ایک اور ورلڈ کپ: خدا خیر کرے

بلا شبہ کرکٹ پوری دنیا کا مقبول اور معروف کھیل ہے۔ پاکستانیوں کو تو کرکٹ سے جنون کی حد تک لگاؤ ہے۔ مذہب، افواج اور قومی زبان کے علاوہ جس چیز نے پاکستانیوں کو باہم متحد اور جوڑ کر رکھا ہوا ہے وہ کرکٹ ہے۔ مجھے وہ دن کبھی نہیں بھولتا جب ستائیس سال قبل پاکستان نے عمران خان کی قیادت میں ملبورن کے تاریخی میدان میں انگلینڈ کو بائیس رنز سے ہرا کر پانچواں ورلڈ کپ جیتا تھا۔ ہر پاکستانی اس اعزاز پر شاداں اور نازاں تھا۔

کرکٹ ٹیم کے ستاروں کو پوری قوم نے سر آنکھوں پر بٹھایا تھا۔ ہر طرف جشنِ طرب کا سماں تھا۔ وہ ورلڈ کپ بھی پاکستان نے رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں جیتا تھا۔ اگر میں اکثر خوش فہم پاکستانیوں کی طرح قانونِ فطرت اور اسباب و علل کی روایت سے پہلو تہی کرتے ہوئے دوا کے التزام کے بجائے صرف دعا کے معجزے پر اندھا اعتقاد کر کے جذباتی مگر غیر منطقی انداز سے ورلڈ کپ کا جائزہ لوں تو یقیناً پاکستانی ٹیم کو قوم کی دعاؤں نے ہی جتوایا تھا۔

خوش قسمتی یا بد قسمتی سے یہ ورلڈ کپ بھی رمضان ہی کے بابرکت مہینے میں شروع ہو رہا ہے۔ ٹیم مینجمنٹ، کپتان اور کھلاڑیوں کا بھروسا بھی اپنی کارکردگی سے زیادہ قوم کی دعاؤں کی تاثیر اور نالہء شب گیر پر ہے۔ مگر اس بار کم از کم میں تو ورلڈ کپ میں فتح کے حصول کے لیے دستِ دعا بلند کرنے سے قبل ٹھٹک کر رہ جاتا ہوں۔ جب بھی پاکستان کی فتح کے لیے دل سے دعا نکلنے کے لیے مچلتی ہے تو ملک کا موجودہ ابتر نقشہ نگاہوں میں گھوم جاتا ہے۔

ستائیس برس پہلے بھی اس مخلص مگرمفلوک الحال قوم نے جیت کے لیے دن رات مناجاتوں کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ کچھ لوگ تو مصلے پر ہی بیٹھے رہے۔ کچھ نے مشکل مشکل چلّے بھی کاٹے۔ پورے ملک میں صدق و صفا اور نور و سرور کا سماں تھا۔ معجزہ برپا ہوا اور پول میچز میں بری طرح پٹنے والی پاکستانی ٹیم ورلڈ کپ کی فاتح ٹھہری۔

پھرکیا تھا کرکٹ کے ایک کھلاڑی اور سیاست کے میدان کے اناڑی نے پوری ٹیم کی کارکردگی پر چونا پھیرتے ہوئے ورلڈ کپ میں شاندار کامیابی کو صرف اپنے ہنر کا اعجاز قرا ر دیا اور اس بنیاد پر پورا ملک ہی کرکٹ کا میدان بنا کر خود کے حوالے کرنے کا انوکھا مطالبہ کردیا۔ تخلیق کاروں اور بادشاہ گروں نے بھی انوکھے لاڈلے کی فرمائش پوری کرنے کی ٹھانی۔ کیونکہ ان کے نزدیک بھی کپتان ہینڈ سم تو تھا ہی ساتھ ہی انہوں نے اس پر دیانتداری اور ایمانداری کا اضافی لیبل بھی چسپاں کر دیا۔

کم بختوں نے یہ بھی نہیں سوچا کہ آسٹریلین شہرہ آفاق کپتان رکی پونٹنگ بھی نہ صرف ہینڈسم، چاق و چوبند اور دیانتدار تھا بلکہ اس نے ٹیسٹ اور ون ڈے میں مثالی کارکردگی کے مظاہرے کے علاوہ آسٹریلیا کو دو مرتبہ ورلڈ کپ میں شاندار فتح دلوائی تھی۔ مگر اس نے اپنے تخلیق کاروں سے ملک کی مٹی پلید کرنے کے لیے آسٹریلیا کی وزارتِ عظمٰی نہیں مانگی۔

میں یہی سوچ سوچ کے ہلکان ہورہا ہوں کہ اگر اس بار بھی پاکستان سادہ لوح اور معصوم پاکستانیوں کی وجہ سے ورلڈ کپ جیت گیا تو بیس پچیس سال بعد آج کا فاتح کپتان اس کے تاوان کے طور پر بچے کچھے ملک کا کیا حال کرے گا؟ اس کپتان نے تو ہمیں بنگلہ دیش سے بھی پیچھے دھکیل دیا ہے۔ اس ٹیم کا فاتح ملک کو کن پستیوں سے ہمکنار کرے گا؟ میں اسی مخمصے اور شش و پنج میں تھا کہ خبر ملی کہ پاکستان افغانستان سے بھی ہار گیا ہے۔

دل کو کچھ اطمینان ہوا کہ بیس پچیس برس بعد ملکِ عزیز کی درگت نہیں بنے گی۔ ابھی تو ہم 92 کی جیت کا تاوان ادا کرتے ہوئے اپنے زخم چاٹ رہے اور کپتان کے نصیبوں کو رو رہے ہیں۔ خدا نخواستہ اگر پاکستانی ٹیم اس بار بھی دھکم پیل اور ہچکولے کھاتے ہوئے ورلڈ کپ جیت گئی تو ہماری آنے والی نسلیں اس فتح کا تاوان ادا کرتی رہیں گی۔ سو میری محب ِ وطن پاکستانیوں سے درخواست ہے کہ وہ ورلڈ کپ میں فتح کے لیے ہاتھ اٹھانے سے پہلے سو مرتبہ سوچیں۔ ہمیں پاکستان کی بد حالی، تنزل اور خستہ حالی کی قیمت پر ورلڈ کپ ہر گز نہیں چاہیے۔ ایسا نہ ہو کہ 2019 کی فتح کا جشنِ طرب بیس بائیس سال بعد ایک مرتبہ پھر مرگِ انبوہ میں بدل جائے۔