دیپ جلتے رہے (بارہواں حصہ)۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

زندگی پھر اسی ڈھب پر چلنے لگی اب گھر میں تین افراد تھے۔ رامش کے بغیر گود، بستراور گھر کا کونا کونا سوناہو گیا تھا۔ زندگی اسی کانام ہے، سینے میں دھڑکتادل، عارضی یا لمبی جدائی سے بے غرض ایک ہی لے میں سانسوں کو نغمہء حیات سنا تا رہتا ہے۔ مدھم سروں میں یہ گیت کسی کو مست، کسی کو سر شار کسی کو بوجھل، کسی کو گراں، کسی کو بیزار اور کسی پر بار گزرتا ہے، لیکن خاک ہوئے بنا اس کی خاموشی ممکن نہیں۔ جب زندگی کے لالے پڑے ہوں تو آنگن میں بچے کی کلکاریوں سے زیادہ اس کی زندگی کی چاہت سب سے بڑا مقصد بن جا تی ہے۔ کتنی ماؤں نے اپنے بچوں کو ان کی زندگی کی امید میں انہیں خود سے ہمیشہ کے لیے جدا کر دیا۔ دل کو تسلی دیتے تھے کہ ہم زندہ ہیں۔ ورنہ بچوں کی مائیں مر بھی تو جا تی ہیں۔ بس چالیس دن ہی تو رامش کے بغیر گزارنے ہیں۔ پھر دو ماہ کی گرمیوں کی چھٹیوں میں وہ ہمارے پاس ہو گا۔ اس کے بعد یقیناً کوئی سبیل نکل آئے گی۔

مگر اسکول کا تختہء سیاہ، بچوں کے لیے تختہء مشق بن چکا تھا۔ کسی مجنوں کے چاک گریباں کی طرح ہمارا چاک سے لکھا بھی بے ربط ہوتا۔

رامش کے بغیر ذہن چڑ چڑا ہو گیاتھا۔ اب ان کی ناز برداریوں سے جی اکتا چکا تھا۔ دوسری طرف ان کی بھر پور شخصیت، جاندار شاعری اور مشاعرے میں ان کے پڑھنے کا خوب صورت انداز ان کے مداحوں میں اضافے کا باعث بن رہا تھا۔ خواتین کی توجہ بھی حاصل تھی۔ خوب صورت شاعرات اصلاح لینے لگی تھیں۔

اس سب کے ساتھ معاشی حالات جوں کے توں تھے۔ تنگ دستی اور شاعری تو باہم چل سکتے ہیں، لیکن اس کے لیے بھی بیوی بچوں کو ہی قربانی دینا پڑتی ہے۔ اپنی ضروریات کو مزید محدود کرنا پڑتا ہے۔ فکر کی گہرائی میں ڈوبا شاعر ایش ٹرے میں جمع ٹوٹوں کی تعداد اور اشعار کو ہم پلہ کرتا رہتا ہے۔ بیوی اس کی بھری ایش ٹرے کو خالی اور خالی پیٹ کو بھرنے جیسے احمقانہ کاموں کی فکر میں جتی رہتی ہے۔ شاعر عزت کمانے کی دھن میں مصروف، کسی خاتون سے تعریف کے دو بول سننے کو مل جائیں تو خود ساختہ عشق کی کیفیت طاری کر کے غزل کی آبیاری کرنا۔

اور پھر اس کیفیت میں ایسے اشعار کہنا کہ جسے ہر عاشق اپنے دل کی آواز سمجھے۔ اور کوئی ایک فا رغ مدا ح اپنا وقت بتانے کو شاعر کا دامن پکڑ کر داد و تحسین کے ڈونگرے برسا کر شاعر کے لیے دنیا کا واحد زیرک، سمجھدار معتبر اوراعلیٰ زوق کا حامل قرار پائے۔ ایسا ایک کل وقتی مداح، ایک فرضی یا اصلی محبوبہ اورسگریٹ شاعر کی زندگی میں شلوار کے ازار بندکی طرح لازم ہے۔

ایسے میں ہمارے پانی خود پی لیں، روٹی خود نکال لیں، کپڑے خود استری کر لیں، پین خود ڈھونڈ لیں جیسے الفاظ انتہائی بد زبانی میں شمار ہونے لگے۔ ذہنی امراض کے ہاسپٹل میں یاسین کا یہ کہنا کہ ہماری کہنے پر انہیں زدو کوب کیا گیا تھا، اس کو وجہ بنا کر چیخ پکار اور تشدد معمول ہو گیا۔

رامش کی جدائی اور احمد کی بد سلوکی نے حد درجہ حساس بنا دیا۔ زندگی سے دلچسپی ختم ہو نے لگی۔ ایک روز خبر ملی کہ ثروت حسین نے ٹرین کی پٹری کے نیچے آ کر اپنی جان دے دی۔ اس زمانے میں ہم ملیر ہالٹ کی طرف رہتے تھے۔ وہیں کی ریل کی پٹری سے ہمارا اکثر گزر ہو تا تھا۔ اسی پٹری سے خود کشی کا یہ واقعہ بھی ہوا تھا۔

جس اسکول میں ہم پڑھاتے تھے۔ وہاں کی کلیگز اور ہیڈ مسٹریس حد درجہ ہمدرد تھیں۔ ہم اکثر زندگی سے بیزاری کا اظہار کرنے لگے۔ اور خود کشی جیسے اقدام کی پذیرائی میں ہمارے پاس بہت سی دلیلیں ہوا کرتیں۔ میری ایک مہربان دوست زرین نے سائکا لوجی پڑھی ہوئی تھی۔ وہ میری ذہنی کیفیت بھانپ چکی تھی۔ اس نے اپنی باتوں اور مختلف تھریپیز سے میرے دماغ سے خود کشی اور ٹرین سے کٹ کر مرنے کے رومان کو تحلیل کیا۔ جب ہم اس کیفیت سے مکمل طور پر باہر نکلے تو سوچ لیا کہ اب ہم احمد کو ہمیشہ کے لیے چھوڑ دیں گے۔

میری زندگی بچوں کے لیے ضروری تھی۔ شدید خود ترسی میں مبتلا ہو ان کے بے حس رویے نے ہمیں ان سے اس حد تک بد ظن کر دیا تھا، کہ ہم سنجیدگی سے ان سے علیحدگی کا سوچ لیا تھا۔ ۔

یہ ٹھیک کہ اس آپ بیتی کا محور احمد نوید ہیں، لیکن کئی لمحات آتے ہیں جب ہمت جواب دے جا تی ہے، انسان کے حوصلے کمزور پڑجاتے ہیں بہت کچھ جانتے ہوئے بھی کم ہمتی اپنی دھاک بٹھا چکی تھی۔

لگا کہ اگر ان تمام زیادتیوں کے باوجود انہیں ان کے مرض کی رعایت دی تو پھر میں زندہ نہیں رہوں گی۔ یہ بھی جانتی تھی کہ میرے بعد ان کا کوئی پرسانِ حال نہ ہو گا۔ لیکن ہم میں سے کسی ایک کو زندہ رہنا تھا، میں نے خود کو زندہ رکھنے کا فیصلہ کر لیا۔

ایک روز ان سے کہہ دیا کہ ہمارا ان کا زندگی بھر ساتھ رہنا مشکل ہے۔ جس پرہماری ٹانگ پر اپنی ٹانگ اتنی زور سے رسید کی کہ ہم سے قدم اٹھانا مشکل ہو تا تھا۔ انہوں نے رو رو کر معافی مانگی، اورمیڈیکل اسٹور سے ایک بینڈج اور مرہم ہمیں دے کر اپنا فرض پورا کر کے حسب معمول گھر سے چلے گئے۔ تکلیف کے شدید عالم میں کس کے پٹی باندھ دی۔ دوسرے دن لنگڑاتے ہوئے اسکول پہنچے سب کو بتا یا کہ بچوں کی کرکٹ کی بال لگ گئی ہے۔ مشورہ دیا گیاکہ فریکچر نہ ہو ایکسرے کروانا لازمی ہے۔ مگر ہماری تنخواہ تو ملتے ہی مکان کا کرایہ، بلوں کی ادائگی، اورادھار چکانے میں خرچ ہو جاتی تھی۔
ان سے کہا تو شانِ بے نیازی سے فرمایا کہ اگر فریکچر ہو ا ہوتا تو تم زمین پر پیر نہ رکھ سکتی تھیں۔

لنگ کے ساتھ شدید تکلیف میں کسی نہ کسی طرح دو ماہ کا عرصہ گزرا۔ اب انہیں چھوڑنے کا ارادہ مستحکم ہو چلا تھا، انہیں کب اور کیسے اپنی زندگی سے ہمیشہ کے لیے فارغ کرنا ہے اس کی بھی پلاننگ کر لی تھی۔

جس دن گرمیوں کی چھٹیاں شروع ہو ئیں، اسی دن ہم احمد کے ساتھ خیر پور چلے گئے۔ رامش کو سینے سے لگا یا تو دھڑکنوں نے رقص کرنا شروع کر دیا۔ لیکن میرا ننھا بچہ خاموش تھا، جیسے اسے اب ہمارے ہونے نہ ہونے سے کوئی فرق نہ پڑا ہو۔ لیکن دونوں بھائی جیسے صدیوں کے بچھڑے ملے، رامش اس کا ہاتھ پکڑے گھر کی ایک ایک چیز دکھا رہا تھا اور رشی ایسے بن رہا تھا جیسے پہلی بار وہ یہ سب کچھ دیکھ رہا ہو۔

دوسرے دن ہم امی کے ساتھ ڈاکٹر کے پاس گئے۔ ایکسر ے رپورٹ سے معلوم ہوا معمولی سا فریکچر ہے۔ پندرہ دن کے لیے پلاسٹر باندھ دیا گیا۔ ایک دن موقع غنیمت جان کر ہم نے گھر والوں سے کہہ دیا کہ اب ہم کراچی نہیں جا ئیں گے اور خیر پور کے ہی کسی اسکول میں جاب کر لیں گے لیکن احمد کے ساتھ نہیں رہیں گے۔ جب ہمیں سمجھانے کی کوشش کی گئی تو ہم نے ان کی بد سلوکی اور بے حسی کے واقعات بتانے شروع کیے۔ بڑے ہی شرمندہ ہوئے، سوائے ہمارے گھر کے ایک ایک فرد سے معافی مانگی اور وعدہ کیا کہ آئندہ انہیں ہم سے کسی قسم کی شکایت نہیں ملے گی۔ گھر والوں کے منت سماجت سے دل پسیج گئے اور سمجھایا گیا کہ آخری موقع دے دو، تب ہم نے بتایا کہ یہ ٹانگ پر لگنے والی چوٹ بھی کسی کرکٹ بال سے نہیں لگی بلکہ۔ ۔ ۔

یہ سننا تھا کہ میرا سب سے چھوٹا بھا ئی جو اس وقت گھر پر تھا، وہ بے انتہا غصے میں آگیا، اس نے احمد سے بد تمیزی شروع کر دی، اور دروازے کی طرف اشارہ کر دیا کہ وہ ہ ہمیشہ کے لیے ہم سب کی زندگیوں سے نکل جا ئیں۔ احمد حواس با ختہ تھے انہیں سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اچانک اتنا بڑا طوفان کیسے آگیا۔ بہنوں اور امی نے بھی دبی دبی زبان سے کہا کہ ہمیں عفت کا ہر فیصلہ منظور ہے۔ میں ان کے ذہنی اور فکری مسائل جانتے ہوئے اور یہ کہ ہمارے علاوہ ان کا کو ئی نہیں اب ان کے ساتھ کسی صورت نہیں رہنا چا ہتی تھی۔

میں نے اٹل لہجے میں ان کے ساتھ زندگی کا بقیہ سفر طے کرنے سے انکار کر دیا۔ آپ یہاں سے چلے جائیں۔
یہ حیران تھے کہا: تم وہاں سے تو اچھی بھلی آئی تھیں، اچانک کیا ہو گیا ہے تمہیں۔

ہم نے جوب دیا اگر ہم وہاں اپنے ارادے ظاہر کر دیتے تو آپ پہلے مارتے پیٹتے اور پھر معافی مانگ لیتے۔ یہ سلسلہ اب یہیں پر ختم کر دیں۔ اکیلے کراچی چلے جائیں۔ ہم ساتھ نہیں جائیں گے۔

اب سب ہمیں سمجھانے بیٹھ گئے، آخری موقع دے کر دیکھ لو۔
ہم نے کہا ایک شرط پر۔ انہیں اب ہماری زندگی گزارنی ہو گی، اور ہم ان کی زندگی گزاریں گے۔

یہ عفت اور ہم احمد۔
کہنے لگے منظور ہے۔

ہ تا کوئی ہم دونوں میں آساں تو تھی مشکل
میں خود بھی تو مشکل تھا سو مشکل نہ رہا وہ
باقی آئندہ

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •