ان کے کھیل کود اور سکول اوقات نوٹ کریں۔ ان میں بے ترتیبی دیکھیں تو تسلی کرلیں کہ کوئی گڑ بڑ نہیں ہے۔ جتنے بھی کیسز میں نے آج تک دیکھیں ان سب میں میں نے ایک چیز مشترکہ دیکھی کہ جن بچوں کے ساتھ ایسے واقعات ہوئے وہ لوئر مڈل کلاس یا لوئر لوئر مڈل کلاس سے تعلق رکھتے تھے۔

ایک اورچیزجو ہم نے زینب کے کیس میں دیکھاکہ والدین عمرہ کرنے چلے گئے اور بچی کو رشتہ داروں میں چھوڑ دیا۔ نیز کئی واقعات کو اسٹڈی کیا ان میں بچوں کے معاملات سے والدین بے خبر تھے۔ فرشتہ کے کیس میں بھی ہم نے ایسا ہی دیکھا کہ بچی گھر سے افطاری تک غائب تھی اور گھر والے سمجھ رہے تھے کہ پڑوس میں کھیل رہی ہے۔ ان کلاسز میں بچے والدین سے دور ہوتے ہیں۔ والدین بچوں سے گھل ملتے نہیں۔ ایسے بچے باسانی ان مجرموں کے شکار بن جاتے ہیں۔ زینب کیس کی ویڈیو میں ہم نے دیکھا کہ وہ رضامندی سے اس شخص کے ساتھ شام کے وقت جارہی تھی لیکن اسے یہ نہیں معلوم تھا کہ جسے وہ انکل سمجھ رہی ہے وہ کیا کرنے جارہا یے۔ ایسے بچے والدین کی توجہ و پیار کے متلاشی ہوتے ہیں۔ بچے بچے ہوتے ہیں۔ ایسے مجرمان بچوں کو پیسوں یا ٹافیوں وغیرپ پربہلا پھسلا کر اپنا مقصد حاصل کرتے ہیں۔

خدارا ہر چیز ریاست اور اداروں پر مت چھوڑیں۔ مضبوط قوانین اور سخت سزائیں اس بات کی ضامن نہیں ہے کہ جرم نہیں ہوگا۔ ریاست پر سب چھوڑ کر والدین بری نہیں ہوجاتے۔ ریاست مجرم کو سزا دے دے گی۔ ادارے مضبوط کردے گی۔ لیکن اس سے آپ کا کھویا ہوا بچہ واپس مل نہیں جائے گا۔

اس دنیا میں کوئی گارنٹی نہیں کہ انسان جرم کرنا ختم کردے گا۔ جرم اور منفیت انسان کی جبلت میں شامل ہے۔ جب تک انسان ہے تب تک جرم ہے۔ بائیس کروڑ غربت ذدہ اور پیچیدہ معاشرے میں ہمارے بچے سب سے آسان ٹارگٹ ہیں۔ ابتدا گھر سے کیجیے کہ بچوں کو سمجھائیں۔ ان کی اوقات کار پر نظر رکھیں۔

اداروں میں بیٹھے افسران بھی اسی سماج کا حصہ ہے۔ ان کے آسرے مت رہیے کہ وہ بھی آٹھ گھنٹے ڈیوٹی کو نوکری سمجھ کر کرتے ہیں۔ کچھ خود بھی کیجیے کہ بچوں ان جرائم پیشہ افراد سے بچ جائیں۔ ایسے کیسز زیادہ تر اعتبار کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ بہت کم کیسز میں دیکھا گیا ہے کہ انجان بچے کو اغوا کرکے ایسا گھناونا کام کیا گیا ہے۔ بچوں کو پاس بٹھائیں۔ ان سے سکول مدرسے کے مسائل کا پوچھیں۔ کوئی اگر تنگ کرتا ہے اس کا حل نکالیں۔

بچوں کو سمجھائیں کہ چند مخصوص رشتہ داروں کے علاوہ کسی کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا نہیں، کسی سے کھانے پینے کی چیز لینی نہیں، بچوں کو خود اعتمادی دیں۔ بلاوجہ روک ٹوک، ڈانٹ ڈپٹ بچوں کو خوفزدہ اور بزدل بنا دیتی ہے۔ وہ والدین سے شرم کے مارے کوئی بات شئیر نہیں کرتے۔ ایسے بچے گھر سے باہر بھی بلیک میل ہوتے ہیں اور گھر میں بھی بتا نہیں پاتے۔

ہمارے رویے ہی سماج کی تشکیل کرتے ہیں۔ والدین اس میں اپنا کردار ادا کریں۔ بچوں کو مکمل راہنمائی دیں۔ اور کوئی معاملہ سمجھانے میں شرم محسوس نا کریں۔ یاد رکھیں کہ ہماری معمولی لاپرواہی ہمیں بہت بڑے حادثے سے دو چار کرسکتی ہے۔

والدین ان واقعات سے سبق سیکھیں۔ اور بچوں کی تحفظ اور تربیت کے لیے بہترین درسگاہ ہونے کا حق ادا کریں۔ آخر میں بات دہرانا چاہوں گا کہ کسی کے آس پر مت بیٹھیں۔ آپ اپنے بچوں کے فسٹ لائین آف ڈیفنس ہیں۔ جب پہلی دفاعی لائن ہی کمزور ہوگی تو بقیہ دفاعی لائینوں سے کیا گلہ۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •