ملّا لطیف کی کہانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس کے پاس ہر مذہب کے لوگ جمع ہوتے تھے۔ میجر وانکاڈیا، مورس اور نیوٹن۔ براؤن پارسی تھا مگر ریلوے میں فائر مین کے یورپین گریڈ میں بھرتی ہونے کے لیے اینگلو انڈین بن گیا تھا۔ کنول فیروز بھی آتے تھے۔ پاکستان اینگلرز ایسوسی ایشن کے صدر رولو صاحب اور گوا کے رہنے والے برگنزا ہوٹل کے مالک برگنزا صاحب اپنی کار کی ڈکی میں بیٹھ کر آتے تھے۔ 1932 ءماڈل کی فورڈ کار کی پچھلی سیٹ ڈکی میں ہوتی تھی۔ وقت بدلتا گیا۔

ایک روز والد صاحب دیر سے گھر آئے اور بتایا کہ براؤن صاحب فوت ہو گئے ہیں۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ پاکستان میں ابھی کسی نے اقلیتوں کا لفظ نہیں سنا تھا۔ سب پاکستانی تھے۔ 1950 ءکے سیلاب اور 1954 ءکی بارشوں کے دوران یہ سب لوگ شکار پر جانے کی بجائے پناہ گیروں کی مدد میں مصروف تھے۔ جب کسی ہرے بھرے درخت پر چیلیں اور گدھ آکر بیٹھ جاتے ہیں تو چڑیاں اور فاختائیں کوچ کر جاتی ہیں اور آہستہ آہستہ پیڑ کی ٹہنیاں سوکھنے لگتی ہیں۔

 رفتہ رفتہ علاقے کے بدمعاش رہا ہو کر آگئے اور ملّا کا ڈیرہ اجڑنے لگا کیونکہ ان بدمعاشوں کا مجمع اس کی دکان کے قریب ہی جمتا تھا۔ اپریل 1957 ءمیں ایک روز مزنگ کے بدمعاشوں نے قلعہ گجر سنگھ کے بدمعاشوں پر فائرنگ کردی۔ گولیوں کی زد میں آکر ایک راہ گیر اور درخت پر چڑھ کر شہتوت کھاتی ہوئی ایک پیاری سی بچی ہلاک ہوگئے۔ ملّا کا دل ٹوٹ گیا۔ اس نے دکان اپنے بیٹے جیجے کے سپرد کر دی۔ اب وہ کبھی کبھار یہاں آکر بیٹھتا اور اچھے وقتوں کی طرح سائیکلوں کے پہیے سیدھے کرتا۔

 ”مولی موج بہار ہے“ کی آواز سن کر گرجے کی طرف دیکھتا اور پھر مولیاں بیچنے والے سے بات چیت کرنے کے لیے ایک مولی خرید لیتا۔ مولی والا کہتا ”ملّا، تمہارے یار دوست تمہارا ساتھ چھوڑ گئے ہیں۔ تم یہ کیچوے اب کن کے لیے پال رہے ہو؟ “۔ سنہ 61 ء آ گیا۔ باجے بج رہے تھے۔ شہنائی کی آواز فضا میں گونج رہی تھی۔ چوہدری غیاث کی شادی تھی۔ انور علی بارات کے ساتھ جانے کے لیے تیار ہو رہے تھے کہ خبر آئی، ’ملّا لطیف کا انتقال ہوگیا ہے‘ ۔

 انور علی نے اپنی کار بارات کے ساتھ بھیج دی اور خود ملّا کے جنازے میں شرکت کے لیے چلے گئے۔ مسلمان، پارسی اور عیسائی، سب ملّا کے پیچھے پیچھے چل رہے تھے۔ ملّا رخصت ہوگیا تھا لیکن لوگوں نے بھی سڑک پر اندھا دھند دوڑتی ویگنوں کے خوف سے سائیکل چلانا چھوڑ دی۔ ڈیک اور روہی کے نالوں میں فیکٹریوں کا گندہ پانی بہنے لگا۔ آلودہ پانی میں مچھلیاں مرنے لگیں اور ان فیکٹریوں کا مالک ورلڈ وائلڈ لائف کے صدر بن گئے۔

 1967 ء میں عارف شاہ کے قتل کے بعد ملّا کے بیٹے جیجے نے بھی سائیکلوں کا کاروبار چھوڑ کر کہیں اور سیمنٹ بجری کی دکان کھول لی۔ قاتل رہا ہو کر آگیا مگر وہ پاگل ہو چکا تھا۔ یعنی اب اس کی سزا کبھی ختم نہیں ہوسکتی تھی۔ جیجے کی نئی دکان میں ملّا کی تصویر ایک فریم میں لگی مسکرا رہی تھی۔ سوکھے ہوئے گلاب کا ایک ہار فریم سے لٹک رہا تھا جو شاید اس کا کوئی دوست دے گیا تھا۔ مجھے ملّا لطیف کی بات یاد آگئی۔ وہ کہا کرتا تھا کہ برے کاموں کی سزا اسی دنیا میں مل جاتی ہے۔

اس بات پر غور کریں تو سمجھ آتی ہے کہ لوگوں کو اپنی ویگنوں تلے کچلنے والوں کے اپنے بچے بھی گاڑیوں تلے روندے جاتے ہیں۔ شہر کے پانی اور ہوا کو گندہ کرنے والوں کا اپنا سانس بھی گھٹ رہا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ دوسروں کی زمینیں چھیننے والے قبضہ گروپوں کو اپنی قبر کے لیے بھی زمین نہ ملے۔ راوی نے ایک بار پھر رنگ بدلا۔ میٹرک کا نتیجہ آنے کے بعد محلے کے لڑکے تتر بتر ہونے لگے۔ جو پاس ہوگئے تھے وہ بھی اور جو فیل ہوگئے وہ بھی۔

سکول کے یار دوست بچھڑ گئے۔ گورنمنٹ کالج میں نئی دوستیاں شروع ہوئیں۔ پرانی ہرکولیس سائیکل کو نیا رنگ کرایا۔ ہال روڈ سے نئی گدی اور ڈائینمو بنوائی۔ سائیکل کے پیچھے اندھیرے میں چمکنے والا لال شیشہ لگوایا۔ ہینڈل پہ بید کی ٹوکری لگوائی۔ موٹے شیشوں والی سبز عینک اور کلکتہ ہیٹ مینو فیکچرنگ کمپنی سے ہیٹ خرید کر کالجیٹ بن گئے۔ پھر دوسرے لڑکوں کے پاس نئی سائیکلیں دیکھیں تو خود بھی نئی سائیکل کا مطالبہ کیا اور جاپان کی بنی اورین سپورٹس بائیسکل لے کر ہی ٹلے۔

 نئی بائیسکل کا ہینڈل نکلوا کر الٹا فٹ کروایا اور فرائی وہیل (جنہیں ہم سائیکل کے کتے کہا کرتے تھے ) فکس کروا کر سائیکل پر یوں اکڑ بیٹھنا شروع کر دیا جیسے ریسنگ بائیسکل چلا رہے ہیں۔ گلے میں بندھی ٹائی زنجیر کی طرح بالکل سیدھی نیچے تک لٹک رہی تھی۔ لوگ مجھے حیران ہوکر دیکھتے اور میں آج کل کے سی ایس پی افسروں کی طرح اپنی گردن کچھ اور اکڑا لیتا۔ سائیکل چلانا میرے لیے نیا کام نہیں تھا۔ میری عمر کوئی پانچ برس تھی کہ کسی نے مجھے میرے ابا کی ہرکولیس بائیسکل پر بٹھا کر گھاٹی کی طرف زور سے دھکا دے دیا۔

 میں بچاؤ بچاؤ کی آوازیں نکالتا اور خود اپنا بچاؤ آپ کرتا ایک گہرے نالے میں جا رہا تھا۔ میرے پاؤں بڑی آسانی سے کنارے پر لگ گئے اور میں باہر نکلا اور پھر سائیکل کو بھی کھینچ تان کر باہر نکال لیا۔ اس سے پہلے میں نے تین پہیوں والی سائیکل کئی بار چلائی تھی اور گھر کی بالکنی سے لوگوں کو دو پہیوں پر سائیکل چلاتے دیکھ کر سوچ میں پڑ جاتا تھا کہ ان کا تیسرا پہیہ کہاں گیا۔ شاید اس لیے کہ اس زمانے میں تین پہیوں والے موٹر سائیکل بھی چلتے تھے۔

 اب پتہ چلا کہ گر گر کر سائیکل چلانے میں کچھ اور ہی مزہ ہے۔ سیڑھیوں کے ساتھ بائیسکل کھڑی کرکے اچھل کر اس پر سوار ہو جاتا اور محلے کے لڑکے مجھے دھکا لگا دیتے اور میں قینچی چلانے لگتا۔ کچھ ہی دن میں ایسا ماہر ہو گیا کہ تانگوں اور موٹر سائیکلوں کے بیچ سے گزرتا، اور ان کے ایکسیڈنٹ کراتا، برف خانے کی گنجان بھیڑ سے باہر نکل آتا۔ پرانے شہر کے سب دروازوں کے بعد ایک روز محلہ مفتی جوٹا باقر اور کوچہ سبز پیر کا چکر بھی لگا لیا۔

 پھر مزنگ اور اچھرہ بھی فتح کر لیے۔ آخری امتحان یہ تھا کہ ریلوے کے ناچ گھر سے نکل کر گڑھی شاہو کے پل پر جا چڑھا اور واپسی میں سائیکل پوری سپیڈ سے چلاتے ہوئے چوک میں بغیر پیچھے دیکھے یا ہاتھ دیے بائیں طرف مڑ گیا۔ ٹریفک کا سپاہی ”دیکھ کے چلاؤ، دیکھ کے چلاؤ“ کہتا ہوا اپنے لکڑی کے بکسے سے اتر کر بھاگا۔ پیچھے سے بڑے زور سے بریک لگانے کی آواز آئی۔ میں کہیں اور تھا اور سائیکل کہیں اور پڑی تھی۔ بڑے بڑے مڈگارڈ والی سیاہ کار سے نکل کر ایک آدمی میری طرف آرہا تھا۔ لوگوں نے میری سائیکل اٹھا کر کھڑی کی اور میں چھلانگ لگا کر اس پر چڑھ گیا اور ان سے کہا ذرا زور سے دھکا لگا دو۔ لوگ سمجھدار تھے۔ انہوں نے گاڑی کی بجائے سائیکل کو دھکا لگا دیا اور میری زندگی کی سائیکل آگے کی طرف بڑھنے لگی۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •