’آ گیا وہ سرفراز جس کا انتظار تھا‘

سمیع چوہدری - کرکٹ تجزیہ کار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کرکٹ

Reuters

اوئن مورگن دھوکہ کھا گئے۔ انہیں اندازہ نہیں تھا کہ یہ میچ یوں بھی سر کے بل پلٹ سکتا ہے۔ ٹاس کے وقت وہ نہایت مطمئن تھے۔ بلا تامل بیٹنگ پاکستان کو دے ڈالی۔

شاید یہ سوچا ہو گا کہ وہی تو ہیں جنہیں چار دن پہلے چار صفر سے ہرایا ہے، جو ویسٹ انڈیز کے خلاف بالکل بھیگی بلی بن گئے تھے اور ون ڈے میں تو اس قدر ہار چکے ہیں کہ اب شاید زبردستی گراؤنڈ میں بھیجے جاتے ہیں۔

گو میچ سے پہلے مورگن کہہ بھی چکے تھے کہ بھئی بھلے ویسٹ انڈیز سے بری طرح پِٹے مگر ہم پاکستان کو ہلکا نہیں لیں گے۔ لیکن شاید مورگن نے واقعی پاکستان کو ہلکا لیا۔

مزید پڑھیے

پاکستانی ٹیم پر تنقید میں ذاتیات کا عمل دخل کتنا ہے؟

#CWC19: انگلینڈ کے میدانوں سے جڑی اچھی بری یادیں

فیلڈنگ میں جو جو کوتاہ اندیشیاں اور نارسائیاں دیکھنے کو ملیں، یہ بات محکم ہوتی گئی کہ مورگن ہی نہیں، پوری انگلش ٹیم پاکستان کو ہلکا لے رہی ہے۔

جس ون ڈے سیریز کی فتح انگلش ٹیم کو یاد تھی، اس میں شاداب خان نہیں تھے۔ محمد عامر بھی نہیں تھے۔ اور وہاب ریاض تو خیر دور دور تک کسی پلان یا امکان کا حصہ بھی نہیں تھے۔

انڈیا کے بولنگ اٹیک کا دنیا بھر میں شہرہ ہے۔ بمرہ، چاہل اور یادیو کی رینکنگ ہی یہ ثابت کرنے کو کافی ہے کہ وہ دنیا کا نمبر ون بولنگ اٹیک ہے۔

کرکٹ

PA
پاکستان کو جس وکٹ کا انتظار تھا وہ محمد عامر نے اسے دلوا دی۔ انھوں نے سنچری بنانے والے جاس بٹلر کو 103 کے سکور پر وہاب ریاض کے ہاتھوں کیچ کروا دیا ہے

لیکن جو سپن اور پیس کا توازن پاکستان کی بولنگ میں نظر آیا، وہ انڈین اٹیک سے بھی بہتر تھا۔ سونے پہ سہاگہ یہ کہ سرفراز نے سپن کا استعمال نہایت دانش مندی سے کیا۔

یہ ورلڈ کپ جس طرح کی مارکیٹ کے لیے کھیلا جا رہا ہے، اس میں ایسے ہی ہائی سکورنگ میچز ہوں گے۔ بولرز کے لیے عزت افزائی کا سامان کم کم ہی ہو گا۔ لیکن جیتے گا وہی جو رنز کی مچھلی منڈی میں سے بھی وکٹیں خریدنے کا ہنر جانتا ہو۔

پیسرز کےلیے ان وکٹوں میں کوئی دم نہیں۔ نئے گیند کے ساتھ تو بالکل بھی نہیں۔ سرفراز نے زبردست فیصلہ کیا کہ شاداب خان سے اٹیک کروایا۔ محض اس لیے نہیں کہ شاداب نے شروع میں ہی وکٹ لے دی۔

اگر شاداب کو وہ وکٹ نہ بھی ملتی، رنز بھی پڑ جاتے تو بھی یہ اچھا فیصلہ ہی قرار پاتا۔ کیونکہ ان کنڈیشنز میں وہی بولر وکٹ لے سکتا ہے جو بلے باز کو غلطی پر مجبور کرے۔ اور لیگ سپنر ہی ہوتا ہے جو ہر بڑے سے بڑے بلے باز کو غلطی پر مجبور کر سکتا ہے۔

یہ ورلڈ کپ سپنرز، بالخصوص لیگ سپنرز کا ورلڈ کپ ہو گا۔

پیسرز بھی وکٹیں لیتے رہیں گے مگر پانسہ ہمیشہ سپنرز ہی پلٹیں گے۔ لیکن یہاں کامیابی کا دارومدار اس پہ نہیں کہ کس ٹیم کے پاس کتنے اچھے سپنر ہیں بلکہ اس بات پہ ہو گا کہ کون سا کپتان اپنے سپنرز کو اچھے طریقے سے استعمال کرتا ہے۔

سرفراز کی خوبی یہ رہی کہ اس ہدف کو ناممکن بنا دیا جو اس وکٹ اور اس انگلش بیٹنگ کے اعتبار سے کوئی مشکل ہدف نہیں تھا۔ اور اس سے بڑی بات یہ کہ ٹورنامنٹ کی فیورٹ ٹیم کو اس کے گھر میں ہرا دیا۔

جب آخری گیند ہو چکی تو گرین شرٹس میں کافی مسرور چہرے تھے، محمد عامر بھی خوش تھے، حفیظ بھی، وہاب ریاض بھی، شاداب خان بھی۔ اور ان سبھی خوش چہروں میں ایک عاجز سا چہرہ بھی تھا جوممنون آنکھوں سے بادلوں کےپار جھانک رہا تھا کہ وہ اپنی کپتانی میں ورلڈ کپ کا پہلا میچ جیت گیا۔

اور شاید اس کی یہ جیت اس ٹورنامنٹ کا سب سے بڑا اپ سیٹ ثابت ہو گی۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 9663 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp