شنگریلا کے معبد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اسکردو کی شاہراہ میں شاہراہ نام کی کوئی شے نہ تھی۔ وہ تو بس راہ تھی۔ اک آہ تھی۔ بیابانوں میں ہوکتے کوُکتے مجنوں کی آہ۔ ایک ایسی راہ تھی جس پر سورج خود جلتا تھا۔ آندھیاں اس سڑک پر آکر اندھی ہوجاتی تھیں۔ بنجر اور سنگلاخ پہاڑ خوف کے تازیانے لئے ہر طرف پھیلے ہوئے تھے۔

عجب اتفاق تھا کہ ہم سارا دن دھوپ میں جلتے رہے اور جب شنگریلا ریزورٹ پہنچے تو بدلیوں نے سایہ کر دیا۔
ہم شنگریلا ریزورٹ کی راہ داریوں میں یوں پھرتے تھے جیسے صحرا کے مسافر کے سامنے اچانک کوئی نخلستان آ گیا ہو اور وہ پھولے نہ سماتا ہو۔

چینی معابد کی طرز کی عمارات جھیل کنارے ہمیں بلا رہی تھیں۔ لگتا تھاوہ پانی پر تیر رہی ہوں۔ ایک جہاز بھی کھڑا سستا رہا تھا۔ یا تیار کھڑا تھابس اُڑان بھرنے کے لئے تیار۔ مخملی گھاس کے سبز قطعات کے کناروں پر دیسی ولائیتی اور مقامی، جانے کن کن گلابوں کی قسموں نے ماحول کو سحر زدہ کر رکھا تھا۔

زمرد رنگ کی اوڑھنی اوڑھے جھیل کسی نازنین کے ویران دل کی طرح تنہائیوں کی قید میں تھی۔ اس کے پیچھے کھڑا سرمئی پہاڑ اس کی عصمت و حرمت کا پاسبان بن کر اُ س پر سایہ فگن تھا۔
جھیل کناروں پر چلتے فوارے اس کے پانیوں کو یوں حرکت دیتے تھے کہ یہ رقصاں تھے۔

ہاتھ ہلا ہلا کر ہمارا استقبال کر تے تھے۔ خوش ہوتے تھے اُس بچے کی طرح جس کے گھر میں مدتوں بعد مہمان آئے ہوں۔
خاموش عمارتوں میں موجود لوگ اُس کے حسن میں کھوئے ہوئے تھے کہ ہمیں ایک مالی کے سوا کوئی بھی باہر دکھا ئی نہ دیا۔
میں پانی کے ایک نالے کے اوپر بنے سفید پُل پر کھڑا اپنی شنگریلا کو سوچتا تھا جو ایسی ہی تھی۔ اتنی ہی خوبصورت تھی ایسی ہی دلکش تھی۔

انسان ہمیشہ سے ہی ایسی جگہ کی تلاش میں رہا ہے جہاں مساوات ہو، بھائی چارہ ہو۔ کوئی ا متیاز نہ ہو۔ جہاں محبت کے پھریرے لہراتے ہوں۔ جہاں مساوات اور بھائی چارے کے ترانوں کی تانیں ہوں۔ جہاں کا انسان اک دوجے کا محسن ہو۔ قاتل نہ ہو۔ جہاں امن کی بارشیں برسیں دہشتوں کی دھوپ نہ ہو۔ جہاں صحت کے گلاب کھلتے ہوں بیماریوں کے عفریت نہ ہوں۔ جہاں دکھ کا شائبہ تک نہ ہو بس ہر طرف رعنائی اور سرمستی ہو۔ ۔ بدصورتی نہ ہو۔

افلاطون نے اپنی کتاب رپبلک میں ایسی ہی کسی بستی کا خواب دیکھا تھا۔ ایسے ہی کسی نگر شمبالا کے سپنے بدھوں نے دکھائے تھے۔ 1516 میں سر ٹامس مور نے یو ٹوپیا لکھ کرایسی ہی کسی بستی کے وجود کا خاکہ بنایا تھا۔ 1933 میں جیمس ہلٹن نے The Lost of Horizon لکھ کر ایسے ہی کسی دیس شنگریلاکے خواب کو صفحہ قرطاس پر لکیرا تھا۔ جس پر کتنی ہی فلمیں بنیں اور دنیا میں شنگریلا کے نام کی کتنی ہی بستیاں وجود میں آئیں۔ کہتے ہیں کہ جیمس ہلٹن نے ہنزہ کا نگر دیکھا تھا وہیں سے متاثر ہو کر اُس نے یہ کتاب لکھی۔

اس ناول کی کہانی کے مطابق ایک جہاز برف پوش پہاڑوں میں گرا تو اُس کے مسافر خوش قسمتی سے محفوظ رہے۔ وہ تمام مسافر کئی دن برفانی وادیوں میں بھٹکتے رہے پھر انہیں برف کے اس جہان میں ایک مثالی بستی شنگریلا ملی۔

اتفاق کی بات ہے کہ کئی سال بعد 1950 میں ایک ہوائی جہاز اسکردو کے قریب گرا اور اس کے تمام مسافر بھی محفوظ رہے۔ پھرکسی نے وہاں شنگریلا ریزورٹ بناکر شنگریلا کے خیال کو عملی صورت دی۔ آج یہ جہاز اس ریزورٹ میں موجود ہے۔

زمرد رنگ کی مخملی جھیل میں بارش کے سالار قطروں نے ڈبکیاں لیں تو جھیل کا پانی تھرکنے لگا۔
چینی معبدوں کو بادلوں نے اپنے سفید آنچل میں چھپا لیا۔

پھر بارش مادھو لال حسین شاہ کے دربار پہ بیٹھے ملنگ کی طرح حالت جذب میں ناچنے لگی۔ وہ قہر بپا کرنے پر تُلی ہوئی تھی۔
وہ بلند و نشیب کا فرق مٹاتی تھی۔ ہر ایک کو بلا امتیاز اپنے سرمئی آنچل میں چھپاتی تھی۔
ہر طرف اُس کی جھانجھروں کے چھن چھن کی آوازیں آتی تھیں۔

کاش! میں بارش کا پانی ہوتا
اجنبی منڈھیروں پر چلتا ہوا تیرے گھر کے آنگن میں اُترتا
ٹھہر جاتا وہیں
رک جاتا وہیں
تیرے آنگن کی خشک مٹی میں سما جاتا
پھر اُس مٹی میں سے گلاب بن کر اُبھرتا

اور پھر کسی دن
تیرے جُوڑے میں سج جاتا
مگر یہ تو میری منزل نہ تھی
ایک جُوڑے کی طلب تو میری آرزو نہ تھی
میری آرزو تو ایک وجود کی تھی

تیرے وجود کو پانے کی آرزو
تو پھر کیا
تیرے وجود کو پانے کے لئے مجھے پھر
کسی مٹی میں جانا ہوگا
کبھی کسی مٹی کی کوکھ سے
کوئی نیا وجود پا کر
تیرے وجود کو پانا ہو گا

مجھے سمجھ نہیں آتی تھی کہ میں دائیں جاؤں یا بائیں۔ پھر میں بھاگا اور ایک درخت کے نیچے پناہ لی۔ لیکن یہ درخت بھی مجھے پناہ دینے کے لئے تیار نہ تھا۔ اس کے پتوں کے سائبان میں اتنے چھید تھے کہ بارش کا پانی اس طرح مجھ پر گرتا تھا جیسے منڈھیروں سے گرتا ہو۔

پھر میں نے اپنی داہنی طرف اپنے پیاروں کو تلاش کیا۔
وہ سب چینی معبد کی طرح کی ایک عمارت میں پناہ لے چکے تھے۔ یہ شنگریلا ریزورٹ کا ڈائیننگ ہال تھا۔

میں نے کوشش کی اور بارش کے قہر کے مارے جھکے ہوئے گلابوں کی کیاریوں کو پھلانگتے ہوئے اپنے ساتھیوں کے پاس پہنچنے میں کامیاب ہو گیا۔
نیلگوں جھیل پر بارش کا رقص جاری تھا۔
سا راماحول اُس کے حسن کے جام پی کر مدہوش تھا۔

شنگریلا ریزورٹ کی چینی طرز کی عمارات کی سب چھتیں دُھل کر کسی حسینہ کے لبوں کی مانند مزیدسرخ ہو گئی تھیں۔ جن پر حیا کا پارہ چمکتاتھا۔
بارش کی مدھر سیٹیوں میں اُس کا عکس پانی میں تھرکتا تھا۔ سامنے سرمئی پربت پر بادل سرمئی رداؤں میں ملبوس شنگریلا کی اس مست جھیل کی دہلیز پر جھکتے تھے۔

پھول مچلتے ہوئے بھنوروں اور تتلیوں کو دعوت ِ دید دیتے تھے۔

اد ہ کھلی کلیاں انگڑائیاں لے لے کر کھلنے کو بیتاب تھیں اور پتیوں کی قید سے آزاد ہونے کے لئے بے قرار تھیں۔ وہ کِھل کر اس حسن کا حصہ بننے کی چاہ میں بے قرار تھیں جو ان کے ارد گرد بکھرا پڑ اتھا۔

ایک راہ داری کے قریب پڑا بنچ تنہائی کا شکار تو تھا ہی مگر اس حسین موسم کی خوبصورتی میں مدہوش بھی تھا۔ پی آئی اے کا جہاز ایسے ہی مایوس سا کھڑا تھا جیسے ائیر پورٹ پر کھڑا موسم کے سنبھلنے کا منتظر ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •