کرکٹ ورلڈ کپ 2019: دھونی کے دستانوں پر آئی سی سی کا اعتراض، انڈین ناراض

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دھونی

AFP

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی جانب سے کپتان مہندر سنگھ دھونی کو کی گئی ہدایت کے بعد کہ وہ اپنے دستانوں سے انڈین فوجی یونٹ کا نشان (لوگو) ہٹا دیں، انڈین عوام اپنے کپتان کی حمایت میں سامنے آ گئے ہیں۔

دھونی انڈیا میں ٹیریٹوریل آرمی نامی ایک ریزرو فورس کے ممبر ہیں اور ورلڈ کپ کے پہلے میچ میں انھوں نے اس یونٹ کے مخصوص نشان (لوگو) سے مزین دستانے پہنے تھے۔

آئی سی سی کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ ضابطے کی خلاف ورزی ہے مگر ایسا کرنے پر انھیں کوئی سزا نہیں دی جائے گی۔

آئی سی سی کے اس فیصلے کے بعد ہزاروں جذباتی انڈین فینز نے اس حوالے سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنی آرا کا اظہار کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

کوہلی اور دھونی میں فرق

ورلڈ کپ: ’کوہلی کو دھونی کا ساتھ چاہیے‘

کرکٹ ورلڈ کپ 2019: انگلینڈ کو ہرانے کے لیے پاکستان اور انڈیا کے کی ’ڈریم ٹیم‘

یہ مخصوص نشان کمانڈو کے خنجر کو ظاہر کرتا ہے اور اس کو انڈیا میں ‘بلی دان’ (قربانی) بیج کے نام سے جانا جاتا ہے۔ جب دھونی نے جنوبی افریقہ کے خلاف انڈیا کے ورلڈ کپ 2019 کے پہلے میچ میں اس نشان والے دستانے پہنے تھے تو بڑی تعداد میں عوام نے انھیں سراہا تھا۔

یہی وجہ ہے کہ آئی سی سی کا اس حوالے سے فیصلہ انڈین عوام کو اتنا پسند نہیں آیا۔

انڈیا میں ٹویٹر پر ٹرینڈ ہیش ٹیگ ’دھونی کیپ دی گلووز‘ کافی مقبول رہا۔

ایک ٹویٹر صارف نے کہا پوری قوم آپ (دھونی) کے ساتھ کھڑی ہے، یہ دستانے ہرگز نہ اتاریں۔

https://twitter.com/TejuShetty1/status/1136835728220991490

بہت سے لوگوں نے بتایا کہ کیسے انھیں دھونی اور انڈین فوج پر فخر محسوس ہوا۔ کئی افراد نے آئی سی سی کو مشورہ بھی دے ڈالا کہ وہ اپنی توجہ امپائرنگ پر مرکوز کریں۔ امپائرنگ کی بات جمعرات کو آسٹریلیا اور ویسٹ انڈیز کے میچ کے دوران بلے باز کرس گیل کو تین گیندوں پر دو مرتبہ غلطی سے آؤٹ دینے کے تناظر میں کی گئی۔

ایک اور ٹویٹر صارف کا کہنا تھا ’ڈیئر آئی سی سی۔۔۔ بلی دان کا مطلب قربانی ہے، جو کہ انڈین نیم فوجی فورسز کا نصب العین ہے۔‘

https://twitter.com/Ajay89611/status/1136668505523179520

ایک اور صارف نے دھونی کو کہا کہ یہ بیج ایک اعزاز ہے اور اس اعزاز کو محفوظ رکھیے۔

https://twitter.com/rushank_97/status/1136668229227692034

ایک صارف نے آئی سی سی کو مشورہ دیا کہ زیادہ اہم چیزوں پر توجہ دیجیے۔

https://twitter.com/saichand1997/status/1136833372515291136

ایسا پہلی بار نہیں کہ دھونی اپنے فوجی پسِ منظر کو کرکٹ میں شامل کرنے پر تنازع کی زد میں آئے ہیں۔

مارچ کے مہینے میں انھوں نے اپنی ٹیم کے کھلاڑیوں میں ملٹری سٹائل کیمو فلاج ٹوپیاں بھی تقسیم کی تھیں اور بعد ازاں ایک بین الاقوامی میچ میں انڈین کرکٹ ٹیم نے وہ ٹوپیاں پہنی بھی تھیں۔ دھونی نے ایسا انڈین فوج کو پلوامہ حملے کے بعد خراج تحسین پیش کرنے کے لیے کیا تھا۔ پلوامہ حملہ انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں پیش آیا تھا جس میں انڈین نیم فوجی دستے کے 40 اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔

اس واقعے کے بعد قومی جذبات بہت بھڑکے تھے اور انڈیا اور پاکستان باقاعدہ جنگ کے دھانے پر پہنچ گئے تھے۔

پاکستان نے انڈیا کی کرکٹ ٹیم پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ کھیل کو ‘سیاست زدہ’ کر رہے ہیں۔ پاکستان نے آئی سی سی سے کارروائی کرنے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔

تاہم آئی سی سی کا کہنا تھا کہ انڈیا نے وہ ٹوپیاں ان کی اجازت کے بعد پہنی تھیں۔ مگر پھر بھی اس پر بحث ہوئی اور کافی لوگوں نے یہ نشاندہی کی کہ ماضی میں آئی سی سی نے کھلاڑیوں کی بین الاقوامی میچوں میں سیاسی جذبات کے اظہار پر سرزنش کی تھی۔

مگر اس مرتبہ آئی سی سی کے اعتراض کی نوعیت تکنیکی ہے۔ آئی سی سی کا کہنا ہے کہ قواعد و ضوابط کے مطابق وکٹ کیپنگ کے دستانوں پر دو نشانوں (لوگوز) کے علاوہ اور کچھ نہیں ہونا چاہیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 10388 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp