دیپ جلتے رہے ۔ تیرہواں حصہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عشق، پیار، محبت اور ہمدردی انہی جذبوں نے کائنات کے رنگوں کو واضح کر رکھا ہے۔ ظلم سہنے والا ظلم میں برابر کا شریک رہتا ہے، ہاتھ پکڑ نہیں سکتے، چھڑا تو سکتے ہیں، ۔ ہم جس سے بہت پیار کرتے ہیں بعض اوقات وہ اسی پیار کو تلوار بنا کر وار کیے جا تا ہے، اور پیار کرنے والے پلٹ کر وار تو کیا، ڈھال بھی نہیں رکھتے، یوں گھا ؤ سیدھے دل میں لگتے ہیں۔ ظلم کی تعریف احمد نوید ہی کی زبان سے ہزار بار سنی تھی کہ ”کسی چیز کو اس کے مقام سے ہٹا دینا ظلم ہے“۔ پنچنگ بیگ بھی ہوتا تو گھونسے کے بجا ئے لاتیں پڑنے پر اسی قوت سے واپس منہ پر پڑتا۔

ذہنی مسائل ہوں یا فکری مسائل، آپ بیمار ہوں یا تندرست، مشہور ہوں یا معروف، مغموم ہوں یا خوش، خوش حال ہوں یا بد حال، زمانے، نے آپ پر پتھر برسائے ہوں یا پھول، اپنو ں نے آنکھوں پر بٹھایا ہو یا دل سے نکال دیا ہو، آپ کے مداح آپ کی شاعرانہ عظمت کو سلام کرتے ہوں یا آپ کے ہم عصر دھتکارتے ہوں۔ یہ آپ کے مسائل ہیں۔ ان کی ٹیک پر اپنے جیون ساتھی کو زلیل نہیں کر سکتے، لولے لنگڑے، اندھے بہرے ہو کر، ساتھی کی شاعرانہ عظمت کو گلے لگا ئے رکھنے کا مطلب انسان کی تذلیل ہے۔ خود کو زلیل ہوتے دیکھنے والا انسان آہستہ آہستہ بے حس اور ظالم ہو تا چلا جاتا ہے۔

اچانک یہ ستی ساوتری، پتی ورتاعورت میں سے کیسی عورت نکل آئی جو بیتی سو بیتی۔ لیکن ہر بات دنیا کو بتانے والی نہیں ہو تی اور جب یہ بھی کہا کہ وہ اعصابی مریض ہیں، تب پھر محض ہمدردی بٹورنے کی خاطر اتنے بڑے صوفی، مست ملنگ شاعر کو بد نام کر نے کی کیا ضرورت ہے۔ دنیا ان کی عزت کرتی ہے۔

زندگی میں گزرا یہ حصہ بیان نہ کیاجاتا تو ہم کسی کے لیے مثال اور کسی کے لیے عبرت ہوتے۔ چلتر مرد اپنی بیویوں سے کہتے دیکھو ایسی ہو تی ہیں بیویاں، ہر حال میں شوہر کے ساتھ گزارا کیا، اس کے ظلم سہے، جوتے کھائے، لیکن دنیا کو نہیں بتایا، ایک تم، میرے جوتے ٹھکانے سے نہیں رکھ سکتیں۔ اور بیویاں کانوں کو ہاتھ لگا کر توبہ کرتیں کہ ایسا نصیب کسی عورت کا نہ ہو۔

آپ بیتی میں جو بری، بھلی بیتی، وہ بیان کرنے میں اگر مصلحت سے کام لیا جائے تو، اسے آپ بیتی نہیں کہہ سکتے، مصلحت کا سہارا سیاست نوکری یا مالی مفاد میں لیا جا سکتا ہے لیکن زندگی میں گزرے سانحات کے بیان میں سچائی بیان نہ کرنے سے آپ بیتی کا مفہوم ختم ہو سکتا ہے، گزران میں سچائی ہی الفاظ کو معتبر بناتی ہے۔

میری بیٹی نہیں تو کیا ہوا، میں اپنی بیٹی بھی ہوں اور ماں بھی۔ میں نے اپنی بیٹی کو ہمت بہادری، ایثار اور قربانی کے سارے سبق سکھانے کے ساتھ یہ اچھی طرح باور کرا دیا ہے کہ مار نہیں کھانی، کسی سے بھی نہیں کھانی، اس دنیا میں ہم تماشا بننے نہیں آئے۔ تم اپنی طاقت ہو، تمہارے سوا تمہارا کوئی نہیں۔ ظلم سہو مگر اختیار کے ساتھ، جب چاہو، رسی کھینچ لو۔ اپنے اختیار سے کسی کو با اختیار بناؤ۔ میرے اندر ماں نے مجھے سمجھایا۔

جو ہوا سو ہوا، وقت نے حساب بے باق کر دیا تو تجھے بھی گلک توڑ دینی چاہیے۔ سو اس گلک کے کھوٹے، کھرے سکے اچھالنے کا سلسلہ جاری ہے۔

غیب سے نئے مضامین خیال میں آتے ہیں۔ کتنے شاعروں کے دیوان، خود ساختہ محبوب کے انتظار، اس کی بے وفائی، ہجر، وصال، جور و ستم پر یا یوں کہنا چاہیے کہ جورو کے، خود ساختہ ستم پرٹکی ہے۔ آہ کے قصے کو واہ سے جوڑنے کے لیے دو چار سو غزلیں لکھ ڈالتے ہیں۔

غم، شاعر کی تخلیقی غذا ہوتا ہے۔ اسے کسی کے رہنے نہ رہنے سے کو ئی فرق نہیں پڑتا۔ لیکن احمد نوید کو پڑتا تھا۔ کیوں کہ نہ وہ خود ساختہ گھائل ہیں نہ ہی ان کے مسائل۔ اچھا ہوا انہوں نے معافی مانگ لی، اچھا ہوا ہم نے ان کے الفاظ پراعتبار کر لیا، اور بقیہ زندگی گزارنے ان کے ساتھ چلے آئے۔

اتنا واویلا ہو نے پر سمجھ گئے کہ جس عورت کے ساتھ وہ زندگی گزار رہے ہیں اس پر بالکل بھی بھروسا نہیں کیا جا سکتا۔ گھر اور سر بچانے کو یہ عفت بننے پر بھی راضی ہو گئے۔ مگر اپنے کام ہی سمیٹتے سمیٹتے سانس اور دن چڑھ گیا۔

کچھ بھی نہیں کیا مگر کچھ بھی نہ ہو سکا مگر

کچھ بھی نہیں ہوا مگر، صبح سے شام ہو گئی،

ہم دوسرے دن اسکول کی تیاری کے ساتھ ساتھ بکھری ہوئی چیزیں سمیٹ رہے تھے تو ہمیں اطمینان دلادیا گیا کہ کسی قسم کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں وہ سب کام کر لیں گے۔ اور واقعی! اسکول سے آئے تو صاف ستھرا گھر دیکھ کر دل خوش ہو گیا۔

ہمیں فخریہ نظروں سے مسکراتے ہوئے دیکھا۔ کہنے لگے گھر کی صفائی میں چند سیکنڈ لگتے ہیں تمہیں روز گھر صاف ملے گا اب۔

جی خوش ہوا۔ ورنہ اسکول سے آکے پھیلی چیزیں جگہ پر رکھنے میں آدھا گھنٹہ لگتا تھا۔

کچن میں گئے تو ایک گندہ برتن سنک میں نہ تھا۔ کھانا نکالنے کے لیے ریک کی طرف ہاتھ بڑھا یا، ریک خالی۔ نیچے کے کیبینٹ کھول کر دیکھا تو سنک کے جھوٹے برتن اس میں پڑے تھے۔

شام کو تولیہ، چادر یں، میلے کپڑے، جوتے سب بیڈ کے نیچے سے ملے۔

ساری فرصت نچوڑ لی ”کیوں“ نے

کام ہم سے کوئی ہوا، نہ کیا

خیر، خیر پور میں کیا ہوا وعدہ ایفا ہوا۔ بد سلوکی کا عفریت رخصت ہوا، گھر میں سکون اور دل کو چین نصیب ہوا۔ ، انسان کو کیا چاہیے ہوتا ہے۔ دو وقت روٹی، دو وقت روٹی اور دو وقت روٹی۔ اور روٹی اگر سکون سے ملے تو دل میں نغمے ہی نہیں پھوٹتے، سنائی بھی دیتے ہیں۔

زاہدہ باجی کے گھر سے ٹی وی پر نغمے سنائی دیتے تو ایک ریڈیو ٹیپ ریکارڈ، لینے کی شدید خواہش پیدا ہو تی۔

رشی کی پیدائش پر پاپا نے ہمیں وہ گفٹ کیا تھا۔ لیکن بچوں نے اسے کھلونا سمجھ کر تو ڑ ڈالا تھا۔ اب ہمارے دل میں چھپا بچہ اس کے لیے مچل رہا تھا، ایک دن اسکول سے واپسی پر قسطوں والی دکان سے، 100 روپے ماہانہ قسط پر جس کی کل قیمت 1500 تھی، لے ہی آئے۔

اب روزانہ اسکول سے آتے ہی ریڈیو آن کر دیتے۔

ناہید اختر کی شوخ آواز کیا کہنے۔

جہاں تیرا نقشِ قدم دیکھتے ہیں

خیاباں خیاباں ارم دیکھتے ہیں

تصور خانم: اگر تم مل جا ؤ، زمانہ چھوڑ دیں گے ہم

منی بیگم: اک بار مسکرا دو،

نیرہ نور: روٹھے ہو تم، تم کو کیسے منا ؤں پیا،

مہناز: مجھے دل سے نہ بھلا نا

مہندی حسن: میں تو مر کر بھی مری جان تمہیں چاہوں گا

نور جہاں : تیری آنکھوں کے سوا دنیا میں رکھا کیا ہے۔

گھر میں دونوں بچوں کی شراتیں تھیں، نغمے تھے اور احمد کی مجسم شاعرانہ کیفیات کے ساتھ دل میں ہلکے سے ارتعاش کے ساتھ سکون تھا۔ سکون میں یہ ارتعاشی کیفیت رہنی چاہیے، دل قبر نہیں بنتا۔

عام طورپر، ہمارے معاشرے میں لوگوں کودوسروں کے ذاتی معاملات میں دخل دینے کی عادت ہو تی ہے، بظاہر خو کوآپ کا خیر خواہ ظاہر کرنا چاہتے ہیں، لیکن در حقیقت میں اس فعل سے وہ آپ کو اذیت میں مبتلا کرتے ہیں۔

احمد سے ان کے دوست ملنے پر ایک سوال ہمیشہ پو چھا کرتے تھے۔ اور کیا کر رہے ہو آج کل َ۔

اور غیر براِ راست پوچھ لیا کرتے۔ آپ کیا کرتے ہیں؟

اب ان سوالوں کے جوابات سے آپ کو کوئی ذاتی فا ئدہ ہو گا، نہ کائنات کی گتھی سلجھانے میں مدد ملے گی، نہ خدا کی تلاش آسان ہو جا ئے گی، لیکن یہ سوال کرنے والے کوکیا تسکین ملتی ہے، اس کا جواب ہم بھی آج تک نہ جان سکے۔

احمد کو شایداندر سے اس بات کا شدید احساس تھا کہ عام مردوں کی طرح انہیں نوکری کرنا چا ہیے۔ اور عام عورتوں کی طرح ہمیں گھر میں بیٹھنا چا ہیے۔ لیکن شانے پرسات آسمانوں کا بوجھ ہو تو زلف بھی بار لگتی ہے۔

بارِ ہفت افلا ک بھی اس ناتواں شانے پہ ہے

زلف سے کہنا کہ آہستہ سرِ شانہ کھلے

اب انہوں نے اس سوال سے گھبرا کرچوتھی بار سنجیدگی سے نوکری کا قصد کیا۔

کراچی میں ایک مشہو پرنٹنگ پریس کے مالک ان کے مداح تھے، جب احمد نے ان سے خواہش کا اظہار کیا تو انہوں نے انہیں اگلے دن ہی بلا لیا۔ سارے اسٹاف سے میر انیس کے خانوادے کا تعارف کروایا۔ آئے گئے سے ان کی شاعرانہ عظمت کے قصیدے پڑھے۔ کام وام کوئی خاص نہیں تھا۔ نوکری سے آنے کے بعد یہ دوستوں میں نکل جا تے۔ اور بنا پوچھے ہی اپنی نوکری کی خوش خبری دیتے۔

چوتھے دن ان کے خاص مہمان آئے تو ان سے پہلے ان تعارف کروا کر اپنی شان بڑھائی، پھر انہیں الگ بلا کر معذرت کے بعد درخواست کی کہ مہمانوں کی خاطر تواضح کے لیے چائے بسکٹ وغیرہ لے آئیں۔ یہ سیدھے گھر آگئے۔

کون سمجھے جنون ِ اہل ِ جنوں

لکھتے فرصت ہیں، کام پڑھتے ہیں

دوستوں کی توقع کے مطابق یہ نوکری چھوڑ چکے تھے۔ لیکن ان سے غلط جواب سننے کی توقع میں طنزیہ مسکرانے کا موقع لینے کے لیے وہ اکثر اس قسم کے سوالات کر کے ایک لطف محسوس کرتے، کام کیسا چل رہا ہے۔ آج جلدی آگئے، کیا بات ہے آج گئے نہیں کیا۔ یہ مختلف جھوٹ بول دیتے۔ ایک دن جب میرے سامنے یہ سب کچھ ہوا تو گھر آکر میں نے انہیں سمجھایا آپ صاف کہہ دیتے کہ نوکری چھٹ گئی۔

کہنے لگے وہ پھر پوچھنا شروع کر دیں گے۔ آج کل کیا کر رہے ہو۔

ہم نے کہا، کہہ دیجیے کہ نئی نوکری تلاش کر رہا ہوں۔

اب انہوں نے دو چار اداروں کا انتخاب کر کے ہمیں بتایا، بس اب میں سا لوں کو دکھاؤں گا کہ میں کیسی شاندار نوکری کر سکتا ہوں۔ اب میں اتنا کماؤں گا کہ سالے دیکھتے رہ جائیں گے۔

تین چار روز تک، سا لوں کو اپنی اعلیٰ ملازمت، آفس سے ملنے والی گاڑی، اور مجھے مہا رانیوں کی طرح بنگلے میں نوکروں پر حکم چلاتے ہوئے دکھانے کا عزم کر کے خوب سڑایا۔ پانچویں روز ہم نے انہیں سمجھایا کہ ادارے کے مالکان بڑے کوتاہ بیں اور ڈرپوک ہوتے ہیں۔ سی وی دیکھے بغیر آپ کو اعلی عہدہ دے بھی دیا تو دوسروں کو کیا جواب دیں گے۔

سی وی بنوا کر ایک دو اداروں میں دے آئے۔ اور پوری امید لگا بیٹھے کہ جلد ہی ادارہ اپنی عظمت بڑھانے کو انہیں سب سے اعلیٰ کرسی پر بیٹھنے کی درخواست کرے گا، جسے وہ کچھ شرائط کے ساتھ قبول کر لیں گے۔

امید پوری تھی، اس لیے انٹرویو یا اپانئٹمنٹ لیٹر کا انتظار کیے بغیر ہی جس نے پوچھا، کیا کر رہے ہو بڑی شانِ بے نیازی سے چپل کے نیچے سگریٹ کا ٹوٹا مسل کر، بتا دیا کہ فلاں جگہ فلاں جاب کر رہا ہوں۔ سننے والے کو ہکا بکا چھوڑ کر کر خود آگے ہو لیے۔ اور بیگانی شادی کے عبداللہ دیوانوں پر اس خبر کی سچائی جاننے کی ذمہ داری بھی فرض ہو جا تی۔

اور جو واقعی کہیں سے انٹرویو کال آجاتی تو جوش و خروش چار گنا بڑھ جا تا۔ سالوں کو یہ لمبی گاڑی اور بنگلے میں روزانہ ان کی دعوت کر کے انہیں جل بھن کر کباب ہونے کا موقع فراہم کرتے۔

تین ماہ بعد واقعی ایک ادارے سے اپائنٹمنٹ لیٹر مل گیا۔

قریب اور دور کی نظر کے ساتھ دھوپ کا چشمہ لیا گیا۔ ایک مہنگا جوتا اور کالی پینٹ کے ساتھ چار شرٹس خریدی گئیں۔ صبح آفس جانے تک کون انتظار کرتا، نئے کپڑے، جوتے پہنے، قریب کا چشمہ گلے میں ڈالا، دھوپ کا آنکھوں پر لگا یا، رات بھر حسبِ معمول باہر رہے۔ صبح پانچ بجے گھر آئے۔

ہم نے کہا، سو جائیں، آپ کو نو بجے آفس پہنچنا ہے۔

کہنے لگے، نہیں نہیں میں فریش ہوں، آفس سے آکر ہی سوؤں گا۔ سات بجے ہم اسکول کے لیے نکل گئے۔

باقی آئندہ

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •