نظام پر آڈیو ویڈیو حملے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر یہ طے پا گیا ہے کہ پاکستان کی سیاست ویڈیو اور آڈیو ریکارڈنگ کے گرد گھومے گی تو زیادہ انتظار کی ضرورت نہیں بہت سی ویڈیوز اور آڈیو ریکارڈنگز بازار میں موجود ہیں۔ ان ریکارڈنگز میں ایسے ایسے انکشافات موجود ہیں‘ جن کی زد سے حکومت میں کوئی بچے گا‘ نہ اپوزیشن میں کسی کے سر پر دستار رہے گی۔ ایک بار یہ سلسلہ چل پڑا تو واٹس ایپ کے وہ پیغامات بھی سامنے آ جائیں گے جن میں ایک اور این آر او کی بات کی گئی ہے۔ وہ کاغذ بھی سامنے آ جائے گا جس پر وہ شرائط محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنی نگرانی میں لکھوائی تھیں جن کے تحت وہ جنرل پرویز مشرف سے تعاون کے لیے تیار تھیں۔
سیاست کے خفیہ طاقوں میں وہ موبائل فون کالز بھی محفوظ ہیں جن کے ذریعے سیاستدانوں کو حالات کی اونچ نیچ سمجھائی گئی تھی۔ نیب کے چیئرمین پر فون کال اور خفیہ ریکارڈنگ کا جو پتھر اچھالا گیا ہے، وہ دراصل غلاظت کے اُس جوہڑ میں جا پڑا ہے جس سے اڑنے والے چھینٹے کسی کے دامن کو صاف نہیں رہنے دیں گے۔کیا سیاست کے سارے فریق اپنے اپنے دامن پر یہ داغ لگوانے کے لیے تیار ہیں؟ اگر اس سوال کا جواب نفی میں ہے تو پھر چیئرمین نیب کے معاملے پر زبان فرسائی کرنے کی بجائے خاموشی بہترین حکمت عملی ہے۔ اس معاملے کو نیب کے چیئرمین کی انصاف پسندی پر چھوڑ کر آگے بڑھ جائیں یا کم از کم اس پر زبان وہی کھولے جسے یقین ہو اس کی کوئی ویڈیو یا آڈیو موجود نہیں۔
سیاست دانوں کا پرانا وتیرہ ہے کہ اپنے مخالفین کے بارے میں کسی بھی نازیبا بات کو سنبھال کر رکھتے ہیں‘ اور اس کے ذریعے فائدے لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ کوٹلیا چانکیا کی ”ارتھ شاستر‘‘ اٹھا کر دیکھ لیں جس میں ایک باب صرف اسی موضوع پر باندھا گیا ہے کہ کس طرح بادشاہ اپنے مخالفین کو تربیت یافتہ عورتوں کے ذریعے زیر کر سکتا ہے۔
اس خفیہ کاری کے میدان میں تو یہ طریقہ اور بھی بے رحمانہ انداز میں استعمال کیا جاتا ہے اور لوگ اپنی عزت کے خوف سے نہ چاہتے ہوئے بھی وہ کر گزرتے ہیں جو نہیں کرنا چاہتے۔ جو جتنا با اختیار ہوتا ہے، اس کھیل میں اتنا ہی بڑا ہدف بنتا ہے۔ نیب کے چیئرمین کے خلاف بھی یہ سازش اسی لیے کی گئی ہے کہ وہ بڑے بھی ہیں اور بہت سے ”بڑے‘‘ ان کی بے خوفی سے لرزاں و ترساں ہیں۔
ان ”بڑوں‘‘ کو یہ خوف تھا کہ انہوں نے براہ راست کوئی سازش کی تو پکڑے جائیں گے‘ اس لیے اپنے جیسے ایک چھوٹے کو اس سازش کے لیے تیار کیا۔ سازشیوں کی کوشش تھی کہ میڈیا میں اس ویڈیو کو اتنی جگہ ملے کہ ملک میں احتساب کا نظام ہی ڈھیر ہو جائے۔
میڈیا نے ذمہ داری کا ثبوت یوں دیا کہ پانچ بڑے ٹی وی چینلوں نے بہت پہلے ویڈیو مل جانے کے بعد بھی اسے نہیں چلایا۔ مجبور ہو کر سازش کے تانے بانے بننے والوں کو خود سامنے آنا پڑا اور اپنے قریبی ٹی وی چینل پر ہی اسے چلا کر انہوں نے اپنے چہرے سے نقاب ہٹا دیا۔ کیا یہ محض اتفاق ہے کہ جب نیوز ون ٹی وی پر چیئرمین نیب کے خلاف یہ متنازعہ ویڈیو چل رہی تھی اس وقت اس ٹی وی کے مالک طاہر اے خان وزیراعظم پاکستان کے مشیر تھے؟
میں ذاتی طور پر طاہر اے خان کو اپنے اوائل صحافت سے جانتا ہوں۔ ان کی طرح حالات کے نشیب و فراز سے ابھرنے والا فرد اتنا نادان نہیں ہوتا کہ کسی کے کہنے پر کھیل کا حصّہ بن جائے یا ٹیلی ویژن میں بریکنگ نیوز کی دوڑ میں شامل ہونے کی لت میں کوئی چیز بغیر تصدیق کیے چلا ڈالے۔ ان کا مسئلہ وہی ہے جو عمران خان کا اپنا اور ان کے ارد گرد پائے جانے والے اکثر وزراء و مشیران کا ہے۔
تبدیلی کے نقیب بنے ہوئے یہ لوگ معاملات کی تہہ تک پہنچنے کی بجائے انہیں سطحی انداز میں دیکھتے ہیں اور فیصلہ سنا ڈالتے ہیں۔ ایسا کرتے ہوئے یہ بھول جاتے ہیں کہ اب وہ اپوزیشن نہیں حکومت کا حصہ ہیں۔ ان کے دہنِ مبارک سے نکلا ہوا ہر لفظ حکومتی پالیسی کا عکّاس ہے۔ سیاست کی باریکیوں سے بے خبر طاہر اے خان کے پاس بھی جب یہ ویڈیو پہنچی تو بغیر کسی پیشہ ورانہ مشاورت کے انہوں نے اپنے ٹی وی کو بھیج دی۔
اگر وہ اس ویڈیو کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے وزیر اعظم سے ہی مشورہ کر لیتے تو وہ بالضرور انہیں اسے نہ چلانے کا کہتے۔ یہ بات درست ہے کہ وزیر اعظم ہاؤس میں خود وزیر اعظم نے نیب کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار ایک سے زیادہ بار کیا ہے۔ اس ماحول میں وزیر اعظم کی براہ راست ماتحتی میں کام کرنے والے ہر شخص سے یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ ان کی ہر پسندیدگی اور نا پسندیدگی کا لحاظ کرتے ہوئے ان کی قربت کا خواہاں ہو گا۔
طاہر اے خان بھی اپنی تمام تر زمانہ شناسی کے باوجود ماتحتی کی اسی نفسیات کا شکار ہو کر سازش کے جال میں پھنس گئے۔ انہیں یہ احساس ہی نہیں ہوا کہ یہ ایڈورٹائزنگ کی دنیا نہیں بلکہ اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ سیاست کا کارخانہ ہے، جہاں دوست دشمن کا فرق کرتے ہوئے عمر گزر جاتی ہے اور کچھ سمجھ نہیں آتا۔ ان کی ان چاہی فرماں برداری کا نتیجہ خود انہیں بھگتنا پڑا اور وزیر اعظم کو بھی بھگتنا پڑ رہا ہے۔
نیب کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال کی کارکردگی پر مسلم لیگ ن، تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی، تینوں کو کئی طرح کے اعتراضات ہیں، لیکن ان اعتراضات میں وزن اس لیے نہیں کہ تینوں جماعتوں کو احتساب کا سامنا ہے اور نیب ان جماعتوں کے سرکردہ اراکین سے متعین سوالات پوچھ رہا ہے۔ ان سوالوں کا مطمئن کر دینے والے جواب دیے بغیر یہ جماعتیں جو چاہے اعتراض کر لیں، اسے عوام کی بارگاہ میں پذیرائی نہیں ملے گی۔
ان جماعتوں نے اپنے بیانات کے ذریعے جو دباؤ ڈالنا تھا ڈال کر دیکھ لیا کہ اس طریقے سے نیب کے سربراہ کو نہیں جھکایا جاسکتا۔ ان سب باتوں کے باوجود یکے بعد دیگرے حکومت میں رہنے والی ان جماعتوں سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ نیب کے خلاف اتنی گھٹیا سازش میں ملوث ہوں گی۔پھر اس ویڈیو کے ظاہر ہونے کے بعد جسٹس (ر) جاوید اقبال کے ردّعمل نے بھی ثابت کیا ہے کہ وہ اس طریقے سے بھی بلیک میل نہیں ہوسکتے۔
اس کے علاوہ جسٹس (ر) جاوید اقبال کو نشانہ بنانے والے گروہ کی آلہء کار خاتون نے خود اپنے ویڈیو بیان میں یہ اعتراف کیا ہے کہ اس کی تمام تر کوششوں کے باوجود اسے یا اس کے شوہر کو نیب سے کسی قسم کی رعایت نہیں ملی ۔ گویا نیب کو ہدف بنانے والی خود اپنی ناکامی مان رہی ہے اور ثابت کررہی ہے کہ اس کی عشوہ طرازیوں کا کوئی صلہ اسے نہیں مل سکا ۔ اس خاتون کے بیان کے بعد یہ فتنہ تو ازخود ہی دم توڑ گیا ہے لیکن یہ سوال چھوڑ گیا ہے کہ یہ سب کچھ کس نے کروایا؟
اگر یہ سب کچھ ”کروانے والے‘‘ کو نہ پکڑا گیا تو وہ اور بھی گندگی پھیلائے گا۔ اس نے چاہا تھا کہ نیب کے چئیر مین سمجھیں کہ حکومت نے ان کے خلاف یہ چال چلی ہے اور پھر حکومت کو سزا دینے نکل کھڑے ہوں۔ حکومت یہ سمجھے کہ اپوزیشن نے اس کے خلاف سازش کی ہے اور وہ اپوزیشن کو جواب دینے چل نکلے۔ پھر یہ تینوں سمجھیں کہ اسٹیبلشمنٹ نے کوئی نیا منصوبہ بنا کر طالع آزمائی کا فیصلہ کرلیا ہے اور اس کے ردّعمل میں کوئی طوفان اٹھ کھڑا ہو۔
خوش قسمتی ہے کہ اس معاملے کے چاروں فریقوں نے وہ نہیں سمجھا جو سازشی انہیں سمجھانا چاہتا تھا۔ خدشہ یہ ہے کہ اگر کوئی ایسا ہی واقعہ ودوبارہ ہوا تو یہ اعتماد باقی نہیں رہے گا۔ اپنے نظام کو ان آڈیو ویڈیوحملوں سے بچانا ہے تو سب کو مل کر اس سازشی کو پکڑنا ہوگا۔
نیب کے چیئرمین پر فون کال اور خفیہ ریکارڈنگ کا جو پتھر اچھالا گیا ہے، وہ دراصل غلاظت کے اُس جوہڑ میں جا پڑا ہے جس سے اڑنے والے چھینٹے کسی کے دامن کو صاف نہیں رہنے دیں گے۔ کیا سیاست کے سارے فریق اپنے اپنے دامن پر یہ داغ لگوانے کے لیے تیار ہیں؟
بشکریہ روزنامہ دنیا
image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •