اک دانشِ نورانی، اک دانشِ برہانی

\"jawadہم تو قطعاَ ”بغضِ اقبال“جیسی کسی چیز کے قائل نہیں مگر ہاں” لغزشِ فاختہ“ ایک فطری عمل ہے ا ور اس میں فاختہ کا کوئی دوش نہیں کہ رنگِ گلستاں ہی کچھ ایسا ہے۔

فاختہ نے اپنی تحریر میں اقبال پر جو اعتراضات اٹھائے ہیں ان کو اگر سمونے کی کوشش کی جائے تو ذیل کے تین عنوانات سامنے آتے ہیں۔

1۔ ”سر“ کا خطاب ملنا اقبال کے قول و فعل میں تضاد کا شاخسانہ ہے۔

2۔ اقبال کا فلسفہ شاہین کبوتروں اور فاختاو ¿ں کے لیے موت کا پیغام ہے۔

3۔ اقبال کا فلسفہ مومن ایک خود کش بمبار کی جیکٹ تک محدود ہے۔

رابندر ناتھ ٹیگور کو 3 جون 1915ء کو ”سر“ کا خطاب ملا جس کو انہوں نے 30 مئی 1919ء کوسانحہ جلیانوالہ باغ کے بعد انگریز سرکار کو لوٹا دیا۔علامہ کو یکم جنوری 1923ء کو ”سر“ کے خطاب سے نوازا گیا۔ ان دونوں حضرات کو مختلف ادوار میں سر کے خطاب سے نوازا گیا لہٰذا ایک کا حوالہ دے کر دوسرے کو زیرِ عتاب لانا کوئی علمی کاوش نہیں البتہ اسے”لغزشِ فاختہ “ سے ضرور تعبیر کیا جا سکتا ہے۔

علامہ کو سر کا خطاب ملنے پر مسلمانانِ ہند کے حلقہ میں چہ مگوئیاں شروع ہو گئیں اور علامہ کے ایک دوست غلام بھیک نیرنگ اپنے ایک خط میں اس کا یوں اظہار کرتے ہیں”شائد اب آپ آزادی سے اپنے خیالات کا اظہار نہ کر سکیں۔“ علامہ جواباَ رقمطراز ہیں ”قسم ہے خدائے ذوالجلال کی جس کے قبضے میں میری جان اور آبرو ہے اور قسم ہے اس بزرگ و برتر وجود کی جس کی وجہ سے مجھے خدا پر ایمان نصیب ہوا اور مسلمان کہلاتا ہوں، دنیا کی قوت مجھے حق کہنے سے باز نہیں رکھ سکتی انشاءاللہ۔ اقبال کی زندگی مومنانہ نہیں لیکن اس کا دل مومن ہے۔“

اور علامہ کے خطوط میں اس واقعہ کے حوالے سے طنزیہ اشعار بھی ملتے ہیں۔

لو مدرسہ علم ہوا قصر حکومت

افسوس کہ علاّمہ سے سر ہو گئے اقبال

پہلے تو مسلمانوں کے سر ہوتے تھے اکثر

تنگ آ کے اب انگریز کے سر ہو گئے اقبال

محترمہ نے اقبال کے شاہین کو فاختہ کے لیے پیام موت سے تعبیر کیا ہے۔احتراماَ گزارش ہے کہ کبھی خلوت میسّر ہو تو شاہین کے استعارہ کو سمجھنے کی سعی فرمائیے گا۔اس میں حرکت، بلندی، فقر، استغنا اور حیات کا پیغام ہے۔کون سے زاویے سے آپ کو اس میں فاختاؤں کو رگید ڈالنے کا مخفی معنی نظر آیا ہے۔ بخدا یہ ہماری سوچ سے تو باہر ہے۔آپ کی تحریر کی محرک ”تحقیق “ پہ ہمیں کوئی شک نہیں مگر افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ شاید اقبال کی نظم ”شاہین “ تا حال آپ کی نظرِ کرم کی منتظر ہے۔

حمام و کبوتر کا بھوکا نہیں میں

کہ ہے زندگی باز کی زاہدانہ

جھپٹنا ، پلٹنا ،پلٹ کر جھپٹنا

لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ

اقبال کے مومن کی نئی نئی جہتوں سے پردہ اٹھانے پر آپ بلاشبہ داد کی مستحق ہیں۔اور کیوں نہ ہوں کہ جس خوبی کے ساتھ آپ نے ”بے تیغ سپاہی“ میں چھپے کنایہ کو پہلی بار منظرِ عام پہ لایا ہے اور اسے ”خود کش بمبار“ کے معنی پہنائے ہیں،اس پہ آپ کو ”تحریک طالبان پاکستان ایوارڈ برائے علم و امن“ ملنا بنتا ہے ۔ مگر چونکہ آج کل ان کے حالات تنگ ہیں اس لیے امید و انتظار شرط ہے۔

کچھ کم علم گزرے ہیں جنہوں نے اقبال کے” مومن“ کو مشہور فلسفی گوئٹے کے ”سپر مین“کے جواب میں ایک نعم البدل کی صورت میں پایا ہے۔اقبال کے نزدیک جب ایک شخص اپنی خودی کا سہارا لے کر اپنے آپ کو ایک ”الوہی کردار“ میں ڈھال لیتا ہے تب وہ ایک ” مومن“ کہلاتا ہے۔

ہر لحظہ ہے مومن کی نئی شان، نئی آن

گفتار میں ،کردار میں اللہ کی برہان

Comments - User is solely responsible for his/her words
جواد خان جدون کی دیگر تحریریں