اصغر ندیم سید کے لئے حرفِ سپاس!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کل بڑے عرصے کے بعد ایک خالص علمی محفل اصغر ندیم سید کے اعزاز میں منعقد ہوئی۔ ہمارے ادیبوں و شاعروں میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو نام و نمود اور شہرت کے لئے ”سیلزمین شپ“ کے قائل نہیں۔ انہیں اپنے لکھے حروف پر اعتماد ہے، ان میں اصغر ندیم سید بھی شامل ہیں۔ تقریب کے صدر ناولسٹ اکرام اللہ بھی ایسے ہی شہرت بیزار ہیں حالانکہ شہرت اگر اچھی ہو تو کوئی بری بات نہیں اور اگر کسی کو یہ حاصل ہے تو پھر اس کے حصول کے لئے ہاتھ پاؤں مارنے کی ضرورت بھی نہیں ہوتی۔

 متذکرہ تقریب میں صرف 35 ادیبوں کو افطار ڈنر پر مدعو کیا گیا تھا، یہ افطار ڈنر بھی تھا اور اصغر ندیم سید کے لئے اس کے ہم عصروں کی طرف سے حرف سپاس بھی۔ میں نے اتنی عمدہ تنقیدی گفتگو کم کم سنی ہے جو اس روز اصغر ندیم سید کے فن کے حوالے سے سننے میں آئی۔ اظہارِ خیال کرنیوالوں میں بھی جو لوگ شامل تھے وہ ”مقبولِ خاص و عام“ نہیں بلکہ خالص ادبی حلقوں کی اہم شخصیات میں شامل تھے۔ اصغر کی شاعری کے حوالے سے ضیاء الحسن اور ان کی افسانہ نگاری پر ناصر عباس نیئر نے جس خوبصورتی اور ان دونوں فنون میں اصغر کی گہرائی اور گیرائی کی پرتیں ان دوستوں نے جس طرح کھولیں، وہ چالو قسم کے نقادوں کے بس کی بات نہیں۔

 طارق محمود اعلیٰ افسانہ نگار اور اعلیٰ انسان ہیں۔ انہوں نے اصغر کے سیاسی اور سماجی رویوں پر روشنی ڈالی، جو ان کی شاعری اور افسانے کی کلید ہیں۔ اظہارِ خیال کے لئے یونس جاوید بھی مدعو تھے مگر مجھے پہلے سے خدشہ تھا کہ وہ نہیں آ سکیں گے کیونکہ کچھ عرصے سے وہ بالکل گوشہ نشین ہو کر رہ گئے ہیں مگر جہاں جہاں اصغر کی ڈرامہ نگاری کا ذکر آیا وہاں ان کا ذکر خیر بھی ہوا۔ البتہ وجاہت مسعود کی غیرحاضری مجھے کھٹکی۔ وہ تو سو فیصد اس محفل کے آدمی تھے اللہ جانے کس مجبوری نے انہیں آن لیا۔ محفل میں ڈاکٹر تبسم کاشمیری، سعادت سعید اور مسعود اشعر بھی موجود تھے، میرا جی چاہتا تھا کہ ان تینوں بزرگوں کی گفتگو سے بھی استفادہ ”حاصل“ کیا جائے مگر ہوٹل والوں نے ساڑھے چھ بجے افطار ڈنرکے لئے ہال میں پہنچنے کا ”آخری ٹائم“ دیا ہوا تھا۔ چنانچہ ہم سب ان کی گفتگو سے محروم رہے۔

ویسے مجھے نجیب جمال کی گفتگو نے بھی بہت مزا دیا۔ ان کی گفتگو اصغر کے ہمدم دیرینہ اور ملتان کی یادوں سے مزین تھی۔ کاش وہ موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کچھ راز ہائے دروں سے بھی پردہ اٹھاتے مگر وہ یہ باتیں گول کر گئے۔ بزدل نجیب جمال! ان سب اظہار خیال کرنے والوں کے علاوہ جو سامعین یہاں مدعو تھے وہ سب کے سب اہم لکھاری تھے اور نیک شہرت کے حامل تھے۔ اب اگر میں ان کے نام لکھنے بیٹھوں تو آپ حیران رہ جائیں کہ ان مصروف، معروف، مقبول اور معقول ادیبوں نے اپنی مصروفیات میں سے اتنا وقت کیسے نکالا۔ اور ہاں نجیب جمال کی طرح میں بھی بزدل نکلا یعنی خود کو صرف اس کے فن تک محدود رکھا، اس کی ”فنکاریوں“ کا ذکر نہیں کیا۔ نظامت کے فرائض گل نوخیز اختر کو سونپے گئے تھے مگر اسے پھلجڑیاں چھوڑنے کا وقت ہی نہیں ملا اور یہ بہت برا ہوا، کیسے برا ہوا، یہ بھی سن لیں۔

چونکہ نوخیز کا پھلجڑیاں چھوڑنے کا ”کوٹہ“ پورا نہیں ہوا تھا چنانچہ افطاری کے دوران وہ شروع ہو گیا۔ ناصر بشیر کی بدقسمتی کہ وہ اس کے ہتھے چڑھ گیا۔ ناصر بشیر کے تعارف کی ضرورت نہیں وہ ایک باکمال سیلف میڈ انسان، عمدہ غزل گو اور ایک قومی معاصر میں کالم نگاری کے علاوہ روزانہ سیاسی اور سماجی پس منظر میں ایک نظم رکھنے والا یکتائے روزگار شاعر ہے۔ نوخیر اس شریف آدمی پر تابڑ توڑ جگتیں کرتا رہا۔ سب دوست ہنستے رہے اور ان ہنسنے والوں میں خود ناصر بشیر بھی شامل تھا اور بدقسمتی سے میں بھی ہنسی نہ روک سکا۔

 یہ سب کچھ میری میز پر ہو رہا تھا۔ آج صبح اس کا میسج پڑھا تو پتہ چلا کہ وہ سب سے زیادہ مجھ سے ناراض ہے کہ میری محفل میں ایسا کیوں ہوا اور میں ہنسنے والوں میں کیوں شامل تھا۔ عباس تابش ایک دوسری میز پر اپنے ہم عصروں کے ساتھ خوش گپیوں میں مشغول تھے، وہ سب شکر کریں کہ ناصر بشیر کی ناراضی سے بچ گئے۔ ناصر بشیر کا میسج کافی طویل تھا اور پڑھنے کے بعد خود مجھے محسوس ہوا کہ اس محفل میں جگتوں کا سلسلہ کچھ اوور ہو گیا تھا، چنانچہ میں نے ناصر کو میسیج کر کے سوری کیا مگر وہ ابھی تک دل آزردہ ہے، میں اس کی تالیف ِ قلب کا جلد کوئی اہتمام کروں گا۔ مجھ سے تو ویسے ہی کسی کا دکھ نہیں دیکھا جاتا اور ناصر تو مجھے بہت عزیز ہے۔

بہرحال اصغر ندیم سید کے حرفِ سپاس کے حوالے سے بہت زیادہ علمی گفتگو سننے کو ملی تھی، چنانچہ افطاری کے دوران مہمان مختلف میزوں پر اس گفتگو کی ثقالت اور اس سے پیدا ہونے والی ”بدہضمی“ کے اثرات سے بچنے کے لئے ہلکی پھلکی گفتگو اور ایک دوسرے سے چھیڑ چھاڑ میں مشغول تھے۔ میں باری باری تمام میزوں پر گیا اور ان کی گپ شپ میں شریک ہوا۔ عزیز احمد نے اصغر پر بہت عمدہ نظم پڑھی تھی اور اب وہ یہ ڈیوٹی سرانجام دے رہا تھا کہ کوئی مہمان تکلف سے کام تو نہیں لے رہا۔ میرے خیال میں ہم لوگ اس روز رات کو گیارہ بجے اپنے اپنے گھروں میں پہنچے ہوں گے ممکن ہے وہاں ہماری بیویوں میں سے کچھ ہمارے لئے نوخیز ثابت ہوئی ہوں۔ اور ہم نے مائنڈ نہ کیا ہو کہ لمبی رفاقتوں میں ایسے مواقع بھی آ جایا کرتے ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •